ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جب سائنسدان پہلی بار زم زم کے کنویں میں اُترے… تو انہیں صرف پانی نہیں، ایک معجزہ دکھائی دیا
مکہ مکرمہ کے جلتے ہوئے صحرا میں، جہاں تیز دھوپ ریت کو آگ بنا دیتی ہے اور دور دور تک زندگی کا کوئی نشان دکھائی نہیں دیتا، وہاں ایک ایسا چشمہ آج بھی بہہ رہا ہے جو ہزاروں برس سے انسانیت کی پیاس بجھا رہا ہے۔
یہ صرف پانی نہیں…
یہ اللہ کی رحمت ہے۔
یہ صرف ایک کنواں نہیں…
یہ آبِ زم زم ہے۔
وہی زم زم جس کا ہر قطرہ ایک تاریخ ہے، ایک دعا ہے، ایک امید ہے، اور ایک معجزہ ہے۔
آج بھی جب لاکھوں مسلمان بیت اللہ کے سائے میں کھڑے ہو کر اپنے ہاتھوں میں زم زم کا پیالہ لیتے ہیں، تو وہ صرف اپنی پیاس نہیں بجھاتے…
وہ اپنے دلوں کی بے شمار آرزوئیں بھی اللہ کے حضور پیش کرتے ہیں۔
کوئی بیماری سے شفا مانگتا ہے۔
کوئی رزق میں برکت کی دعا کرتا ہے۔
کوئی اولاد کے لیے آنسو بہاتا ہے۔
کوئی اپنے گناہوں کی معافی چاہتا ہے۔
اور کوئی صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کا رب اس سے راضی ہو جائے۔
مگر کبھی دل میں یہ سوال اٹھتا ہے…
آخر اس کنویں میں ایسا کیا راز ہے؟
ہزاروں سال گزر جانے کے باوجود اس کا پانی ختم کیوں نہیں ہوتا؟
کیا وجہ ہے کہ کروڑوں انسان اسے پیتے ہیں، لیکن یہ چشمہ آج بھی اسی طرح جاری ہے؟
جب سائنسدانوں نے ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے چاہے تو وہ جدید آلات لے کر زم زم کے اندر اُترے۔
وہ پانی کی تہہ دیکھنا چاہتے تھے…
لیکن شاید انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ بعض حقیقتیں صرف آنکھوں سے نہیں، دلوں سے سمجھی جاتی ہیں۔
جب پہلی مرتبہ کیمرہ گہرائی میں اُترا تو سامنے آنے والا منظر حیران کن تھا۔
پانی غیر معمولی طور پر صاف تھا۔
تہہ تک سب کچھ واضح دکھائی دے رہا تھا۔
صدیوں گزر جانے کے باوجود نہ وہ گندگی تھی جو عام کنوؤں میں ہوتی ہے، نہ وہ تعفن، نہ وہ بوسیدگی۔
گویا وقت نے اس کنویں کو چھوا ہی نہ ہو۔
پھر انہوں نے دیکھا کہ مختلف قدرتی راستوں سے مسلسل پانی اندر آ رہا ہے۔
پانی نکالا جاتا رہا…
لیکن پانی آتا رہا۔
جیسے کوئی پوشیدہ رحمت مسلسل زمین کے اندر سے اسے بھر رہی ہو۔
لیکن زم زم کا اصل معجزہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔
اس کا سب سے بڑا راز سائنس نہیں…
اس کا سب سے بڑا راز ایک ماں کے آنسو ہیں۔
وہ ماں جو سنسان وادی میں اپنے شیر خوار بچے کی پیاس سے بے قرار تھی۔
نہ کوئی بستی تھی…
نہ کوئی سایہ…
نہ کوئی مددگار…
صرف ایک ماں تھی، ایک معصوم بچہ تھا، اور اللہ پر کامل یقین تھا۔
حضرت ہاجرہؑ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتی رہیں۔
ایک بار…
دو بار…
تین بار…
یہاں تک کہ سات مرتبہ۔
وہ مایوس نہیں ہوئیں۔
انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔
انہوں نے کوشش کرنا نہیں چھوڑا۔
اور جب بندے کی کوشش اپنے رب پر مکمل بھروسے کے ساتھ مل جاتی ہے، تو پھر زمین سے معجزے پھوٹ پڑتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیلؑ آئے، اور زمین سے وہ پانی جاری ہوا جس نے صرف حضرت اسماعیلؑ کی پیاس ہی نہیں بجھائی…
بلکہ قیامت تک آنے والی امتوں کے لیے رحمت کا دروازہ کھول دیا۔
آج بھی کروڑوں لوگ زم زم پیتے ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف پانی نہیں پیتے…
وہ امید پیتے ہیں۔
وہ رحمت پیتے ہیں۔
وہ دعا پیتے ہیں۔
وہ اپنے رب سے تعلق کو تازہ کرتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“زم زم کا پانی جس نیت سے پیا جائے، وہ اسی کے لیے ہے۔”
اور ایک روایت میں فرمایا:
“زمین پر سب سے بہترین پانی زم زم ہے، اس میں غذا بھی ہے اور شفا بھی۔”
زم زم ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جب دنیا کے تمام راستے بند ہو جائیں…
جب ہر دروازہ بند دکھائی دے…
جب انسان خود کو بالکل بے بس محسوس کرے…
تب بھی اللہ کی رحمت کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔
حضرت ہاجرہؑ نے کوشش کی…
اللہ نے معجزہ عطا فرما دیا۔
اور یہی زم زم کا سب سے بڑا پیغام ہے:
مایوسی انسان کی سوچ ہو سکتی ہے، لیکن امید اللہ کی رحمت کا نام ہے۔
اے اللہ!
جس طرح تو نے حضرت ہاجرہؑ کے لیے ناممکن کو ممکن بنا دیا، اسی طرح ہماری زندگی کے تمام غم دور فرما۔
ہمیں بار بار اپنے گھر کی حاضری نصیب فرما۔
ہمیں آبِ زم زم کی برکتیں نصیب فرما۔
ہماری دعاؤں کو قبول فرما، ہمارے والدین پر رحم فرما، ہمارے گناہوں کو معاف فرما، اور ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابی عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔ 🤲🕋
![]()

