Daily Roshni News

معاشرتی بے حسی، شوبز کی یلغار اور مذہبی اقدار کا زوال۔۔۔ تحریر۔۔۔حمیراعلیم

معاشرتی بے حسی، شوبز کی یلغار اور مذہبی اقدار کا زوال

تحریر۔۔۔حمیراعلیم

​ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ معاشرتی بے حسی، شوبز کی یلغار اور مذہبی اقدار کا زوال۔۔۔ تحریر۔۔۔حمیراعلیم )پاکستانی میڈیا اور شوبز انڈسٹری عرصہ دراز سے ایسے رجحانات کی ترویج میں مصروف ہے جو ہمارے اسلامی اور تہذیبی تشخص سے یکسر متصادم ہیں۔ جیو ٹی وی کا پروگرام سفرِ عشق ہو یا کسی بھی دوسرے پاکستانی چینل کے ڈرامے، فلمیں اور دستاویزی فلمیں ان کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ یہ پروڈکشنز عموماً کھلے عام یا  پس پردے  اسلامی احکامات کی خلاف ورزی اور غیر شرعی امور کی پروموشن پر مبنی ہوتی ہیں۔ شوبز کا پورا ڈھانچہ ہی بنیادی طور پر اخلاقی حدود کی پامالی اور بدعت کے فروغ کا مجموعہ بن چکا ہے۔ جہاں تک سفرِ عشق کا تعلق ہے مختلف علماء اور نقادوں کے تبصروں سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں کچھ بھی ایسا اچھوتا نہیں تھا جو ہمارے معاشرے میں پہلے سے میڈیا کے ذریعے نہ پھیلایا جا رہا ہو۔ جب برائی کو جڑ سے کاٹنے کے بجائے اسے تفریح کے نام پر گلیمرائز کیا جائے گا تو اس کے نتائج ایسے ہی نکلیں گے۔

​مذہبی شعائر کا تقدس اور جلوسوں کی بدلتی ہیئت

​یہ خرابی صرف شوبز تک محدود نہیں رہی  بلکہ اب ہمارے خالص مذہبی شعائر بھی اس طرزِ فکر کی زد میں آ چکے ہیں۔ اس سال محرم الحرام کے جلوسوں کا منظرنامہ انتہائی تشویشناک رہا۔ تعزیے، شبیہ ذوالجناح اور روایتی رسومات تو کئی دہائیوں سے دیکھی جا رہی تھیں۔ لیکن اب ان جلوسوں کو رام لیلی کی طرز پر ایک تماشہ بنا دیا گیا ہے۔ اس سال باقاعدہ طور پر اہل بیتِ رسول کے ماڈلز، شیطان، جن، حوریں اور یزید کے کرداروں کو مجسم کیا گیا۔ یہاں تک کہ  امام حسین رضی اللہ عنہ اور علی اصغر  کی پاک ہستیوں کو بھی عام بچوں اور مردوں کے ذریعے اسٹیج ڈرامے کی طرح پیش کیا گیا۔ اس سے بڑھ کر زوال کیا ہوگا کہ ایک غیر مہذب ٹک ٹاکر باپ بیٹی نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا روپ دھار کر ان کی شانِ اقدس میں صریح گستاخی کی۔ جو کہ عقیدت کے نام پر سراسر بے ادبی اور شریعت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔

​حیرت اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ وہ  جاہل اور نام نہاد عاشق رسول عوام جو کسی خاتون کی قمیض پر لکھے عربی لفظ حلوہ لکھا دیکھ کر بپھر جاتی ہے اور ایک بے گناہ کو قتل کرنے پر آمادہ ہو جاتی ہے۔ وہ اہل بیت کی اس کھلی توہین اور شوبز کی روزمرہ  توہین مذہب پر مکمل خاموش بیٹھی ہے۔ اصل گستاخیِ رسولؐ اور توہینِ اہل بیتِ اطہار نہ ہمارے روایتی علماء کو دکھائی دے رہی ہے اور نہ ہی اس  جذباتی عوام کو۔

​     ​ہمارے ہاں روزانہ ڈراموں میں اللہ کے احکامات کا مذاق اڑایا جاتا ہے، شوز اور میوزک کنسرٹس میں کھلم کھلا حرام کام ہوتے ہیں، لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ جب تک ہم برائی کو جڑ سے نہیں کاٹیں گے معاشرے میں اس کے پھلنے پھولنے کو نہیں روک سکتے۔ محض زبانی کلامی آواز اٹھانے یا سوشل میڈیا پر واویلا کرنے سے اب کچھ نہیں ہوگا۔ اگر اس ملک کی پارلیمنٹ میں سیاسی مفادات کے لیے راتوں رات فضول اور پیچیدہ بلز پاس ہو سکتے ہیں تو اسلامی شعائر کے تحفظ اور حرام امور پر پابندی کے لیے ٹھوس قوانین کیوں پاس نہیں کیے جاتے؟

​حکومت اور مقتدر حلقوں کو چاہیے کہ ان قوانین پر بالکل اسی طرح سختی سے عمل درآمد کروائیں جیسے پٹرول کی قیمت رات 12 بجے بڑھتی ہے تو 12:01 پر پورے ملک میں اس کا اطلاق ہو جاتا ہے۔ جب تک ریاست گستاخی، بے حیائی اور مذہبی رسومات کو تماشہ بنانے والوں کے خلاف اس تیز رفتاری اور سختی کے ساتھ قانون نافذ نہیں کرے گی تب تک اخلاقی اور مذہبی زوال کا یہ سفر روکا نہیں جا سکے گا۔

Loading