جب مُرشد ‘ کامل ولی’ ہو تب مُرید کیا کچھ کر سکتا ہے
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مجھے میرے محبوب نے اجازت دی تھی کبھی کسی جگہ پر٫کسی مشکل میں پھنس جاؤ تب مجھے یاد کرنا اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد پہنچ جائے گی (ان شاءاللہ تعالیٰ) اِسی پر ایک واقعہ لکھ رہا ہوں کہ کامل مرشد٫ کامل ولی کتنے اختیار رکھتا ہے.
میں کافی عرصے سے اپنے محبوب٫اپنے مرشد سے اجازت طلب کر رہا تھا کہ اب مجھے پاکستان واپس آنے کی اجازت عطاء فرما دی جائے.پھر ایک دن محبوب نے اجازت مرحمت فرما دی کہ اب ہمیشہ کیلئے پاکستان آ جاؤ.میں نے چند دنوں کے اندر اندر سب سامان سمیٹا اور ایک خاص روحانی ڈیوٹی اپنے ایک خاص اور بہت اچھے دوست کو دے دی مگر اِس ڈیوٹی کو دینے سے پہلے دو سال اُسے میں نے اپنے ساتھ رکھا پھر اُس کو اِس روحانی ڈیوٹی٫ روحانی خدمت کی ساری ترتیب اور راز سمجھائے کہ یہ ڈیوٹی کرتے رہنا دنیا کا نظام جیسا تم چاہو گے ویسا ہی بنتا رہے گا(ان شاءاللہ تعالیٰ).وہ ڈیوٹی کیا ہے بس اللہ کے عجیب و غریب راز ہیں اور ہر وقت اللہ کی مدد ساتھ رہتی ہے.کائنات کا نظام ہمیشہ آپ کے موافق رہتا ہے.ہوا٫زمین اور سمندر کی خاص روحانی ڈیوٹی تھی.پھر ایک خاص اور آخری ڈیوٹی جدہ(سعودی عرب)میں رہتے ہوئے ہی ملی کہ لداخ (پاکستان٫چائنہ٫بھارت بارڈر)میں پاکستان کے SSG کے کمانڈوز بھیجے جانے تھے اُن سے متعلق ڈیوٹی تھی (یہ بڑا لمبا چوڑا واقعہ ہے پھر کبھی لکھوں گا کہ کس طرح ہمارے وطن کی حفاظت ہو رہی ہے ان شاءاللہ تعالیٰ).اپنے دوست کو سب کچھ سمجھا کر میں نے جہاز کی سیٹیں بُک کروانے لگ پڑا مگر اب کوئی بھی سیٹ ہی نہیں مل رہی تھی.میں سوچ میں پڑ گیا کہ کہیں کوئی بات ضرور ہے جو سیٹ نہیں مل رہی.کہیں کچھ ہونے والا ہے.اب میرے زہن سے مکمل طور پر نکل گیا کہ اپنی روحانی صلاحیتوں کو استعمال کر کے پتہ کروں کہ جہاز کی سیٹیں کیوں نہیں مل رہیں.میں پریشان نہیں تھا کیونکہ میری سعودی عرب میں نبی کریم ﷺ سے٫حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم٫حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباس بن علی کرم اللہ وجہہ الکریم (المعروف حضرت عباس علمدار) سے آخری روحانی ملاقات ہو چکی تھی.حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے مبارک چہرے پر خوشی کی انتہا تھی.نبی کریم ﷺ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے مجھے اپنے مبارک سینے سے لگایا اور میرا سینہ نور سے منور کر دیا.مسجدی نبوی ﷺ میں حاضری دی٫پھر حضرت امیر حمزہ(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہو کر کچھ عرضیاں پیش کیں واپس جدہ گھر آ گیا.مختلف ائیر لائنز سے رابطہ کر رہا تھا مگر ہر طرف سے یہی جواب ملتا کہ ابھی سیٹیں نہیں مل سکتیں.مجھے یقین ہو گیا کہ کچھ ہونے والا ہے مگر مجھ سے پوشیدہ رکھا جا رہا ہے شاید کچھ ایسا عمل سر زد ہونے والا ہے جو عجائبات میں سے ہو گا.آخر کار میں نے محبوب مُرشد سے عرض کی کہ یہ مسئلہ پیش آ رہا ہے.محبوب نے دعا فرمائی تو ایک ائیر لائن کی ٹِکٹس مل گئیں.قصہ مختصر فیملی سمیت ائیر پورٹ پر پہنچ گیا.بورڈنگ کے بعد جہاز میں بیٹھ گئے اور میرے کچھ وظائف باقی تھے وہ وظائف کرنے لگ گیا اور پھر اپنے بیگ میں سے اپنی نوٹ بُک نکال کر مقدر٫ نصیب٫ بخت٫ قسمت پر لکھنے لگ گیا کہ یہ مقدر نصیب اور قسمت کیسے بدلتا ہے وہ راز وہ اسرار لکھتا رہا.جہاز کو اُڑتے ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ ہوا کہ جہاز میں پیچھے کی جانب ایک شور سا سُنائی دیا.ائیر ہوسٹس نے گھبرائی اور سہمی ہوئی اناونسمنٹ آواز میں (Announcement) کی کہ جہاز میں اگر کوئی ڈاکٹر ہے تو مہربانی فرما کر پیچھے تشریف لے آئیں ایک مسافر کو برین ہیمرج ہو گیا ہے.میں کھانا کھا رہا تھا جب آواز میرے کانوں سے ٹکرائی تو ایک دم سے اللہ تعالیٰ کا ایک مکمل غیبی پروگرام میرے سامنے کُھل گیا.میں خاموشی سے کھانا کھانے لگ گیا کہ اچانک میری اہلیہ میری طرف دیکھنے لگی اور کہنے لگی کہ جائیں اور اُس مریض کو دیکھیں جو بیچارہ موت کے مُنہ میں پھنسا ہوا ہے. میں ایک دم سے خاموش ہو گیا کہ وہ اکیلا نہیں بلکہ پورا جہاز دیکھے گا کہ ایک موت کے منہ میں پہنچا ہوا شخص کیسے واپس آ گیا کیونکہ میری طبیعت پر جلال غالب ہے اِس لئیے کبھی بھی کچھ بھی منہ سے نکل جائے تو اُس کا نتیجہ کیا نکلے وہ اللہ ہی جانے پھر٫ اِس لئیے مجھے مکمل احتیاط کرنی پڑتی ہے.مجھے سب کے سامنے یہ کرتے ہوئے کچھ عجیب سا لگ رہا تھا.آپ اندازہ لگائیں کہ جہاز میں دورانِ سفر ہم اپنی سیٹ پر بیٹھے ہوئے ایک سے دوسری مرتبہ پانی یا کولڈ ڈرنکس بھی مانگتے ہو جھجھکتے اور شرماتے ہیں تو اگر سارے جہاز کے مسافر آپ کو دیکھ رہے ہوں تب آپ کی حالت کیا ہو گی.مہرے اندر اطمینان تھا کیونکہ میری پُشت پر میرا محبوب٫میرا مرشد تھا.
بہرحال میں اپنی سیٹ سے اُٹھا تو میرے جسم کا رُواں رُواں کھڑا ہو گیا٫میں سمجھ گیا میرے دوست آ گئے ہیں مدد آ گئی ہے.اور یہی وہ شخص تھا جسے اللہ تعالیٰ نے بچانا تھا.اور کتنی ترتیب سے خدائی پلان بنایا گیا تھا.جونہی میں اُٹھا تو سب مسافروں کی نظریں میری طرف متوجہ ہوئیں کہ یقیناً کوئی ڈاکٹر ہے. میں مریض کے پاس پہنچا تو ائیر ہوسٹسز مجھے پوچھنے لگیں (? R you Doctor) کیا آپ ڈاکٹر ہیں ؟ میرے منہ سے اچانک ائیر ہوسٹس کو دیکھے بغیر نکل گیا کہ ابھی پتہ چل جاتا ہے کہ میں کون ہوں.اپنے اِس جواب پر میں خود حیران تھا کہ میں آج میں نہیں ہوں.میں نے اُس غریب شخص کو دیکھا اُس کے ناک سے خون مسلسل بہہ بہہ کر کپڑے سرخ ہو چکے تھے.اور سانس ٹوٹ ٹوٹ کر لے رہا تھا٫سانس بکھر رہا تھا اور وہ مکمل بے ہوش تھا.اپنا سیدھا ہاتھ میں نے اُس شخص کے سر پر رکھ کر ایک خاص الخاص عمل پڑھا اور پھونک مار دی.(یہ ہاتھ بڑا خوش قسمت ہاتھ تھا اِس ہاتھ کو نبی کریم ﷺ نے اپنے مبارک ہاتھ سے تھاما تھا مصافحہ کیا تھا اور نبی کریم ﷺ نے خود اپنا ہاتھ بڑھا کر میرے ہاتھ سے مصافحہ کیا تھا٫مولائے کائنات٫ شیرِ خدا٫میرے بابا٫ میرے مولا٫میرے مدد گار٫میرے غمخوار٫میرے راہنما حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے اپنی قبر مبارک سے اپنا ہاتھ باہر نکال کر میرے ہاتھ سے مصافحہ کیا تھا٫تھام لیا تھا٫اِس ہاتھ کو اولیائے کرام نے مختلف موقعوں پر تھاما اور پکڑا تھا) یہ جو پڑھائی اُس مسافر مریض پر دم کی تھی یہ میں نے مسجدی نبوی ﷺ میں بیٹھ کر مکمل کی تھی.پھونک مارنے کے بعد میں آنکھیں دوبارہ بند کر لیں اور اپنے مُرشد سے عرض کی کہ میرے محبوب آج یہ بندہ اُٹھنا چاہئیے اگر مر بھی گیا ہے تو یہ اللہ کے حکم سے زندہ ہونا چاہئیے پھر میں نے اللہ سے ایک خاص قِسم کا معاہدہ کیا اُس معاہدے میں اِس غریب مسافر پردیسی کی جگہ کسی اور کی جان پیش کرنے کا معاہدہ کیا گیا تھا.سب معاملات طے کر کے واپس اپنی سیٹ پر بڑے اعتماد کے ساتھ آ کر بیٹھ گیا اور دعا کیلئے اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کر دیا اور دعا کرتا رہا.چند منٹ بعد ہی مریض کو ہوش آ گیا اور جہاز کا سارا عملہ خوشی سے بس ناچ رہا تھا.چند منٹ بعد وہ مسافر مریض دوسری قطار کی سیٹ پر میرے سامنے بیٹھ گیا وہ بیچارہ جانتا ہی نہیں تھا کہ آج اُسے بچانے کیلئے اللہ تعالیٰ نے کیا سے کیا کر دیا.اب سب لوگ میری طرف عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے کہ یہ انگریزی لباس میں کون ہے.بس پھر جہاز کا عملہ میرے ارد گرد تھا کہ یہ سب کچھ کیا ہے ؟ میں نے عرض کی یہ کیا ہے اِس بارے میں کیا بتاؤں بس یہ سمجھ لیں کہ یہ اِس مسافر کا مقدر اور نصیب تھا کہ اِس کو بچانا تھا تو اُس کریم رب نے بچا لیا ہم صرف بہانہ بنے ہیں باقی سارے کام اللہ تعالیٰ کے ہیں.پھر میری تعریفیں تھیں جو میرے کسی کام کی نہیں تھیں.محبوب نے سمجھایا تھا کہ نہ تعریف تمہارے کام کی ہے اور نہ ہی (اِنسلٹ) بے عزتی کو دل پر لینا.فقیر اِن دونوں باتوں سے بے پرواہ ہوتا ہے. یہ اختیار اپنے لئیے ہرگز مت استعمال کرنا ہاں اگر کہیں ضرورت پڑ جائے تو جو میں نے تمہیں خاص چیز عطاء فرمائی ہے وہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا. دعا والا رستہ اختیار کرنا.اختیارات استعمال مت کرنا.بس وہ بات آج تک میرے دل و دماغ میں نقش ہو چکی ہے.وہ اختیار اتنا زبردست ہے کہ دنیا کے نظام میں انسان خلل ڈال سکتا ہے.پھر جہاز لاہور کی بجائے سعودی عرب کے شہر ریاض میں ایمرجنسی حالت میں اُتارا گیا.وہاں اُس شخص کو ہسپتال لے جایا گیا اور ہم لاہور پہنچ گئے.ریاض سے لاہور تک اور ائیرپورٹ سے نکلتے ہوئے سب میری طرف دیکھ رہے تھے کہ یہ وہ انگریزی بابو ہے مگر میں اپنے محبوب کی طرف متوجہ تھا کہ کامل مرشد اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان٫ فضل٫کرم ہے کتنی بڑی نعمت ہے.
(محمد محتشم طارقی عُثمانی حَسنی قادری سُہروردی چِشتی قَلندری ابوالعلائی جہانگیری)
![]()

