Daily Roshni News

بہلول دانا کی حکمت

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )وہ کبھی کسی عالم کے پاس جاتا، کبھی کسی فلسفی کے پاس مگر اس کے سوالوں کا ایسا جواب نہ ملتا جو اس کے دل کو مطمئن کر دیتا ایک دن وہ گلی سے گزرتے ہوئے حضرت بہلول دانا کے قریب پہنچا لوگوں سے اس نے ان کا بہت چرچا سن رکھا تھا کہ وہ بڑے دانا اور حکمت والے انسان ہیں اسی لیے اس نے سوچا

کہ شاید یہ شخص میرے سوالوں کے جواب دے سکے۔ وہ بہلول دانا کے سامنے کھڑا ہوا اور کہنے لگا

لوگ کہتے ہیں تم ہر سوال کا جواب دے دیتے ہو، میرے پاس بھی تین سوال ہیں جن کا جواب آج تک کسی کے پاس نہیں ملا، کیا تم ان کے جواب دے سکتے ہو؟

حضرت بہلول دانا نے فرمایا پوچھو، کیا پوچھنا چاہتے ہو؟”

اس شخص نے پہلا سوال کیا

اگر خدا موجود ہے تو پھر دکھائی کیوں نہیں دیتا؟

بہلول دانا خاموش رہے۔

پھر اس نے دوسرا سوال کیا

لوگ کہتے ہیں برائی شیطان کرواتا ہے تو پھر سزا انسان کو

“کیوں دی جاتی ہے؟

اس سوال پر بھی بہلول دانا خاموش رہے۔

اس نے تیسرا سوال کیا

شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور قیامت میں اسے آگ میں ڈالا جائے گا تو آگ آگ کو کیسے جلائے گی؟

حضرت بہلول دانا پھر بھی خاموش رہے۔

وہ شخص یہ سمجھا کہ شاید بہلول دانا کے پاس بھی ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں وہ طنزیہ انداز میں ہنسا اور وہاں سے جانے لگا کہ دیکھا تمہیں بھی ان سوالوں کے جواب نہیں آتے۔۔۔

اتنے میں بہلول دانا نے زمین سے خشک مٹی کا ایک ڈھیلا اٹھایا اور زور سے اس کے سر پر دے مارا ڈھیلا لگتے ہی اس کے سر سے خون نکل آیا غصے سے بھر کر وہ شہر کے کوتوال کے پاس پہنچا اور شکایت درج کروائی کہ بہلول دانا نے بلاوجہ اسے زخمی کر دیا ہے

کوتوال کو یقین نہ آیا کیونکہ بہلول دانا اپنی نرم طبیعت اور دانائی کی وجہ سے مشہور تھے پھر بھی اس نے سپاہیوں کو بھیج کر انہیں بلوایا جب بہلول دانا حاضر ہوئے تو کوتوال نے پوچھا آپ نے اس شخص کو کیوں مارا؟”

حضرت بہلول دانا نے جواب دیا

میں نے اسے مارا نہیں، بلکہ اس کے تینوں سوالوں کا ایک ہی جواب دیا ہے۔

کوتوال حیران رہ گیا اور اس شخص سے اس کے سوال پوچھے جب اس نے تمام سوال دہرا دیے تو بہلول دانا نے فرمایا

تم نے کہا اگر رب ہے تو دکھائی کیوں نہیں دیتا؟

تو تم کہتے ہو تمہیں درد ہو رہا ہے تو ذرا اپنا درد مجھے دکھاؤ؟ وہ شخص حیرت سے بولا

درد کیسے دکھایا جا سکتا ہے؟

بهلول دانا نے فرمایا: جس طرح درد موجود ہونے کے باوجود

دکھائی نہیں دیتا، اسی طرح الله تعالیٰ بھی موجود ہے مگر ہماری

آنکھیں اسے نہیں دیکھ سکتیں۔ پھر فرمایا

تم نے پوچھا تھا کہ اگر شیطان کرواتا ہے تو سزا انسان کو کیوں ملتی ہے؟

تو پھر یہ بھی مان لو کہ تمہیں میں نے نہیں شیطان نے پتھر مارا ہے، اس لیے مجھے سزا نہیں ملنی چاہیے۔

یہ سن کر وہ شخص خاموش ہو گیا کیونکہ اب اسے سمجھ آ چکی

تھی کہ انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے

اس کے بعد بہلول دانا نے تیسرے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا تم نے کہا شیطان آگ سے بنا ہے تو آگ بھلا آگ کو کیسے جلائے گی تم مجھے بتاو تم کس سے بنے ہو؟ اس نے کہا مٹی سے تو بہلول

دانا نے فرمایا تو کیا درد ہوا تمہیں؟

اس نے کہا ہاں بڑی تکلیف ہوئی۔

تو آپ نے فرمایا بس اسی طرح شیطان کو بھی بڑی تکلیف ہو گی جب اسے جلایا جائے گا

یہ سن کر وہ شخص حیران رہ گیا کہ جن سوالوں کے جواب وہ برسوں سے ڈھونڈ رہا تھا وہ ایک دیوانے ” سمجھے جانے والے

درویش نے چند لمحوں میں نہایت سادہ مگر گہری حکمت سے سمجھا دیے

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حقیقت کو صرف ظاہری آنکھ سے نہیں بلکہ عقل فطرت اور دل کی بصیرت سے سمجھا جاتا ہے ہر وہ چیز جو دکھائی نہ دے، اس کا وجود ختم نہیں ہو جاتا اسی طرح انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے وہ اپنی غلطیوں کا الزام دوسروں پر ڈال کر بری الذمہ نہیں ہو سکتا

حضرت بہلول دانا نے اپنے عمل کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ عقل و حکمت کے ساتھ دی گئی مثالیں انسان کے ذہن کے بند دروازے کھول دیتی ہیں اللہ کی معرفت انسان کی ذمہ داری اور آخرت کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے صرف بحث نہیں بلکہ سچی سمجھ اور تدبر کی ضرورت ہوتی ہے.

.

📚 ایسی ہی ایمان افروز اور سبق آموز کہانیوں کے لیے ابھی ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں:

https://whatsapp.com/channel/0029VbD0oTA6WaKnqcvMJU43

✨ اگلی کہانی شاید آپ کی زندگی بدل دے۔

Loading