عمل زبان کا تھا جبکہ سزا
پورے جسم نے بھگتی ۔۔۔۔۔
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یاسر احمد
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ عمل زبان کا تھا جبکہ سزا۔۔۔ پورے جسم نے بھگتی ۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔ یاسر احمد)تصور کریں فجر کی آذان ہوئی. آنکھ کھلی. دل دھڑکا. ہاتھ پیر ہلے. اور پھر سارے اعضاء زبان کے دروازے پر جمع ہو گئے. آنکھیں کہتی ہیں: “اے زبان آج غیبت مت کرنا… ورنہ ہم حرام دیکھنے پر. مجبور ہوں گی”. کان کہتے ہیں:”جھوٹ مت بولنا… ورنہ ہمیں بہتان سننا پڑے گا”. ہاتھ کہتے ہیں: “بدعا مت دینا… ورنہ ہمیں مارنا پڑے گا”. پاؤں کہتے ہیں: “کسی کے گھر کی عیب جوئی مت کرنا… ورنہ ہمیں جانا پڑے گا”. اور زبان ؟ زبان مسکرا کر کہتی ہے:” تم فکر مت کرو، میں سنبھال لوں گی”.ہر شام آنکھیں شرمندہ،کان کالے، ہاتھ کانپتے، پاوں زخمی. کیونکہ زبان نے وعدہ توڑ دیا. نبی ﷺ نے فرمایا:” جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے”. دو انچ کی زبان… نہ ہڈی،نہ جوڑ. پر اس نے پورے خاندان توڑ دیے. دو انچ کی زبان…نہ تلوار، نہ گولی. پر اس نے خون کے رشتے کاٹ دیے. قرآن کہتا ہے: “کیا تم میں سے کوئی پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ زبان بولتی ہے ارے وہ ایسا ہے، ویسا ہے. سزا کس کو؟ آنکھوں کو. جو شرمندگی سے جھک جاتی ہیں. دل کو. وہ سخت ہو جاتا ہے. چہرے کو. جس کا نور اڑ جاتا ہے. منافق کی 3 نشانیاں… ان میں ایک “جب بولے تو جھوٹ بولے”. زبان بولتی ہے: “میں نے نہیں کہا تھا”. سزا کس کو؟ ہاتھوں کو. جو کانپتے ہیں جب سچ سامنے آ جاتا ہے. پاؤں کو. جو بھاگتے ہیں لوگوں سے نظریں چرانے کے لیے. نیند. جو من بھر نہیں آتی. “تم سے کچھ نہیں ہو گا” “ماں جیسی شکل ہے تمہاری”زبان نے بول دیا، ہنس کر.سزا کس کو؟ دل کو. جو ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا. آنکھوں کو. جن میں آنسو آ گئے. رشتے کو جو مرجھا گیا. زبان بچی رہی… پر جسم دفن ہو گیا.
اپنے دل سے پوچھیں کیا یہ سچ ہے؟کیا یہ ضروری ہے؟کیا یہ محبت سے کہا جا سکتا ہے؟ اگر جواب نہیں ہے تو تالا لگا دیں. خاموشی سونے کی ہے.ہم گنہگار ہیں…تو ہماری زبان کو تو ہر دومنٹ بعد استغفار چاہیے.کل فجر کے بعد آئینے میں دیکھیں. اپنی زبان کو نہیں..ناپنے چہرے کو دیکھیں،یہ چہرے کا نور، آنکھوں کی چمک، دل کا سکون…یہ سب زبان کے صدقے ہیں.زبان سنبھل گئی تو زندگی سنبھل گئی. زبان بگڑ گئی تو نمازیں بھی بے ذائقہ لگتی ہیں. یاد رکھیں قیامت کے دن اللہ ہاتھ پیر سے نہیں پوچھے گا کہ “کیوں مارا؟” پہلے زبان سے پوچھے گا: “کیوں بولا” کیونکہ عمل زبان کا تھا. پر سزا پورے جسم نے بھگتی.
@ یاسر احمد ✍️
![]()

