Daily Roshni News

سلسلہ اویسیہ دل سے دل کا رابطہ

سلسلہ اویسیہ

دل سے دل کا رابطہ

قسط پنجم: خواب کی زبان

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )رات کا آخری پہر تھا۔

ولی ذکر کرتے کرتے سو گیا تھا تسبیح ہاتھ میں تھی، ہونٹوں پر اللہ کا نام تھا۔

اور پھر خواب آیا۔

خواب میں ایک باغ تھا ہرا بھرا، خوشبودار، روشن۔ روشنی عجیب تھی، نہ سورج کی تھی، نہ چاند کی، مگر ہر طرف تھی۔ درختوں کے پتے چمکتے تھے، ہوا میں کوئی نغمہ تھا جو کانوں سے نہیں، دل سے سنائی دیتا تھا۔

ولی اس باغ میں چل رہا تھا اور پھر ایک درخت کے نیچے ایک بزرگ بیٹھے تھے۔ سفید لباس، نورانی چہرہ ولی نے انہیں کبھی ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا مگر دل نے فوراً پہچانا۔

بابا زمان۔

ولی دوڑ کر قریب گیا ادب سے بیٹھ گیا۔ بابا زمان مسکرا رہے تھے، وہی مسکراہٹ جو ولی نے کبھی دیکھی نہیں تھی مگر دل میں محفوظ تھی۔

بابا زمان: آہستہ سے بولے

آ گئے؟ دیر لگا دی۔

ولی: آنکھوں میں آنسو

حضرت میں تو ڈھونڈ رہا تھا آپ کو۔

بابا زمان:مسکرائے

ڈھونڈنے والا ہمیشہ پاتا ہے مگر پہلے خود کو صاف کرنا پڑتا ہے۔

پھر انہوں نے ولی کی طرف دیکھا ایک گہری نظر اور کہا۔

سفر جاری رکھو۔ ہم ساتھ ہیں۔

اتنے میں خواب ٹوٹ گیا۔

ولی اٹھا دل دھڑک رہا تھا، آنکھیں بھیگی تھیں، اور سینے میں ایک ایسی گرمی تھی جو مہینوں سے نہیں آئی تھی۔

فجر کی اذان ہو رہی تھی۔

ولی نے وضو کیا اور نماز میں پہلی بار محسوس کیا کہ وہ واقعی کسی کے سامنے کھڑا ہے۔

صبح کا سوال

نماز کے بعد ولی بیٹھا رہا خواب ذہن میں گھوم رہا تھا۔

پھر دل میں سوال اٹھا۔

کیا یہ سچا خواب تھا؟ یا میں نے جو چاہا وہی دیکھ لیا؟ کیا واقعی بابا زمان آئے تھے یا یہ میرے اپنے خیالات کا کھیل تھا؟

دوپہر کو وہ چچا نثار کے پاس پہنچا خواب سنایا۔

چچا نثار نے پورا خواب سنا۔ خاموش رہے کچھ دیر۔

پھر بولے

بیٹے تم نے خود ہی سوال پوچھ لیا جو مجھے پوچھنا تھا۔ یہی سوال اس خواب کی سچائی کی پہلی نشانی ہے۔

ولی:وہ کیسے؟

چچا نثار: جھوٹا خواب دیکھنے والا سوال نہیں پوچھتا وہ فوراً یقین کر لیتا ہے اور سب کو سناتا پھرتا ہے۔ سچا طالب پوچھتا ہے، جانچتا ہے، ڈرتا ہے کہ کہیں غلطی نہ ہو۔

خواب کی تین اقسام نبیِ کریم ﷺ کی تعلیم

چچا نثار: بیٹے نبیِ کریم ﷺ نے خوابوں کی تین اقسام بیان فرمائی ہیں۔

‘الرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ: فَرُؤْيَا الصَّالِحَةِ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ، وَرُؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَرُؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ الْمَرْءُ نَفْسَهُ’

خواب تین قسم کے ہیں: نیک خواب جو اللہ کی طرف سے بشارت ہے۔ غمگین کرنے والا خواب جو شیطان کی طرف سے ہے۔ اور وہ خواب جو انسان اپنے دل کی باتوں سے دیکھتا ہے)

صحیح مسلم، کتاب الرویا

یعنی بیٹے ہر خواب وحی نہیں، ہر خواب بے معنی بھی نہیں۔ تین دروازے ہیں جاننا ضروری ہے کہ خواب کس دروازے سے آیا۔

سچے خواب کی نشانیاں

چچا نثار:صوفیاء اور علماء نے سچے خواب کی کچھ علامات بیان کی ہیں سنو اور اپنے خواب پر پرکھو۔

پہلی نشانی: خواب کا پختہ یاد رہنا

جھوٹے اور نفسانی خواب جلد بھول جاتے ہیں سچا خواب ذہن اور دل دونوں پر نقش رہتا ہے۔

نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا:

‘إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ تَكْذِبُ’

جب زمانہ قریب ہو تو مومن کا خواب جھوٹا نہیں ہوتا.

صحیح بخاری، کتاب التعبیر

دوسری نشانی: جاگنے کے بعد دل کا حال

سچے خواب کے بعد دل میں سکون، روشنی اور قرار ہوتا ہے خوف نہیں، اضطراب نہیں۔ شیطانی خواب کے بعد گھبراہٹ اور بے چینی ہوتی ہے۔

تیسری نشانی: عبادت میں آسانی

سچے خواب کے بعد نماز میں دل لگتا ہے، ذکر میں مٹھاس آتی ہے یہ اس بات کی علامت ہے کہ خواب نور سے آیا۔

چوتھی نشانی: خواب کا پیغام شریعت کے خلاف نہ ہو.

حضرت امام ابن سیرینؒ جو تعبیر الرؤیا کے سب سے بڑے امام ہیں،

فرماتے ہیں:

‘إذا رأيتم الرؤيا فلا تحدثوا بها إلا العالم أو الناصح’

جب خواب دیکھو تو اسے صرف عالم یا خیرخواہ کو بتاؤ۔

صحیح بخاری، کتاب التعبیر

اور سب سے اہم خواب کبھی شریعت کو نہیں توڑتا۔ جو خواب کوئی حرام کام کرائے یا فرض چھڑائے وہ شیطانی ہے۔

چچا نثار:اب بتاؤ تمہارے خواب میں یہ نشانیاں تھیں؟

ولی: سوچ کر:

جی خواب ابھی تک بالکل واضح ہے۔ جاگا تو دل میں سکون تھا، نماز میں دل لگا۔ اور خواب میں کوئی ایسی بات نہیں تھی جو شریعت کے خلاف ہو۔

چچا نثار:مسکرائے تو پھر؟

اویسی سلسلے میں خواب کا مقام

چچا نثار: بیٹے اویسی سلسلے میں خواب کا ایک خاص مقام ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس سے اللہ اپنے ولیوں کو اپنے طالبوں تک پہنچاتا ہے جب ظاہری واسطہ نہ ہو۔

قرآن میں اللہ نے فرمایا:

اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا

اللہ روحوں کو موت کے وقت قبض کرتا ہے اور جو نہیں مری انہیں نیند میں۔

سورۃ الزمر: ۴۲

یعنی نیند میں روح ایک خاص آزادی پاتی ہے وہ پردے پتلے ہو جاتے ہیں جو جاگتے میں موٹے ہوتے ہیں۔ اسی وقت اولیاء کی ارواح سے ملاقات ممکن ہو جاتی ہے۔

حضرت اویس قرنیؒ اور خواب کا تعلق

چچا نثار: اور سنو ایک اہم بات۔

حضرت اویس قرنیؒ کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ نبیِ کریم ﷺ سے ان کا روحانی تعلق خواب کے ذریعے بھی قائم رہتا تھا ظاہری ملاقات نہ ہو سکی مگر باطنی تعلق خواب کے دروازے سے زندہ رہا۔

حضرت شیخ عبد القادر جیلانیؒ فتوح الغیب میں فرماتے ہیں۔

>’إن الله تعالى يُطلع أولياءه على أحوال محبيهم في المنام كما يُطلعهم في اليقظة بالكشف

اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کو ان کے چاہنے والوں کے احوال خواب میں دکھاتا ہے جیسے جاگتے میں کشف سے دکھاتا ہے۔

فتوح الغیب، غوث الاعظمؒ

یعنی بیٹے  تمہارے خواب میں بابا زمان کا آنا اتفاق نہیں یہ ان کی توجہ تھی جو خواب کے دروازے سے آئی۔

 امام ترمذیؒ اور خواب

چچا نثار: ایک اور واقعہ سنو  بہت مشہور ہے۔

حضرت امام ترمذیؒ جو حدیث کے عظیم امام ہیں ان کے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے ایک مرحلے پر روحانی سلوک میں ایک مقام پر رکاوٹ محسوس کی۔ استاد دور تھے، رہنمائی ممکن نہ تھی۔

انہوں نے اللہ سے دعا کی اور خواب میں نبیِ کریم ﷺ کی زیارت ہوئی۔ آپ ﷺ نے ایک بات ارشاد فرمائی جس نے وہ رکاوٹ دور کر دی۔

امام ترمذیؒ نے اپنی کتاب ‘ختم الاولیاء’ میں لکھا۔

رأيت النبي صلى الله عليه وسلم في المنام وسألته فأجابني بما فتح الله به قلبي

میں نے خواب میں نبیِ کریم ﷺ کو دیکھا، سوال کیا تو آپ نے ایسا جواب دیا جس سے اللہ نے میرا دل کھول دیا۔

بیٹے جب نبیِ کریم ﷺ خواب میں رہنمائی فرما سکتے ہیں تو کیا ان کے ولی نہیں فرما سکتے؟

خواب کو کیسے سنبھالیں

ولی: چچا جان ایک بات اور۔ خواب کے بعد کیا کرنا چاہیے؟ کیا سب کو بتانا چاہیے؟

چچا نثار: بالکل نہیں اور یہ بہت ضروری بات ہے۔

نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا:

‘الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ’

سچا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔

صحیح بخاری، کتاب التعبیر

جب کوئی چیز اتنی قیمتی ہو تو اسے ہر جگہ نہیں بکھیرتے۔

خواب سنبھال کر رکھو

پہلی بات: صرف خیرخواہ اور سمجھدار کو بتاؤ، جیسے تم نے مجھے بتایا۔ بے سمجھ کو بتانے سے خواب کی تعبیر بگڑ جاتی ہے۔

دوسری بات: خواب پر عمل کرو بابا زمان نے کہا ‘سفر جاری رکھو’ تو جاری رکھو۔ خواب کی تعظیم یہ ہے کہ اس کے پیغام پر چلو۔

تیسری بات: خواب کو معیار مت بناؤ، یعنی یہ مت سوچو کہ ‘جب تک خواب نہ آئے نسبت ثابت نہیں’۔ خواب انعام ہے، شرط نہیں۔

چوتھی بات: شکر ادا کرو سجدۂ شکر کرو، درود پڑھو، ایصالِ ثواب کرو۔

وہ سوال جو ولی نے آخر میں پوچھا

ولی: چچا جان ایک بات اور۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ خواب میں اولیاء نہیں آتے ان کا کیا جواب ہے؟

چچا نثار: ایک لمحہ خاموش رہے، پھر بولے

بیٹے پہلے یہ طے کرو: کیا نبیِ کریم ﷺ خواب میں آ سکتے ہیں؟

ولی: جی یہ تو بالکل ثابت ہے۔

حدیث ہے

‘مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي حَقًّا، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي’

جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے سچ میں دیکھا کیونکہ شیطان میری شکل نہیں بن سکتا۔

صحیح بخاری و مسلم

چچا نثار: بالکل۔ اور جب نبیِ کریم ﷺ خواب میں آ سکتے ہیں تو ان کے ورثاء اور ان کے اولیاء کیوں نہیں آ سکتے؟ وہ بھی تو اللہ کی اجازت سے آتے ہیں اپنی مرضی سے نہیں۔

فرق صرف یہ ہے، نبیِ کریم ﷺ کی صورت ہمیشہ سچی ہوتی ہے اولیاء کے بارے میں جانچنا پڑتا ہے۔ اسی لیے نشانیاں بتائیں۔

خواب کا وہ جملہ جو ولی نے لکھ لیا

رات کو گھر لوٹ کر ولی نے ایک کاغذ نکالا اور لکھا۔

بابا زمان نے خواب میں کہا

سفر جاری رکھو ہم ساتھ ہیں۔

پھر اس نے سوچا یہ جملہ صرف خواب کا نہیں۔ یہ اس پورے سفر کا عنوان ہے۔

وضو کیا، مصلے پر بیٹھا، درود پڑھا اور بابا زمان کی روح کو ایصالِ ثواب کیا۔

ذکر شروع کیا اور آج ذکر کی مٹھاس واپس آ گئی تھی۔

دل میں ایک یقین تھا کمزور نہیں، پختہ

نسبت زندہ ہے۔ سفر جاری ہے۔ ساتھ ہے۔

نیند میں روح اپنے اصل وطن کی طرف اڑتی ہے اور جب طالب کا دل صاف ہو تو وہاں سے روشنی لے کر لوٹتی ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ، حجۃ اللہ البالغہ

اگلی قسط: نفس کی چالیں ولی کی روحانی حالت بہتر ہو رہی ہے مگر اسی وقت ایک نیا خطرہ سامنے آتا ہے۔

دل میں ایک آواز آتی ہے۔ اب تم بہت آگے بڑھ گئے ہو تم خاص ہو۔

یہ آواز کہاں سے ہے؟ شیطان سے یا نفس سے؟ اور فرق کیسے پہچانیں؟ یہ قسط اس خطرناک موڑ سے سالک کو بچاتی ہے۔

جاری ہے۔۔۔

#Khaak_e_rawan

Loading