Daily Roshni News

جنت میں روح اور بدن۔۔۔ مصنف :  پروفیسر احمد رفیق اختر

جنت میں روح اور بدن

کتاب :  نقوش سدرہ جمال

مصنف :  پروفیسر احمد رفیق اختر

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ جنت میں روح اور بدن۔۔۔ مصنف :  پروفیسر احمد رفیق اختر)سوال: انسان کی روح جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی، وہ ہیون (Heaven/جنت) کی اینٹیٹی (Entity) ہے۔ مگر جب انسان گناہ میں ہوتا ہے، تو کیا روح (جس کو معصوم مانا جاتا ہے) اللہ کو اپروچ (Approach) کرتی ہے کہ اسے بخش دیا جائے؟

​جواب: میں ابھی بھی اس سوال کے پیچھے نہیں جاؤں گا کیونکہ سوال یہ ہے ہی نہیں جو پوچھا گیا ہے۔ بات یہ ہے کہ ہم تو اس خیال سے متفق ہی نہیں ہوتے۔ میرا تو خیال یہ ہے کہ کوئی جسم ہو یا کوئی روح، گناہ گار نہیں ہوتی۔

​حضرتِ آدمؑ سے جس خطا کا صدور ہوا، اس میں پروردگارِ عالم نے فوری طور پر قصہ ختم کر دیا کہ آدمؑ کو تو معذرت کے الفاظ ہی نہیں آتے تھے۔ “فَاَزَلَّھُمَا الشَّیطٰنُ عَنھَا” (کہ شیطان نے ان دونوں کو وہاں سے بہکا دیا)۔ دیکھئے! اگر غور کریں تو آدمؑ نے یہ نہیں کہا کہ “ہاں شیطان نے بہکایا، ہاں میں بہک گیا” اور نہ ہی اس نے کوئی گستاخی کی، بلکہ وہاں بھی شرطِ لطیف کا استعمال کیا گیا ہے کہ اسے شیطان نے بہکایا ہے۔ اگر آپ غور کریں تو بڑے لطیف پیرائے میں اللہ تعالیٰ نے ذمہ داری شیطان پر ڈال دی، انسان پر نہیں دی۔ “فَاَزَلَّھُمَا الشَّیطٰنُ” (البقرہ 2:36) یعنی “اس کو شیطان نے بہکا دیا” (گویا میرا بندہ تو ٹھیک ٹھاک تھا)۔

​اللہ تو پھر آپ کو دیکھئے کہ اشاروں اشاروں میں ہی اشارہ فرماتا ہے کہ دیکھئے انداز کیا تھا! پروردگارِ عالم نے یہ نہیں کہا کہ “تم نے غلطی کی”، بلکہ فرمایا: “فَاَزَلَّھُمَا الشَّیطٰنُ عَنھَا”۔ معصوم سا تھا بیچارہ۔۔۔ کل بھی میں نے عرض کیا تھا کہ عقل ابھی اس میں پوری تھی نہیں، اس لیے شیطان نے ہی بہکا دیا۔ اب شیطان پر غصہ آیا۔۔۔ کمبخت! یہ کیا کیا! تم نے میرے بندے کو بہکایا! “فَوَسوَسَ اِلَیہِ الشَّیطٰنُ” (طٰہٰ 20:120)۔ اب میں اس کو اس حالت میں کیسے رکھوں؟ اب جس حالت میں وہ تھا، اگر اس حالت میں رہتا تو ابدی کمال پا لیتا۔ فرمایا: “قُلنَا اھبِطُوا جَمِیعًا” (ہم نے کہا تم سب یہاں سے اتر جاؤ)۔

​زمین پر اتارنے کے بعد عیسائیوں (Christians) کی طرح یہ نہیں کہا کہ تم گناہِ ازلی کا بوجھ لے کر جا رہے ہو، بلکہ فرمایا: “مُستَقَرُّ وَّمَتَاعُ اِلٰی حِینٍ” (البقرہ 2:36)۔ جاؤ! گمراہ نہیں ہو، اس میں فائدہ ہے تمہارا۔۔۔ اس کو یہ احساس دیا کہ گھر سے باہر ہی بھیجا گیا ہے تو اس میں تمہارا فائدہ ہے۔ میں نے کچھ قوانین (Judgement laws) دیے ہیں۔ میں اب شیطان کے سامنے رعایت نہیں دے سکتا۔ دیکھو، خدا نے بے انصافی نہیں کی! سزا تو گویا سب کے لیے لکھی تھی، مگر آدمؑ کی خطا کی تلافی ہو گئی، ان کی خطا بخش دی گئی۔ تو گویا، دیکھو! رکھنا یہ کرم اپنی خدائی کا بھی شریکِ حال! یہ تم پر بوجھ نہیں ہے، معصوم ہو، اگر تم کو زمین پر بھیجوں گا تو سزا کے طور پہ نہیں بھیجوں گا، بلکہ “مُستَقَرُّ وَّمَتَاعُ اِلٰی حِینٍ” کے تحت تھوڑی دیر کے لیے ہے اور اسی میں تمہارا فائدہ ہے۔

​تو خواتین و حضرات! زمین پر تشریف لانے کے بعد حضرتِ آدمؑ کا پہلا کلمہ یہ تھا (اور وہ اسی فکر میں روئے جا رہے تھے، بجائے خدا سے شکوہ کرنے کے)۔ سنا یہ گیا ہے کہ وہ تمام چیزیں چھوڑ کر ایک سو برس تک روتے رہے۔ اب اللہ بھی دیکھے گا کہ اس کو “خلیفتہ اللہ” بنایا، پھر اس کو بیوی دی، اور اوپر سے وہ اس طرح فکر کر رہا ہے۔ تو پھر خداوند نے فرمایا: “فَتَلَقّٰی اٰدَمُ مِن رَّبِّہ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیہِ” (البقرہ 2:37)۔ یعنی آدمؑ نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ لیے، پھر اللہ نے اس کی توبہ قبول کر لی۔

​اللہ کو پتہ تھا کہ اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ معافی کیسے مانگنی ہے۔ چلو یہ تمہیں الفاظ دے دیتا ہوں، کیونکہ یہ کیسی مصیبت ہے کہ میں نے اسے کہاں بھیج دیا ہے اور کیا بنا کر بھیجا ہے۔ ہر چیز خود ہی پڑھانی ہے۔ اللہ کہتا ہے کہ جب میں نے اس کے دل کو دیکھا، تو پھر کہا: “اس انداز سے معافی مانگ، میں تجھے بخش دوں گا اور یاد رکھوں گا”۔ آدمؑ کو یقین بھی نہیں تھا، وہ روئے جا رہے تھے کہ “بھئی! بچے کی طرح کہو کہ معاف کرو۔۔۔ اس طرح مانگو”۔ تو سکھایا:

​”رَبَّنَا ظَلَمنَآ اَنفُسَنَا وَ اِن لَّم تَغفِر لَنَا وَ تَرحَمنَا لَنَکُونَنَّ مِنَ الخٰسِرِینَ” (الاعراف 7:23)

(اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں معاف نہیں کرے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم یقیناً نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے)

​”کچھ اعتراف (Admit) تو کرو، کچھ غلطی کو بیان کرو، پھر میں تمہاری خطا معاف کروں گا”۔ سو، اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا۔

​اب دیکھئے! اس پوری داستان میں روح اور بدن کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ اور پھر جب وہ جنت میں تھے تو روح اور بدن دونوں الگ (Separate) تھے ہی نہیں جس میں وہ غلطی کرتے۔ اور اگر وہ زمین پر بھیجے گئے تو علیحدہ علیحدہ نہیں بھیجے گئے۔ پھر اگر روح عقل و جبلت ہے، تو روح ہی فیصلوں کی ذمہ دار ہے۔ سو، فیصلہ تو روح نے کیا تھا، اس لیے بہت ساری باتیں جاننے کے بعد ہم اس خیال کو یقینی طور پر (Definitely) کہہ سکتے ہیں کہ پہلی خطا میں، آدمؑ کے نزول میں، اور حضرتِ آدمؑ کی توبہ میں کسی قسم کا “سوال کا بٹوارا” (Bifurcation of question) پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ خدا وندِ کریم کے حضور ایک بندے کی روح نے غلطی کی، پھر اللہ نے اس کو ہمراہی دی، زمین پر بھیجا۔ اب یہ روح ہی صاف نہیں ہوئی بلکہ بھیجا بھی سراسر سزا کے طور پر نہیں، بلکہ بتا دیا کہ تمہارا اس میں فائدہ ہے۔ سو، اللہ نے آدمؑ کو بخشا اور وہ پاک (Clean) ہو گئے۔

​There is no other problem, it’s a very simple problem. (کوئی اور مسئلہ نہیں ہے، یہ ایک بہت سادہ سا معاملہ ہے)۔

​مصنف: پروفیسر احمد رفیق اختر

کتاب: نقوشِ سدرۂ جمال

لیکچر: قرآن کا نظریہ اعتدال

صفحہ: 74-

#ProfessorAhmedRafiqAkhtar

#AhmedRafiqAkhtar

#NaqooshESidraEJamal

#QuranKaNazariyaEAtedal

#IslamicPhilosophy

Loading