Daily Roshni News

قسطنطنیہ کی برفیلی دیواریں اور ابلتے ہوئے تارکول کی بارش (99 ہجری / 717 عیسوی)

قسطنطنیہ کی برفیلی دیواریں اور ابلتے ہوئے تارکول کی بارش (99 ہجری / 717 عیسوی)

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)99 ہجری کا جمادینے والا سیاہ جاڑا۔ دنیا کے ناقابلِ تسخیر شہر ‘قسطنطنیہ’ (Constantinople) کی فلک شگاف فصيلوں کے باہر ایک لاکھ سے زائد شامی اور عرب لشکر برف، بھوک اور موت کے ہولناک محاصرے میں تھا، جہاں گھوڑے مر چکے تھے اور سپاہی درختوں کی جڑیں اور کیچڑ چبانے پر مجبور تھے۔

شہر کی دیواروں سے بازنطینی منجنیقیں ‘گریک فائر’ (Greek Fire—نہ بجھنے والی کیمیاوی آگ) اور ابلتا ہوا تارکول برسا رہی تھیں، جس سے خندقیں جلتی ہوئی لاشوں سے بھر چکی تھیں۔

اس قیامت خیز سردی اور جہنم جیسے ماحول کے عین درمیان، ایک گندمی رنگ، خلوصِ جنگ سے بھرے کھردرے چہرے اور چوڑی چھاتی والا اموی سالار اپنے گھوڑے پر سوار کھڑا تھا۔ اس کی زرہ پر برف اور جما ہوا خون تہیں بنا چکا تھا، لیکن وہ پیچھے ہٹنے سے صاف انکاری تھا۔

یہ ‘مسلمہ بن عبدالملک’ تھا—اموی سلطنت کا وہ بے تاج بادشاہ، جس کے چار سگے بھائی یکے بعد دیگرے خلیفہ بنے، لیکن تخت کے تمام حقداروں کو بچانے اور سلطنت کی سرحدیں کھڑی کرنے والا یہ اعظم ترین سپہ سالار عمر بھر صرف اس لیے تخت سے محروم رہا کیونکہ اس کی رگوں میں ایک بربر لونڈی کا خون تھا۔

پس منظر: لونڈی کے بیٹے کا کڑوا سچ اور خیمے کی سخت جان زندگی

مسلمہ بن عبدالملک اموی سلطنت کے سب سے طاقتور خلیفہ ‘عبدالملک بن مروان’ کا بیٹا تھا۔ اس کے چار بھائی (ولید اول، سلیمان، یزید ثانی، اور ہشام) دمشق کے تخت پر بیٹھے، لیکن مسلمہ کو خاندانی قانون کے تحت خلافت کے قصر سے باہر رکھا گیا، کیونکہ اس کی ماں ایک کنیز (أم ولد) تھی اور اس دور کے عرب اشرافیہ میں غیر عرب کنیز کے بیٹے کو خلیفہ ماننے پر شدید نسلی ممانعت تھی۔

محلات کی اس سیاسی ذلت اور محرومی پر ماتم کرنے کے بجائے، مسلمہ نے دمشق کے ریشمی بستروں کو لات ماری اور اپنی زندگی گھوڑے کی پیٹھ، خاک آلود خیموں اور سرحدی چھاؤنیوں کے نام کر دی۔

مسلسل جنگی سفر، بازنطینی محاذوں کی کڑک دھوپ اور کوہِ قاف کی برفباری نے اس کے جسم کو فولاد کی طرح سخت کر دیا تھا۔ اس کی جلد کھردری، آنکھیں عقاب جیسی تیز اور آواز میدانِ جنگ کے شور کو چیرنے والی تھی۔ بازنطینی اور خزر دشمن اسے اس کی تیزی اور زرد رنگ کی عسکری وردی کے باعث ‘زرد ٹڈی دل’ (Yellow Grasshopper) کہہ کر پکارتے تھے۔

عروج: قسطنطنیہ کا تاریخی محاصرہ اور کوہِ قاف کی فتوحات (98 تا 110 ہجری)

98 ہجری (717 عیسوی) میں خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کے حکم پر، مسلمہ نے تاریخِ اسلام کے سب سے بڑے عسکری آپریشن—قسطنطنیہ کے محاصرے—کی قیادت کی، جس میں 1 لاکھ 20 ہزار فوجی اور 1800 بحری جہاز شامل تھے۔

مسلمہ نے شہر کے گرد ایک دیوہیکل خندق اور پتھر کی دیوار (حصار) کھڑی کر کے قسطنطنیہ کا خشکی سے مکمل رابطہ کاٹ دیا۔ لیکن بازنطینی بادشاہ ‘لیو سوم’ (Leo III) کی شاطرانہ غداری، بلغاریہ کے وحشی قبائل کے اچانک حملے اور 718 کی قیامت خیز سردی نے شامی فوج کو بھوک اور بیماریوں کی دلدل میں دھکیل دیا۔ اس عسکری تباہی کے باوجود، مسلمہ نے فوج میں ایسی آہنی نظم و ضبط قائم رکھی کہ بازنطینی فوج کو کھلے میدان میں محاصرہ توڑنے کی ہمت نہ ہوئی، یہاں تک کہ نئے خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے محاصرہ اٹھا کر باعزت واپسی کا حکم دیا۔

قسطنطنیہ سے واپسی کے بعد مسلمہ نے کوہِ قاف (Caucasus) اور آرمینیا میں خزر وحشیوں کے خلاف خونریز مہمات کا آغاز کیا۔ اس نے دربند کے دشوار گزار دروں کو فتح کیا، وہاں عسکری چوکیاں قائم کیں اور ‘باب الابواب’ کے ناقابلِ تسخیر قلعے تعمیر کر کے سلطنت کی شمالی سرحدوں کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔

اندرونی سازشیں: عراق کی خونی بغاوت اور سگے بھائی کا شک (101 تا 102 ہجری)

مسلمہ صرف بیرونی سرحدوں کا محافظ نہیں تھا، بلکہ جب بھی سلطنت اندرونی خانہ جنگی سے ڈگمگائی، اسی کی تلوار نے اموی تخت کو سہارا دیا۔

101 ہجری (720 عیسوی) میں عراق میں طاقتور سالار ‘یزید بن المہلب’ نے خلیفہ یزید ثانی (مسلمہ کے بھائی) کے خلاف ہولناک بغاوت کھڑی کر دی اور بصرہ و واسط پر قبضہ کر کے اموی سلطنت کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ خلیفہ نے خوفزدہ ہو کر مسلمہ کو شام سے عراقی محاذ پر بھیجا۔

بابل کے قریب ‘العقر’ کے میدان میں ایک خونریز اور فیصلہ کن جنگ ہوئی۔ مسلمہ نے اپنے شامی زرہ پوش دستوں کی شاطرانہ یلغار سے یزید بن المہلب کی فوج کے پرخچے اڑا دیے، المہلب میدان میں مارا گیا اور مسلمہ نے عراق کا کنٹرول سنبھال کر اپنے بھائی کا ڈوبتا ہوا تخت بچا لیا۔

لیکن اس عظیم خدمت کا صلہ اسے محلات کی گندی سیاست کی شکل میں ملا۔ جب مسلمہ کو عراق اور خراسان کا گورنر مقرر کیا گیا، تو خلیفہ یزید ثانی کے کانوں میں حاسد وزیروں نے زہر گھولنا شروع کیا کہ مسلمہ عراق کا بھاری خراج شام بھیجنے کے بجائے اپنی فوج پر خرچ کر رہا ہے، اور وہ کسی بھی وقت اپنی دیوہیکل عسکری طاقت کے بل بوتے پر تخت پر قبضہ کر سکتا ہے۔ اپنے سگے بھائی کی اس سیاسی بدگمانی اور شک سے دل برداشتہ ہو کر، مسلمہ کو گورنری سے معزول کر دیا گیا، جسے اس نے بغیر کسی بغاوت کے خاموشی سے قبول کر لیا۔

زوال اور موت: خزر طوفان کا خاتمہ اور سرحد پر خاموش موت (112 تا 121 ہجری)

112 ہجری (730 عیسوی) میں جب کوہِ قاف میں ‘مرج اردبیل’ کے مقام پر خزر وحشیوں نے اموی فوج کو شکست دے کر سالار جراح الحکمی کو شہید کر دیا اور ان کے غول موصل تک آ پہنچے، تو خلیفہ ہشام بن عبدالملک نے گھبرا کر دوبارہ بوڑھے اور تھکے ہوئے مسلمہ کو میدان میں اتارا۔

مسلمہ نے اپنی بڑھتی ہوئی عمر، جسمانی نقاہت اور پرانے زخموں کی پرواہ کیے بغیر، آخری بار گھوڑے کی باگ ڈوری سنبھالی۔ اس نے خزروں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے کوہِ قاف کے اندرونی علاقوں تک ان کا تعاقب کیا اور ان کے خاقان کو شکست دے کر سرحدوں کو بحال کیا، لیکن اس مسلسل اور کٹھن برفانی مہم نے اس کے اعصاب اور دل کو مکمل طور پر نچوڑ لیا۔

اپنی آخری عمر میں مسلمہ میدانِ جنگ سے کنارہ کش ہو کر شمالی شام کے شہر ‘قنسرین’ (Qinnasrin) کی سرحدی چھاؤنی میں مقیم ہو گیا۔ تاریخِ اسلام کا یہ دیوہیکل جرنیل، جس نے سلطنت کے لیے درجنوں ملک فتح کیے اور چار خلیفہ بٹھائے، 121 ہجری (تقریباً 738/739 عیسوی) میں قنسرین کے ایک سادہ عسکری بستر پر گمنامی اور جسمانی تھکاوٹ کے باعث خاموشی سے دم توڑ گیا۔

انجام: عسکری ستون کا گرنا اور اموی سلطنت کا صفایا (Aftermath)

مسلمہ بن عبدالملک کی موت محض ایک سپہ سالار کا انتقال نہیں تھا، بلکہ یہ اموی سلطنت کی عسکری ریڑھ کی ہڈی اور خاندانی اتحاد کے سب سے بڑے ستون کا ٹوٹنا تھا۔

جب تک مسلمہ زندہ رہا، وہ اموی شہزادوں کے درمیان ایک غیر متنازع، طاقتور اور کڑک بزرگ (Patriarch) کی حیثیت سے موجود رہا جس کے ڈر سے خاندان میں خونریزی اور عرب قبائل (یمنی و قیسی) کا تعصب قابو میں رہا۔

اس کے مرتے ہی اموی سلطنت کا شیرازہ بکھر گیا۔ خلیفہ ہشام کی موت کے بعد، اموی شہزادے (جیسے ولید ثانی اور یزید ثالث) تخت کی لالچ میں ایک دوسرے کا گلا کاٹنے لگے، کیونکہ اب کوئی مسلمہ موجود نہیں تھا جو شام کی فوج کو ایک پرچم تلے متحد رکھ سکے۔

مسلمہ کی موت کے ٹھیک ایک دہائی بعد، 132 ہجری میں جب عباسی انقلاب کا طوفان اٹھا اور دریائے زاب کے میدان میں اموی فوجیں آمنے سامنے آئیں، تو شامی لشکر قیادت کے بحران کا شکار ہو کر کٹ گیا؛ کیونکہ سلطنت کی وہ ڈھال، جسے دنیا ‘زرد ٹڈی دل’ کہتی تھی، سالوں پہلے قنسرین کی مٹی میں دفن ہو چکی تھی۔

تاریخی حوالہ جات:

تاریخ الطبری / تاریخ الامم والملوک (امام ابن جریر طبری)

البدایہ والنہایہ (علامہ ابن کثیر)

الکامل فی التاریخ (ابن الاثیر)

فتوح البلدان (احمد بن یحییٰ البلاذری)

مروج الذہب ومعادن الجوہر (امام مسعودی)

انساب الاشراف (احمد بن یحییٰ البلاذری)

تاریخ الیعقوبی (احمد بن اسحاق یعقوبی)

تاریخ خلیفہ بن خیاط (خلیفہ بن خیاط)

تاریخ الخلفاء (علامہ جلال الدین سیوطی).

اگر آپ عظیم حکمران شیر شاہ سوری کی پوری کہانی اینیمیشن میں دیکھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔ 👇

Sher Shah Suri Animated Documentary:

https://www.facebook.com/reel/3487080468123546

Loading