ایمان افروز واقعہ
انتخاب ۔۔۔۔۔ محمد جاوید عظیمی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ ایمان افروز واقعہ ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔۔ محمد جاوید عظیمی)روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک عرب سردار، عمر بن عبداللہ اپنے باغات کا جائزہ لینے نکلے۔
راستے میں انہوں نے ایک حبشی غلام کو درخت کے سائے تلے بیٹھے دیکھا۔ وہ اپنا سادہ سا کھانا کھا رہا تھا، جبکہ ایک کتا خاموشی سے اس کے سامنے بیٹھا تھا۔
سردار نے حیرت سے دیکھا کہ غلام جب ایک لقمہ خود کھاتا تو دوسرا لقمہ کتے کی طرف ڈال دیتا۔ اسی طرح دیکھتے ہی دیکھتے اس نے اپنا تقریباً آدھا کھانا اس بے زبان جانور کو کھلا دیا۔
یہ منظر دیکھ کر سردار سے رہا نہ گیا۔
انہوں نے پوچھا:
“تمہیں دن میں کتنی مرتبہ کھانا ملتا ہے؟”
غلام نے ادب سے جواب دیا:
“صرف ایک مرتبہ۔”
سردار نے تعجب سے کہا:
“پھر رات کو کیا کھاؤ گے؟ تم نے تو اپنا آدھا کھانا اس کتے کو دے دیا!”
حبشی غلام نے نہایت عاجزی سے ایسا جواب دیا کہ سردار کا دل پگھل گیا۔
اس نے کہا:
“میں تو صبر کر کے رات گزار لوں گا، لیکن یہ بے زبان مخلوق امید لے کر میرے پاس آئی تھی۔ مجھے شرم آئی کہ میں اس کے سامنے اکیلا کھاتا رہوں اور یہ حسرت بھری نگاہوں سے مجھے دیکھتی رہے۔”
یہ الفاظ سن کر سردار کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
وہ فوراً غلام کے مالک کے پاس گئے، غلام اور وہ باغ دونوں خرید لیے، پھر واپس آ کر غلام سے کہا:
🌸 “آج سے تم آزاد ہو!”
غلام نے سجدۂ شکر ادا کیا اور اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر بجا لایا۔
پھر سردار نے فرمایا:
“میں نے یہ باغ بھی خرید لیا ہے، اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے تمہیں ہدیہ کرتا ہوں۔”
مگر غلام کی سخاوت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔
اس نے مسکرا کر کہا:
“آپ سب گواہ رہیں! میں یہ باغ مدینہ کے غریبوں اور محتاجوں کے لیے وقف کرتا ہوں، کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ اس کے حق دار ہیں۔”
سردار حیرت سے بول اٹھے:
“اگر تم یہ بھی دے دو گے تو خود کہاں سے کھاؤ گے؟”
غلام نے مکمل یقین اور اطمینان کے ساتھ جواب دیا:
“اللہ تعالیٰ میرا مالک ہے۔ جس رب نے آپ کو میری آزادی کا ذریعہ بنایا، وہی رب مجھے رزق بھی عطا فرمائے گا۔ وہ اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔”
🌸 سبق:
سخاوت صرف مالداروں کا وصف نہیں، بلکہ بڑے دل والوں کی پہچان ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل دولت مال کی کثرت نہیں بلکہ دل کی وسعت، رحم دلی اور اخلاص ہے۔ کبھی ایک بھوکے جانور پر رحم کرنا بھی انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بہت قریب کر دیتا ہے۔ دنیا سے جاتے وقت انسان اپنے ساتھ دولت نہیں لے جاتا، مگر اپنے اچھے اعمال ضرور لے جاتا ہے۔
📚 روایتی ماخذ:
یہ واقعہ مختلف اسلامی وعظی اور اخلاقی کتب میں بطورِ حکایت نقل کیا گیا ہے۔
🤍🌷 اگر آپ نے یہ تحریر مکمل پڑھی ہے اور آپ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں تو کمنٹ میں اللہ تعالیٰ کے 99 خوبصورت ناموں میں سے اپنا پسندیدہ نام ضرور لکھیں۔
مثلاً: یا رحمٰن، یا رحیم، یا کریم، یا ودود، یا غفور… 🌿
![]()

