ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اکتوبر 1605ء کے وسط تک آگرہ کے فلک بوس قلعے پر ایک ایسی پراسرار خاموشی اور خوف کا سایہ چھا چکا تھا جس نے مغلیہ سلطنت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ 63 سالہ شہنشاہ اکبر، جس کے نام سے کبھی ہندوستان کے راجے مہاراجے کانپتے تھے، اب ‘خونی پیچش’ (Dysentery) کے مرض میں مبتلا ہو کر ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ بن چکا تھا۔ شاہی حکیم، حاکم علی گیلانی کی تمام جڑی بوٹیاں اور معجون بے اثر ہو چکے تھے۔ شہنشاہ کے پیٹ میں اٹھنے والا درد اس قدر شدید تھا کہ وہ بے ہوش ہو جاتا تھا۔ جیسے جیسے اکبر کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں، قلعے کے باہر دیوانِ عام اور امراء کی حویلیوں میں تختِ ہندوستان کے لیے ایک ایسی خونی سازش تیار ہو رہی تھی جس کی مثال مغل تاریخ میں نہیں ملتی۔
شہزادہ سلیم (جہانگیر) اگرچہ اکبر کا اکلوتا زندہ بیٹا تھا اور قانون کے مطابق وہی تخت کا وارث تھا، لیکن دربارِ اکبری کے دو سب سے طاقتور ستون، ‘راجہ مان سنگھ’ اور ‘مرزا عزیز کوکہ’ کسی صورت سلیم کو شہنشاہ بنتے نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ راجہ مان سنگھ کے پاس سات ہزار کی منصب داری اور راجپوتوں کی ایک دیوہیکل فوج تھی، جبکہ مرزا عزیز کوکہ اکبر کا دودھ شریک بھائی (کوکہ) ہونے کی وجہ سے سلطنت کا سب سے بااثر مسلمان امیر تھا۔ ان دونوں کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ایک رات قلعے کے اندر تمام بڑے مغل سرداروں، جرنیلوں اور امراء کا ایک خفیہ اجلاس بلا لیا۔ یہ اجلاس مغل تاریخ کا وہ ٹرننگ پوائنٹ تھا جس نے ہندوستان کی تقدیر کا فیصلہ کرنا تھا۔
اس خفیہ اجلاس میں مرزا عزیز کوکہ نے کھڑے ہو کر تقریر کی اور کہا: “اے امراء! شہزادہ سلیم ایک شرابی، افیونی اور نااہل شخص ہے۔ اس نے اپنے ہی باپ کے خلاف بغاوت کی اور سلطنت کے عظیم وزیر ابوالفضل کا سر کٹوایا۔ شہنشاہ اکبر بھی دل سے اس سے نفرت کرتے ہیں۔ لہٰذا، چنگیز خان کے قانون کے مطابق اگر بیٹا نااہل ہو تو پوتے کو تخت دیا جا سکتا ہے۔ ہم شہزادہ سلیم کے بجائے اس کے سترہ سالہ نوجوان بیٹے ‘شہزادہ خسرو’ کو اگلا شہنشاہ بنائیں گے۔” خسرو راجہ مان سنگھ کا بھانجا اور عزیز کوکہ کا داماد تھا، اس لیے وہ دونوں اسے کٹھ پتلی بنا کر پوری سلطنت پر خود حکمرانی کرنا چاہتے تھے۔
لیکن یہ سازش اس وقت ایک بپھرے ہوئے طوفان سے ٹکرا گئی جب مغل دربار کے پرانے اور کٹر چغتائی (ترک) سرداروں نے اس کی مخالفت کر دی۔ ایک انتہائی طاقتور اور وفادار ترک جرنیل، ‘سعید خان’ نے غصے سے اپنی تلوار پر ہاتھ رکھا اور گرج کر کہا: “مرزا عزیز! تم یہ کیا بغاوت کی باتیں کر رہے ہو؟ ہمارے چغتائی اور تیموری قانون (یاسا) میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ باپ کے زندہ ہوتے ہوئے تخت بیٹے کے بجائے پوتے کو دے دیا جائے۔ جب تک شہزادہ سلیم زندہ ہے، کسی مائی کے لعل میں اتنی جرات نہیں کہ وہ تخت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ سکے۔” سعید خان کی اس گرجدار آواز اور ترک سرداروں کی حمایت نے مان سنگھ اور عزیز کوکہ کے ہوش اڑا دیے۔ انہیں اندازہ ہو گیا کہ اگر انہوں نے خسرو کو زبردستی تخت پر بٹھایا تو آگرہ کی گلیوں میں ترکوں اور راجپوتوں کے درمیان ایک ایسی خونی جنگ چھڑ جائے گی جو مغلیہ سلطنت کو راکھ کر دے گی۔ اپنی سازش کو ناکام ہوتا دیکھ کر مان سنگھ نے خاموشی سے قلعہ چھوڑا اور شہزادہ خسرو کو لے کر بنگال کی طرف فرار ہونے کی تیاریاں کرنے لگا۔
دوسری طرف شہزادہ سلیم موت کے خوف سے کانپ رہا تھا۔ اسے اپنے جاسوسوں سے خبر مل چکی تھی کہ قلعے کے اندر اس کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ اسے ڈر تھا کہ اگر وہ اپنے مرتے ہوئے باپ کو دیکھنے قلعے کے اندر گیا، تو مان سنگھ کے راجپوت اسے گرفتار کر کے قتل کر دیں گے۔ سلیم نے قلعے کے باہر دریائے جمنا کے کنارے اپنے خیمے گاڑ لیے تھے اور اندر جانے سے انکاری تھا۔ جب ترک سرداروں نے قلعے کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں لے لیا اور مان سنگھ کی فوج کو پیچھے ہٹا دیا، تو انہوں نے شہزادہ سلیم کو پیغام بھیجا کہ اب راستہ صاف ہے، شہنشاہ کی سانسیں گنی جا رہی ہیں، آپ فوراً اندر آ جائیں۔ 26 اکتوبر 1605ء کو شہزادہ سلیم اپنے چند خاص اور مسلح محافظوں کے سائے میں ڈرتا اور کانپتا ہوا آگرہ کے شاہی خوابگاہ میں داخل ہوا۔
خوابگاہ کا منظر انتہائی دلخراش تھا۔ سلطنتِ مغلیہ کا تیسرا سلطان، اکبرِ اعظم، اب بولنے کی طاقت سے بھی محروم ہو چکا تھا۔ اس کے ہونٹ سوکھے ہوئے تھے اور آنکھوں میں موت کی تاریکی چھا رہی تھی۔ سلیم، جس نے تخت کے لیے اسی باپ کا دل دکھایا تھا، وہ باپ کی یہ حالت دیکھ کر اپنے آنسو نہ روک سکا۔ وہ بھاگ کر اکبر کے قدموں میں گر پڑا اور بچوں کی طرح رونے لگا۔ اکبر کی آنکھوں سے بھی آنسو بہہ نکلے۔ شہنشاہ جانتا تھا کہ باہر امراء سلیم کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں اور اگر اس نے سلیم کی تخت نشینی کا واضح اعلان نہ کیا تو ہندوستان میں خون کی ندیاں بہہ جائیں گی۔
اکبر نے اپنے کانپتے ہوئے اور کمزور ہاتھوں سے اشارہ کیا۔ محل کے خادم آگے بڑھے۔ شہنشاہ نے اشارے سے حکم دیا کہ مغل سلطنت کی سب سے قیمتی اور طاقتور علامت، ‘شہنشاہ ہمایوں کی خاص تلوار’ لائی جائے۔ یہ وہ تلوار تھی جو مغلوں کی طاقت اور دلی کے تخت کی وارث سمجھی جاتی تھی۔ اکبر کے اشارے پر وہ تلوار روتے ہوئے شہزادہ سلیم کی کمر سے باندھ دی گئی۔ پھر اکبر نے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا۔ خادموں نے شہنشاہ کا شاہی عمامہ (تاج والی پگڑی) اٹھایا اور اکبر کی آنکھوں کے سامنے وہ عمامہ سلیم کے سر پر رکھ دیا۔ اکبر نے اپنے کمزور ہاتھوں سے سلیم کی طرف دیکھا، اسے قریب کیا، اور اشاروں ہی اشاروں میں اسے سلطنت کے امراء اور محل کی عورتوں کا خیال رکھنے کی وصیت کی۔ یہ باپ کی طرف سے بیٹے کے تمام گناہوں، غداریوں اور ابوالفضل کے قتل کی مکمل معافی تھی۔
اگلے دن، 27 اکتوبر 1605ء کی رات، جب خزاں کی ٹھنڈی ہوائیں آگرہ کی فصیلوں سے ٹکرا رہی تھیں، جلال الدین محمد اکبر نے کلمہ شہادت سنا اور اپنی آخری ہچکی لی۔ ہندوستان کا وہ شہنشاہ جس نے چتوڑ کے محاصرے سے لے کر کابل کی برفیلی چوٹیوں تک اپنے قدموں کے نشان چھوڑے تھے، آج وہ منوں مٹی تلے جانے کے لیے تیار تھا۔ بغاوت کے خطرے اور قلعے کے اندر موجود تناؤ کی وجہ سے اکبر کی میت کو عام بادشاہوں کی طرح قلعے کے مرکزی دروازے سے نہیں نکالا گیا، بلکہ قلعے کی عقبی دیوار میں ایک شگاف ڈال کر رات کی تاریکی اور خاموشی میں اس کی میت کو آگرہ سے باہر ‘سکندرہ’ کے مقام پر لے جایا گیا اور وہیں ایک کچی قبر میں دفن کر دیا گیا (جہاں بعد میں جہانگیر نے اس کا شاندار مقبرہ تعمیر کروایا)۔
اکبر کی موت کے ساتھ ہی پچاس سالہ اس سنہری، طوفانی اور متنازعہ دور کا اختتام ہو گیا جس نے ہندوستان کو ایک بکھرے ہوئے خطے سے ایک دیوہیکل سلطنت میں بدل دیا تھا۔ باپ کی موت کے ٹھیک آٹھ دن بعد، 3 نومبر 1605ء کو، شہزادہ سلیم نے آگرہ کے قلعے میں اپنا دربار سجایا۔ اس نے ‘نورالدین محمد جہانگیر’ (دنیا کو فتح کرنے والا) کا عظیم الشان لقب اختیار کیا اور تاریخِ مغلیہ کے چوتھے سلطان کے طور پر دلی کے تخت پر جلوہ افروز ہوا۔
چوتھے شہنشاہ شہزادہ سلیم(جہانگیر ) پر آج یا کل شروع ہوجائے گی سب فالورز سے گزارش ہے جو بھی پوسٹ اپلوڈ ہو لائک کرکے اپنی رائے لازمی دیا کریں تاکہ حوصلہ برقرار رہے اور میں تاریخ پر کام کرتا رہوں
نوٹ : اتنی محنت کے بعد آپ سب سے ایک گزارش ہے پوسٹ کو شیئر لازمی کیا کریں تاکہ جو اور لوگ تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ بھی اس پیج سے جڑ سکے
#risengraphics #mughalbaadshah #IslamicEmpire #mughalhistory #MughalEra #IndianHistory #lastepisode
![]()

