Daily Roshni News

حضرت ایوبؑ کی داستان —

حضرت ایوبؑ کی داستان —

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )وہ شخص… جس کا صبر قیامت تک مثال بن گیا**نوٹ:** اس قسط کی بنیاد قرآنِ مجید ہے۔ آخر میں تورات (Book of Job) میں مذکور بعض روایات کا الگ ذکر کیا گیا ہے، جو قرآن کا حصہ نہیں۔

ایک سرسبز وادی…

دور تک پھیلے کھیت…

اونٹوں، بھیڑوں اور مویشیوں کے بڑے بڑے ریوڑ…

اور ان سب کے درمیان ایک شخص…

جس کی زبان پر ہر وقت اللہ کا شکر تھا۔

وہ صرف ایک امیر انسان نہیں تھا…

وہ اللہ کا ایک نیک بندہ تھا۔

لوگ اس کے پاس انصاف کے لیے آتے…

غریب اس کے دروازے سے خالی ہاتھ واپس نہ جاتے…

اور مسافر جانتے تھے کہ اس کے گھر کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔

مگر…

کسی کو معلوم نہیں تھا کہ بہت جلد اس کی زندگی ایسا رخ اختیار کرنے والی ہے…

جسے دنیا صدیوں تک یاد رکھے گی۔

حضرت ایوبؑ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں میں سے تھے۔

قرآن ہمیں ان کی دولت کی تعداد نہیں بتاتا، نہ ہی ان کے محل یا زمینوں کی تفصیل بیان کرتا ہے، لیکن یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بے شمار نعمتوں سے نوازا تھا۔

نعمتوں سے بڑھ کر ان کی اصل پہچان ان کا **شکر** تھا۔

جب رزق ملتا…

وہ کہتے:

“یہ میرے رب کا فضل ہے۔”

جب لوگ تعریف کرتے…

وہ فرماتے:

“ہر بھلائی اللہ کی طرف سے ہے۔”

ان کے گھر سے کبھی کسی محتاج کو مایوسی نہیں ملی۔

وہ یتیموں کا خیال رکھتے…

بیواؤں کی مدد کرتے…

اور مسافروں کی خدمت کو عبادت سمجھتے تھے۔

ان کی زندگی یہ سکھاتی تھی کہ اصل دولت سونے اور چاندی میں نہیں…

بلکہ اللہ کی رضا میں ہے۔

وقت گزرتا رہا۔

لوگ حضرت ایوبؑ کی خوشحال زندگی دیکھتے اور کہتے:

“اللہ نے اپنے اس بندے پر کتنی رحمت برسائی ہے!”

لیکن…

انسان صرف وہی دیکھتا ہے جو اس کی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے۔

وہ آنے والے کل سے بے خبر ہوتا ہے۔

ایک دن…

آزمائش کا دروازہ کھلنے والا تھا۔

ایسی آزمائش…

جس میں مال بھی چلا جائے گا…

اولاد بھی…

صحت بھی…

اور دوست بھی۔

لیکن ایک چیز باقی رہے گی…

**اللہ پر یقین۔**

حضرت ایوبؑ کو ابھی معلوم نہیں تھا کہ ان کا نام رہتی دنیا تک **صبر کی علامت** بننے والا ہے۔

ان کی زبان پر شکوہ نہیں آئے گا…

ان کے دل میں مایوسی نہیں آئے گی…

اور ان کی امید صرف اپنے رب سے وابستہ رہے گی۔

یہی وجہ ہے کہ صدیوں بعد جب قرآن نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر عزت کے ساتھ فرمایا، تاکہ ہر مصیبت زدہ انسان جان لے کہ آزمائش اللہ کی ناراضی کی دلیل نہیں ہوتی، بلکہ کبھی کبھی وہ اللہ کے محبوب بندوں کا امتحان بھی ہوتی ہے۔

اس رات…

وادی پر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔

حضرت ایوبؑ سجدے میں اپنے رب کا شکر ادا کر رہے تھے۔

انہیں کیا معلوم تھا…

کہ اگلی صبح…

ان کی زندگی پہلے جیسی نہیں رہے گی۔

ایک ایک کرکے نعمتوں کے دروازے بند ہونے لگیں گے…

اور صبر کی وہ داستان شروع ہوگی…

جسے دنیا کبھی فراموش نہیں کرے گی۔

**اگلی قسط میں: “ایک دن میں سب کچھ بدل گیا!”**

## 📖 **قرآن کیا کہتا ہے؟**

قرآن حضرت ایوبؑ کا ذکر متعدد مقامات پر کرتا ہے، جن میں **سورۃ الانبیاء (21:83–84)** اور **سورۃ ص (38:41–44)** شامل ہیں۔ قرآن ان کے صبر، دعا اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ شفا کا ذکر کرتا ہے، لیکن آزمائش کی تمام تفصیلات بیان نہیں کرتا۔

## 📜 **تورات (Book of Job) کیا بیان کرتی ہے؟**

تورات میں حضرت ایوبؑ (Job) کی زندگی کے آغاز میں ایک مفصل واقعہ بیان کیا گیا ہے، جس میں آسمانی مجلس اور شیطان کی گفتگو کا ذکر ہے۔ **یہ تفصیل قرآن میں موجود نہیں، اس لیے مسلمان اسے قطعی حقیقت نہیں بلکہ سابقہ کتاب کی روایت کے طور پر دیکھتے ہیں۔**

Loading