ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )آگرہ کے دربار میں دکن کی عظیم الشان فتح اور خرم کے شاہجہاں بننے کے بعد ایک ایسی ہولناک اور خاموش سرد جنگ کا آغاز ہو چکا تھا جس کی تپش نے مغل محلات کی دیواروں کو اندر سے پگھلانا شروع کر دیا تھا۔ ملکہ نورجہاں، جس کے ایک اشارے پر پورے ہندوستان کی تقدیر لکھی اور مٹائی جاتی تھی، اب وہ تخت کے بالکل قریب ایک ایسے طاقتور، خونخوار اور ناقابلِ تسخیر اژدھے کو پھن پھیلاتے دیکھ رہی تھی جسے اس نے خود دودھ پلا کر بڑا کیا تھا۔ نورجہاں کو یہ تلخ اور خوفناک حقیقت سمجھ آ چکی تھی کہ شہزادہ خرم یعنی شاہجہاں کوئی کٹھ پتلی نہیں ہے، بلکہ وہ اپنے اندر اپنے دادا اکبر اعظم جیسی مطلق العنان اور جابرانہ سوچ رکھتا ہے۔ وہ جانتی تھی کہ جس دن کثرتِ شراب نوشی اور بیماری کا شکار شہنشاہ جہانگیر اس دنیا سے رخصت ہوا، شاہجہاں ایک لمحے کی بھی تاخیر کیے بغیر دلی کے تخت پر قبضہ کر لے گا اور اس کے تخت نشین ہوتے ہی نورجہاں اور اس کے پورے خاندان کا انجام انتہائی دردناک اور عبرتناک موت ہوگا۔ اپنی طاقت، اپنی بادشاہت اور اپنی جان کو بچانے کے لیے اس شاطر اور انتہائی دور اندیش ملکہ نے مغل تاریخ کی ایک اور لرزہ خیز، خونی اور بساط الٹ دینے والی سازش کا آغاز کیا۔ نورجہاں کو اب اپنے سامنے ایک ایسے نئے اور کٹھ پتلی مہرے کی ضرورت تھی جسے وہ شاہجہاں کے خلاف کھڑا کر سکے اور تخت پر بٹھا کر خود پردے کے پیچھے سے ہندوستان پر ہمیشہ کے لیے حکمرانی کر سکے۔
نورجہاں کی عقابی نظریں شہنشاہ جہانگیر کے سب سے چھوٹے اور ایک کنیز کے بطن سے پیدا ہونے والے بیٹے شہزادہ شہریار پر جا کر ٹک گئیں۔ شہزادہ شہریار مغل تاریخ کا وہ بدقسمت، کمزور، انتہائی نالائق اور عیاش شہزادہ تھا جس میں حکمرانی، تلوار بازی یا سیاست کی ایک رمق بھی موجود نہیں تھی۔ دربار کے امراء اور خود عوام اسے اس کی بے وقوفی اور نالائقی کی وجہ سے ناشدنی یعنی نہ ہونے کے قابل کہہ کر پکارتے تھے۔ لیکن نورجہاں کے لیے یہ بے وقوف اور کمزور شہزادہ ایک انتہائی انمول اور سنہری مہرہ تھا، کیونکہ جو جتنا کمزور اور بے وقوف ہوگا، وہ ملکہ کا اتنا ہی بڑا غلام ثابت ہوگا۔ نورجہاں نے ایک انتہائی گہری، جذباتی اور شاطرانہ چال چلتے ہوئے سنہ سولہ سو بیس عیسوی کے آخر میں اپنی سگی بیٹی، یعنی شیر افگن سے پیدا ہونے والی لاڈلی بیگم کی شادی اس کمزور اور نالائق شہزادہ شہریار کے ساتھ کروا دی۔ اس شاہی شادی نے مغل دربار کی سیاست میں ایک خوفناک بھونچال پیدا کر دیا۔ جہانگیر، جو پہلے ہی نورجہاں کے عشق اور افیون کے نشے میں سب کچھ بھول چکا تھا، اس نے نورجہاں کے کہنے پر شہریار کو انتہائی اعلیٰ منصب، جاگیریں اور فوج کا کنٹرول دینا شروع کر دیا۔ دربار کے امراء، جو کل تک شاہجہاں کے سامنے سر جھکاتے تھے، اب انہیں صاف نظر آنے لگا کہ ملکہ نورجہاں کا دایاں ہاتھ اور تخت کا اگلا وارث شاہجہاں نہیں بلکہ شہریار ہے۔ نورجہاں کا سگا بھائی آصف خان، جو شاہجہاں کا سسر تھا، وہ بھی اب دوغلی پالیسی کا شکار ہو گیا، کیونکہ ایک طرف اس کی بیٹی ممتاز محل شاہجہاں کی بیوی تھی اور دوسری طرف اس کی بہن ملکہ نورجہاں شہریار کو بادشاہ بنانا چاہتی تھی۔ باپ اور بیٹے، اور بھائی اور بہن کے درمیان اقتدار کی یہ ہوس اب ایک کھلی اور خونی خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہی تھی۔
ملکہ نورجہاں کی ان شاطرانہ اور زہریلی چالوں کو شہزادہ خرم یعنی شاہجہاں بہت گہری اور خونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ شاہجہاں کو یہ احساس ہو چکا تھا کہ نورجہاں اسے تخت سے ہٹانے کے لیے پوری طرح متحرک ہو چکی ہے اور جہانگیر کے دربار میں اس کے قدم اکھڑ رہے ہیں۔ لیکن شاہجہاں کا سب سے بڑا خوف شہریار نہیں تھا، بلکہ اس کا اصل خوف وہ اندھا اور قیدی شہزادہ تھا جو آگرہ کے ایک تاریک تہہ خانے میں اپنی زندگی کی سانسیں گن رہا تھا۔ یہ شہزادہ خسرو تھا، جہانگیر کا سب سے بڑا بیٹا، جسے بغاوت کے جرم میں اندھا کر دیا گیا تھا۔ شاہجہاں بخوبی جانتا تھا کہ اگرچہ خسرو اندھا ہے، لیکن وہ آج بھی مغل امراء، راجپوتوں اور عام عوام میں بے حد مقبول ہے، اور اگر کسی وجہ سے نورجہاں نے شہریار کے بجائے خسرو کو کٹھ پتلی بنا کر تخت پر بٹھانے کا اعلان کر دیا، تو آدھی سے زیادہ مغل فوج خسرو کے نام پر تلواریں نکال لے گی۔ لہٰذا دلی کے تخت کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کرنے کے لیے شاہجہاں نے ایک انتہائی سفاکانہ، درندگانہ اور لرزہ خیز فیصلہ کیا۔ شاہجہاں نے جہانگیر سے مطالبہ کیا کہ دکن کی مہم پر جاتے ہوئے اندھے شہزادہ خسرو کو اس کی تحویل اور قید میں دے دیا جائے۔ جہانگیر، جو بیماری اور نشے کی وجہ سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو چکا تھا، اس نے نورجہاں کی مخالفت کے باوجود خسرو کو شاہجہاں کے حوالے کر دیا۔
شہزادہ شاہجہاں اپنے اس اندھے اور بے بس بڑے بھائی کو لے کر برہان پور کے قلعے میں پہنچا اور پھر سنہ سولہ سو بائیس عیسوی کی ایک انتہائی تاریک، خوفناک اور سیاہ رات میں وہ درندگی اور سفاکیت رچائی گئی جس نے مغل محلات کو ایک بار پھر سگے بھائی کے خون سے رنگ دیا۔ شاہجہاں نے اپنے ایک انتہائی ظالم، بے رحم اور خونخوار جلاد رضا بہادر کو آدھی رات کے وقت خسرو کے قید خانے میں بھیجا۔ اندھا اور لاغر شہزادہ خسرو جو پہلے ہی اپنی زندگی سے مایوس تھا، اس نے جب اپنے کمرے میں بھاری قدموں کی آہٹ سنی تو وہ سمجھ گیا کہ موت کا فرشتہ آ پہنچا ہے۔ رضا بہادر اور اس کے خادموں نے اس اندھے اور بے بس شہزادے کو زمین پر دبوچ لیا، اور اس سے پہلے کہ خسرو کی کوئی چیخ قلعے کی دیواروں سے باہر جاتی، انہوں نے ایک انتہائی مضبوط رسی خسرو کے گلے میں ڈال کر اسے بے دردی سے پھانسی دے دی اور اس کا گلا گھونٹ کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اپنے سگے اور اندھے بھائی کا انتہائی سفاکانہ قتل کروانے کے بعد شاہجہاں نے پورے ہندوستان میں یہ جھوٹی افواہ پھیلا دی کہ شہزادہ خسرو قولنج کے درد یعنی پیٹ کی ایک شدید بیماری سے طبعی موت مر گیا ہے۔ جب یہ لرزہ خیز اور دلخراش خبر آگرہ کے محلات میں پہنچی تو جہانگیر کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ وہ جانتا تھا کہ خسرو کو بیماری نے نہیں بلکہ شاہجہاں کی تلوار اور تخت کی ہوس نے مارا ہے، لیکن وہ اس وقت تک شاہجہاں کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا تھا کیونکہ مغل فوج کا سب سے بڑا اور طاقتور حصہ شاہجہاں کی مٹھی میں تھا۔
خسرو کے قتل کے فوراً بعد مغل سلطنت پر ایک اور انتہائی ہولناک اور خارجی آفت ٹوٹ پڑی جس نے مغلیہ سلطنت کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایران کے صفوی بادشاہ شاہ عباس نے مغلیہ سلطنت کی اندرونی کمزوری، بادشاہ کی بیماری اور شہزادوں کی خانہ جنگی کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک دیوہیکل اور خونخوار فوج کے ساتھ افغانستان پر حملہ کر دیا اور مغلیہ سلطنت کے سب سے اہم، طاقتور اور ناقابلِ تسخیر قلعے قندھار کا محاصرہ کر لیا۔ قندھار مغلوں کے لیے صرف ایک شہر نہیں تھا، بلکہ یہ ہندوستان کے دفاع کی سب سے بڑی اور مضبوط بیرونی دیوار تھی۔ جب قندھار پر صفوی حملے کی خبر آگرہ پہنچی تو پورے دربار میں ہلچل مچ گئی۔ نورجہاں کے پاس شاہجہاں کی طاقت کو توڑنے اور اسے دارالحکومت سے ہزاروں میل دور دھکیلنے کا اس سے بہتر کوئی موقع نہیں تھا۔ نورجہاں نے فوری طور پر جہانگیر سے شاہی فرمان جاری کروایا کہ شہزادہ شاہجہاں اپنی تمام فوج، توپ خانے اور خزانوں کے ساتھ فوراً دکن سے نکلے اور قندھار کی طرف مارچ کرے تاکہ ایران کے بادشاہ کو شکست دی جا سکے۔
لیکن شاہجہاں کوئی کچا کھلاڑی نہیں تھا۔ وہ ملکہ نورجہاں کی اس زہریلی، شاطرانہ اور موت کی چال کو فوراً سمجھ گیا۔ شاہجہاں جانتا تھا کہ قندھار کا محاصرہ ایک انتہائی طویل، کٹھن اور جان لیوا جنگ ہے جو سالوں تک چل سکتی ہے۔ اگر وہ اپنی تمام طاقت اور فوج لے کر ہندوستان سے باہر کابل اور قندھار کے برفیلی اور سنگلاخ پہاڑوں میں پھنس گیا، تو پیچھے آگرہ میں نورجہاں شہنشاہ جہانگیر کی موت کا اعلان کر کے اپنے داماد شہزادہ شہریار کو دلی کے تخت پر بٹھا دے گی اور شاہجہاں کے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ شاہجہاں نے دلی کے تخت کی خاطر ہندوستان کے دفاع اور قندھار کو قربان کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے بادشاہ کا یہ صریح اور جنگی حکم ماننے سے دو ٹوک انکار کر دیا اور شرط رکھی کہ جب تک اسے پنجاب کا مکمل کنٹرول، روہتاس کا قلعہ اور خزانوں کی چابیاں نہیں دی جاتیں، وہ قندھار کی طرف ایک قدم نہیں بڑھائے گا۔ شاہجہاں کے اس انکار نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ نورجہاں نے فوراً جہانگیر کے کان بھرے کہ شاہجہاں مغلیہ سلطنت کا وفادار نہیں بلکہ ایک انتہائی غدار اور باغی بیٹا ہے جو قندھار بچانے کے بجائے آپ کا تخت چھیننا چاہتا ہے۔ جہانگیر نے غضب ناک ہو کر شاہجہاں سے اس کی تمام جاگیریں اور دکن کا کنٹرول واپس لینے کا اعلان کر دیا، اور شہریار کو قندھار کی مہم کا کمانڈر بنا دیا۔
اس شاہی اعلان کے ساتھ ہی وہ بارود کا ڈھیر پھٹ گیا جس کا انتظار ملکہ نورجہاں اور شاہجہاں دونوں کر رہے تھے۔ سنہ سولہ سو بائیس عیسوی کے اواخر میں، شہزادہ شاہجہاں نے اپنے ہی باپ، شہنشاہِ ہندوستان نورالدین محمد جہانگیر، اور ملکہ نورجہاں کے خلاف کھلی، خونی اور خوفناک بغاوت کا اعلان کر دیا۔ جس شاہجہاں نے کچھ عرصہ قبل دکن اور میواڑ فتح کر کے اپنے باپ کا سر فخر سے بلند کیا تھا، آج وہی شاہجہاں اپنی توپوں، ہاتھیوں اور ہزاروں خونخوار جنگجوؤں کے ساتھ آگرہ پر حملہ کرنے اور اپنے باپ کا تخت چھیننے کے لیے دلی کی طرف مارچ کر رہا تھا۔ مغلیہ سلطنت ایک بار پھر ایک انتہائی ہولناک، تباہ کن اور درندگانہ خانہ جنگی کے دہانے پر کھڑی تھی۔ جہانگیر نے اپنے اس سب سے طاقتور، سفاک اور باغی بیٹے کی بغاوت کو کچلنے کے لیے سلطنت کے سب سے بے رحم، خونخوار اور کٹر جنگجو جرنیل کو طلب کیا جس کا نام مہابت خان تھا۔ اب ہندوستان کی زمین پر شاہجہاں اور مہابت خان کی تلواروں کا وہ تصادم ہونے والا تھا جس میں خون کی ندیاں بہنی تھیں، اور اسی جنگ کے دوران مہابت خان ایک ایسا قدم اٹھانے والا تھا جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، وہ خود شہنشاہِ ہندوستان کو قیدی بنا لینے والا تھا۔
#MughalEmpire #ShahenshahJahangir #EmpressNurJahan #ShahJahan #PrinceKhusrau #MughalHistory #HistoryInUrdu #IslamicHistory #HistoricalFacts #UrduStories
![]()

