شباب کی باتیں
حقا کہ بنائے لا الہ است حسین
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔ حقا کہ بنائے لا الہ است حسین۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب)سانح ہے کربلا کو گزرے ہوئے صدیاں بیت گئی ہیں مگر اس سانحے کی یاد نہ صرف مسلمان مناتے ہیں اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو ایک تسلسل کے ساتھ خراج عقیدت پیش کرتے ہیں بلکہ غیر مسلم بھی اس سانحے سے متاثر ہو کر اس سے سبق سیکھتے ہیں ابھی گزشتہ روز سوشل میڈیا پر بارہویں صدی کے ایک فرانسیسی مفکر کے حوالے سے ایک پوسٹ نظر سے گزری جس نے میدان کربلا میں پیش آئے ہوئے ظلم و بربریت کی اس داستان پر تبصرہ کرتے ہوئے خراج عقیدت کا اظہار کیا تھا۔ حضرت جوش ملیح آبادی نے اسی لیے تو کہا تھا
کیا صرف مسلمان کے پیارے ہیں حسین
چرخ نوع بشر کے تارے ہیں حسین
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین
حضرت جوش کی یہ بات بالکل درست ہے اس حوالے سے فرانسیسی مفکر کا حوالہ ہم اوپر کی سطور میں دے چکے ہیں جبکہ برصغیر میں مرثیہ نگاری کی تاریخ اور روایات پر نظر ڈالی جائے تو سوز، مرثیہ، سلام اور اس نوعیت کی اصناف سخن کا ایک پورا خزانہ موجود ہے جس میں اردو، فارسی، پشتو، پنجابی، سندھی، بلوچی، سرائیکی اور دیگر زبانوں میں لکھی گئی شاعری شامل ہے یہاں تک کہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ پاک و ہند میں قیام پذیر دیگر مذاہب کے شعراء نے بھی شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے خراج عقیدت پیش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ایک ہندو شاعر راجیندر کمار نے امام حسین کے مصائب پر کیا خوب تبصرہ کیا ہے اور کہا ہے
اس قدر رویا میں سن کر داستان کربلا
میں تو ہندو ہی رہا آنکھیں حسینی ہو گئیں
حضرت خواجہ غریب النواز اجمیری چشتی رحمت اللہ علیہ سے منسوب ایک قطعہ تو ہمیشہ ورد زبان رہتا ہے
شاہ ہست حسین بادشاہ ہست حسین
دیں ہست حسین دیں پناہ ہست حسین
سر داد نہ داد دست در دست یزید
حقا کہ بنائے لا الہ ہست حسین
خیبر پختون خوا میں بھی مرثیہ نگاری، سوز، سلام اور سانحہ کربلا کے حوالے سے کی جانے والی شاعری کی ایک مضبوط روایت موجود ہے۔ چونکہ پشاور میں فارسی بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی رہائش پذیر ہے اور خاص طور پر سردار خیل قوم صدیوں سے یہاں رہائش پذیر ہے جو دیگر روایات کے ساتھ ساتھ کربلا کے تناظر میں ماتم حسین بھی اس کے پورے پس منظر میں منانے کا اہتمام کرتی ہے۔ اس لیے فارسی مرثیہ نگاری کی روایات بھی بہت مضبوط ہیں۔ ان کے ساتھ صدیوں سے زندگی گزارتے ہوئے اردو، پشتو اور ہند کو زبان کے شعراء کی شاعری کا بھی ایک وسیع فکری ذخیرہ ادب کا حصہ ہے۔
اج کے کالم میں ہم نے پشاور سے تعلق رکھنے والے اردو اور ہند کو زبان کے شعرائے کرام کی اس شاعری کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے جو سانحہ کربلا کے حوالے سے وقتا” فوقتا” سامنے اتی رہی ہے۔ ناصر علی سید شہدائے کربلا کو خراج عقیدت ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں
کبھی جو وقت کے ظلم و ستم سے گھبراؤ
علم اٹھاؤ یہی معتبر نشانی ہے
جو ایک لمحہ کو کانٹا بنی زبان امام
تو بستیوں میں ابھی تک بھٹکتا پانی ہے
پروفیسر ڈاکٹر نذیر تبسم مرحوم سانحہ کربلا کو اپنے الفاظ میں یوں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں
دیار کرب و بلا کو وقار جس سے ملا
اک ایسی جرات و عظمت کی داستاں ہے حسین
عجیب قافلہ ہے سرفروش لوگوں کا
سو کیوں نہ ہو کہ وہاں میر کارواں ہے حسین
یوسف عزیز زاہد یوں رقم طراز ہیں
یہ روشنی کے سفیروں کا قافلہ ہے رواں
ہر ایک فرد کی سیرت بھی مصطفی کی ہے
حسین تیری شجاعت کی ہر ادا کو سلام
حسین تیری عبادت کی انتہا کو سلام
امجد بہزاد کربلا کی خونیں داستان پر کیا خوب تبصرہ کرتے ہیں
شام ہے ملال کی
فاطمہ کے لال کی
کذب سے بجنگ ہے
فکر کب ہے آل کی
زندگی پہ کھیل کر
زندگی بحال کی
بجھ گئے دیے مگر
روشنی کمال کی
بشریٰ فرخ اردو کے ساتھ ساتھ ہندکو زبان میں بھی طبع آزمائی کرتی ہیں ان کے ہندکو مرثیہ کے دو اشعار ملاحظہ فرمائیں
کربل دے ریگزار سی اٹھدی ہواۓ غم
ہک عہد سرفروش دا باب وفا ہوئی
بشریٰ غمِ حسین دا اے بی وے معجزہ
کہ منجمد قلم نوں روانی عطا ہوئی
ہندکو زبان کے ایک اور شاعر ڈاکٹر خادم ابراہیم خادم نے کہا ہے کہ
لٹے پٹے خیمیاں نوں آگ لگا کے
چہوٹھی جئ جیت دا اظہار کیتا
دنیا یاد رکھسی قربانی حسین دی
اج تک جس نے باطل نوں خجل خوار کیتا
کالم کے اختتام پر اپنا ایک بالکل تازہ شعر عرض کرتا ہوں
وفا کی لاج ہی رکھنا اگر مشیت ہو
تو کربلا کے بہتر (72) بناۓ جاتے ہیں ۔
![]()

