Daily Roshni News

مسلسل موبائل اسکرولنگ دماغ پر کیا اثر ڈالتی ہے؟ ماہرین نے اہم حقائق سے آگاہ کردیا

گر آپ نے کبھی یہ محسوس کیا ہو کہ صرف چند منٹ کے لیے موبائل فون اٹھایا تھا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ایک گھنٹہ گزر گیا، تو ماہرین کے مطابق یہ محض اتفاق نہیں بلکہ اس کے پیچھے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا مخصوص ڈیزائن اور انسانی دماغ کی نفسیات کارفرما ہوتی ہے۔

تحقیقی جائزوں کے مطابق سوشل میڈیا ایپس کو اس انداز میں تیار کیا جاتا ہے کہ صارف زیادہ سے زیادہ وقت اسکرین پر گزارے۔ نئی پوسٹس، ویڈیوز اور مواد کی مسلسل فراہمی صارف کو بار بار اسکرول کرنے پر آمادہ رکھتی ہے، جس سے یہ عادت رفتہ رفتہ مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے۔

ڈوپامائن کا کردار اور مسلسل اسکرولنگ کی وجہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل پر مسلسل اسکرولنگ دماغ میں موجود ڈوپامائن نامی کیمیکل کو متحرک کرتی ہے، جو خوشی، دلچسپی اور کسی نئے انعام کی توقع سے وابستہ ہوتا ہے۔ ہر نئی پوسٹ کے ساتھ صارف کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آگے کیا دیکھنے کو ملے گا، یہی غیر یقینی کیفیت دماغ کو مزید مواد دیکھنے پر مائل رکھتی ہے۔

اسی وجہ سے ماہرین سوشل میڈیا کے اس نظام کو جوئے کی سلاٹ مشین سے تشبیہ دیتے ہیں، جہاں ہر نئی کوشش کسی ممکنہ انعام کی امید پیدا کرتی ہے۔ یہی نفسیاتی عمل صارف کو اسکرین سے الگ ہونے نہیں دیتا۔

Loading