Daily Roshni News

تحقیق، تاریخ اور تصوف کے آئینے میں: خواجہ شمس الدین عظیمی اور قلندر بابا اولیاء کا روحانی سفر _تحریر:  ندیم انصاری ٹورنٹو کینیڈا

تحقیق، تاریخ اور تصوف کے آئینے میں: خواجہ شمس الدین عظیمی اور قلندر بابا اولیاء کا روحانی سفر _

تحریر:  ندیم انصاری ٹورنٹو کینیڈا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحقیق، تاریخ اور تصوف کے آئینے میں: خواجہ شمس الدین عظیمی اور قلندر بابا اولیاء کا روحانی سفر۔۔۔تحریر:  ندیم انصاری ٹورنٹو کینیڈا۹برصغیر پاک و ہند کی اسلامی تاریخ میں تصوف کو ہمیشہ ایک کلیدی حیثیت حاصل رہی ہے۔ یہ محض رسم و رواج یا خانقاہی نظام کا نام نہیں، بلکہ انسانی روح کی تطہیر اور خالق حقیقی سے تعلقِ باللہ کا ایک متحرک علمی نظام ہے۔ بیسویں صدی کے وسط میں جب دنیا مادی ترقی اور سائنسی جمود کے دوراہے پر کھڑی تھی، کراچی کی سرزمیں پر ایک ایسی ہی فکری اور روحانی بیداری کا آغاز ہوا جس نے علمِ لدّنی اور جدید سائنس کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کیا۔ زیرِ نظر معلوماتی اور تحقیقی مضمون میں ہم طریقتِ عظیمیہ کے ان دو جلیل القدر مصلحین کا فکری جائزہ لیں گے جنہوں نے تصوف کو ایک نیا، سائنسی اور فکری اسلوب عطا کیا۔

تاریخ کے دریچے سے _

 کراچی، روزنامہ ڈان ( اردو ) اور پہلا تعارف _

۱۹۵۰ء اور ۱۹۵۱ء کے درمیانی عرصے میں، جب نوائیدہ مملکتِ پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑی ہو رہی تھی، تصوف کی تاریخ کا ایک بے حد اہم باب پوشیدہ طور پر رقم ہو رہا تھا۔ مروجہ تاریخ بتاتی ہے کہ ایک نوجوان شمس الدین انصاری (جو بعد میں خواجہ شمس الدین عظیمی کے نام سے کائناتِ تصوف کے مہرِ منیر بنے) اپنے کسی دوست سے ملاقات کی غرض سے مشہور  روزنامہ “ڈان اردو” (Dawn Urdu) کے دفتر گئے۔ قدرت کا کارخانہ عجب ہے؛ وہاں ان کی ملاقات ایک ایسی شخصیت سے ہوئی جن کا ظاہر مادی دنیا کی نظروں سے اوجھل تھا، لیکن باطن کائناتی اسرار کا گنجینہ تھا۔ یہ شخصیت محمد عظیم صاحب تھے، جنہیں دنیا آج سید محمد عظیم برخیا، قلندر بابا اولیاءؒ کے نام سے جانتی ہے۔قلندر بابا اولیاءؒ کے حسنِ سلوک، مقناطیسی شخصیت اور پُر وقار گفتگو نے شمس الدین انصاری کے قلب پر گہرا اثر چھوڑا۔ یہ اثر وقتی نہیں تھا، بلکہ اس نے ایک ایسا باہمی ربط پیدا کیا جو وقت کے ساتھ ساتھ گہرا ہوتا چلا گیا

۔مریدی اور ارادت: ۱۴ سالہ کٹھن خدمتِ استاد

تصوف میں کسی کامل مرشد کی صحبت کا ملنا سب سے بڑا مادی و روحانی اثاثہ مانا جاتا ہے۔ شمس الدین انصاریؒ نے جلد ہی یہ جان لیا کہ محمد عظیم صاحب کوئی عام انسان نہیں، بلکہ تصوف اور علمِ لدنّی کے اس مقامِ رفیع پر فائز ہیں جہاں پہنچ کر کائنات کی مادی حقیقتیں ہیچ ہو جاتی ہیں۔ چنانچہ کچھ عرصہ بعد انہوں نے باقاعدہ طور پر قلندر بابا اولیاءؒ کی روحانی شاگردی اختیار کر لی۔یہ شاگردی محض رسمی بیعت تک محدود نہ تھی، بلکہ یہ ۱۴ سال سے زائد عرصے پر محیط ایک کٹھن، صابرانہ اور والہانہ خدمتِ استاد کا دور تھا۔ ان چودہ سالوں میں خواجہ شمس الدین عظیمیؒ نے اپنے مرشد کے زیرِ سایہ درج ذیل اہم مراحل طے کیے:روحانی و صوفیانہ تعلیم کی تحصیل: کائنات کے باطنی علوم، لوحِ محفوظ کے اسرار اور روشنیوں کے نظریات کا گہرا فکری مطالعہ۔تطہیرِ نفس: مادی خواہشات سے کنارہ کشی اور مرشد کی مرضی کو اپنی مرضی پر مقدم رکھنا۔علومِ لدّنی کا حصول: وہ علم جو کتابوں سے نہیں، بلکہ سینہ بہ سینہ اور القاء کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔

قلندر بابا اولیاء کی خصوصی توجہ اور “خواجہ” کا لقب _

قلندر بابا اولیاءؒ نے اپنے اس مریدِ صادق کی صلاحیتوں، اخلاص اور باطنی استعداد کو بھانپتے ہوئے ان کی روحانی تربیت پر خصوصی اور غیر معمولی توجہ دی۔ تصوف کی اصطلاح میں اسے “توجہِ مرشد” کہا جاتا ہے، جو سالک کے باطنی سفر کی رفتار کو ہزار گنا بڑھا دیتی ہے۔اسی گراں قدر تربیت اور والہانہ محبت کے نتیجے میں قلندر بابا اولیاءؒ نے شمس الدین انصاری کو “خواجہ” کا معزز لقب عطا فرمایا۔ یہ لقب محض ایک نام نہیں تھا، بلکہ یہ اس بات کی سند تھی کہ اب یہ مریدِ خاص خود دنیا کی رہنمائی اور سلوکِ طریقت کی مسند پر بیٹھنے کے قابل ہو چکا ہے۔ چنانچہ لوگوں نے انہیں “خواجہ صاحب” کہنا شروع کر دیا۔

“عظیمی” نسبت: ایک صوفیانہ فخر اور پہچان _

خواجہ شمس الدین عظیمیؒ کو اپنے مرشدِ کریم سید محمد عظیم برخیاؒ سے جو روحانی نسبت اور عقیدت تھی، وہ ان کی تحریروں اور زندگی کے ہر پہلو سے عیاں ہے۔ انہوں نے اس نسبت کو اپنے نام کا لازمی حصہ بنایا اور اپنے نام کے ساتھ “عظیمی” لکھنا شروع کیا۔یہ نسبت ان کے لیے کائنات کا سب سے بڑا اعزاز تھی، جس کا اظہار انہوں نے اپنی مایہ ناز تصانیف (جیسے تذکرہ قلندر بابا اولیاء) میں جابجا کیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں علم و عرفان کے پیاسے اس مریدِ صادق کو “خواجہ شمس الدین عظیمی” کے نام سے جاننے اور پکارنے لگے، اور یوں سلسلہِ عظیمیہ دنیا کے کونے کونے میں پھیل گیا۔

فکری و تحقیقی حاصل _

اگر ہم ان دونوں عظیم ہستیوں کے سفر کا علمی و تحقیقی احاطہ کریں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قلندر بابا اولیاءؒ نے تصوف کو نظریاتی (Theoretical) بنیادیں فراہم کیں، بالخصوص روشنیوں کے نظریے (Theory of Chromolucis) کے ذریعے کائنات کی حقیقت کو واضح کیا۔ دوسری طرف، خواجہ شمس الدین عظیمیؒ نے اپنے مرشد کے ان پیچیدہ اور عمیق نظریات کو انتہائی سادہ، سائنسی اور قابلِ فہم زبان میں کتابوں، کالموں اور لیکچرز کی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔ان کا یہ رشتہ محض ایک استاد اور شاگرد کا نہیں تھا، بلکہ یہ علمِ الٰہی کے بحرِ بے کنار کا وہ تسلسل تھا جس نے عصری علوم اور روحانیت کا ایک ایسا حسین امتزاج پیدا کیاجو قیامت تک آنے والی نسلوں کے ذہنوں کو مادی جمود سے آزادی دلا کر خالقِ کائنات کی معرفت عطا کرتا رہے گا _

تحریر تحقیق اور ترتیب

ندیم انصاری  ٹورنٹو کینیڈا

مورخہ 3 اگست 2026

Loading