وہ سیارہ جہاں شیشے کی بارش ہوتی ہے اور ہوائیں آواز سے بھی کئی گنا تیز چلتی ہیں
مؤلف: طارق اقبال سوہدروی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ مؤلف: طارق اقبال سوہدروی)اگر کوئی آپ سے کہے کہ کائنات میں ایک ایسا سیارہ بھی موجود ہے جہاں پانی نہیں بلکہ شیشے (Glass) کی بارش ہوتی ہے، اور ہوائیں آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ تیز چلتی ہیں، تو شاید یہ کسی سائنس فکشن فلم کا منظر لگے۔ مگر جدید فلکیات نے واقعی ایک ایسے سیارے کا سراغ لگایا ہے جس نے سائنسدانوں کو حیران کر دیا۔
اس سیارے کا نام HD 189733 b ہے۔ یہ زمین سے تقریباً 64 نوری سال کے فاصلے پر واقع ایک گیس دیو (Gas Giant) ہے اور اپنے ستارے کے بہت قریب گردش کرتا ہے۔ اسی قربت کی وجہ سے اس کا ماحول انتہائی شدید اور پرتشدد ہے۔
اس سیارے کا رنگ گہرا نیلا دکھائی دیتا ہے، جسے دیکھ کر پہلی نظر میں یہ زمین جیسا خوبصورت اور پُرسکون معلوم ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ نیلا رنگ سمندروں کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی فضا میں موجود سلیکیٹ (Silicate) ذرات کی وجہ سے ہے، جو سورج کی روشنی کو خاص انداز میں منعکس کرتے ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق اس سیارے پر درجۂ حرارت تقریباً 900 سے 1,200 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ اس شدید گرمی میں سلیکیٹ ذرات بخارات اور باریک قطروں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ پھر طاقتور ہوائیں انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں، جہاں وہ شیشے جیسے ننھے ذرات کی صورت میں “بارش” کرتے ہیں۔
یہاں ایک اہم سائنسی وضاحت ضروری ہے۔ سائنسدانوں نے آسمان سے گرتے ہوئے شیشے کے قطرے براہِ راست نہیں دیکھے۔ یہ نتیجہ دوربینوں سے حاصل ہونے والے طیفی مشاہدات (Spectroscopy)، کمپیوٹر ماڈلز اور سیارے کے ماحول کے تجزیے کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے۔ اسی لیے ماہرین عام طور پر “ممکنہ شیشے کی بارش” (Possible Silicate Rain) کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
اس سیارے کی ہوائیں بھی حیران کن ہیں۔ موجودہ تحقیق کے مطابق ان کی رفتار 7,000 سے 8,700 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، جو زمین پر آواز کی رفتار (تقریباً 1,235 کلومیٹر فی گھنٹہ) سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اگر کوئی فرضی خلائی مسافر وہاں موجود ہو تو اسے صرف شدید گرمی ہی نہیں بلکہ انتہائی تیز رفتار شیشے کے ذرات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ دریافت ہمیں ایک اہم حقیقت سکھاتی ہے کہ کائنات میں “بارش” صرف پانی کی نہیں ہوتی۔ مختلف سیاروں پر درجۂ حرارت، دباؤ اور ماحول کی نوعیت کے مطابق مختلف مادّے بخارات بن کر دوبارہ بارش کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ کہیں لوہے کی بارش کے امکانات ہیں، کہیں شیشے جیسے ذرات کی، اور کہیں ایسے بادل جن کی کیمیائی ساخت زمین سے بالکل مختلف ہے۔
اسی لیے ماہرین فلکیات ہزاروں دریافت شدہ سیاروں (Exoplanets) کا مسلسل مطالعہ کر رہے ہیں تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ کائنات میں سیاروں کی کتنی متنوع اقسام موجود ہیں۔
قرآن مجید انسان کو آسمانوں کی تخلیق میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ”
(سورۃ آل عمران: 190)
ترجمہ:
“بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور رات دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔”
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ”
(سورۃ النحل: 8)
ترجمہ:
“اور وہ ایسی چیزیں بھی پیدا کرتا ہے جنہیں تم نہیں جانتے۔”
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہماری معلومات سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ جدید فلکیات ہر سال نئی نئی دنیاؤں سے پردہ اٹھا رہی ہے، اور ہر دریافت ہمیں کائنات کی وسعت اور تنوع کا مزید احساس دلاتی ہے۔
📌 اہم وضاحت
اس مضمون میں بیان کی گئی “شیشے کی بارش” ایک سائنسی تشریح ہے جو موجودہ مشاہدات، طیفی تجزیے اور کمپیوٹر ماڈلز پر مبنی ہے۔ سائنسدانوں نے اس سیارے پر براہِ راست بارش ہوتے نہیں دیکھی، بلکہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر یہ مضبوط سائنسی مفروضہ پیش کیا ہے، جس میں آئندہ تحقیقات کے ساتھ مزید بہتری آ سکتی ہے۔
#سیارہ #شیشے_کی_بارش #فلکیات #کائنات #سائنس_اور_قرآن #HD189733b #Exoplanet #Astronomy #SpaceScience #IslamAndScience
حوالہ جات:
– NASA Exoplanet Exploration Program
– European Space Agency (ESA)
– Hubble Space Telescope Observations
– Nature Astronomy
– Encyclopaedia Britannica – Exoplanets
– سورۃ آل عمران: 190
– سورۃ النحل: 8
![]()

