ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )بت شکنی، قوم کا غضب اور حضرت ابراہیمؑ کا تاریخی مقدمہ بابل کی فضا میں ایک عجیب بے چینی پھیل چکی تھی۔ حضرت ابراہیمؑ کی دعوتِ توحید اب صرف چند سوالات تک محدود نہیں رہی تھی بلکہ اب وہ براہِ راست باطل عقائد کی بنیادوں کو ہلا رہی تھی۔ کاہن، نجومی اور بت فروش سب محسوس کر رہے تھے کہ اگر اس نوجوان کی دعوت عام ہوگئی تو ان کی صدیوں پرانی مذہبی اور معاشی طاقت ختم ہو جائے گی۔
لیکن حضرت ابراہیمؑ کا مقصد کسی شخص کو نیچا دکھانا نہیں تھا، بلکہ انسان کو اس کے حقیقی رب سے جوڑنا تھا۔
—
قوم کا سالانہ میلہ
بابل میں ہر سال ایک مذہبی میلہ منعقد ہوتا تھا۔ لوگ شہر سے باہر جا کر اپنے دیوی دیوتاؤں کے نام پر رسومات ادا کرتے، قربانیاں پیش کرتے اور جشن مناتے۔
انہوں نے حضرت ابراہیمؑ کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی، لیکن آپؑ نے حکمت سے انکار فرمایا۔
ترجمہ: "پھر انہوں نے آسمان کی طرف ایک نظر ڈالی، پھر فرمایا: میں بیمار ہوں۔ پس وہ انہیں چھوڑ کر چلے گئے۔”
(سورۃ الصافات: 88-90)
مفسرین، خصوصاً امام ابن کثیر اور امام طبری، بیان کرتے ہیں کہ اس کا مقصد اپنی قوم سے الگ رہنا تھا تاکہ انہیں عملی طور پر بتوں کی بے بسی دکھائی جا سکے، نہ کہ جھوٹ بولنا۔
—
خاموش بت خانہ
جب پورا شہر خالی ہوگیا تو حضرت ابراہیمؑ آہستہ آہستہ بت خانے کی طرف بڑھے۔
چاروں طرف خاموشی تھی۔ دیواروں پر جلتے چراغ، خوشبو کی دھونی، قیمتی پردے اور مختلف جسامت کے سینکڑوں بت موجود تھے۔ ان کے سامنے لوگوں کی چڑھائی ہوئی نذریں اور کھانے رکھے تھے۔
حضرت ابراہیمؑ نے ان بتوں سے فرمایا:
> أَلَا تَأْكُلُونَ مَا لَكُمْ لَا تَنطِقُونَ
ترجمہ: "کیا تم کھاتے نہیں؟ تمہیں کیا ہوا کہ بولتے بھی نہیں؟”
(سورۃ الصافات: 91-92)
یہ سوال دراصل قوم کو سوچنے پر مجبور کرنے کے لیے تھا کہ جو نہ کھا سکتے ہیں، نہ بول سکتے ہیں، وہ معبود کیسے ہو سکتے ہیں؟
—
بت شکنی
پھر حضرت ابراہیمؑ نے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے کلہاڑا اٹھایا۔
ترجمہ: "پھر وہ اپنے دلوں کی طرف لوٹے اور کہنے لگے: حقیقت یہ ہے کہ تم ہی ظالم ہو۔”
(سورۃ الانبیاء: 64)
ایک لمحے کے لیے ان کی عقل جاگ اٹھی، مگر تکبر نے پھر انہیں اندھا کر دیا۔
—
ضد اور ہٹ دھرمی
جب ان کے پاس کوئی دلیل نہ رہی تو انہوں نے حقیقت تسلیم کرنے کے بجائے طاقت کا راستہ اختیار کیا۔
قرآن فرماتا ہے:
> ثُمَّ نُكِسُوا عَلَىٰ رُءُوسِهِمْ
ترجمہ: "پھر وہ الٹے اپنے سابقہ موقف پر لوٹ گئے۔”
(سورۃ الانبیاء: 65)
باطل اکثر دلیل سے نہیں بلکہ طاقت سے جواب دینے کی کوشش کرتا ہے۔
حضرت ابراہیمؑ نے بت شکنی سے پہلے اور بعد میں بھی قوم کو دلیل کے ذریعے سوچنے کی دعوت دی۔
—
اس قسط کے مستند حوالہ جات
قرآن مجید
سورۃ الانبیاء: آیات 51–67
سورۃ الصافات: آیات 88–98
تفاسیر
تفسیر ابن کثیر
جامع البیان، امام طبری
الجامع لأحکام القرآن، امام قرطبی
تفسیر البغوی
کتبِ تاریخ
قصص الأنبیاء — ابن کثیر
البدایہ والنہایہ — ابن کثیر
تاریخ الطبری — امام طبری
الکامل فی التاریخ — ابن اثیر
—
قسط نمبر 4: "آگ کا عظیم امتحان، نمرود کا فیصلہ اور اللہ کا معجزہ”
اگلی قسط میں بیان ہوگا کہ حضرت ابراہیمؑ کو سزا دینے کے لیے نمرود اور اس کی قوم نے کس طرح ایک عظیم الاؤ تیار کیا، منجنیق کے ذریعے آپؑ کو آگ میں پھینکنے کا واقعہ کیا تھا، حضرت جبرائیلؑ کی آمد، حضرت ابراہیمؑ کا توکل، اور قرآن مجید کی روشنی میں وہ عظیم معجزہ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔” اس واقعے کی تفصیل مستند تفاسیر اور تاریخی مصادر کے ساتھ بیان کی جائے گی۔