🌿 حضرت جنید بغدادیؒ اور بہلول داناؒ کا ایسا سبق جو زندگی بدل دے
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو صرف معلومات نہیں دیتے بلکہ سوچنے کا ایک نیا زاویہ عطا کر دیتے ہیں۔ یہ بھی ایسا ہی ایک سبق آموز واقعہ ہے۔
ایک مرتبہ حضرت جنید بغدادیؒ اپنے مریدوں کے ساتھ سفر پر تھے۔ راستے میں آپؒ نے دریافت فرمایا:
“بہلول داناؒ کہاں رہتے ہیں؟”
لوگوں نے عرض کیا:
“حضور! وہ تو ایک دیوانے آدمی ہیں، آپ ان سے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟”
حضرت جنیدؒ نے مسکرا کر فرمایا:
“مجھے اسی دیوانے سے ایک ضروری کام ہے۔”
چنانچہ جب آپؒ بہلول داناؒ کے پاس پہنچے تو وہ صحرا میں ریت کے ایک ٹیلے پر بیٹھے خاموشی سے کچھ گنگنا رہے تھے۔ حضرت جنیدؒ نے سلام کیا اور ان کے قریب بیٹھ گئے۔
بہلول داناؒ نے پوچھا:
“تم کون ہو؟”
آپؒ نے ادب سے جواب دیا:
“میں جنید بغدادی ہوں۔”
بہلول داناؒ مسکرائے اور بولے:
“اچھا، تم وہی جنید ہو جو لوگوں کو زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتے ہو؟ پہلے یہ بتاؤ، کھانا کیسے کھاتے ہو؟”
حضرت جنیدؒ نے فرمایا:
“کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھتا ہوں، اپنے سامنے سے کھاتا ہوں، چھوٹا لقمہ لیتا ہوں، اچھی طرح چباتا ہوں اور آخر میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں۔”
یہ سن کر بہلول داناؒ فوراً کھڑے ہوئے، اپنا دامن جھاڑا اور فرمایا:
“تم تو ابھی کھانا کھانا بھی نہیں جانتے، پھر لوگوں کو کیا سکھاؤ گے!”
یہ کہہ کر وہ آگے چل دیے۔
حضرت جنیدؒ فوراً ان کے پیچھے گئے اور عاجزی سے عرض کیا:
“حضور! پھر آپ ہی مجھے سکھا دیجیے کہ صحیح طریقے سے کھانا کیسے کھایا جاتا ہے؟”
بہلول داناؒ نے فرمایا:
“پہلے یہ بتاؤ، بات کیسے کرتے ہو؟”
حضرت جنیدؒ نے جواب دیا:
“موقع محل دیکھ کر بات کرتا ہوں، آواز آہستہ رکھتا ہوں، فضول گفتگو سے بچتا ہوں اور مختصر بات کرتا ہوں۔”
بہلول داناؒ ہنس پڑے اور فرمایا:
“تمہیں تو بات کرنا بھی نہیں آتا، ذرا راستہ دو!”
حضرت جنیدؒ نے پھر عاجزی سے ان کا دامن تھام لیا۔
اب بہلول داناؒ نے آخری سوال کیا:
“اچھا بتاؤ، سوتے کیسے ہو؟”
حضرت جنیدؒ نے عرض کیا:
“وضو کر کے سوتا ہوں، دائیں کروٹ لیٹتا ہوں اور مسنون دعائیں پڑھتا ہوں۔”
یہ سن کر بہلول داناؒ نے فرمایا:
“جسے کھانا، بولنا اور سونا ہی نہ آیا ہو، وہ اللہ کی معرفت کیسے حاصل کرے گا؟”
حضرت جنید بغدادیؒ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ آپؒ نے عرض کیا:
“اللہ کے لیے مجھے ان باتوں کی اصل حقیقت بتا دیجیے۔”
تب بہلول داناؒ نے نہایت محبت سے فرمایا:
“کھانے کا اصل ادب یہ نہیں کہ صرف بسم اللہ پڑھ لو، بلکہ سب سے پہلے یہ دیکھو کہ تمہارا لقمہ حلال ہے یا نہیں۔ اگر رزق حرام ہو تو ہزار مرتبہ بسم اللہ پڑھنے سے بھی وہ آگ ہی بنے گا۔”
پھر فرمایا:
“بات کرنے کا اصل ادب یہ ہے کہ تمہاری زبان سے کسی کا دل نہ ٹوٹے۔ اگر تمہاری گفتگو کسی کے دل کو زخمی کر دے تو نرم لہجہ بھی بے فائدہ ہے۔”
آخر میں فرمایا:
“اور سونے کا اصل ادب یہ ہے کہ دل ہر قسم کے بغض، کینہ اور نفرت سے پاک ہو۔ اگر تم وضو کرکے بھی سو جاؤ مگر دل میں مسلمانوں کے لیے حسد، عداوت یا نفرت ہو تو ایسی نیند اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ نہیں۔”
یہ سن کر حضرت جنید بغدادیؒ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور فرمایا:
“آج آپ نے مجھے عبادت کی روح اور انسانیت کا اصل سبق سکھا دیا۔”
🌿 ہم سب کے لیے بھی یہی سوچنے کا مقام ہے۔
ہمیں اکثر اپنی ظاہری عبادات پر اطمینان ہوتا ہے، مگر کیا کبھی ہم نے خود سے یہ سوال کیے؟
🍃 کیا ہمارا رزق مکمل طور پر حلال ہے؟
🍃 کیا ہماری زبان سے کسی کا دل تو نہیں دکھتا؟
🍃 کیا ہم رات کو سونے سے پہلے اپنے دل کو بغض، حسد اور نفرت سے پاک کر لیتے ہیں؟
شاید یہی وہ سوال ہیں جو ہماری زندگی بدل سکتے ہیں۔
اگر آپ نے یہ تحریر پوری پڑھی ہے اور آپ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں تو کمنٹ میں اللہ تعالیٰ کے 99 خوبصورت ناموں میں سے کوئی ایک نام ضرور لکھیں۔ 🤍🌷
جس نام سے آپ اللہ تعالیٰ کو پکارنا سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں، وہی لکھیں۔
اگر یہ تحریر آپ کے دل کو چھو گئی ہو تو اسے ضرور شیئر کریں تاکہ یہ خوبصورت سبق مزید لوگوں تک پہنچ سکے۔
The Lesson of Junayd Baghdadi (RA) & Bahlul Dana (RA)
#بہلول_دانا #حضرت_جنید_بغدادی #اسلامی_واقعات #سبق_آموز #حلال_رزق #اخلاق #اللہ_سے_محبت #ViralPost #History #Islam #engrzeeshaniqbal
![]()

