قومِ ثمود — ایک مکمل تاریخی، قرآنی اور تحقیقی مطالعہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )حصہ اوّل: قومِ ثمود کون تھی؟ کہاں آباد تھی؟ کیوں عروج پایا اور کیوں تباہ ہوئی؟
قومِ ثمود کا نام قرآنِ مجید میں بار بار آیا ہے۔ یہ ان اقوام میں سے ایک ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی طاقت، دولت، تہذیب، فنِ تعمیر اور وسائل عطا فرمائے تھے، مگر جب انہوں نے اپنے نبی کی دعوت کو ٹھکرا دیا، سرکشی اختیار کی اور اللہ کے احکام کے مقابلے میں تکبر کیا تو ان کا انجام دنیا کے لیے نشانِ عبرت بن گیا۔
قرآن کریم میں قومِ عاد کے بعد جس قوم کا سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ ذکر ملتا ہے وہ قومِ ثمود ہے۔ آج بھی ان کے تراشے ہوئے پہاڑ، کھودی ہوئی چٹانیں اور تباہ شدہ بستیاں عرب کے صحرا میں موجود ہیں اور آنے والوں کو خاموش زبان میں بتاتی ہیں کہ طاقت، دولت اور ترقی اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکتیں۔
ثمود کون تھا؟
تاریخ دانوں کے مطابق ثمود ایک شخص کا نام تھا۔ اس کا نسب عموماً یوں بیان کیا جاتا ہے: **ثمود بن عابر بن ارم بن سام بن نوح علیہ السلام** یعنی یہ لوگ حضرت نوح علیہ السلام کی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ طوفانِ نوح کے بعد دنیا دوبارہ آباد ہوئی تو مختلف قبائل وجود میں آئے۔ قومِ عاد اور قومِ ثمود انہی قدیم عرب قبائل میں شمار ہوتے ہیں۔ بعض مورخین انہیں “عربِ عاربہ” اور بعض “عربِ بائدہ” کہتے ہیں۔ عربِ بائدہ سے مراد وہ قدیم عرب اقوام ہیں جو مکمل طور پر مٹ گئیں۔
قومِ ثمود کہاں آباد تھی؟
قومِ ثمود شمالی عرب میں آباد تھی۔ ان کی سرزمین کو: **الحجر** کہا جاتا تھا۔ آج یہ علاقہ سعودی عرب میں مدینہ منورہ اور تبوک کے درمیان واقع ہے۔ اسے آج: مدائن صالح کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہاں آج بھی پہاڑوں کو تراش کر بنائے گئے عظیم الشان مکانات موجود ہیں۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں قومِ ثمود نے اپنی تہذیب قائم کی تھی۔
قرآن میں ان کی بستی کا ذکر
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَكَانُوا يَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا آمِنِينَ “وہ پہاڑوں کو تراش کر امن کے ساتھ گھر بناتے تھے۔” (الحجر: 82) یہ آیت ان کی انجینئرنگ اور فنِ تعمیر کی اعلیٰ مہارت کو ظاہر کرتی ہے۔
قومِ ثمود کا زمانہ
حضرت صالح علیہ السلام کا زمانہ حضرت ہود علیہ السلام اور قومِ عاد کے بعد آیا۔ بہت سے علماء کے نزدیک: قومِ عاد کی تباہی کے چند صدیوں بعد قومِ ثمود نے عروج حاصل کیا۔ یہ زمانہ غالباً حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے یا ان کے ابتدائی دور کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ البتہ قطعی سنہ کسی مستند وحی سے ثابت نہیں۔
قومِ ثمود کی معاشی طاقت
قومِ ثمود عرب کی طاقتور ترین اقوام میں شمار ہوتی تھی۔ ان کے پاس: * وسیع زرعی زمینیں * کھجوروں کے باغات * چشمے * مویشی * تجارتی راستے * معدنی وسائل سب کچھ موجود تھا۔ قرآن فرماتا ہے: أَتُتْرَكُونَ فِي مَا هَاهُنَا آمِنِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ وَنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيمٌ (الشعراء: 146-148) یعنی انہیں باغات، چشمے، کھیت اور کھجوروں کی فراوانی حاصل تھی۔
ان کی انجینئرنگ کتنی ترقی یافتہ تھی؟
قومِ ثمود کی سب سے بڑی پہچان ان کی تعمیراتی صلاحیت تھی۔ وہ: * پہاڑ کا انتخاب کرتے * چٹان تراشتے * اندر کمروں کی ترتیب بناتے * ستون بناتے * دروازے بناتے
* رہائشی حصے الگ کرتے آج کے ماہرین آثارِ قدیمہ بھی ان کی مہارت پر حیران ہوتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ: “ہم نے ایسے گھر بنا لیے ہیں جو کبھی تباہ نہیں ہوں گے۔” یہی احساسِ برتری بعد میں ان کے تکبر کا سبب بنا۔
قومِ ثمود کا مذہب کیا تھا؟
طوفانِ نوح کے بعد اصل توحید دنیا میں موجود تھی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قومِ ثمود بھی شرک میں مبتلا ہوگئی۔ وہ: * بتوں کی عبادت کرتے * مختلف معبود بناتے
* قربانیاں پیش کرتے * اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ان کا عقیدہ یہ بن گیا تھا کہ بت انہیں رزق، حفاظت اور کامیابی دیتے ہیں۔
اللہ نے ان کی طرف کس نبی کو بھیجا؟
اللہ تعالیٰ نے ان ہی کے قبیلے سے: حضرت صالح علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا۔ یہ قوم کے اندر نہایت معزز، سچے اور معتبر شخص تھے۔ نبوت سے پہلے بھی لوگ ان کی عزت کرتے تھے۔ قرآن ان کی قوم کا جملہ نقل کرتا ہے: قَالُوا يَا صَالِحُ قَدْ كُنْتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَذَا “اے صالح! اس سے پہلے تو تم ہماری بڑی امید تھے۔” (ہود: 62)
حضرت صالح علیہ السلام کی دعوت
حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو سب سے پہلے یہی پیغام دیا: اللہ کی عبادت کرو۔ شرک چھوڑ دو۔ بتوں کو چھوڑ دو۔ ظلم بند کرو۔ تکبر چھوڑ دو۔ اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس پیدا کرو۔
قوم نے مخالفت کیوں کی؟
یہ سوال بہت اہم ہے۔ جب بھی انبیاء آتے ہیں تو مخالفت صرف مذہبی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے مفادات ہوتے ہیں۔ قومِ ثمود کی مخالفت کی بڑی وجوہات یہ تھیں:
1۔ اقتدار کا خوف
قبائلی سردار ڈرتے تھے کہ اگر لوگ صالح علیہ السلام کی بات مان گئے تو ان کی قیادت ختم ہو جائے گی۔
2۔ معاشی مفادات
بت پرستی سے بعض طبقوں کو مالی فائدہ ہوتا تھا۔
3۔ آبائی روایات
وہ کہتے تھے: “کیا تم ہمیں ان معبودوں سے روکنا چاہتے ہو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟”
4۔ تکبر وہ خود کو ناقابلِ شکست سمجھتے تھے۔
قوم کے اندر دو گروہ بن گئے
دعوت کے بعد قوم دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ پہلا گروہ ایمان لانے والے۔ یہ تعداد میں کم تھے۔ دوسرا گروہ کافر سردار۔ یہ طاقتور اور اثر و رسوخ والے لوگ تھے۔ انہوں نے دعوتِ حق کی شدید مخالفت شروع کردی۔
کیا حضرت صالح علیہ السلام نے معجزہ دکھایا؟
جی ہاں۔ قوم نے مطالبہ کیا: “اگر تم واقعی اللہ کے نبی ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ۔” انہوں نے ایک مخصوص چٹان کی طرف اشارہ کیا اور ناممکن شرط رکھی۔ وہ چاہتے تھے کہ: ایک زندہ اونٹنی چٹان سے نکل آئے۔ انہوں نے سمجھا کہ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے ایک عظیم معجزہ ظاہر فرمایا۔ اسی واقعے نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔
ناقۃُ اللہ کا ظہور
اللہ تعالیٰ نے پہاڑ سے ایک غیر معمولی اونٹنی ظاہر فرمائی۔ قرآن اسے: **ناقۃ اللہ** یعنی “اللہ کی اونٹنی” کہتا ہے۔ یہ اونٹنی محض ایک جانور نہیں تھی بلکہ اللہ کی نشانی تھی۔ اس کے متعلق خصوصی احکامات دیے گئے۔
قومِ ثمود — حصہ دوم
ناقۃُ اللہ، بغاوت کی انتہا، سازشِ قتل اور عذابِ الٰہی کی ابتدا
پچھلے حصے میں ہم نے قومِ ثمود کے جغرافیہ، تہذیب، معاشی طاقت، مذہبی انحراف اور حضرت صالح علیہ السلام کی دعوت کا جائزہ لیا تھا۔ اب ہم اس مرحلے میں داخل ہوتے ہیں جہاں قومِ ثمود کی تاریخ اپنے فیصلہ کن موڑ پر پہنچتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جسے قرآن مجید نے بار بار ذکر کیا، کیونکہ یہاں انسانی نفسیات، تکبر، ضد، معجزہ، آزمائش اور عذابِ الٰہی کے تمام پہلو ایک ساتھ جمع ہو جاتے ہیں۔
معجزے کا مطالبہ کیوں کیا گیا؟
تقریباً ہر نبی کی قوم نے کسی نہ کسی مرحلے پر معجزے کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبہ ہمیشہ حق کی تلاش کے لیے نہیں ہوتا تھا۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ لوگ معجزہ اس لیے مانگتے تھے کہ اگر معجزہ ظاہر نہ ہو تو نبی کو جھوٹا ثابت کرسکیں۔ قومِ ثمود بھی اسی نفسیات کا شکار تھی۔ انہوں نے کہا: “اگر تم واقعی اللہ کے رسول ہو تو ہمارے سامنے ایسی نشانی پیش کرو جو انسانی طاقت سے باہر ہو۔” قرآن اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انہوں نے حضرت صالح علیہ السلام کو مسلسل جھٹلایا اور بار بار دلیل طلب کی۔
انہوں نے کون سی شرط رکھی؟
مفسرین نے مختلف روایات نقل کی ہیں کہ قومِ ثمود کے سرداروں نے ایک عظیم چٹان کی طرف اشارہ کیا۔ پھر انہوں نے کہا: “اگر تم اللہ کے نبی ہو تو اس پتھر سے ایک زندہ اونٹنی نکل آئے۔” بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ انہوں نے اس اونٹنی کے لیے مخصوص اوصاف بھی بیان کیے۔ ان کا خیال تھا کہ ایسی شرط پوری ہونا ناممکن ہے۔ وہ دراصل معجزہ مانگ نہیں رہے تھے بلکہ نبوت کو ناممکن ثابت کرنا چاہتے تھے۔
معجزہ ظاہر ہوگیا
اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی۔ پھر وہ واقعہ پیش آیا جس نے پوری قوم کو حیران کردیا۔ قرآن مجید فرماتا ہے: هَذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً “یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے۔” (الاعراف: 73) چٹان سے ایک زندہ اونٹنی ظاہر ہوئی۔ یہ عام اونٹنی نہیں تھی۔ یہ براہِ راست اللہ کی قدرت کی نشانی تھی۔ اسی لیے قرآن نے اسے “ناقۃ اللہ” کہا۔
اللہ نے اسے اپنی طرف منسوب کیوں کیا؟
اللہ تعالیٰ کسی جانور کا محتاج نہیں۔ پھر قرآن نے اسے “اللہ کی اونٹنی” کیوں کہا؟ عربی زبان میں کسی چیز کو اللہ کی طرف منسوب کرنا اس کی عظمت، حرمت اور خصوصی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر: * بیت اللہ * روح اللہ * عبد اللہ اسی طرح ناقۃ اللہ کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ کو اونٹنی کی ضرورت تھی، بلکہ یہ کہ وہ ایک مقدس نشانی تھی جس کے ساتھ خصوصی معاملہ کرنا لازم تھا۔
قوم کے لیے آزمائش
یہ معجزہ صرف حیرت پیدا کرنے کے لیے نہیں آیا تھا۔ یہ ایک امتحان بھی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: إِنَّا مُرْسِلُو النَّاقَةِ فِتْنَةً لَهُمْ “ہم اونٹنی کو ان کے لیے آزمائش بنا کر بھیج رہے ہیں۔” (القمر: 27) یہاں ایک عظیم اصول سامنے آتا ہے۔ معجزہ دیکھ لینے کے بعد انسان کے پاس انکار کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔ اس کے بعد ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔
اونٹنی کے متعلق کیا حکم دیا گیا؟
حضرت صالح علیہ السلام نے قوم کو بتایا: اس اونٹنی کو آزاد چھوڑ دو۔ اسے نقصان نہ پہنچاؤ۔ اس کے پانی پینے کا ایک مقرر دن ہوگا۔ قرآن فرماتا ہے: لَهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَعْلُومٍ “اس کے لیے پانی پینے کا ایک دن ہے اور تمہارے لیے ایک مقرر دن۔” (الشعراء: 155) یعنی باری مقرر کردی گئی۔ ایک دن اونٹنی پانی پیتی۔ دوسرے دن لوگ پانی استعمال کرتے۔
اس حکم میں حکمت کیا تھی؟
بظاہر یہ معمولی حکم لگتا ہے۔ لیکن دراصل یہ قوم کے تکبر کا امتحان تھا۔ اصل سوال یہ نہیں تھا کہ اونٹنی پانی کیوں پیتی ہے۔ اصل سوال یہ تھا: کیا وہ اللہ کے حکم کے سامنے جھکنے کو تیار ہیں یا نہیں؟ انبیاء کی دعوت کا مرکز ہمیشہ یہی رہا ہے۔ انسان اللہ کے حکم کے سامنے سر جھکاتا ہے یا اپنی خواہشات کو خدا بنا لیتا ہے۔
ایمان لانے والوں کی تعداد
قرآن تعداد بیان نہیں کرتا۔ البتہ مجموعی تاثر یہی ملتا ہے کہ ایمان لانے والے کم تھے۔ زیادہ تر سردار اور بااثر لوگ انکار پر قائم رہے۔ یہی معاملہ تقریباً تمام انبیاء کے ساتھ پیش آیا۔ نوح علیہ السلام، ہود علیہ السلام، لوط علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کے واقعات میں بھی یہی حقیقت نظر آتی ہے۔
سرداروں کا ردِعمل
جب معجزہ ظاہر ہوگیا تو انہیں اپنی شکست محسوس ہوئی۔ وہ جانتے تھے کہ اب عام لوگ متاثر ہوں گے۔ اس لیے انہوں نے نئی حکمتِ عملی اختیار کی۔ انہوں نے معجزے کا انکار نہیں کیا۔ بلکہ اس کے اثرات ختم کرنے کی کوشش کی۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں تکبر انسان کو سچائی کے خلاف جنگ پر مجبور کر دیتا ہے۔
قرآن کا نفسیاتی تجزیہ
قرآن بار بار بتاتا ہے کہ اصل مسئلہ دلیل کی کمی نہیں ہوتی۔ اصل مسئلہ دل کا تکبر ہوتا ہے۔ قومِ ثمود نے معجزہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ پھر بھی ایمان نہ لائے۔ کیونکہ ان کے لیے مسئلہ سچائی نہیں بلکہ انا تھی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں بار بار “استکبار” یعنی تکبر کا ذکر آتا ہے۔
اونٹنی سے نفرت کیوں پیدا ہوئی؟
وقت گزرنے کے ساتھ ناقۃ اللہ ان کے لیے ایک یاد دہانی بن گئی۔ جب بھی وہ اونٹنی کو دیکھتے انہیں حضرت صالح علیہ السلام کی نبوت یاد آتی۔ انہیں اپنا جھوٹ یاد آتا۔ انہیں اللہ کا حکم یاد آتا۔ اور یہی چیز ان کے لیے ناقابلِ برداشت بنتی گئی۔ انسان جب حق قبول نہیں کرتا تو اکثر حق کی علامتوں سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ قومِ ثمود بھی اسی نفسیاتی بیماری کا شکار ہوگئی۔
سازش کی ابتدا
پہلے انہوں نے تبلیغ کا مذاق اڑایا۔ پھر ایمان والوں کو دبانے کی کوشش کی۔ پھر نبی کو جھٹلایا۔ پھر معجزے کا انکار کیا۔ اور آخرکار وہ اس مقام پر پہنچ گئے جہاں انہوں نے اللہ کی نشانی کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ یہی ہر سرکش قوم کا آخری مرحلہ ہوتا ہے۔
قرآن میں مذکور نو سرکش افراد
قرآن مجید ایک نہایت اہم حقیقت بیان کرتا ہے: وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ “شہر میں نو افراد ایسے تھے جو فساد پھیلاتے تھے۔” (النمل: 48) یہ لوگ قومِ ثمود کے طاقتور مجرم تھے۔ ان کے پاس اثر و رسوخ تھا۔ وہ لوگوں کو بھڑکاتے تھے۔ حق کے خلاف پروپیگنڈا کرتے تھے۔ اور ہر اصلاحی کوشش کو ناکام بناتے تھے۔
یہ نو افراد کون تھے؟
قرآن نے نام نہیں بتائے۔ اس میں بڑی حکمت ہے۔ اللہ نے شخصیتوں کے بجائے کردار کو نمایاں کیا۔ تاکہ ہر دور کے لوگ سمجھ سکیں کہ فساد کے یہ کردار ہر زمانے میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ لوگ: * طاقت کے نشے میں تھے * دولت پر فخر کرتے تھے
* اصلاح کے دشمن تھے * سچائی سے نفرت کرتے تھے
ناقۃ اللہ کو قتل کرنے کا فیصلہ
آخرکار انہی سرکش افراد نے فیصلہ کیا: “اگر یہ اونٹنی ختم ہوجائے تو صالح علیہ السلام کی دعوت بھی کمزور پڑ جائے گی۔” یہ دراصل ایک جانور کا قتل نہیں تھا۔ یہ اللہ کی نشانی کے خلاف اعلانِ جنگ تھا۔ یہ نبوت کے خلاف بغاوت تھی۔ یہ اللہ کے حکم کی کھلی نافرمانی تھی۔
قتل کا مجرم کون تھا؟
قرآن ایک شخص کا خاص ذکر کرتا ہے۔ فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطَى فَعَقَرَ “انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو بلایا، اس نے ہمت کی اور اونٹنی کو قتل کردیا۔” (القمر: 29) اگرچہ منصوبہ اجتماعی تھا، لیکن عملی اقدام ایک شخص نے کیا۔ احادیث اور تفاسیر میں اس شخص کو انتہائی بدبخت انسانوں میں شمار کیا گیا ہے۔
اونٹنی کو کیسے قتل کیا گیا؟
روایات کے مطابق اس شخص نے حملہ کرکے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ پھر اسے ذبح کردیا گیا۔ قرآن اس واقعے کو مختصر لیکن انتہائی طاقتور انداز میں بیان کرتا ہے: فَعَقَرُوا النَّاقَةَ “پھر انہوں نے اونٹنی کو قتل کردیا۔” یہ مختصر الفاظ ایک پوری قوم کی بغاوت کی تاریخ سمیٹے ہوئے ہیں۔
کیا سب لوگ مجرم تھے؟
یہ سوال بہت اہم ہے۔ عمل ایک شخص نے کیا۔ لیکن قرآن پوری قوم کو مجرم قرار دیتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ: * منصوبہ اجتماعی تھا۔ * اکثریت راضی تھی۔ * کسی نے روکنے کی کوشش نہ کی۔ * لوگوں نے جرم کی حمایت کی۔ یہ اسلام کا ایک عظیم اخلاقی اصول ہے: کبھی کبھی خاموش حمایت بھی جرم میں شمولیت بن جاتی ہے۔
حضرت صالح علیہ السلام کی آخری وارننگ
اونٹنی کے قتل کے بعد حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا: تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ “اپنے گھروں میں تین دن تک فائدہ اٹھالو۔” (ہود: 65) یہ آخری مہلت تھی۔ اب فیصلہ ہوچکا تھا۔ رحمت کا دروازہ کھلا تھا مگر قوم توبہ کے لیے تیار نہ تھی۔
تین دن کی مہلت کیوں؟
علماء نے لکھا ہے کہ یہ اللہ کی آخری حجت تھی۔ تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔ اللہ تعالیٰ کا قانون یہی ہے کہ عذاب سے پہلے تنبیہ، مہلت اور اتمامِ حجت ہوتا ہے۔
تین دنوں میں کیا ہوا؟
تفاسیر میں آتا ہے کہ ان کے چہروں کے رنگ بدلنے لگے۔ وہ خوفزدہ ہوگئے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ حضرت صالح علیہ السلام کی بات سچ ثابت ہورہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود تکبر نے انہیں توبہ سے روک دیا۔ بعض نے نبی کو قتل کرنے کا منصوبہ بھی بنایا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر کو ناکام کردیا۔
یہاں قومِ ثمود کی تاریخ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔
قومِ ثمود — حصہ سوم
عذابِ ثمود کی ہولناک تفصیلات، صیحہ، رجفہ اور صاعقہ کا تحقیقی مطالعہ
قومِ ثمود کی تاریخ اب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوچکی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی نشانی، ناقۃُ اللہ، قتل کی جا چکی تھی۔ حضرت صالح علیہ السلام نے آخری تنبیہ سنا دی تھی۔ تین دن کی مہلت دی جا چکی تھی۔ آسمان اور زمین گویا اس فیصلے کے منتظر تھے جو عدلِ الٰہی کی طرف سے صادر ہو چکا تھا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب ایک عظیم تہذیب اپنی طاقت، اپنی انجینئرنگ، اپنے محلات، اپنی چٹانوں اور اپنے غرور سمیت تاریخ کے قبرستان میں دفن ہونے والی تھی۔
تین دن کی مہلت کا اختتام
حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا: “اپنے گھروں میں تین دن تک فائدہ اٹھا لو۔” یہ الفاظ دراصل عذاب کا اعلان تھے۔ عام طور پر انسان سمجھتا ہے کہ زندگی چل رہی ہے تو خطرہ ٹل گیا ہے، لیکن بعض اوقات سب سے خوفناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب عذاب آنے سے پہلے خاموشی چھائی ہوئی ہو۔ قومِ ثمود کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ پہلا دن گزرا۔ دوسرا دن گزرا۔ تیسرا دن بھی گزر گیا۔ لیکن ان کے دلوں میں توبہ پیدا نہ ہوئی۔
کیا انہوں نے توبہ کی کوشش کی؟
قرآن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اجتماعی طور پر انہوں نے توبہ نہیں کی۔ بعض افراد خوفزدہ ضرور ہوئے، لیکن قومی سطح پر سرکشی برقرار رہی۔ یہ انسانی نفسیات کا عجیب پہلو ہے۔ کبھی کبھی انسان سچ جان لیتا ہے، مگر اپنی انا کے سامنے ہار جاتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ غلط ہے، لیکن وہ غلطی ماننے سے زیادہ ہلاکت کو قبول کر لیتا ہے۔
عذاب کس دن آیا؟
جب مہلت ختم ہوگئی تو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ نافذ ہوگیا۔ قرآن مجید مختلف مقامات پر عذاب کو مختلف الفاظ سے بیان کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگوں کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ثمود پر زلزلہ آیا تھا؟ یا آسمانی چیخ آئی تھی؟ یا بجلی گری تھی؟ یا کوئی اور عذاب تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کے تمام بیانات ایک دوسرے کی تفسیر کرتے ہیں، ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتے۔
صیحہ کیا تھی؟
قرآن فرماتا ہے: فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ “پھر انہیں ایک ہولناک چیخ نے آ لیا۔” صیحہ کا لفظ عربی میں ایسی خوفناک آواز کے لیے آتا ہے جو انسان کے اعصاب، دل اور دماغ کو ہلا کر رکھ دے۔ یہ عام چیخ نہیں تھی۔ یہ اللہ کے حکم سے آنے والی ایسی تباہ کن آواز تھی جس نے پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
یہ آواز کیسی تھی؟
قرآن نے اس کی فنی تفصیل بیان نہیں کی۔ لیکن علماء نے قرآن کی آیات کو جمع کرکے لکھا ہے کہ یہ ایسی مہیب آواز تھی جس نے: * دلوں کو پھاڑ دیا * اعصاب کو توڑ دیا
* جسمانی نظام کو مفلوج کردیا * پوری آبادی کو چند لمحوں میں ختم کردیا یہ آواز کسی انسانی طاقت کی پیدا کردہ نہیں تھی۔ یہ براہِ راست حکمِ الٰہی کے تحت آنے والا عذاب تھا۔
رجفہ کیا تھی؟
ایک دوسری جگہ قرآن فرماتا ہے: فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ “پس انہیں زلزلے نے پکڑ لیا۔” رجفہ کے معنی ہیں: شدید لرزش۔ شدید ارتعاش۔ زلزلہ نما ہلچل۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین بھی لرز اٹھی تھی۔
صیحہ اور رجفہ میں تضاد کیوں نہیں؟
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر ایک جگہ صیحہ ہے تو دوسری جگہ رجفہ کیوں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک ہی عذاب کے مختلف پہلو ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر: بعض آتش فشانی دھماکوں میں: * شدید دھماکہ ہوتا ہے * خوفناک آواز پیدا ہوتی ہے
* زمین لرزتی ہے * فضائی دباؤ تباہی مچاتا ہے اسی طرح قومِ ثمود پر آنے والا عذاب بھی کئی پہلو رکھتا تھا۔ قرآن ہر مقام پر اس کے ایک خاص رخ کو نمایاں کرتا ہے۔
صاعقہ کیا تھی؟
ایک مقام پر قرآن فرماتا ہے: فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ صاعقہ کا لفظ بجلی، ہلاکت خیز دھماکے یا آسمانی تباہی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب صرف زمین تک محدود نہ تھا۔ آسمانی عناصر بھی اس تباہی میں شامل تھے۔
قرآن مختلف الفاظ کیوں استعمال کرتا ہے؟
یہ قرآن کا اعجاز ہے۔ ایک جگہ: صیحہ دوسری جگہ: رجفہ تیسری جگہ: صاعقہ چوتھی جگہ: طاغیہ استعمال ہوتی ہے۔ یہ تمام الفاظ مل کر عذاب کی مکمل تصویر پیش کرتے ہیں۔ گویا: * زمین لرزی۔ * آسمان سے تباہی آئی۔ * خوفناک آواز گونجی۔ * پوری آبادی یکدم ختم ہوگئی۔
طاغیہ کیا تھی؟
قرآن فرماتا ہے: فَأَمَّا ثَمُودُ فَأُهْلِكُوا بِالطَّاغِيَةِ طاغیہ کا مفہوم ہے: حد سے بڑھ جانے والی تباہ کن قوت۔ یعنی ایسا عذاب جو معمول سے کہیں زیادہ شدید ہو۔ یہ لفظ عذاب کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
عذاب کا لمحہ
تصور کیجیے: وہ لوگ جو کل تک پہاڑ تراش رہے تھے۔ جو اپنی طاقت پر فخر کرتے تھے۔ جو سمجھتے تھے کہ کوئی انہیں شکست نہیں دے سکتا۔ جو حضرت صالح علیہ السلام کا مذاق اڑاتے تھے۔ اچانک ایک لمحہ آیا۔ آسمان خاموش ہوگیا۔ پھر اللہ کا حکم نازل ہوا۔ اور پوری قوم صفحۂ ہستی سے مٹ گئی۔
قرآن ان کی موت کا منظر کیسے بیان کرتا ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَأَصْبَحُوا فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ “پھر وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔” یہ منظر انتہائی دردناک ہے۔ کل تک جن گھروں میں زندگی تھی، آج وہاں لاشیں تھیں۔ کل تک جن محلوں میں شور تھا، آج وہاں خاموشی تھی۔ کل تک جو لوگ اپنی طاقت پر نازاں تھے، آج ان کا نام لینے والا کوئی نہ تھا۔
جاثمین کا مفہوم
جاثمین کا لفظ عربی میں اس حالت کے لیے آتا ہے جب کوئی چیز زمین پر بے جان پڑی ہو۔ یعنی: * کوئی حرکت نہیں * کوئی آواز نہیں * کوئی طاقت نہیں گویا پوری قوم ایک ہی وقت میں منجمد ہوگئی۔
کیا کوئی بچا تھا؟
ہاں۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو بچا لیا۔ فرمایا: > فَنَجَّيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا “ہم نے ایمان والوں کو نجات دے دی۔” یہ اللہ کا مستقل قانون ہے۔ جب اجتماعی عذاب آتا ہے تو اللہ اپنے سچے بندوں کے لیے نجات کا راستہ پیدا کرتا ہے۔
حضرت صالح علیہ السلام کہاں تھے؟
عذاب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام اور اہلِ ایمان کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ عذاب کے وقت قوم کے درمیان موجود نہ تھے۔ یہ بھی اللہ کی سنت ہے کہ نبی اور اہلِ ایمان کو محفوظ کرلیا جاتا ہے۔
عذاب کے بعد حضرت صالح علیہ السلام نے کیا فرمایا؟
قرآن مجید ایک انتہائی دردناک منظر بیان کرتا ہے۔ حضرت صالح علیہ السلام نے تباہ شدہ قوم کو دیکھ کر فرمایا: يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّي “اے میری قوم! میں نے تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا تھا۔” یہ ایک نبی کے دل کی آواز تھی۔ انہوں نے اپنی قوم سے نفرت نہیں کی تھی۔ انہوں نے ان کے لیے خیر خواہی کی تھی۔ انہوں نے برسوں سمجھایا تھا۔ مگر قوم نے خود اپنے انجام کا انتخاب کیا۔
اللہ نے ان کے گھروں کو کیوں باقی رکھا؟
یہ بہت اہم سوال ہے۔ عاد کی قوم کے برعکس ثمود کے بہت سے آثار باقی رکھے گئے۔ وجہ یہ تھی کہ بعد کی نسلیں انہیں دیکھ سکیں۔ چنانچہ آج بھی ان کے تراشے ہوئے پہاڑ دنیا کے سامنے موجود ہیں۔ یہ محض آثارِ قدیمہ نہیں بلکہ زندہ عبرت ہیں۔
طاقت اور عذاب کا تعلق
قومِ ثمود ہمیں ایک عظیم سبق دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اس لیے تباہ نہیں کرتا کہ وہ امیر ہے۔ یا اس لیے کہ وہ ترقی یافتہ ہے۔ یا اس لیے کہ اس کے پاس طاقت ہے۔ بلکہ تباہی اس وقت آتی ہے جب: * طاقت تکبر بن جائے۔ * ترقی سرکشی بن جائے۔ * دولت غرور بن جائے۔ * نعمت ناشکری بن جائے۔ * علم ہدایت کے بجائے بغاوت کا ذریعہ بن جائے۔
قومِ ثمود کی اصل بیماری
بظاہر مسئلہ اونٹنی نہیں تھی۔ اصل مسئلہ دلوں کا تکبر تھا۔ معجزہ بھی دیکھ لیا۔ دلیل بھی سن لی۔ نبی کی سچائی بھی معلوم تھی۔ پھر بھی انکار کیا۔ اسی لیے قرآن کی نگاہ میں ان کا سب سے بڑا جرم شرک کے ساتھ تکبر تھا۔
ایک تہذیب کا خاتمہ
دنیا کی ہر بڑی تہذیب سمجھتی ہے کہ وہ ہمیشہ قائم رہے گی۔ فرعون نے یہی سوچا۔ عاد نے یہی سوچا۔ ثمود نے یہی سوچا۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب اللہ کا فیصلہ آتا ہے تو پہاڑوں میں تراشے ہوئے محلات بھی اپنے مالکوں کو نہیں بچا سکتے۔
![]()

