Daily Roshni News

شباب کی باتیں۔۔۔ تیرے بغیر کبھی گھر میں روشنی نہ ہوئی۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب

شباب کی باتیں

تیرے بغیر کبھی گھر میں روشنی نہ ہوئی

تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔شباب کی باتیں۔۔۔ تیرے بغیر کبھی گھر میں روشنی نہ ہوئی۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب)بھی ساون کے آنے میں 12 /13 دن باقی ہیں اور عموما”  ہارڑ کی 20 کے بعد ہی ساون پر پرزے نکالتے ہوئے پردے کے پیچھے سے جھانکنا شروع کر دیتا ہے، جسے ہمارے ہاں “پخ  پڑنا” کہتے ہیں، مگر ایسا لگتا ہے کہ اب کی بار ساون کچھ زیادہ ہی جلدی میں ہے اور آج، دم تحریر، اگرچہ ہاڑ کی 18 تاریخ ہے مگر ہاڑ کی “تابناکیوں” نے بھی 15 بلکہ اس سے بھی پہلے احساس دلانا شروع کر دیا تھا کہ ہم تو رخت سفر باندھنے سے پہلے کیوں نہ جھلسا دینے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے ہوئے اپنی تلخ یادیں چھوڑ جائیں؟  سو گزشتہ چند روز سے جھلسا دینے والی گرمی کے ہاتھوں انسانوں کا جو حشر ہو رہا ہے اس کی تفصیل میں جانے سے پہلے صورتحال کے حوالے سے یار طرحدار سید امجد بہزاد کا تازہ شعر ملاحظہ فرمائیں ۔

ملنے نہ آ کہ شہر یہ دوزخ مثال ہے

گرمی وہ پڑ رہی ہے کہ جینا محال ہے

اب گرمی کے بارے میں ہمارے ہاں جو روایات مشہور ہیں ان کا ذکر کرنے سے پہلے سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیو کلپس پر بات کرلیتے ہیں۔  تین روز پہلے خبر آئی کہ جرمنی اور اٹلی میں اس قدر گرمی پڑی کہ وہاں سڑکوں پر لگے ہوئے ٹریفک  سگنلز پگھل کر ناکارہ ہو رہے ہیں اور پھر گزشتہ روز یورپ کے مختلف ملکوں کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر نشر ہونا شروع ہوئیں جن میں نہ صرف ٹریفک سگنلز کی پگھل کر نیچے گرتی ہوئی صورتحال دکھائی گئی ہے، سڑکوں کا کولتار پگھلنے کی وجہ سے ان پر پاؤں رکھ کر آگے بڑھنے کے نتیجے میں لوگوں کی جوتیاں کولتار میں پھنس کر پاؤں سے الگ ہو رہی ہیں، موٹر گاڑیوں کے ونڈ سکرین کے گرمی سے غبارے کی مانند شکل اختیار کرنے اور سڑک پر پانی ڈالنے سے پانی کا ابل کر بخارات بننے، ایک شخص کا فرائی پین میں انڈا ڈال کر سورج کے شعلوں سے پکانے اور اسی نوع کے اور کئی مناظر اس وقت بھی دیکھے جا سکتے ہیں حالانکہ یورپ کے ان ممالک میں ابھی درجہ حرارت  36 یا کچھ ہی اوپر ہے مگر وہاں قیامت کا سماں ہے۔ جبکہ اس کے برعکس ہمارے ہاں اس وقت بھی 46 سے اوپر اوپر ہی گرمی پڑ رہی ہے،  مستزاد یہ کہ واپڈا والوں کی مہربانیاں الگ ہیں، مگر اس کے باوجود لوگ دل پشوری کرنے کے لیے گرم گرم چائے پیتے ہیں اور ساتھ ہی چپل کباب کی دکانوں پر موجود رش کو دیکھا جائے تو یہ کہہ کر ایک دوسرے کا دل بہلاتے ہیں کہ کھاؤ پیو یار گرمی کو گرمی کاٹتی ہے،  گویا گرمی نہ ہوئی لوہا ہو گیا جسے لوہے ہی سے کاٹنے کا محاورہ مشہور ہے، اب اگر ہم اہل یورپ سے یہ کہہ دیں کہ حضور اپنی 36 یا کچھ زیادہ درجہ حرارت کی گرمی ہی سے تمہارا سارا نظام  پگھل کر رہ گیا ہے اور تم خوار مچا رہے ہو۔ اگر ہمارے ہاں آگئے، جہاں اس وقت 42 یا اوپر کی گرمی میں بھی ٹریفک سسٹم اسی طرح اللہ کے کرم سے محفوظ،  ٹھیک ٹھاک کام کر رہا ہے تو تمہارا کیا بنے گا کالیا؟  ویسے ان کی سفیدی کے مقابلے میں کالے تو ہم ہیں مگر شکر ہے کہ ہمارا  زیادہ کچھ بھی نہیں بگڑا بلکہ یہی وہ موسم ہے جس میں آموں کی گرمی سے ہم لطف اندوز ہوتے  ہیں جس پر اکبر الہ آبادی نے آم نامہ کے عنوان سے کیا خوب تبصرہ کیا ہے۔

نامہ نہ کوئی یار کا پیغام بھیجئے

 اس فصل میں جو بھیجئے بس آم بھیجیئے

 ایسا نہ ہو کہ آپ یہ لکھیں جواب میں

تعمیل ہوگی،  پہلے مگر دام بھیجئے

آموں کے حوالے سے اگرچہ مرزا غالب کے بھی کچھ لطائف مشہور ہیں اور انہوں نے بھی آموں کا قصیدہ کہا ہے۔

 بارے آموں کا کچھ بیاں ہو جائے

 خامہ نخل رتب فشاں ہو جائے

آم کا کون مرد میداں ہے؟

 ثمر و شاخ گویۓ چوگاں ہے

اس پر ہمیں ملتان میں گزارا ہوا وہ وقت یاد آگیا جب ہم ریڈیو پاکستان میں خدمات انجام دیتے تھے۔ 1993ء- 1994ء  کا ذکر ہے۔  آموں کا سیزن شروع ہوا تو ریڈیو سننے والوں کی آموں جیسی میٹھی محبت نے سرشار کر دیا تھا، تب ریڈیو کے سامعین مختلف پروگرام پروڈیوسروں کو آموں کی پیٹیاں بھیج کر اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے تھے۔ سنا ہے ہمارے نام پر بھی چند پیٹیاں آئی تھیں مگر ہم لمبی چھٹی پر اپنے گھر پشاور آئے تھے، تو ہمارے یاروں نے ان پیٹیوں کا کریا کرم کر دیا تھا وہاں سے ہمیں چونکہ ڈرامے کی ٹریننگ کے لیے ڈوئچے ویلے ریڈیو ٹریننگ سینٹر جرمنی جانا تھا اس لیے ہم پورے دو ڈھائی ماہ بعد واپس ملتان پہنچے تھے۔ مگر تب تک آموں کا سیزن بھی ختم ہو گیا تھا، البتہ اتنا ضرور تھا کہ جس وقت ہم جرمنی پہنچے وہاں خنکی کا راج تھا یعنی سردیاں آغاز ہو رہی تھیں۔ اس وقت یورپ میں اتنی گرمی کا ہم نے نہیں سنا جیسا کہ اج کل جرمنی میں شدت کی گرمی پڑ رہی ہے اور ٹریفک سگنل تک پگھل رہے ہیں۔ یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ ہم شدت کی اس گرمی کے عادی ہیں ورنہ ہمارے ٹریفک سگنلز بھی وابڈا کو لوڈ شیڈنگ پر کوس رہے ہوتے۔ واپڈا کے حوالے سے ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ

 خیال یار سلامت تجھے خدا رکھے

 تیرے بغیر کبھی گھر میں روشنی نہ ہوئی

Loading