Daily Roshni News

شباب کی باتیں ۔۔۔ وہ شہر گلابوں کا جو مسکن تھا ، پشاور۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب

شباب کی باتیں

وہ شہر گلابوں کا جو مسکن تھا ، پشاور

تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب

ہالنیڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔۔ وہ شہر گلابوں کا جو مسکن تھا ، پشاور۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب)مغل شہنشاہ بابر نے پشاور کو شہر گل کا خطاب تب دیا تھا جب وہ ہندوستان پر حملہ آور ہوا تھا اور پہلے پڑاؤ کے لئے اس نے درہء خیبر سے اتر کر وادی پشاور کا انتخاب کیا تھا۔ بابر اس شہر کے حسن سے اس قدر متاثر ہوا کہ میلوں تک پھیلے ہوئے گلابوں کے باغات دیکھ کر اس شہر میں قیام کے لیے ہمیشہ تیار رہتا تھا۔ گلابوں اور دیگر پھولوں کے باغات سے امڈتی ہوئی خوشبوئیں اس کے مشام جاں میں اس قدر سرایت کر گئیں کہ وہ یہاں سے ہلنے کو تیار نہیں تھا،  مگر اس کا مقصد ہندوستان کے تخت پر جلوہ افروز ہونا تھا اس لیے بہ امر مجبوری اسے اپنی افواج کے ساتھ کوچ کرتے ہی بنی۔ تاہم پشاور کو شہر گل اور گلابوں کا مسکن قرار دینے میں اس نے ذرا تامل نہیں کیا۔

یہ وہ دور تھا جب پشاور ایک پرسکون، مہمان نواز اور صنعت و حرفت کے حوالے سے بھی اپنی ایک الگ حیثیت اور اہمیت رکھتا تھا۔ جبکہ کابل سے آگے دریائے” آمو”  کے دوسری جانب آباد ریاستوں کے ساتھ دیرینہ بلکہ صدیوں پر پھیلے ہوئے تجارتی روابط کی وجہ سے بھی اس شہر کی اہمیت مسلم تھی۔ صدیوں سے تجارتی قافلے ان تمام ممالک میں آتے جاتے اور جب درہ خیبر سے نیچے آتے تو ہندوستان کے دیگر علاقوں تک سامان تجارت لے جانے کے لیے پشاور ہی میں قیام پذیر ہوتے۔ یوں تازہ دم ہو کر ہندوستان کے مختلف علاقوں کی جانب کوچ کرتے۔ کیونکہ حصول رزق تو حضرت انسان کے لیے بنیادی مسئلہ اور سبب رہا ہے۔ بقول ہمارے ہمدم  دیرینہ ناصر علی سید

راستے رزق کشادہ کے بہت ہیں ناصر

 کوئی اس شہر پشاور سے جدا کیسے ہو؟

یہ باتیں یاد آنے کا کارن،  دوست عزیز سہیل انجم, جو اردو اور ہندکو کے باوقار لکھاریوں میں سے ایک ہیں، بلکہ انہیں ہند کو زبان میں پہلا سفر نامہ نگار ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے،  ان کا سفرنامہ  “گوتم دے دیس وچ”  ادبی حلقوں سے بے پناہ پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔ انہوں نے 13 سال پہلے کی لکھی ہوئی ایک نظم “پشاور آشوب”  کے نام سے لکھی تھی، اور حالات میں آج تک کوئی خاص تبدیلی نہ ہونے کی وجہ سے ایک بار پھر یہی نظم فیس بک پر ڈال دی تو ہمیں بھی کئی شعراء کرام  کے اشعار یاد آئے، جن کا تعلق پشاور سے بنتا ہے،  مگر پہلے سہیل انجم کی “پشاور آشوب”  ملاحظہ فرمائیں۔

ماضی رہا نہ حال، مرا شہر ہے کہاں؟

وہ شہر باکمال، مرا شہر ہے کہاں؟

 فردا کی دھند سارے زمانوں پہ چھا گئی

دھندلے ہیں خدوخال، مرا شہر ہے کہاں؟

 مولا تیرے کرم کا طلب گار ہے “پشور”

 اب آئینے اجال مرا شہر ہے کہاں؟

 اب تیری “قصہ خوانی”  سے خوشیاں ہوا ہوئیں

بس درد، بس ملال، مرا شہر ہے کہاں؟

 گو کشتگان جبر کی گویائی چھن گئی

 زندہ ہے پر سوال، مرا شہر ہے کہاں؟

 پھولوں کے شہر میں کوئی بارود بو گیا

 اگتا ہے بس جدال، مرا شہر ہے کہاں؟

“اب میں ہوں اور ماتم یک شہر آرزو”

خوشیوں کا اب ہے کال، مرا شہر ہے کہاں؟

خدا جانے شہر گل کو کس کی نظر لگ گئی ہے کہ اب یہاں گلابوں کی جگہ بارود نے لے لی ہے۔  خود ہم نے بھی کئی شہر آشوب اور بعض مفرد اشعار میں اس شہر کا نوحہ رقم کیا ہے، مثلا

وہ شہر گلابوں کا جو مسکن تھا پشاور

 واں دھول کا بسرام ہے میدان میں گل کے

 یا پھر یہ شعر ملاحظہ فرمائیں

پیالیاں قہوے کی، گپ شپ، قہقہوں کا زیرو بم

 اب کہاں وہ دور، تھی جب “قصہ خوانی” رقص میں

کیسا دہشت کا سماں ہے, خوں کے چھینٹے چار اور

 اب تو دہشت گردیوں کی ہے کہانی رقص میں

 شہرآشوب کی محولہ بالا صورتحال تو تب سے بنی ہے جب سے دہشت گرد تنظیموں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر کے اس شہر گل کے امن و سکون کو غارت کر کے رکھ دیا ہے۔ جو اب بھی کسی نے کسی شکل میں جاری ہے، مگر اس سے پہلے شہر گل کی بربادی کا ایک اور معاملہ تھا جس پر ایک اور فرزند پشاور مرحوم جوہر میر نے ایک منفرد طرز میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا

فصیلیں توڑ کر کیا ہو گیا ہے

 پشاور شہر صحرا ہو گیا ہے

 یہ شہر گل فروشاں تھا چمن تھا

 بکھر کر پتا پتا ہو گیا ہے

 ہوئی ہے روشنی اتنی زیادہ

 گھروں میں گھپ اندھیرا ہو گیا ہے

 ہنر مندوں کا یہ مسکن تھا پہلے

مگر بے دست وپا  سا ہو گیا ہے

 مکانوں میں دکانیں بن گئی ہیں

سر بازار رسوا ہو گیا ہے

جوہر میر نے یہ نوحہ تب لکھا تھا، جب دہشتگردی کا کوئی نام و نشان تک نہیں تھا، البتہ فصیل شہر کو سرکاری اہلکاروں اور عوامی نمائندوں کی ملی بھگت سے توڑ توڑ کر ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔ اس میں مختلف مقامات پر دروازے لگا کر راستے بنا دیئے گئے، اور شہر پناہ کی دیوار کو راتوں رات توڑ کر  پلازے اور مارکیٹیں تعمیر کی گئیں اور متعلقہ  لوگ آنا” فانا”  کروڑ پتی بن گئے۔  جس پر ایک اور مرحوم دوست اور شاعر بے بدل، پروفیسر ڈاکٹر نذیر تبسم نے لاجواب تبصرہ کرتے ہوئے کیا خوب کہا تھا کہ

کہانی کیا سناؤں اپنے گھر کی

 تمہارے سامنے ملبہ پڑا ہے

جبکہ فراز نے بھی کہا تھا کہ

آکے دیکھو تو سہی، شہر مرا کیسا ہے؟

 سبزہ و گل کی جگہ ہے در و دیوار پہ خاک

اب اس شہر گل کا مستقبل کیا ہوگا، یہ ایک ملین ڈالر سوال ہے، جس کا جواب واحقداران صوبہ سے پوچھنے کا حق اہل پشاور کا تو بنتا ہے، مگر جواب کون دے؟

Loading