Daily Roshni News

شباب کی بات۔۔۔ خوش ذائقہ، خوش رنگ، فسوں کار ٹماٹر۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  مشتاق شباب

شباب کی بات

خوش ذائقہ، خوش رنگ، فسوں کار ٹماٹر

تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  مشتاق شباب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی بات۔۔۔ خوش ذائقہ، خوش رنگ، فسوں کار ٹماٹر۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  مشتاق شباب)ہاہا کار مچی ہوئی ہے، ٹماٹروں نے ایک بار پھر اپنا رنگ دکھانا بلکہ جمانا شروع کر دیا ہے۔گزشتہ کئی روز سے ٹماٹروں نے مہنگائی کے لحاظ سے پٹرولم مصنوعات کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور 400 روپے کلو سے بھی اوپر جا پہنچے ہیں،  ہماری رگ شاعری پھڑکی تو ہم نے عرض کیا کہ

خوش ذائقہ، خوش رنگ، فسوں کار ٹماٹر

 قیمت ہیں فلک بوس، ٹھکانہ ہے زمیں پر

تکتے ہیں اسے لوگ، بصد شوق و تمنا

 دکھلاتے ہیں یہ دور سے چھب, اپنی، ستمگر

ایک دور تھا جب ٹماٹروں کی بے توقیری میں برصغیر کے لوگ سب سے آگے آگے ہوتے تھے اور شنید ہے کہ متحدہ ہندوستان کے دور میں جب سٹیج ڈراموں،  منڈلیوں کا دور دورہ تھا اور لوگ تھیٹروں میں ڈرامے بڑے شوق سے دیکھا کرتے تھے، اس دور میں تماشائی کسی بھی فنکار کے فن کی جانچ پرکھ یوں کرتے کہ جو سین (منظر) اور اس میں اداکاروں کی ایکٹنگ کی مہارت سے متاثر ہوتے تو ان پر کرنسی سکوں کی بارش کر کے ان کی حوصلہ افزائی کرتے اور اگر ان کی ایکٹنگ پسند نہ آتی تو )پہلے ہی سے ساتھ لے جاۓ گۓ)  گندے انڈے اور گندے ٹماٹر مار کر انہیں سٹیج چھوڑ کر پردے کے پیچھے پناہ ڈھونڈنے پر مجبور کر دیتے۔ شاید یہ اسی دور کی، ٹماٹروں اور انڈوں کی،  بے توقیری کا نتیجہ ہے کہ اب نہ صرف انڈے گرمی میں بھی اپنی قدر برقرار رکھے ہوئے ہوتے ہیں بلکہ ٹماٹر بھی اسی دور کی اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے بقول کسے،  “ایاز قدر خود را بہ شناس” پر عمل کرتے رہتے ہیں اور جو لوگ کھانوں میں ٹماٹر کا استعمال کر کے مختلف کھانوں کو لذت اور ذائقے سے آشنا کرتے ہیں ان کو یہ مہنگے ٹماٹر، توبہ تائب ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ جو ٹماٹر تھوڑے سے داغدار ہو جاتے ہیں ان کو بھی نہیں بخشا جاتا اور معمولی کم قیمت پر وہ بھی اٹھا کر لے جاتے ہیں تاکہ سالن کی لذت کام و دہن والی کیفیت برقرار رہے اور تازہ صورتحال کے حوالے سے تو جہاں جائیں، جس محفل میں بھی جائیں، وہ جو پہلے کبھی سیاسی حالات سے گفتگو کا آغاز کرکے سیاست ہی پر ختم کر دی جاتی تھی، اب گفتگو کی تان ٹماٹروں سے آغاز ہو کر ٹماٹروں پر ہی جا کر ٹوٹتی ہے، اور بقول ہمارے ایک دوست حضرت شوق جعفری

 بہ ہمہ یاراں نشستم، دل برائے گفتگو

ذکر تو آمد مسلسل درمیان گفتگو

ٹماٹر کب حضرت انسان نے اگانا شروع کیے؟ یہ تو ایک تحقیق طلب مسئلہ ہے جس پر کسی ماہر زراعت ہی سے گفتگو کے بعد اصل حقائق سامنے آسکتے ہیں۔ اس ضمن میں ہمارے دو مہربان اگر آج زندہ ہوتے تو ان سے خاصی معلومات مل سکتی تھیں،  ایک ڈاکٹر شفیع اللہ خان اور دوسرے امیر الحسن زیدی،  جو طویل عرصے تک ہمارے ساتھ ریڈیو پاکستان پشاور کے پروگرام کرکیلہ (کاشتکار بھائیوں کے پروگرام) کے ساتھ بطور ماہرین اور میزبان وابستہ رہے. ڈاکٹر شفیع اللہ خان تو بعد میں مذہب کی جانب اس طرح راغب ہوئے کہ “بابا جی”  کے نام سے روحانیت کے ایک خاص سلسلے سے وابستہ ہو کر کئی کتابیں بھی لکھ ڈالیں۔  خیر یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر پھر کبھی بات ہو سکتی ہے۔ فی الحال تو ہم ٹماٹروں کی کھوج میں لگے ہوئے ہیں، اس ضمن میں ٹماٹروں کے ساتھ جو حشر سپین، اٹلی اور گوا میں کیا جاتا ہے وہ بھی دیدنی ہے،  خاص طور پر سپین اور اٹلی میں ہر سال ٹماٹروں کی اس قدر پیداوار ہوتی ہے کہ وہاں ہر سال ٹماٹروں کو کچلنے، برباد کرنے اور پاؤں تلے روندنے کے حوالے سے میلے منائے جاتے ہیں، جن میں ہزاروں لوگ ایک دوسرے کو ٹماٹر مارتے ہیں۔ ان فیسٹیولز یعنی میلوں میں لاکھوں ٹن ٹماٹر

“اس کو ناقدری عالم کا صلہ کہتے ہیں “

کے مصداق رزق خاک بنا دیے جاتے ہیں۔ حالانکہ اگر یہ اقوام یہی ٹماٹر غریب ملکوں کو مفت فراہم کرنے پر توجہ دیں تو دنیا کے ان ملکوں میں، جہاں ٹماٹر قلیل مقدار میں پیدا ہوتے ہیں، اس کمی کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے ہمسائے میں ایک جانب بھارت ہے جہاں جالندھر، چندی گڑھ اور بھارتی پنجاب کے دوسرے زرخیز علاقوں میں ہر سال ٹماٹروں کی بھرپور فصل پیدا ہوتی ہے، مگر وہاں بھارت سرکار کی غلط پالیسیوں اور امرتسر اور دوسرے بڑے شہروں میں بیٹھے ہوئے آڑھتی، ٹماٹر کاشت کرنے والے کسانوں کا استحصال کچھ یوں کرتے ہیں کہ چند سال پہلے جب بھارت نے  پاکستان کو ٹماٹر اور آلو برامد کرنے پر پابندی لگائی تو آڑھتیوں نے کسانوں سے ٹماٹر اتنی کم قیمت پر خریدنے کی کوشش کی کہ کسانوں کو فصل پر اپنی محنت کا پسینہ بہانے کے علاوہ اتنی رقم بھی نہیں مل رہی تھی جس سے ان کے اپنے اخراجات ہی پورے ہو جاتے۔ یوں کسانوں نے غصے میں آکر ٹماٹروں کو زمین پر گرا کر ان کو لانے والی سوزوکی گاڑیوں سے کچل کر خالی ہاتھ واپس جانے کو ترجیح دی۔  گویا بقول فیض احمد فیض

 ہم خستہ تنوں سے محتسبو کیا حال منال کا پوچھتے ہو

 جو عمر سے ہم نے بھر پایا سب سامنے لائے دیتے ہیں

 دامن میں ہے مشت خاک جگر، ساغر میں ہے خون  حسرت مے

 لو ہم نے دامن جھاڑ دیا لو جام الٹائے دیتے ہیں

دوسری جانب افغانستان کے ساتھ چونکہ بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں بند ہیں، اس لیے وہاں سے بھی ٹماٹر نہیں آرہے ہیں جبکہ تیسری جانب ایران سے سستے ترین ٹماٹر بھی ہم نہیں منگوا سکتے (وجوہات آپ بھی شائد جانتے ہوں گے) ساتھ ہی وہاں سے ٹماٹو پیسٹ بھی نہایت اعلی کوالٹی کا, سستے داموں مل سکتا ہے مگر کچھ پالیسیاں شاید سد راہ بن رہی ہوں۔  اس لیے اپنے ہی مہنگے ٹماٹروں پر گزارا کرنا پڑتا ہے۔

 اگرچہ چترال اور گلگت بلتستان کے علاقوں میں پیدا ہونے  والے ٹماٹروں کو وہاں خشک کر کے کہیں پاؤڈر اور کہیں پاپڑ نما صورت دے دی جاتی ہے،  جسے ہانڈیوں میں استعمال کیا جاتا ہے، مگر اس جانب توجہ کم کم ہی جاتی ہے کہ بقول احمد فراز

 چاند رکتا ہے نہ آتی ہے صبا زنداں کے پاس

 کون لے جائے میرے نالے میرے جاناں کے پاس؟

Loading