کیا ہمارے نظام شمسی میں کہیں اور بھی زندگی ہو سکتی ہے؟
تحریر ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر احمد نعیم
انتخاب ۔۔۔۔۔ محمد جاوید عظیمی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ کیا ہمارے نظام شمسی میں کہیں اور بھی زندگی ہو سکتی ہے؟۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔ ڈاکٹر احمد نعیم۔۔۔انتخاب ۔۔۔۔۔ محمد جاوید عظیمی)کاسینی خلائی جہاز زحل کے ایک چھوٹے سے چاند انسیلیڈس کے پاس سے گزر رہا تھا کہ اس کے آلات نے کچھ ایسا ریکارڈ کیا جس نے سائنسدانوں کی نیند حرام کر دی۔ اس چاند کے قطب جنوبی کی دراڑوں سے پانی کے زوردار چشمے خلا میں سینکڑوں کلومیٹر بلندی تک پھوٹ رہے تھے۔ جہاز ان چشموں کے بیچ سے گزرا اور اس نے ان ذرات کا تجزیہ کیا۔ نتیجہ اور بھی زیادہ حیران کن تھا۔ اس پانی میں نمک، سلیکا کے باریک ذرات اور ہائیڈروجن گیس موجود تھی۔ یہ تینوں چیزیں ایک ساتھ بتاتی ہیں کہ اس برفانی چاند کی تہہ میں گرم پانی کا ایک سمندر ہے اور اس سمندر کے فرش پر وہی کیمیائی تعاملات ہو رہے ہیں جو زمین کے گہرے سمندروں میں زندگی کو سہارا دیتے ہیں۔ گویا انسیلیڈس نے اپنے راز چھپائے نہیں بلکہ وہ انہیں خلا میں اگل رہا ہے۔
یہی وہ لمحہ تھا جب نظام شمسی میں زندگی کی تلاش کا سارا منظرنامہ بدل گیا۔ کبھی ہم زندگی کی تلاش میں کہکشاں کے پار جھانکا کرتے تھے لیکن اب نظریں اپنے پڑوس کے ان چاندوں پر آ گئیں جنہیں پہلے محض برف کے ویران گولے سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔
مریخ کی کہانی اس سے بھی پرانی ہے اور اس میں ایک عجیب الجھن چھپی ہے۔ 1976 میں وائکنگ لینڈر نے مریخ کی مٹی پر ایک تجربہ کیا جس کا نتیجہ مثبت آیا۔ مٹی میں موجود کسی چیز نے غذائی محلول کو ہضم کر کے گیس خارج کی، بالکل ویسے ہی جیسے زمین کے جرثومے کرتے ہیں۔ مگر ساتھ ہی ایک اور مشین نے جب اسی مٹی کو گرم کر کے نامیاتی مادہ ڈھونڈنا چاہا تو کچھ ہاتھ نہ آیا۔ نتیجہ یہ نکالا گیا کہ پورے تجربے کو کیمیائی غلط فہمی قرار دے کر فراموش کر دیا گیا۔ چالیس سال بعد پتا چلا کہ مریخ کی مٹی میں پرکلوریٹ نمکیات ہیں جو گرم ہونے پر نامیاتی مادے کو جلا کر ختم کر دیتی ہیں۔ وائکنگ شاید زندگی ڈھونڈتے ڈھونڈتے اسے جلا چکا تھا۔ یہ تجربہ اتنا زیادہ حیران کن اور غیر متوقع تھا کہ اس تجربے سے منسلک ٹیم کے سربراہ سائنسدان گلبرٹ لیون زندگی بھر یہی کہتے رہے کہ انہوں نے 1976 میں ہی مریخ پر زندگی کا سراغ پا لیا تھا۔
مریخ کی سطح اب خشک اور مردہ ہے مگر سائنسدانوں پر امید ہیں کہ وہاں سطح کے نیچے کہیں نہ کہیں پانی موجود ہے۔ سطح کے نیچے اتنی گہرائی میں جہاں نہ تابکاری پہنچتی ہے نہ جمانے والی سردی، وہاں جرثوموں کی بستیاں آج بھی زندہ ہو سکتی ہیں۔ زمین کی گہری کانوں اور سمندر کی تہہ کے نیچے ایسی زندگی پہلے سے موجود ہے جو سورج کی روشنی کے بغیر کیمیائی توانائی پر پلتی ہے۔ مریخ کے نیچے بھی یہی کھیل جاری رہنے کی پوری گنجائش ہے۔
اب آئیے نظام شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کے پاس چلتے ہیں۔ اس کا چاند یوروپا دیکھنے میں ایک سفید سنگ مرمر کی گیند لگتا ہے مگر اس کی برفیلی پرت کے نیچے زمین کے تمام سمندروں سے دوگنا پانی کا ایک کھارا سمندر چھپا ہے۔ زمین پر سمندر کی تہہ میں آتش فشاں کے دہانوں کے پاس زندگی بغیر روشنی کے پنپتی ہے۔ وہاں جاندار کیمیائی اجزا کھا کر زندہ رہتے ہیں۔ یوروپا کی تہہ میں بھی ایسے ہی گرم چشمے موجود ہونے کا قوی امکان ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ناسا کا یوروپا کلپر مشن وہاں جا رہا ہے اور وہاں پہنچ کر سطح سے اڑ کر خلا میں پہنچنے والے پانی کے ذروں کا کیمیائی تجزیہ کرے گا۔ اگر اس پھوار میں کسی مردہ جرثومے کا کوئی نامیاتی مالیکیول یا امائنو ایسڈ تیرتا ہوا ملا تو یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سائنسی انکشاف ہوگا۔
پاکستانی نژاد سائنسدان ڈاکٹر نوزیر خواجہ یوروپا کلپر مشن کے سرفیس ڈسٹ اینالائزر یعنی SUDA آلے کی سائنسی ٹیم میں شامل ہیں جس کا کام یوروپا کی برف سے اٹھنے والے چھوٹے ذرات میں نامیاتی مالیکیول اور ممکنہ طور پر خلیاتی مادہ تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے زمین پر ایسی تجربہ گاہیں بنائیں جو یوروپا کے اندرونی سمندر جیسی گرمی اور دباؤ پیدا کرتی ہیں تاکہ مشن کے ڈیٹا کو صحیح طور پر سمجھا جا سکے۔ جب 2030 میں کلپر یوروپا کے قریب سے گزرے گا تو ڈاکٹر خواجہ اور ان کی ٹیم ڈسٹ اینالائزر SUDA کے جمع کردہ نمونوں کا تجزیہ کریں گے اور اگر ان میں زندگی کی کیمیائی نشانیاں ملیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ ہم نے کسی دوسرے سیارے کے کسی چاند کے سمندر کو گویا براہ راست چھو کر دیکھا ہوگا۔
اسی طرح زحل کے چاند انسیلیڈس کے چشمے تو خلا میں یوں بلند ہوتے ہیں جیسے زمین سے کوئی فوارہ کئی کلومیٹرز اوپر تک پہنچ رہا ہو۔ جب کیسینی نے ان ذرات کا مزید گہرائی سے تجزیہ کیا تو اس میں بڑے نامیاتی مالیکیول بھی ملے جو بتاتے ہیں کہ اس چاند کے سمندر میں کیمیائی تعاملات کی وہی زنجیر چل رہی ہے جو زندگی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ سائنسدانوں کی اگلی خواہش ہے کہ ایک ایسا مشن بھیجا جائے جو ان چشموں کے بیچ سے دوبارہ گزرے اور اس بار وہ مشن زندہ جرثوموں کو پکڑنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
انسیلیڈس کے چشمے اتنے اہم ہیں کہ سائنسدان ان کی تہ تک پہنچنے کا ایک الگ مشن ہی سوچ رہے ہیں۔ وہ مشن اینسیلیڈس اور بیلینڈر کہلاتا ہے اور یہ ابھی تخیلاتی مرحلے میں ہے۔ یہ ناسا کا ایک تصوراتی مشن ہے جس کا مقصد زحل کے چاند انسیلیڈس پر اترنا اور اس کے برفیلے چشموں کے بالکل قریب زمین میں گھس کر نمونے لینا ہے۔ انسیلیڈس کے قطب جنوبی سے پانی کے چشمے سینکڑوں کلومیٹر اوپر خلا میں نکلتے ہیں اور کیسینی نے ان میں نمک، نامیاتی مالیکیول اور ہائیڈروجن پکڑی تھی یعنی سطح کے اندر گرم سمندر اور کیمیائی تعاملات کے اشارے واضح ہیں۔ بیلینڈر کے بارے میں خیال یہ ہے کہ یہ مشن پہلے مدار میں رہے، پھر اتر کر ایک ڈرل سے برف کی تہ میں کئی میٹر نیچے جائے اور وہاں سے براہ راست وہ مادہ لے جو سمندر سے ابھی ابھی اوپر آیا ہو۔ اس طرح فضا میں بکھرے ذرات کی بجائے اصل سمندری کیمیائی اجزاء مل سکتے ہیں۔ اگر یہ مشن حقیقت بنا تو یہ پہلی بار ہوگا کہ ہم کسی دوسری دنیا کی تہہ میں جا کر زندگی کی نشانیاں اتنے قریب سے دیکھیں گے جہاں وہ بذات خود جنم لے رہی ہیں۔
زحل کا سب سے بڑا چاند ٹائٹن ایک الگ ہی دنیا ہے۔ یہ واحد چاند ہے جس کی اپنی گھنی فضا ہے۔ یہاں پانی کی نہیں بلک میتھین کی ندیاں اور جھیلیں ہیں۔ میتھین کی بارش ہوتی ہے اور میتھین کی ہی برف پڑتی ہے۔ درجہ حرارت منفی 180 ڈگری سیلسیس ہے۔ اس سطح پر زمین جیسی زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مگر اس جمی ہوئی پرت کے نیچے پانی کا ایک حقیقی سمندر موجود ہے۔ ناسا کا ڈریگن فلائی نامی ڈرون جلد وہاں اڑان بھرے گا اور اس کا کام صرف اتنا نہیں کہ میتھین کی جھیلوں کا سطحی سا معائنہ کرے بلکہ وہ اس عجیب کیمیائی دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرے گا جو بغیر پانی کے کسی متبادل حیاتیات کو جنم دے سکتی ہے۔ اگر ڈریگن فلائی کو ایسا کچھ مل گیا تو شاید زندگی کی تعریف ہی بدل جائے گی۔
ناسا کا ڈریگن فلائی مشن 2028 میں ٹائٹن کے لیے روانہ ہوگا اور 2034 میں وہاں پہنچ کر تاریخ کا پہلا فضائی ڈرون بنے گا جو کسی دوسرے سیارے کے چاند پر خود اڑ کر سائنسی معلومات حاصل کرے گا۔ ٹائٹن کی فضا زمین سے چار گنا گھنی ہے اور کشش ثقل کم ہے اور اسی لیے یہ کار جتنا روبوٹ وہاں ہر سولہ دن بعد اڑان بھر کر کئی کلومیٹر آگے جائے گا اور میتھین کی جھیلوں اور نامیاتی ٹیلوں کے نمونے اٹھائے گا۔ منفی 180 ڈگری کے اس جہان میں پانی کی جگہ میتھین کی بارش ہوتی ہے مگر اس بات کے واضح اشارے ملے ہیں کہ برف کے نیچے ایک حقیقی سمندر بھی چھپا ہوا ہے۔ اگر ڈریگن فلائی نے وہاں زندگی جیسے کیمیائی اشارے پکڑ لیے تو شاید ہمیں ماننا پڑے کہ زندگی پانی کے بغیر بھی اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔
مشتری کا گائینیمیڈ نظام شمسی کا سب سے بڑا چاند ہے۔ قطر میں یہ سیارہ عطارد سے بھی بڑا ہے۔ اس کی خاص بات اس کا اپنا مقناطیسی میدان ہے جو نظام شمسی میں کسی اور چاند کے پاس نہیں۔ یہ مقناطیسی میدان بتاتا ہے کہ اس کے اندر پگھلی ہوئی دھات کا ایک کور ہے اور اس کے اوپر پانی کا ایک کھارا سمندر ہے جو سطح سے سینکڑوں کلومیٹر نیچے شدید دباؤ میں دبا ہوا ہے۔ یورپی خلائی ایجنسی کا جوس مشن اسی طرف جا رہا ہے۔
جوس مشن 2023 میں روانہ ہوا اور 2031 میں مشتری کے نظام میں پہنچ کر گائینی میڈ، کیلسٹو اور یوروپا کے گرد چکر لگائے گا۔ یہ مشن ان چاندوں کی برفیلی پرتوں اور نیچے چھپے سمندروں کا ریڈار اور آلات سے جائزہ لے گا۔ اگر گائینیمیڈ کی تہ میں پانی، کیمیائی توانائی اور وقت تینوں چیزیں واقعی اکٹھی ملیں تو یہ چاند بھی زندگی کے لیے ایک بڑا امیدوار بن سکتا ہے۔
یہ پانچوں دنیائیں ہمارے نظام شمسی کا حصہ ہیں۔ کسی کے نیچے سمندر ہے، کسی کی فضا میں نامیاتی دھند تو کسی کی برف کے نیچے گرم چشمے موجود ہیں۔ ان اجرام فلکی کے پاس پانی، توانائی اور وافر وقت دستیاب ہے اور یہی تینوں چیزیں زندگی کے لیے کافی سمجھی جاتی ہیں۔ بس اگر کمی ہے تو ٹیکنالوجی کی جس کی وجہ سے ابھی تک ہم وہاں نہیں پہنچ سکے اور زندگی کو تلاش نہیں کر سکے۔ مگر اب کئی مشن جا رہے ہیں اور نظام شمسی کے اندر بھی زندگی کی تلاش کی سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں۔
جب پہلا جرثومہ کسی دوسری دنیا کی مٹی یا پانی میں ہلچل مچاتا ہوا ملے گا تو وہ محض سائنس کی کتابوں کا ایک اور باب نہیں ہوگا بلکہ وہ انسانی تاریخ کے سب سے اہم دنوں میں سے ایک ہوگا جب انسان کو پتا چلے گا کہ وہ اس کائنات میں تنہا نہیں ہے۔ پھر زمین بھی محض ایک سیارہ نہیں رہے گی بلکہ زندگی کے اس کائناتی تسبیح کی لڑی کا ایک موتی بن جائے گی اور شاید اسی احساس کے ساتھ ہم یہ بھی سیکھ جائیں کہ اس نایاب موتی کو محفوظ رکھنا کتنا ضروری ہے۔
(تحریر: ڈاکٹر احمد نعیم)
![]()

