Daily Roshni News

مطالعہ قرآن۔۔۔قسط نمبر1

مطالعہ قرآن

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )قرآن اللہ کا کلام ہے۔ قرآن کی تلاوت کرنا، اس کے معانی و مفہوم سمجھنے کی کوشش کرنا، اللہ کی نشانیوں میں غور و فکر کرنا ایک بہت مبارک اور باسعادت عمل ہے۔ قرآن سے روشنی حاصل کرنے والوں پر قدرت کے قوانین اور اسرار واضح ہو جاتے ہیں۔ وہ خالق کائنات کی مرضی اور مشیت کو سمجھتے ہوئے اپنی زندگی کا سفر بصیرت و دانش مندی کے ساتھ کرتے ہیں۔

قرآن پاک کی آیات میں غور و فکر کی ترغیب دینے اور قرآنی آیات کی روشنی میں ہدایت پانے کے لیے مطالعہ قرآن کے عنوان ایک خصوصی نشست منعقد ہوتی ہے۔ اس نشست میں ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی لیکچر دیتے ہیں۔ ان لیکچرز کی تلخیص روحانی ڈائجسٹ کے علم دوست قارئین کے لیے قسط وار پیش کی جارہی ہے۔

سورہ فاتحہ:سورہ فاتحہ قرآن کی پہلی سورۃ ہے۔ اسے فاتحتہ الکتاب یاد یاچہ قرآن بھی کہا جاتا ہے۔ سورہ فاتحہ دعا بھی ہے۔ معلم اعظم حضرت محمد رسول اللہ علی الیم نے پانچ وقت کی صلوۃ اور نوافل میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کی تاکید فرمائی ہے۔

اللہ کا کلام قرآن، معانی، مفاہیم اور تفاسیر کا وسیع و عریض سمندر اور اسرار و معارف کالا محدود خزانہ ہے۔ اس حقیقت کا اور اک قرآن پاک کی پہلی سورة یعنی سورہ فاتحہ کی تلاوت سے ہی ہونے لگتا ہے۔ قرآن میں کسی مقام پر کسی لفظ کے استعمال میں علیم و خبیر اللہ کی کیا کیا حکمتیں پنہاں ہیں، یہ نکتہ واضح ہو تو علم و آگہی کے نئے نئے در کھلنے لگتے ہیں۔ آئے….! ہم سب مل کر اللہ تعالی سے دعا

مانگیں کہ ہمیں قرآن کی تلاوت کی، قرآن کے معانی میں غور و فکر کی توفیق ملے ، قرآنی آیات کے مفاہیم ہم پر واضح ہوں اور ہمیں شرح صدر عطا ہو۔آمین

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

الحمد لله رب العالمين الرحمن الرحیم مالک یوم الدین سورہ فاتحہ کی پہلی آیت کا اردو ترجمہ عام طور پر ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔

سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو عالمین کا رب ہے۔ اس آیت میں اللہ کی حمد، خالق کائنات کی صفت ربوبیت کے ذکر کے ساتھ کی گئی ہے۔ صفت ربوبیت کے حوالے کی وجہ سے یہ آیت حمد بھی ہے اور انسانوں کے لیے دعوت فکر بھی….

یہ آیت حمد بھی ہے اور انسانوں کے لیے دعوت فکر بھی…. اس دعوت فکر پر عمل کرتے ہوئے جستجو، تلاش اور تحقیق کی جائے تو آخر کار ہر سلیم الفطرت انسان خود یہ اعتراف کرلے گا کہ واقعی کوئی سب سے طاقت ور ، سب سے زیادہ قدرت رکھنے والی، منتظم و سر پرست ہستی اس کا ئنات کو چلارہی ہے اور اس کائنات کے ایک ایک رکن کو پال رہی ہے۔

اس دعوت فکر پر عمل کرتے ہوئے جستجو، تلاش اور تحقیق کی جائے تو آخر کار ہر سلیم الفطرت انسان خود یہ اعتراف کرلے گا کہ واقعی کوئی سب سے طاقت ور، سب سے زیادہ قدرت رکھنے والی، منتظم و سر پرست ہستی اس کائنات کو چلا رہی ہے اور اس کائنات کے ایک ایک رکن کو پال رہی ہے۔

اللہ سب سے بڑا Provider اور سب سے طاقت در Protector ہے۔

اللہ کی ربوبیت کی وسعت اور جامعیت پر تھوڑا سا بھی غور کیا جائے تو پہاڑ جیسی حیرتوں کا سامنا ہوتا ہے….

آج ہماری اس زمین پر صرف انسانوں کی آبادی سات ارب سے زائد ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارہ U.N.E.P کی طویل تحقیق کے مطابق اس زمین پر معلوم اور موسوم انواع (Species) کی تعداد تقریباً اٹھار ولاکھ بتائی جاتی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق ہماری زمین پر زندگی بسر کرنے والی مختلف انواع کی تعداد ایک کروڑ سے پانچ کروڑ تک ہو سکتی فکر ہے۔ 2011ء کی ایک رپورٹ کے مطابق ستجو، انواع کی تضمینی تعداد ستاسی لاکھ ہے۔ ہر نوع کے ارکان (نر و مادہ) کی تعداد کو شمار کیا سے جائے تو ان سب کی تعداد تو کھر یوں سنکھوں حکم و میں ہو گی۔ یہ اس زمین پر آباد مخلوقات کی سات انواع اور ان کے ارکان کی اب تک معلوم تعداد کے کچھ اندازے ہیں۔

ایک تازہ دریافت کے مطابق اس کہکشانی نظام میں ہماری زمین سے مشابہ سیاروں کی

تعداد 8.8 ارب سے زائد ہے۔

یعنی آج اس دنیا میں جتنے انسان بہتے ہیں، کہکشانی نظام میں صرف زمین (Earth) سے مشابہ سیاروں کی تعداد ہی نوع انسانی کی موجودہ تعداد سات ارب) سے زیادہ ہے۔

اب تک کی معلومات کے مطابق ہمارا نظام شمسی آٹھ سیاروں عطارد (Mercury)، زہرہ

(Venus) زمین (Earth، مریخ (Mars)، مشتری (Jupiter)، زحل

(Saturn)، پورنیس (Uranus)، نیچون

(Neptune) اور 173 ذیلی سیاروں(Moon)پر مشتمل ہے۔

ہم زمین پر رہتے ہیں۔ زمین سورج سے چودہ کروڑ چھیانوے لاکھ کلو میٹر فاصلے پر ہے۔ ہماری زمین کا ایک چاند (ذیلی سیارہ) ہے۔ مشتری (Jupiter) کے ذیلی سیاروں یعنی مشتری کے چاند کی تعداد 67 ہے۔ سورج کے گرد گھومنے والے مختلف سیاروں (Planets) کے چاند کی (تا۔۔۔جاری ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اگست 2020

Loading