فیضان عارف
برطانیہ میں سوشل میڈیا
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ لندن کی فضاؤں سے۔۔۔ برطانیہ میں سوشل میڈیا ۔۔۔ تحریر۔۔۔ فیضان عارف)میں جب کبھی پیچھے مڑ کر اپنے لڑکپن کی زندگی کو دیکھتا اور اپنے بچپن کے دنوں کو یاد کرتا ہوں، تو مجھے اس بات کا خیال ضرور آتا ہے کہ گزرے ہوئے وہ دن موجودہ دور کی سہولتوں اور آسائشوں سے یکسر محروم تھے، مگر اس کے باوجود وہ زمانہ بے فکری اور سادگی کی نعمتوں سے بھرپور تھا۔ فریج، ٹی وی، واشنگ مشین،ٹیلی فون، مائیکروویو، ائیر کنڈیشنرکار اور موٹر سائیکل جیسی سہولتوں کے بغیر بھی زندگی صبر و شکر کی برکتوں سے مزین تھی۔موجودہ دور کی ٹیکنالوجی اور سہولتوں نے یقیناً ہماری اور خاص طور پر ہماری نئی نسل کی زندگی کو آسان ضرور بنا دیا ہے، مگر ایسی مشکلات کو بھی جنم دیا ہے جس کا ادراک صرف ان لوگوں کو ہو سکتا ہے جنہوں نے پچھلی صدی کی آخری دہائیوں میں سائنس کے ارتقائی مراحل کا مشاہدہ کیا ہے۔ ذرا تصور کیجیے کہ دو یا تین سال کا بچہ جو موبائل فون پر اپنے پسندیدہ کارٹون دیکھے بغیر کھانا نہیں کھاتا یا دودھ نہیں پیتا، جب وہ بیس، پچیس یا پچاس برس کا ہوگا تو یہ ٹیکنالوجی اپنی ترقی اور ارتقا کے کس مرحلے تک پہنچ چکی ہوگی اور اس وقت تک انسان کون کون سی نئی ایجادات اور مزید سہولتوں کا اسیر ہو چکا ہوگا۔
ایک دس سالہ بچے نے اپنے والد اور والدہ سے پوچھا کہ جب کمپیوٹر، انٹرنیٹ، ویڈیو گیمز اور موبائل وغیرہ ایجاد نہیں ہوئے تھے، تو اس وقت کے بچے کن چیزوں سے کھیلتے تھے اور فارغ اوقات میں بڑی عمر کے لوگ کیا کرتے تھے؟ والدین نے سوال سن کر ٹھنڈی آہ بھری اور اپنے بچپن اور جوانی کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہنے لگے نصف صدی پہلے کے بچے کھیلنے کودنے اور اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ وقت گزارنے کے شوقین تھے، کتابیں اور بچوں کے رسالے پڑھنے کے عادی تھے، رات کو اپنے والدین سے کہانیاں اور لوریاں سن کر سویا کرتے تھے،مگر گزرنے والے پچاس برسوں میں ٹیکنالوجی کی ترقی اور سوشل میڈیا کی یلغار نے بچوں اور بڑوں کی ہر عادت کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ سوشل میڈیا نے ہمیں ایسی علت میں مبتلا کر دیا ہے کہ ہم اب موبائل فون کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور ہی نہیں کر سکتے۔ اس ایک چھوٹی سی الیکٹرانک ڈیوائس نے ہماری معاشرتی، ذاتی اور اخلاقی اقدار پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کی زندگی میں موبائل فون اور سوشل میڈیا ناگزیر ہو چکا ہے، جن کے منفی اثرات کو والدین شدت سے محسوس کرتے چلے آ رہے ہیں۔ان منفی اثرات اور رجحانات کو ایک عرصے تک مانیٹر کرنے اور ان کا جائزہ لینے کے بعد برطانوی حکومت نے گزشتہ دنوں ایک بڑا فیصلہ کیا ہے، جس کے مطابق مارچ 2027ء سے پورے یونائیٹڈ کنگڈم میں 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگا دی جائے گی۔ اس سلسلے میں حکومت نے سخت قوانین بنائے ہیں جن کا اطلاق مذکورہ تاریخ سے ہوگا۔
وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے سے پہلے اس فیصلے کا اعلان کیا ہے جس کے دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ حکومت کا یہ اقدام بچوں کے مستقبل کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے میں بہت مؤثر اور مددگار ہوگا۔ فیصلہ کرنے سے پہلے حکومت نے پورے ملک میں والدین سے مشاورت کی، ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لاکھوں والدین سے اس بارے میں رائے اور تجاویز لی گئیں۔ 90 فیصد والدین نے بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال کی پابندی کی حمایت کی اور اس ضمن میں سخت قوانین بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
گریٹ بریٹن میں گزشتہ چند برسوں کے دوران لاکھوں بچے سوشل میڈیا کے استعمال کی وجہ سے طرح طرح کے مسائل اور مجرمانہ سرگرمیوں کا شکار ہوئے، جن کے باعث ان کی تعلیم اورگھریلو زندگی تباہ و برباد ہو کر رہ گئی۔ اس وقت دنیا بھر میں مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے لاکھوں لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے 16 سال سے کم عمر لڑکیوں اور لڑکوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں اور انہیں طرح طرح کی ترغیبات دے کر ورغلاتے ہیں۔ حکومتی فیصلے کا مطلب ہے کہ سنیپ چیٹ، ٹک ٹاک، یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بک اور ایکس (ٹویٹر) پلیٹ فارم کے استعمال پر پابندی ہوگی۔ یعنی مارچ 2027ء سے برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر کے بچوں کو مذکورہ سوشل میڈیا تک رسائی حاصل نہیں رہے گی۔ دنیا کے دیگر ممالک آسٹریلیا، فرانس، یونان، انڈونیشیا، ملائشیا، یواےا ی اور آسٹریا میں بھی16سال سے کم عمربچوں کے لئے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد ہے، جبکہ شمالی کوریا، چین، ایران اور ترکمانستان میں سوشل میڈیا کے علاوہ گلوبل انٹرنیٹ پر بھی طرح طرح کی پابندیاں لگی ہوئی ہیں۔
کیئر اسٹارمر نے سوشل میڈیا پر پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ”برطانوی والدین اپنی نئی نسل کو خوش اورمحفوظ دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن ”آن لائن ورلڈ“ نے والدین کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ بچوں پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات کی وجہ سے میں نے والدین کو بہت اذیت میں دیکھا ہے۔ حکومت ایسے والدین کو اس تکلیف سے بچانا اور اُن کی اولاد کے مستقبل کو خوشگوار بنانا چاہتی ہے،برطانیہ کی نئی نسل کو سوشل میڈیاکے رحم و کرم پر نہیں چھوڑاجاسکتا“۔
ٹیکنالوجی کی وزیر لِز کینڈل نے سوشل میڈیا پر حکومتی پابندی کے حوالے سے کہا کہ ”بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے کیا جانے والا یہ فیصلہ بہت سوچ بچار کے بعد کیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے پہلے ٹیکنالوجی کمپنیز کو پورا موقع دیا گیا کہ وہ اس سلسلے میں بچوں کے تحفظ کے لیے کوئی ضابطہ متعین کریں، لیکن انہوں نے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی، جس کی وجہ سے دیگر کئی ممالک کی طرح یونائیٹڈ کنگڈم کو بھی پہلے مرحلے میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ کرنا پڑا اور اگر ضرورت پڑی تو اس پابندی کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ بچوں کی تربیت اور مستقبل کی باگ ڈور سوشل میڈیا کے بجائے والدین کے ہاتھ میں ہو۔ مجھے امید ہے کہ اس پابندی کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوں گے۔ بچوں کو سیکسوئل ابیوز (Sexual Abuse)، آن لائن فراڈ اورسکیمز (Scams) سے بچانے کے لیے آف کام اورآن لائن سیفٹی ایکٹ کو مؤثر بنایا جائے گا۔ 90 فیصد والدین کی طرف سے ”سوشل میڈیا بین“ کے فیصلے کی حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومتی فیصلہ نئی نسل کے بہتر مستقبل کے لیے حالات کا تقاضا ہے“۔
سوشل میڈیا کا استعمال ایک ایسی علت بلکہ نشہ ہے جو خاص طور پر16سال سے کم عمر بچوں کو ان کی تعلیم اور والدین کی فرمانبرداری سے غافل کر دیتا ہے۔ سوشل میڈیا کا مسلسل استعمال بچوں میں ذہنی دباؤ، چڑچڑے پن، بے خوابی (نیند کے مسائل) اور دیگر کئی نفسیاتی الجھنوں کا سبب بنتا ہے۔ بچوں کے علاوہ بڑی عمر کے لوگ بھی سوشل میڈیا کے ان اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔
موجودہ حالات میں ترقی یافتہ اور باشعور قومیں اپنی نئی نسل کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے قوانین اور ضابطے بنا رہی ہیں اور جرائم پیشہ لوگوں کی سرگرمیوں کو مانیٹر کر رہی ہیں۔ سوشل میڈیاعام لوگوں کی ذاتی اور معاشرتی زندگی پر کیا اثرات مرتب کر رہا ہے؟ اورمختلف طرح کے جرائم میں اضافے کا کس طرح باعث بن رہا ہے؟ ان تمام حقائق اور اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔جدید ٹیکنالوجی کے فوائد اور سہولتیں اپنی جگہ لیکن اس کا منفی استعمال اوربالخصوص موبائل فون پر دستیاب سوشل میڈیا (سنیپ چیٹ، ٹک ٹاک، یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بک اور ایکس پلیٹ فارم وغیرہ) کا استعمال دنیا بھر میں ان گنت سنگین جرائم اورمسائل کا باعث بن رہا ہے، جن کی روک تھام اور سدباب کے لیے ترقی یافتہ ممالک بہت سنجیدگی سے حکمتِ عملی وضع کر رہے ہیں۔ برطانیہ بھی اب ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو اپنی نئی نسل کے مستقبل کا تحفظ چاہتاہے اوراس حوالے سے نئے ضابطے وضع کر رہا ہے۔ اگر ہم جائزہ لیں تو پوری دنیا میں 16 سال سے کم عمر کے جو بچے مختلف جرائم کا شکار ہو جاتے ہیں، اُن کے پس منظر میں کہیں نہ کہیں سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کا عمل دخل ضرور ہوتا ہے۔
یوکے میں ہر سال تقریباً ساڑھے آٹھ لاکھ بچوں کو آن لائن بلینگ (Online Bullying) کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسی طرح گزشتہ ایک سال کے دوران سولہ سال سے کم عمر سات ہزار سے زیادہ بچے ایسے تھے جن کی سیکس گرومنگ کی گئی یا ان سے جنسی معاملات پر آن لائن بات چیت کر کے انہیں ورغلایا گیا۔ برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو اپنے ماں باپ سے چھپ کر سوشل میڈیا کا استعمال کرتی ہے، اس لیے والدین کو اُن کی خفیہ سرگرمیوں کا اس وقت علم ہوتا ہے جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے یا اُن کے معصوم بچے کسی جسمانی یا نفسیاتی مسئلے کا شکار ہو چکے ہوتے ہیں۔ برطانیہ ہو یا کوئی اور ملک والدین کی اکثریت اپنے بچوں کی آن لائن مصروفیت اور خفیہ سرگرمیوں سے لا علم اور بے خبر رہتی ہے۔
ایسے والدین جنہوں نے اپنے بچوں کو جدید ٹیکنالوجی (موبائل فونز، ٹیبلٹس اور لیپ ٹاپ وغیرہ) کی سہولت فراہم کر رکھی ہے، میری ان سے گزارش ہے کہ وہ اس بات سے ضرور آگاہ رہیں کہ اُن کے بچے سوشل میڈیا پر کس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور کن لوگوں سے رابطے میں ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہزاروں بلکہ لاکھوں خطرناک اور شیطان صفت لوگ معصوم بچوں کو ورغلانے اور انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے اور حربے استعمال کرتے ہیں۔ یہ لوگ بچوں کی نفسیات سے واقف ہوتے ہیں، اس لیے کم عمر بچے ان کے بہکاوے اورچنگل میں جلد پھنس جاتے ہیں۔بچے تو معصوم ہوتے ہیں، آج کل تو بالغ اور بڑی عمر کے لوگ بھی سوشل میڈیا کے اس قدر اسیرہو چکے ہیں کہ وہ لیپ ٹاپ/ ٹیبلیٹ یا موبائل فون کے بغیر ایک ہفتہ بھی نہیں گزار سکتے۔ غور کیجیے کہ جو لوگ خود سوشل میڈیا کے بغیر گزارا نہیں کر سکتے، وہ اپنے بچوں اور نئی نسل کو اس سے کس طرح باز رکھ سکتے ہیں؟
٭٭٭
https://www.facebook.com/share/v/1MRJtxuDpg/
https://akhbar-e-jehan.com/detail/67215/social-media-use-banned-for-children-under-16-in-the-uk
![]()

