Daily Roshni News

🌿 ایک سبق آموز حکایت 🌿

🌿 ایک سبق آموز حکایت 🌿

روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عزرائیل علیہ السلام سے فرمایا:

“اے روحیں قبض کرنے والے! تمام انسانوں میں کس کی موت نے تمہارے دل کو سب سے زیادہ متاثر کیا؟”

حضرت عزرائیل علیہ السلام نے عرض کیا:

“ایک مرتبہ ایک کشتی سمندر کی تیز لہروں میں ٹوٹ گئی۔ آپ کے حکم سے میں نے اس میں موجود تمام لوگوں کی روح قبض کر لی، مگر ایک ماں اور اس کے ننھے بچے کو زندہ چھوڑ دیا۔ دونوں ایک لکڑی کے تختے کے سہارے بہتے ہوئے کنارے تک پہنچ گئے۔ انہیں محفوظ دیکھ کر میرے دل کو خوشی ہوئی۔

پھر آپ کا حکم آیا کہ ماں کی روح بھی قبض کر لو اور بچے کو تنہا چھوڑ دو۔ اس معصوم بچے کو اس کی ماں سے جدا کرتے وقت میرے دل پر جو گزری، وہ میں کبھی نہ بھول سکا۔”

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

“میں نے اپنی رحمت سے اس بچے کی حفاظت کا انتظام کیا۔ اسے ایک سرسبز جنگل میں پہنچا دیا جہاں میٹھے پانی کے چشمے بہتے تھے۔ پرندے اس کی تنہائی کے ساتھی بن گئے، نرم پتوں کو اس کا بستر بنایا گیا، سورج کو حکم دیا گیا کہ اس پر سختی نہ کرے، ہوا کو نرمی سے گزرنے کا حکم ملا، اور ایک مادہ بھیڑیے کو اس کا دودھ پلانے اور اس کی پرورش کا ذمہ دیا گیا۔

میں نے اپنی خاص حفاظت میں اسے جوان، طاقتور اور بہادر بنا دیا۔ مگر افسوس! یہی بچہ بڑا ہو کر نمرود بنا، جس نے میرے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے کی کوشش کی، لوگوں کو میرے راستے سے روکا اور غرور میں خدائی کا دعویٰ کر بیٹھا۔”

🌷 سبق:
اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں اور خصوصی عنایت بھی اس شخص کو ہدایت نہیں دے سکتیں جس کا دل تکبر اور ناشکری سے بھر جائے۔ ہدایت صرف اسی کو ملتی ہے جو اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کرے۔

📖 نوٹ: یہ واقعہ قرآن یا صحیح حدیث سے ثابت نہیں، بلکہ حکایاتِ رومی میں بیان ہونے والی ایک نصیحت آموز حکایت ہے، جس کا مقصد انسان کو عبرت دلانا ہے۔

🤍 اگر آپ نے یہ تحریر مکمل پڑھی ہے اور آپ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں، تو کمنٹ میں اللہ تعالیٰ کے 99 ناموں میں سے اپنا پسندیدہ ایک خوبصورت نام ضرور لکھیں۔ 🌷
جس نام سے آپ اللہ پاک کو پکارنا سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں۔

Loading