🌿 اُمّتِ محمد ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی عظیم آسانیاں اور ایک ایمان افروز واقعہ 🤍
اللہ تعالیٰ نے ہر نبی علیہ السلام کو ان کی امت کے مطابق خاص احکام اور نشانیاں عطا فرمائیں، مگر اُمتِ محمد ﷺ پر جو رحمتیں اور آسانیاں نازل ہوئیں، وہ بے مثال ہیں۔
روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیم خلیل علیہ السلام کے زمانے میں حق اور باطل کا فیصلہ آگ کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ جو شخص سچا ہوتا، آگ اسے نقصان نہ پہنچاتی، جبکہ جھوٹا شخص آگ میں جل جاتا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور میں ایک خاص لاٹھی کے ذریعے حق کا فیصلہ ہوتا تھا۔ وہ سچے کے لیے خاموش رہتی اور جھوٹے کو سزا دیتی۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں ہوا اللہ کے حکم سے سچے اور جھوٹے میں فرق ظاہر کرتی تھی۔
حضرت ذوالقرنین علیہ السلام کے عہد میں پانی کے ذریعے آزمائش ہوتی تھی۔ حق والے کے لیے پانی مضبوط ہو جاتا اور باطل والے کے لیے نہیں۔
حضرت داؤد علیہ السلام کے دور میں ایک لٹکی ہوئی زنجیر کے ذریعے فیصلہ کیا جاتا تھا۔ سچا شخص اس تک پہنچ جاتا جبکہ جھوٹا اس سے محروم رہتا۔
🌹 مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت پر خصوصی آسانی فرمائی۔
اب فیصلہ معجزات کے ذریعے نہیں، بلکہ انصاف کے اصولوں کے مطابق کیا گیا۔
مدعی اپنے دعوے پر گواہ پیش کرے، یا مدعا علیہ خود اقرار کرے۔
یہی شریعتِ محمدی ﷺ کی وہ آسانی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ ﴾
“اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، تنگی اور مشقت نہیں چاہتا۔”
(سورۃ البقرہ: 185)
مفسرین نے اس آیت کی مختلف تفسیریں بیان فرمائی ہیں۔ بعض روایات میں “یُسر” کو جنت کی نعمتوں کی طرف اشارہ قرار دیا گیا ہے، جہاں ہر طرف آسانی ہی آسانی ہے۔
🌙 اب ایک ایمان افروز واقعہ ملاحظہ فرمائیں…
حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
میں تین سال تک مکہ مکرمہ میں مقیم رہا۔
وہاں ایک بزرگ روزانہ دوپہر کے وقت مسجدِ حرام آتے، بیت اللہ کا طواف کرتے، دو رکعت نماز ادا کرتے، مجھے سلام کہتے اور خاموشی سے واپس اپنے گھر چلے جاتے۔
ان کی اس عاجزی اور عبادت نے میرے دل میں ان کی محبت پیدا کر دی، یہاں تک کہ میرا ان کے گھر آنا جانا بھی شروع ہو گیا۔
کچھ عرصے بعد وہ بیمار ہو گئے۔
انہوں نے مجھے بلایا اور فرمایا:
“جب میرا انتقال ہو جائے تو آپ مجھے غسل دینا، میری نمازِ جنازہ پڑھانا، مجھے دفنانا، اور پہلی رات میری قبر کے پاس رہنا۔ اگر منکر نکیر سوال کریں تو مجھے کلمۂ توحید کی تلقین بھی کرنا۔”
میں نے ان سے وعدہ کر لیا۔
ان کے انتقال کے بعد میں نے ان کی تمام وصیتیں پوری کیں۔
رات کو میں ان کی قبر کے پاس ہی ٹھہر گیا۔
اسی دوران میری آنکھ لگ گئی۔
میں نے خواب اور بیداری کے درمیان ایک غیبی آواز سنی:
“اے سفیان! نہ اسے تمہاری تلقین کی ضرورت ہے اور نہ تمہارے ساتھ کی، کیونکہ ہم نے خود اسے تلقین کی ہے اور خود اس کا دل بہلایا ہے۔”
میں نے عرض کیا:
“اے میرے رب! یہ عظیم مرتبہ اسے کس عمل کی وجہ سے ملا؟”
جواب ملا:
“یہ عزت اسے رمضان المبارک کے روزوں اور ان کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے کی برکت سے عطا کی گئی ہے۔”
حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
میری آنکھ کھل گئی، میں نے وضو کیا، نماز پڑھی اور دوبارہ سو گیا۔
پھر یہی خواب دوبارہ دیکھا…
پھر تیسری مرتبہ بھی یہی منظر سامنے آیا۔
تب مجھے یقین ہو گیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سچا خواب ہے۔
اس کے بعد میں نے دعا کی:
اللَّهُمَّ وَفِّقْنِي لِصِيَامِ ذَلِكَ بِمَنِّكَ وَكَرَمِكَ
“اے اللہ! اپنے فضل و کرم سے مجھے بھی رمضان کے روزے اور شوال کے چھ روزے رکھنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔”
📚 (ماخوذ: قوت القلوب)
🌷 سبق
اللہ تعالیٰ نے امتِ محمد ﷺ کو دین میں آسانی عطا فرمائی ہے۔ اگر ہم اخلاص کے ساتھ عبادات کریں، فرائض ادا کریں اور سنتوں سے محبت رکھیں تو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں میں اپنی رحمت، برکت اور خصوصی انعامات سے نوازتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین پر استقامت، سنتِ رسول ﷺ سے سچی محبت، رمضان المبارک کے روزوں اور شوال کے چھ روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲🤍
🤍 اگر آپ نے یہ پوری تحریر پڑھی ہے اور آپ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں، تو کمنٹ میں اللہ تعالیٰ کے 99 مبارک ناموں میں سے کوئی ایک خوبصورت نام ضرور لکھیں۔ 🌷 جس نام سے آپ اللہ پاک کو پکارنا سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں۔
![]()

