شباب کی باتیں
یہاں تو آدمی بھی آدمی سے جلتا ہے
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔*یہاں تو آدمی بھی آدمی سے جلتا ہے۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب)صورتحال کو اگر ایک پشتو ضرب المثل کے حوالے سے دیکھا اور پرکھا جائے تو بات سمجھ میں آسکتی ہے اور وہ ضرب المثل یوں ہے کہ “ہر سڑے دخپل کور نہ خان دے” یعنی ہر شخص اپنے گھر سے ہی خان ہے. مقصد اس کا یوں سمجھ لیں کہ ہر بندہ اپنے مقابلے میں دوسرے کو اہمیت دینے کو تیار ہی نہیں بلکہ خود کو ہی معتبر گردانتا ہے۔ اس بات کو چند لمحوں کے لیے ادھر ہی چھوڑ کر ذرا اٹک کے اس پار چلتے ہیں، خاص طور پر پنجاب کے بڑے ثقافتی مرکز لاہور پر نظر ڈالتے ہیں جہاں شوبز سے تعلق رکھنے والوں کو انجمن سازی کے حوالے سے آپ اس طرح ٹکڑیوں میں تقسیم ہوتے نہیں دیکھ سکیں گے جس طرح ہمارے ہاں صوبائی دارالحکومت پشاور میں ثقافتی تنظیموں کا جمعہ بازار نظر آتا ہے، یعنی جہاں دو چار فنکار اکٹھے ہوئے، اپنی الگ تنظیم بنا کر دل پشوری کرنے کا سامان کرنا شروع کر دیا۔ اس صورتحال سے پنجاب کے برعکس جہاں تمام فنکار اپنے مسائل کے حوالے سے ہمیشہ یک زبان ہوتے ہیں اور حکومت پنجاب بھی ان کی ہر طرح کی دادرسی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتی، ذرا سا کسی فنکار کو مسئلہ درپیش ہوا، سب سے پہلے پنجاب آرٹس کونسل اس کی مدد کو آگے آتی ہے اور روٹین کے امدادی کاروائیوں کے ساتھ ساتھ وزیر ثقافت، یہاں تک کہ وزیراعلی پنجاب جو ( بھی ہو) کی جانب سے فوری مالی امداد کے اعلان کے ساتھ دیگر معاملات میں متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی جاتی ہیں، اسی طرح الحمرا آرٹس کونسل بھی اس کار خیر میں مقدور بھر حصہ ڈالتی ہے، جبکہ ہمارے ہاں اس کے برعکس فنکاروں میں تقسیم در تقسیم کے اس رویے سے سرکار بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے یا تو بہت ہی کم یعنی آٹے میں نمک کے برابر، فنکاروں کے لیے امدادی سرگرمیوں میں حصہ ڈالتی ہے یا پھر گزشتہ کئی ادوار کی حکومتوں نے ہمیشہ لالی پاپ سنبھال کر رکھا ہوتا تھا اور ہے، اور ضرورت کے تحت یہی لالی پاپ تھما کر وقتی طور پر فنکار برادری کو خوش کر دیتی ہے، یعنی یہ رویہ کسی ایک مخصوص سیاسی جماعت کا نہیں اور لال بتی والا ٹرک ہر سابقہ اور موجودہ حکومت (کوئی تخصیص نہیں) نے تیار کھڑا کیا ہوتا ہے، جیسے ہی آپس میں منقسم فنکار تنظیمیں مطالبات لے کر سرکار کے دوارے لگی ہوئی “انصاف کی زنجیر” ہلانے پہنچتی ہیں تو خوشنما وعدے وعید کے ٹوکرے بھر بھر کر ان کی جھولیوں میں انڈیلنا شروع کر دیئے جاتے ہیں، مگر کیا کیا جائے کہ ان تنظیموں کی جھولیوں میں سو سوچھید پہلے ہی ان دعووں اور وعدوں کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتے اور وہ جھولی کے ان چھیدوں سے پھسل کر ان کو خالی ہاتھ ہی لوٹنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔
*جس جھولی میں سو چھید ہوئے
اس جھولی کو پھیلانا کیا*
حاشا وکلا ہمارا اشارہ گزشتہ روز فنکاروں کی ایک تنظیم کے عہدے داروں کا ایک صوبائی وزیر کے ساتھ فنکاروں کو درپیش مسائل کے حوالے سے کی جانے والی ملاقات اور اس ملاقات میں ایک بار پھر وزیر موصوف کی جانب سے کئے جانے والے دل خوش کن وعدوں کی جانب ہرگز نہیں ہے، کیونکہ یہ سب ہماری “روایات” کا حصہ ہے, ہر بار فنکار وزرا اور اعلیٰ حکام سے ملتے ہیں اور ہر بار وعدوں کی گھٹڑیاں ان کو تھما کر خوش خوش واپس گھر بھیج دیا جاتا ہے، بالکل اس خان کی طرح جو اپنے گماشتے کو جب نئے “القابات” سے نوازتا ہے تو گھر آ کر خوش دکھائی دیتا ہے، اور اہلیہ کے پوچھنے پر خان کے “اچھے” رویے کی تعریف کرتا ہے. بقول احمد ندیم قاسمی
رخ ملیح, لب سرخ, زلف ژولیدہ
بہت لطیف ہیں رسوائیوں کے افسانے
ہم پہلے ہی وضاحت کر چکے ہیں کہ ہمارا روۓ سخن اونچے سنگھاسن کی جانب ہرگز نہیں یعنی
روۓ سخن کسی کی طرف ہو تو روسیاہ
بلکہ ہم تو اپنے فنکار دوستوں کے رویے پر ان سے شاکی ہیں کہ جب تک وہ تنظیم سازی کے حوالے سے تقسیم در تقسیم کی حکمت عملی میں پناہ ڈھونڈتے رہیں گے ان کے نہ تو مسائل حل ہوں گے نہ انہیں کوئی(گھاس) ڈالے گا بلکہ ان کی اس بے اتفاقی سے فائدے کی بجائے الٹا انہیں نقصان ہی ہوگا اور فائدہ کون اٹھائے گا؟ یہ نہ تو کوئی ڈھکی چھپی بات ہے نہ اس پر کسی تبصرے کی ضرورت ہے۔
اصل مسئلہ اسی روایتی روئیے کا ہے جس کی جانب کالم کے آغاز ہی میں ہم نے اشارہ کیا ہے یعنی اگر ہر کوئی اپنے گھر سے خان ہونے والے اس رویے کو ترک کر کے، تنظیموں کے اس بکھرے ہوئے ملبے کو اکٹھا کر کے، ان کنکریوں کو موتیوں کی مالا کی صورت دے دے تو کنکر کی بجائے موتیوں کی قدر و قیمت پھر ہر کوئی پہچانے گا۔ حالانکہ اس عدم اتفاق کا مزہ یہ لوگ پہلے ہی چکھ چکے ہیں اور جب چند سال پہلے فنکاروں کے لیے 30 ہزار روپے ماہوار وظیفے کے لیے اس وقت کی حکومت نے مثبت اقدام کیے تو اپنے ہی بھائی بندوں کے خلاف جو منفی پروپیگنڈا بعض لوگوں نے شروع کر کے نازیبا الزامات لگائے، یہاں تک کہ معاملات احتساب بیورو کے ادارے تک پہنچ گئے اور وہاں تحقیقات سے متصف ہوئے۔ اس کے بعد کسی کو کچھ بھی نہیں ملا جبکہ صوبے میں ثقافتی سرگرمیوں کا جو حشر ہوا وہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، اس لیے جب تک فنکار آپس میں ٹکڑیوں میں بٹے رہیں گے کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہوگا کہ بقول خالد محبوب
یہاں چراغ ہی جلتے نہیں چراغوں سے
یہاں تو آدمی بھی آدمی سے جلتا ہے
![]()

