Daily Roshni News

مصر کی ملکہ شجرۃ الدر کے عروج و زوال کی داستان۔✍️

مصر کی ملکہ شجرۃ الدر کے عروج و زوال کی داستان۔✍️

​ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)تاریخِ اسلام کے جھروکوں میں ایسے کئی کردار نظر آتے ہیں جنہوں نے اپنے عزم، تدبر اور حوصلے سے وقت کے دھارے کو موڑ دیا۔ انہی نامور اور سحر انگیز شخصیات میں ایک نام ملکہ شجرۃ الدر کا ہے، جو ایوبی سلطنت کے زوال اور مملوک سلطنت کے طلوع کے درمیان ایک مضبوط ترین پل ثابت ہوئیں۔ وہ محض ایک سلطان کی محبوب بیوی نہیں تھیں، بلکہ تاریخ کی وہ واحد خاتون بنیں جنہوں نے مصر جیسے عظیم اسلامی ملک پر اپنے نام کا خطبہ جاری کروایا اور سکّے ضرب کیے۔ ان کا دورِ حکومت عقل و دانش، جنگی حکمتِ عملی اور حتمی طور پر ایک المناک انجام کا ایک ایسا شاہکار ہے جو رہتی دنیا تک کے لیے عبرت اور حیرت کا داستان بن گیا۔

 شجرۃ الدر کا عروج:

​شجرۃ الدر جس کا لغوی معنی “موتیوں کا درخت” ہے ان کے ابتدائی حالات کے بارے میں تاریخ خاموش ہے۔ وہ غالباً ترک یا آرمینیائی نسل سے تعلق رکھتی تھیں، جنہیں ایک کنیز کے طور پر ایوبی سلطان الملک الصالح ایوب کے حرم میں لایا گیا تھا۔ اپنی بے پناہ ذہانت، غیر معمولی خوبصورتی اور پُرکشش شخصیت کے باعث انہوں نے جلد ہی سلطان کے دل میں وہ مقام حاصل کر لیا کہ سلطان نے انہیں نہ صرف آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا، بلکہ سلطنت کے اہم ترین امور میں ان کو اپنا مشیرِ خاص بنا لیا۔ ان کا ایک بیٹا بھی ہوا جس کا نام خلیل رکھا گیا، اگرچہ وہ بچپن میں ہی فوت ہو گیا، لیکن شجرۃ الدر عمر بھر خود کو “ام خلیل” (خلیل کی ماں) کہلانا پسند کرتی تھیں، جس سے ان کے مرتبے کو قانونی اور سیاسی استحکام ملا۔

​سلطان الصالح ایوب کی وفات اور شجرۃ الدر کا تاریخی کردار

​سنہ 1249ء (647 ہجری) کا سال مصر کی تاریخ کا نازک ترین سال تھا۔ ایک طرف فرانس کے بادشاہ لوئی نویں (Louis IX) کی قیادت میں ساتویں صلیبی جنگ کے ہولناک بادل مصر کے ساحلوں پر منڈلا رہے تھے اور انہوں نے دمیاط (Damietta) پر قبضہ کر لیا تھا، دوسری طرف سلطان الصالح ایوب شدید علالت کے بعد المنصورہ کے مقام پر اچانک انتقال کر گئے۔

​ایسے وقت میں جب دشمن سر پر کھڑا ہو اور فوج کا سپہ سالار اور ملک کا حکمران رخصت ہو جائے، تو سلطنتیں تاش کے پتوں کی طرح بکھر جایا کرتی ہیں۔ لیکن یہاں شجرۃ الدر نے جس غیر معمولی تدبر اور آہنی اعصاب کا مظاہرہ کیا، اس کی مثال تاریخِ عالم میں بہت کم ملتی ہے۔

​موت کو راز میں رکھنا: انہوں نے سلطان کی وفات کی خبر کو مکمل طور پر مخفی رکھا۔ وہ جانتی تھیں کہ اگر یہ خبر عام ہوئی تو مصری فوج کے حوصلے پست ہو جائیں گے اور صلیبی سیکنڈوں میں مصر کو روند ڈالیں گے۔

​جعلی دستخط اور فرامین: انہوں نے سلطان کے طبیب اور فوج کے امیر فخر الدین یوسف کو اعتماد میں لیا۔ سلطان کے کھانے کے برتن حسبِ معمول شاہی خیمے میں جاتے رہے اور شجرۃ الدر سلطان کے دستخط کی ہو بہو نقل کر کے شاہی فرامین جاری کرتی رہیں تاکہ فوج کو لگے کہ سلطان اب بھی زندہ اور برسرِ پیکار ہے۔

​ولی عہد کی طلبی:

 انہوں نے انتہائی رازداری کے ساتھ سلطان کے بیٹے اور ولی عہد توران شاہ کو حصن کیفا (ترکی) سے مصر پہنچنے کا پیغام بھیجا۔یہ شجرۃ الدر کی سیاسی بصیرت کا پہلا اور عظیم ترین امتحان تھا، جس میں وہ سرخرو ہوئیں۔ انہی دنوں المنصورہ کی جنگ میں مملوک جرنیلوں  جیسے بیبرس اور ایبک نے صلیبیوں کو بدترین شکست دی اور فرانسیسی بادشاہ لوئی نویں کو قیدی بنا لیا گیا۔ مصر کو ایک بہت بڑی تباہی سے بچا لیا گیا، اور اس فتح کی حقیقی روحِ رواں شجرۃ الدر تھیں۔

​حکومتی انداز اور اقتدار کی مسند:

​توران شاہ مصر پہنچا تو سہی، لیکن وہ اپنے والد کے وفادار مملوکوں اور شجرۃ الدر کی قدر کرنے کے بجائے عیاشی اور انتقامی کارروائیوں پر اتر آیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مملوکوں نے اسے قتل کر دیا۔ اب مصر میں ایوبی خاندان کا کوئی ایسا وارث نہ بچا جو تخت سنبھال سکتا۔

​مصر کے امراء، جرنیلوں اور علماء نے بالاتفاق شجرۃ الدر کو مصر کی سلطانہ منتخب کیا۔ یہ تاریخ کا ایک بے نظیر واقعہ تھا کہ کسی اسلامی سلطنت کی باقاعدہ باگ ڈور ایک خاتون کے ہاتھ میں دی گئی۔ ان کا حکومتی انداز درج ذیل خصوصیات کا حامل تھا:

​سیاسی اور مذہبی قانونی حیثیت کا حصول:

​شجرۃ الدر نے اپنے اقتدار کو شرعی اور سیاسی جواز دینے کے لیے خطبے اور سکّوں کا سہارا لیا۔ مساجد میں ان کے نام کا خطبہ ان الفاظ کے ساتھ پڑھا جاتا تھا:

​”والدہ خلیل، الصالحیہ (الصالح کی ملکہ)، مستعصمیہ (عباسی خلیفہ المستعصم باللہ کی وفادار)، ملکہ المسلمین۔”

​ان کے دور کے چاندی کے سکّوں پر بھی یہی القابات کندہ تھے۔ انہوں نے سلطنت کے نظم و نسق کو چلانے کے لیے مملوک امراء کو اہم عہدوں پر فائز کیا، جن میں عز الدین ایبک کو سپہ سالار (اتابک العساکر) بنانا سب سے اہم تھا۔

​عدل و انصاف اور فلاحی کام:

​شجرۃ الدر کا دربار عام لوگوں کے لیے کھلا رہتا تھا۔ وہ پردے کے پیچھے بیٹھ کر امورِ سلطنت چلاتی تھیں اور وزراء سے رپورٹس لیتی تھیں۔ انہوں نے محاصل (ٹیکسوں) کے نظام کو منصفانہ بنایا اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے شاہی خزانے کے منہ کھول دیے۔ ان کا دور امن، خوشحالی اور صلیبی خطرے کے مکمل خاتمے کا دور تھا۔

​حج کے قافلوں کی سرپرستی:

​شجرۃ الدر نے اسلامی روایات کو برقرار رکھنے کے لیے مکہ مکرمہ جانے والے حج کے قافلوں کی خصوصی سرپرستی کی۔ انہوں نے کعبہ کے لیے ایک خوبصورت غلاف (محمل) مصر سے بھیجنے کی روایت کا آغاز کیا، جو صدیوں تک قائم رہی۔

​سیاسی بحران اور دوسری شادی:

​اگرچہ شجرۃ الدر ایک بہترین حکمران تھیں، لیکن بغداد کے عباسی خلیفہ المستعصم باللہ کو ایک خاتون کی حکمرانی پسند نہ آئی۔ انہوں نے مصر کے امراء کو ایک طنز آمیز خط لکھا:

​”اگر تمہارے ہاں مرد ختم ہو گئے ہیں، تو ہمیں بتاؤ، ہم یہاں سے تمہارے لیے مرد بھیج دیتے ہیں۔”

​مصر کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور خلافت کی ناراضگی سے بچنے کے لیے شجرۃ الدر نے ایک سیاسی چال چلی۔ انہوں نے  اپنے سپہ سالار عز الدین ایبک سے شادی کر لی۔ ایبک مصر کا پہلا مملوک سلطان بنا، لیکن یہ صرف نام کی حد تک تھا۔ اقتدار کی اصل چابی اب بھی شجرۃ الدر کے پاس ہی تھی اور ایبک ان کی اجازت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا تھا۔

​زوال کی شروعات اور حسد کی آگ:

​حکومت اور طاقت ایک ایسی چیز ہے جو محبت کو بھی دشمنی میں بدل دیتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ایبک اور شجرۃ الدر کے تعلقات تلخ ہوتے گئے۔ ایبک شجرۃ الدر کے سائے سے نکل کر خود مختار بننا چاہتا تھا۔ جدوجہدِ اقتدار کے اس کھیل میں ایبک نے شجرۃ الدر کو نیچا دکھانے کے لیے موصل کے حکمران کی بیٹی سے دوسری شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ​یہ بات شجرۃ الدر جیسی خوددار، مغرور اور بااختیار ملکہ کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔ انہیں محسوس ہوا کہ نہ صرف ان کی محبت بلکہ ان کا اقتدار بھی ان کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ حسد، غصے اور خوف کے ملے جلے جذبات نے ملکہ کو ایک ہولناک فیصلے پر مجبور کر دیا۔

​انہوں نے ایبک کو المنصورہ کے شاہی محل میں بلایا، جہاں بظاہر ان کے درمیان صلح ہو گئی۔ لیکن رات کے وقت جب ایبک غسل خانے میں تھا، شجرۃ الدر کے وفادار خادموں نے ملکہ کے ایما پر اسے وہیں دبا کر قتل کر دیا۔

​ملکہ کا عبرت ناک اور الم ناک انجام:

​ایبک کے قتل کے بعد شجرۃ الدر نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ سلطان رات کو اچانک فوت ہو گئے ہیں، لیکن مملوک امراء اور ایبک کے وفادار سپاہی (جن کی قیادت ایبک کا بیٹا منصور علی اور اس کے امراء کر رہے تھے) حقیقتِ حال سے واقف ہو گئے۔ انہوں نے محل کا گھیراؤ کر لیا اور شجرۃ الدر کو گرفتار کر کے قلعہ قاہرہ (Citadel of Cairo) کے ایک برج میں قید کر دیا۔​اب باری تھی ایبک کی پہلی بیوی ام علی کے انتقام کی۔ تاریخ لکھتی ہے کہ شجرۃ الدر جیسی عظیم ملکہ کا انجام اتنا دردناک اور ذلت آمیز تھا کہ سن کر روح کانپ اٹھتی ہے۔

​کنیزوں کے ہاتھوں پٹائی: ایبک کی پہلی بیوی کے حکم پر محل کی لونڈیوں اور کنیزوں کو لکڑی کے جوتوں  سے شجرۃ الدر کو مارنے کا حکم دیا گیا۔ وہ ملکہ جو کبھی ریشم و کمخاب میں رہتی تھی، اسے تذلیل کے ساتھ پیٹا گیا یہاں تک کہ وہ جانبحق ہو گئیں۔

​خندق میں پھینکی گئی لاش: موت کے بعد ان کی برہنہ لاش کو قلعے کی دیوار سے نیچے ایک گندی خندق میں پھینک دیا گیا۔ کئی دنوں تک مصر کی سابقہ سلطانہ کی لاش وہاں پڑی رہی، جسے آوارہ کتوں نے نقصان پہنچایا۔

​تدفین: بعد میں کچھ رحم دل لوگوں نے ان کی ہڈیوں اور باقیات کو وہاں سے اٹھایا اور اس مقبرے میں دفن کیا جو انہوں نے خود اپنی زندگی میں قاہرہ میں بنوایا تھا۔ آج بھی قاہرہ میں ان کا مقبرہ ان کی عظمت اور ان کے عبرت ناک انجام کی خاموش گواہی دیتا ہے۔

​حاصل کلام

​شجرۃ الدر کی زندگی کا سفر صحرا کی گمنام خاک سے شروع ہو کر شاہی محلات کے تختِ طاؤس تک پہنچا اور پھر وہاں سے زوال کے تاریک ترین گڑھے پر ختم ہوا۔ وہ ایک ایسی خاتون تھیں جن میں مردوں جیسا عزم، جرنیلوں جیسی تدبیر اور سیاست دانوں جیسی عیاری موجود تھی۔ انہوں نے اسلام کے ایک انتہائی نازک دور میں مصر اور عالمِ اسلام کو صلیبیوں کی غلامی سے بچایا۔ بد قسمتی سے اگر وہ ایبک سے حسد اور اقتدار کی ہوس کا شکار نہ ہوتیں، تو شاید تاریخ میں ان کا مقام اور بھی بلند ہوتا۔۔۔ ✍️

Loading