Daily Roshni News

روح مرتی نہیں ہے ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  یاسر احمد

روح مرتی نہیں ہے ۔

تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  یاسر احمد

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ روح مرتی نہیں ہے ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  یاسر احمد)روح پیدا تو آزاد ہوئی تھی. پر ہم نے اسے زنجیروں میں جکڑ دیا. ملبے کا پتھر “لوگ کیا کہیں گے” اس کے اوپر رکھا روح سانس لینا چاہتی تھی، گھٹ گئی. پرانے زخم، پرانی باتیں، پرانے لوگ اس کے اوپر رکھا. روح معاف کرنا چاہتی تھی، بند ہو گئی. شور نیند اس کے اوپر رکھا. روح اللہ کو پکارنا چاہتی تھی، آواز دب گئی. آج بدن تو جل رہا ہے… پر اندر روح ملبے تلے دبی چیخ رہی ہے. “مجھے نکالو… میں مر رہی ہوں” کوئی ڈاکٹر نہیں کرے گا. کوئی دوست نہیں کرے گا. مدد آپ کو خود کرنی پڑے گی. کیونکہ قید آپ نے لگائی ہے تالا آپ کے ہاتھ میں ہے. اور ہاں… اللہ مدد کرے گا. پر پہلے ملبہ آپ کو ہٹانا پڑے گا.

ہر گناہ ایک اینٹ ہے. روز دو رکعات توبہ = ایک اینٹ ہٹانا. روز کہو/” میں تھک گیا ہوں اس بوجھ سے” اللہ فوراً ہاتھ بڑھا دیتا ہے. “خبر دار اللہ! کے زکر سے دل چین پاتے ہیں” ہر “سبحان اللہ” سے ایک پتھر ہٹتا ہے. ہر “الحمد اللہ” سے روشنی اندر آتی ہے. جس سے نفرت ہے اسے معاف کر دو. جس کا قرض ہے اتار دو. جس سے رابطہ ٹوٹا ہے جوڑ لو. نفرت روح کی سب سے بھاری زنجیر ہے. روز دس منٹ. بس آپ، جائے نماز، اور اللہ. اس دس منٹ روح سانس لیتی ہے.

رونا آئے گا… پر یہ خوشی کا رونا ہو گا. سکون آئے گا… جو لاکھوں میں نہیں ملتا. دنیا چھوٹی لگی گی… کیونکہ آپ کو بڑا رب مل جائے گا. زخم بھر جائیں گے… کیونکہ زخموں کو مرہم مل جائے گا. لوگ کہیں گے “تم بدل گئے ہو” آپ کہیں گے “نہیں، میں واپس اپنے اصل پر آ گیا ہوں” سنو.. روح مرتی نہیں ہے. وہ بس دب جاتی ہے. بدن کے ملبے تلے وہ ابھی زندہ ہے. بس ہانپ رہی ہے. بس آپ کی ایک پکار کی منتظر ہے.

آج رات کو سونے سے پہلے ہاتھ دل پر رکھو اور سرگوشی کرو: “میں آ رہا ہوں تمہیں نکالنے”

“معاف کر دو مجھے کہ اتنی دیر کردی” پھر اٹھو. وضو کرو. دو رکعت پڑھو. اور ایک ایک کر کے پتھر ہٹانا شروع کر دو. یاد رکھو: جس دن روح آزاد ہو گئی اس دن بدن بھی جینے لگے گا.

@ یاسر احمد ✍️

Loading