خطۂ یمن میں قبیلہ حِمیر کی سلطنت ۔۔۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سبا کی سلطنت صدیوں تک جنوبی عرب کی سب سے بڑی طاقت رہی۔ اس کا دارالحکومت مأرب تھا، جہاں سدِ مأرب جیسا عظیم آبی منصوبہ انسانی ذہانت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اس بند کی بدولت آس پاس کی وادیاں لہلہاتے باغات اور سرسبز کھیتوں میں تبدیل ہو گئی تھیں۔ یہاں انگور، کھجور، گندم، جو اور خوشبودار درختوں کی کاشت ہوتی تھی۔ عرب کے شمال سے لے کر بحیرۂ روم تک جانے والے تجارتی قافلے انہی راستوں سے گزرتے تھے۔ ہندوستان، افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا سے آنے والا سامان یمن کی بندرگاہوں تک پہنچتا، پھر اونٹوں کے طویل قافلے اسے حجاز، شام اور روم کی منڈیوں تک لے جاتے۔
مگر تاریخ کا ایک اصول ہے کہ کوئی سلطنت ہمیشہ ایک ہی حالت میں باقی نہیں رہتی۔ وقت کے ساتھ سبا کے اندرونی اختلافات، قبائلی رقابتیں اور اقتدار کی کشمکش نے اس کی بنیادوں کو کمزور کرنا شروع کر دیا۔ انہی حالات میں حِمیر کے قبیلے نے اپنی سیاسی بصیرت، عسکری طاقت اور منظم قیادت کے ذریعے آہستہ آہستہ اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانا شروع کیا۔
حِمیر دراصل جنوبی عرب کے طاقتور قبیلوں میں شمار ہوتا تھا۔ ان کی آبادیاں یمن کے جنوب مغربی پہاڑی علاقوں اور ساحلی میدانوں تک پھیلی ہوئی تھیں۔ ان کے لوگ جنگجو بھی تھے اور تاجر بھی۔ وہ پہاڑوں کے تنگ راستوں، وادیوں کی گزرگاہوں اور ساحلی تجارت کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے تھے۔ ان کی قیادت نے جلد محسوس کر لیا کہ صرف طاقت کے زور پر حکومت قائم نہیں رہ سکتی بلکہ تجارت، زراعت اور قبائل کے درمیان توازن بھی ضروری ہے۔
جب سبا کی مرکزی حکومت کمزور ہونے لگی تو حِمیر نے پہلے اپنے قریبی علاقوں پر مضبوط گرفت قائم کی۔ پھر ایک ایک کر کے اردگرد کے قبائل کو اپنے ساتھ ملایا۔ کہیں جنگ کے ذریعے، کہیں معاہدوں کے ذریعے اور کہیں خاندانی رشتوں کے ذریعے انہوں نے اپنی سیاسی بنیاد وسیع کی۔ آخرکار پہلی صدی قبل مسیح کے قریب حِمیری حکمران جنوبی عرب کی سب سے بڑی قوت بن کر ابھرے اور ظفار کو اپنا اہم دارالحکومت بنایا۔
ظفار کا شہر اپنے محل وقوع کی وجہ سے نہایت اہم تھا۔ یہ بلند پہاڑی علاقے میں واقع تھا جہاں سے اردگرد کی وادیوں، تجارتی راستوں اور زرعی زمینوں پر آسانی سے نظر رکھی جا سکتی تھی۔ یہاں سے مغرب میں بحیرۂ احمر تک جانے والے راستے نکلتے تھے، جنوب میں بحرِ عرب کے ساحلی علاقے تھے، جبکہ شمال کی طرف نجد اور حجاز جانے والے قافلے انہی پہاڑی گزرگاہوں سے گزرتے تھے۔ ظفار صرف ایک شہر نہیں بلکہ پوری سلطنت کی دھڑکن بن گیا تھا۔
حِمیر کے حکمرانوں نے جلد ہی سمجھ لیا کہ دولت صرف زمین سے نہیں بلکہ تجارت سے بھی پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے قدیم قافلہ شاہراہوں کو محفوظ بنایا، قلعے تعمیر کیے، پانی کے ذخائر کی مرمت کرائی اور راستوں پر پڑاؤ قائم کیے تاکہ دور دراز سے آنے والے تاجروں کو سہولت میسر آ سکے۔ ہندوستان سے مصالحہ جات، ریشمی کپڑے اور قیمتی پتھر آتے، افریقہ سے ہاتھی دانت، سونا اور غلام لائے جاتے، جبکہ یمن سے لوبان، کندر، شہد، چمڑا، خوشبوئیں اور زرعی اجناس شمالی دنیا تک پہنچتی تھیں۔
ان تجارتی قافلوں کا منظر حیرت انگیز ہوتا تھا۔ سینکڑوں اونٹ قطار در قطار چلتے، ہر اونٹ پر سامان سے لدے ہوئے صندوق بندھے ہوتے۔ قافلے کے آگے نیزے بردار محافظ ہوتے، درمیان میں تاجر اور غلام، جبکہ پیچھے اضافی جانور اور پانی کے مشکیزے لے جانے والے افراد۔ جب یہ قافلے کسی وادی میں قیام کرتے تو لمحوں میں ایک عارضی بستی آباد ہو جاتی۔ آگ جلتی، کھانے پکنے لگتے، شاعری ہوتی، تجارت کے معاہدے طے ہوتے اور مختلف زبانیں بولنے والے لوگ ایک ہی میدان میں اکٹھے دکھائی دیتے۔
حِمیر کی سلطنت کا جغرافیہ اس کی اصل طاقت تھا۔ مغرب میں بحیرۂ احمر کی بندرگاہیں، جنوب میں بحرِ عرب، مشرق میں حضرموت کے علاقے اور شمال میں نجد کی طرف جانے والے راستے اسے عرب کی دوسری ریاستوں پر برتری دیتے تھے۔ بلند پہاڑ بارش کو اپنی طرف کھینچتے، انہی بارشوں سے وادیاں سیراب ہوتیں اور انہی وادیوں سے نکلنے والی نہریں کھیتوں کو زندگی دیتیں۔ یہی وجہ تھی کہ جنوبی عرب کو قدیم دنیا میں عربِ سعید، یعنی خوشحال عرب بھی کہا جاتا تھا۔
سیاسی طور پر حِمیر نے قبائلی نظام کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا بلکہ اسے اپنے اقتدار کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا۔ ہر بڑے قبیلے کے سردار کو ایک حد تک اختیار دیا جاتا، لیکن آخری فیصلہ بادشاہ کا ہوتا۔ اس پالیسی نے سلطنت کو نسبتاً مستحکم رکھا۔ فوج کو منظم کیا گیا، سرحدی قلعوں کو مضبوط بنایا گیا اور ساحلی علاقوں میں بحری نگرانی کا انتظام بھی بہتر کیا گیا تاکہ بیرونی حملوں کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔
اس زمانے میں دنیا بھی تیزی سے بدل رہی تھی۔ شمال میں رومی سلطنت اپنی سرحدیں وسیع کر رہی تھی، جبکہ مشرق میں ایرانی ساسانی طاقت ابھر رہی تھی۔ بحیرۂ احمر اور بحرِ عرب کی تجارت پر قبضہ دونوں بڑی طاقتوں کے لیے اہم تھا۔ ایسے میں حِمیر کی سلطنت ایک ایسے پل کی حیثیت اختیار کر گئی جو مشرق اور مغرب کو آپس میں ملاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کبھی روم کے سفیر، کبھی حبشہ کے نمائندے اور کبھی ایران کے تاجر یمن کے دربار میں دکھائی دیتے۔
وقت گزرنے کے ساتھ حِمیر کے حکمرانوں نے اپنی شناخت کو مزید مضبوط کیا۔ انہوں نے مختلف علاقوں کو ایک مرکزی اقتدار کے تحت لانے کی کوشش کی، معیشت کو مستحکم کیا اور شاہی اختیارات کو وسعت دی۔ قدیم جنوبی عربی رسم الخط میں شاہی کتبے کندہ کیے گئے جن میں بادشاہوں کی فتوحات، تعمیراتی منصوبوں اور مذہبی سرگرمیوں کا ذکر ملتا ہے۔ یہی کتبے آج مؤرخین کے لیے اس دور کی تاریخ کو سمجھنے کا اہم ذریعہ ہیں۔
معاشرتی زندگی بھی نہایت متنوع تھی۔ دیہات میں کسان صبح سویرے اپنے کھیتوں میں پہنچ جاتے، عورتیں گھروں اور باغات کی دیکھ بھال کرتیں، دستکار دھات، مٹی اور لکڑی سے خوبصورت اشیا تیار کرتے، جبکہ شہروں میں بازار دن بھر آباد رہتے۔ بازاروں میں خوشبو فروش، کپڑے بیچنے والے، سنار، لوہار، کمہار اور دور دراز سے آئے ہوئے تاجر ایک دوسرے کے ساتھ خرید و فروخت کرتے۔ مختلف قبائل کے لوگ ایک ہی بازار میں ملتے، خبریں سنتے، شاعری کرتے اور نئے تجارتی معاہدے کرتے۔
مذہبی اعتبار سے بھی یہ ایک اہم دور تھا۔ ابتدا میں جنوبی عرب کے قدیم مشرکانہ عقائد رائج تھے، مگر بعد کے ادوار میں یہودی اور مسیحی اثرات بھی سلطنت میں داخل ہوئے۔ یہی تبدیلیاں آگے چل کر حِمیر کی داخلی سیاست پر گہرے اثرات ڈالیں۔ بعض حکمرانوں نے یہودیت اختیار کی، جبکہ دوسرے گروہ مسیحی دنیا سے تعلقات بڑھانے لگے۔ اس مذہبی تنوع نے بعض اوقات سلطنت کو مضبوط کیا، لیکن کئی مواقع پر داخلی کشیدگی بھی پیدا کی۔
حِمیر کی سلطنت کے عروج کا سب سے نمایاں پہلو اس کی تنظیم، اس کی معاشی قوت اور اس کی جغرافیائی اہمیت تھی۔ اس نے نہ صرف سبا کی وراثت کو سنبھالا بلکہ اسے نئے سیاسی ڈھانچے میں ڈھالنے کی کوشش بھی کی۔ اگر سبا نے جنوبی عرب کو خوشحالی دی تھی تو حِمیر نے اسے ایک وسیع تر سیاسی شناخت دینے کی کوشش کی۔
لیکن اقتدار کے ایوانوں میں ہمیشہ خاموش طوفان پلتے رہتے ہیں۔ بیرونی طاقتوں کی نظریں یمن کی دولت پر جمی ہوئی تھیں۔ تجارت کی شاہراہیں جتنی دولت لاتی تھیں، اتنی ہی حسد اور دشمنی بھی پیدا کرتی تھیں۔ شمال اور مغرب سے آنے والی سیاسی مداخلت، مذہبی اختلافات، اور بعد کے زمانے میں حبشی اور پھر ساسانی حملوں نے اس مضبوط سلطنت کی بنیادوں کو ہلانا شروع کر دیا۔ اگرچہ یہ واقعات بعد کی تاریخ کا حصہ ہیں، مگر ان کے بیج اسی دورِ عروج میں بوئے جا چکے تھے۔
جب شام ڈھلتی اور ظفار کے قلعوں پر سورج کی آخری کرنیں پڑتیں، تو ایسا محسوس ہوتا جیسے پہاڑ خود اس سلطنت کی عظمت کے محافظ ہوں۔ بازار آہستہ آہستہ بند ہونے لگتے، قافلے اپنے جانور باندھ دیتے، معبدوں میں چراغ روشن ہو جاتے اور پہاڑوں سے ٹکراتی ہوا ایک ایسی سرگوشی کرتی جو آنے والے زمانوں کی خبر دیتی تھی۔ وہ سرگوشی گویا یہی کہتی تھی کہ سلطنتیں صرف تلواروں سے نہیں بنتیں؛ انہیں پانی، تجارت، انصاف، اتحاد اور دور اندیش قیادت زندہ رکھتی ہے۔ جب یہ عناصر کمزور پڑ جائیں تو سب سے بلند محلات بھی وقت کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔
سبا کے بعد حِمیر کی سلطنت کا عروج دراصل صرف ایک خاندان یا ایک قبیلے کی کامیابی کی داستان نہیں، بلکہ جنوبی عرب کی تہذیبی بلوغت، سیاسی ارتقا اور معاشی بصیرت کی ایک درخشاں مثال ہے۔ یہ وہ دور تھا جب یمن کے پہاڑ صرف بادلوں کو نہیں روکتے تھے بلکہ تہذیب، تجارت اور اقتدار کے ایسے خواب بھی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے تھے جن کی گونج آج بھی قدیم کھنڈرات، سنگی کتبوں اور وادیوں کی خاموش فضاؤں میں سنائی دیتی ہے۔۔۔ ✍️
![]()

