فیملی پلاننگ یا خاندانی منصوبہ بندی
شریعت اسلامی کی روشنی میں
غلام نبی کشافی
آنچار صورہ سرینگر
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔۔ فیملی پلاننگ یا خاندانی منصوبہ بندی شریعت اسلامی کی روشنی میں۔۔۔تحریر۔۔۔ غلام نبی کشافی)تمہیدی کلمات/ میں نے اس قسط میں کثرتِ اولاد کے حق میں پیش کی جانے والی مشہور حدیث کا اس کے اصل سیاق و سباق میں جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔ میری کوشش یہ ہے کہ قرآن مجید اور صحیح احادیث کی روشنی میں اس مسئلے کو تعصب سے بالاتر ہو کر سمجھا جائے، تاکہ کسی ایک روایت سے ایسا عمومی حکم اخذ نہ کیا جائے جو شریعت کے مجموعی مزاج سے ہم آہنگ نہ ہو۔ میری نظر میں اسلام نے محض عددی کثرت کو مقصد نہیں بنایا، بلکہ ایمان، اخلاق، ذمہ داری اور معاشرتی مصلحت کو بھی بنیادی اہمیت دی ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اس مقالے کو مکمل سلسلے کے تناظر میں پڑھیں، تاکہ موضوع کا متوازن اور جامع فہم حاصل ہو سکے۔
_______________________
بعض لوگ کثرتِ اولاد کے حق میں درج ذیل حدیث سے استدلال کرتے ہیں:
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،: فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَجَمَالٍ، وَإِنَّهَا لَا تَلِدُ، أَفَأَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ: لَا ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ, فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ .
( ابو داؤد: كِتَابُ النِّكَاحِ (بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَزْوِيجِ مَنْ لَمْ يَلِدْ مِنْ النِّسَاءِ : رقم الحدیث2050/ حسن صحیح)
سیدنا معقل بن یسار بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا مجھے ایک عورت ملی ہے جو عمدہ حسب اور بہت خوبصورت ہے مگر اس کی اولاد نہیں ہوتی۔ تو کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ، نہیں، پھر وہ دوبارہ آیا، تو آپ نے فرمایا ، نہیں، پھر وہ تیسری بار آیا تو آپ نے (عمومی حکم دیتے ہوئے) فرمایا: تم ایسی عورتوں سے شادی کرو جو بہت محبت کرنے والی اور بہت بچے جننے والی ہوں۔ پس بیشک میں تمہارے ذریعے دوسری امتوں پر کثرت ظاہر کرنے والا ہوں ۔
بظاہر اس حدیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے سائل کو بانجھ عورت کے بجائے ایسی عورت سے نکاح کرنے کی ترغیب دی جو اولاد جننے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ لیکن حدیث کے سیاق پر غور کیا جائے تو اس کا ایک دوسرا مفہوم بھی سامنے آتا ہے، جو زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے۔
سائل نے ابتدا ہی میں یہ واضح کر دیا تھا کہ متعلقہ عورت نہایت حسین اور معزز خاندان سے تعلق رکھنے والی، مگر بانجھ ہے۔ اس کے باوجود وہ اس سے نکاح کی اجازت حاصل کرنے کے لئے بار بار حاضر ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عورت میں کوئی ایسی کشش تھی جس کی وجہ سے وہ اس سے نکاح پر مصر تھا، غالباً اس کا حسب، جمال یا مالی حیثیت۔ چنانچہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ صاف طور پر منع فرمایا، اور جب اس نے تیسری بار بھی اصرار کیا تو ایک عمومی اصول بیان فرمایا کہ نکاح کے لئے ایسی عورت کو ترجیح دو جو محبت کرنے والی بھی ہو اور اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہو۔
اس حدیث کا اصل محل ایک ایسے شخص کی رہنمائی ہے جو پہلے ہی یہ جانتا تھا کہ جس عورت سے وہ نکاح کرنا چاہتا ہے وہ بانجھ ہے۔ لہٰذا اس سے یہ عمومی نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ اسلام ہر حال میں زیادہ سے زیادہ اولاد پیدا کرنے کا حکم دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عام حالات میں کسی شخص کو پہلے سے یہ معلوم نہیں ہوسکتا کہ کون سی عورت بانجھ ہوگی اور کون نہیں ؟ بسا اوقات ایک ہی خاندان میں بعض خواتین صاحبِ اولاد ہوتی ہیں اور بعض نہیں، اور بعض اوقات بانجھ پن کا سبب عورت نہیں بلکہ مرد ہوتا ہے۔
اسی حقیقت کی طرف قرآن مجید نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:
لِّـلّـٰـهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۚ يَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ اِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ الـذُّكُـوْرَ .اَوْ يُزَوِّجُهُـمْ ذُكْـرَانًا وَّاِنَاثًا ۖ وَيَجْعَلُ مَنْ يَّشَآءُ عَقِيْمًا ۚ اِنَّهٝ عَلِيْـمٌ قَدِيْرٌ .
( الشورىٰ : 49 . 50)
آسمانوں اور زمین میں اللہ ہی کی بادشاہی ہے، جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکے بخشتا ہے۔ یا لڑکے اور لڑکیاں ملا کر دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے، بیشک وہ خبردار قدرت والا ہے۔
رہا حدیث کا یہ حصہ کہ: “میں تمہارے ذریعے دوسری امتوں کے مقابلے میں اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں گا”، تو اس سے زیادہ سے زیادہ ایک خواہش اور پسندیدگی کا اظہار معلوم ہوتا ہے، نہ کہ ایسا لازمی حکم جس کی بنا پر ہر حال میں زیادہ سے زیادہ اولاد پیدا کرنا واجب قرار دیا جائے۔ مزید برآں، چونکہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ کی امت کو قیامت تک باقی رہنا ہے، اس لئے فطری طور پر آپ کی امتیوں کی تعداد تمام سابقہ امتوں کے مقابلے میں زیادہ ہونا ہی تھی۔ چنانچہ آج مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ ارب سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ تاہم خود پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی واضح فرما دیا کہ محض عددی کثرت کسی امت کی قوت، عزت اور سربلندی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ اگر ایمان، کردار اور اخلاق کمزور ہو جائیں تو بڑی سے بڑی تعداد بھی بے اثر ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں اس حقیقت کے بارے میں نہایت فکر انگیز پیش گوئی وارد ہوئی ہے۔
عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا . فَقَالَ قَائِلٌ : وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ، وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ، وَلَيَنْزِعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ، وَلَيَقْذِفَنَّ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنَ “. فَقَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْوَهْنُ ؟ قَالَ : حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ .
( ابو داود ، كِتَابِ الْمَلَاحِمِ ، رقم الحديث 4297 )
سیدنا ثوبان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عنقریب بیت سے اقوام مسلمانوں پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گے ، جس طرح دسترخوان پر کھانے والے ٹوٹ پڑتے ہیں ، کسی نے عرض کیا کہ کیا اس وقت ہم اقلیت میں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : (نہیں) بلکہ اس وقت تم بہت زیادہ ( اربوں کی تعداد میں )ہوں گے ، لیکن اس وقت تمہاری حیثیت سمندر کے اوپر جاگ سے زیادہ وقعت نہیں ہوگی ، اور اللہ تعالی تمہارے دشمنوں کے سینے سے تمہارا خوف نکال دے گا ، اور تمہارے دلوں میں ” وہن ” ڈال دے گا ، کسی نے پوچھا ، اے اللہ کے رسول ! یہ وہن کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا ، دنیا کی محبت اور موت سے نفرت ۔
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے امتیوں کی محض کثرتِ تعداد کو کامیابی کا معیار قرار نہیں دیا، بلکہ اس کے ساتھ ایمانی قوت، اخلاقی استحکام اور عملی صلاحیت کو بھی ضروری قرار دیا۔ اس لئے کثرتِ اولاد سے متعلق مذکورہ حدیث کو اس کے اصل سیاق میں سمجھنا چاہئے، نہ کہ اسے ہر زمانے اور ہر حالت میں زیادہ سے زیادہ اولاد پیدا کرنے کے لیے ایک مطلق شرعی حکم قرار دیا جائے۔ اس حقیقت کو قرآن مجید نے بھی نہایت واضح انداز میں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَـةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْـرَةً بِاِذْنِ اللّـٰهِ ۔
( البقرہ :249)
کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آ چکی ہیں،
یہ آیت اس اصول کو واضح کرتی ہے کہ اسلام کی نگاہ میں اصل اہمیت تعداد کی نہیں، بلکہ ایمان، صبر، اخلاص، نظم و ضبط اور اعلیٰ کردار کی ہے۔ اگر صرف کثرتِ تعداد ہی کامیابی کی ضمانت ہوتی تو قرآن مجید بارہا قلتِ تعداد کے باوجود اہلِ ایمان کی کامیابی کا ذکر نہ کرتا۔ لہٰذا امت کی حقیقی قوت اس کے افراد کی تعداد میں نہیں، بلکہ ان کے ایمان، علم، اخلاق، کردار اور اجتماعی صلاحیت میں مضمر ہے۔ اسی لیے کثرتِ اولاد کی ترغیب کو بھی اسی وسیع اسلامی تصور کے تناظر میں سمجھنا چاہئے، نہ کہ اسے ہر زمانے اور ہر معاشرتی حالت کے لئے ایک غیر مشروط اور مطلق حکم قرار دیا جائے۔
جاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_______________________
![]()

