قرن کا سوز
جب یمن کی خاموش وادی نے ایک عاشق کو جنم دیا
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيدنا ومولانا محمدٍ سيد الأولين والآخرين، وعلى آله الأطهار، وأصحابه الأخيار، ومن تبعهم بإحسانٍ إلى يوم الدين.
تاریخ کے اوراق پر بعض نام ایسے ثبت ہوتے ہیں جنہیں زمانہ ان کے کارناموں سے یاد رکھتا ہے، اور بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں آسمان ان کے دل کی کیفیت سے پہچانتا ہے۔ پہلے گروہ کے لوگ سلطنتیں قائم کرتے ہیں، شہر آباد کرتے ہیں اور معرکے سر کرتے ہیں؛ مگر دوسرے گروہ کے نفوس خاموش رہتے ہوئے بھی دلوں کی دنیا بدل دیتے ہیں۔
ان کے پاس نہ اقتدار ہوتا ہے، نہ شہرت کی خواہش، نہ مریدوں کے ہجوم اور نہ ہی دنیاوی جاہ و جلال؛ لیکن ان کے سینوں میں ایسا سوزِ محبت ہوتا ہے کہ صدیوں بعد بھی اس کی حرارت اہلِ دل کو گرما دیتی ہے۔
حضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ انہی نفوسِ قدسیہ میں سے ہیں۔
ان کی زندگی اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قرب کا معیار ظاہری ملاقات، شہرت یا منصب نہیں، بلکہ ایمان، اخلاص، ادب اور محبت ہے۔
انہوں نے رسولِ اکرم ﷺ کی ظاہری زیارت نہیں کی، مگر ان کا نام ان خوش نصیبوں میں لکھا گیا جن کا ذکر خود رحمتِ عالم ﷺ نے اپنی زبانِ اقدس سے فرمایا۔ یہ ایسا شرف ہے جو تاریخ میں بہت کم لوگوں کو نصیب ہوا۔
حضرت اویس قرنی کی داستان دراصل ایک انسان کی داستان نہیں، بلکہ اس عشق کی داستان ہے جو فاصلے نہیں دیکھتا، اس ادب کی داستان ہے جو خواہش پر اطاعت کو مقدم رکھتا ہے، اور اس اخلاص کی داستان ہے جو گمنامی میں رہ کر بھی آسمانوں میں پہچان لیا جاتا ہے۔
سرزمینِ یمن، ایمان اور حکمت کی وادی
جزیرۂ عرب کے جنوبی حصے میں واقع یمن قدیم تہذیبوں، خوشحال آبادیوں اور بلند اخلاق رکھنے والے لوگوں کی سرزمین تھی۔ قرآنِ کریم میں قومِ سبا کے ذکر سے اس خطے کی تاریخ کی جھلک ملتی ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے فراوانیِ نعمت عطا فرمائی، مگر ناشکری نے ان کی حالت بدل دی۔ اسی سرزمین نے بعد میں ایسے اہلِ ایمان بھی پیدا کیے جنہوں نے اپنے اخلاص سے اسلام کی تاریخ کو روشن کیا۔
رسول اللہ ﷺ نے اہلِ یمن کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
“تمہارے پاس اہلِ یمن آئے ہیں۔ ان کے دل زیادہ نرم ہیں۔ ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے۔”
یہ صرف ایک جغرافیائی علاقے کی تعریف نہیں، بلکہ اس روحانی استعداد کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کے بہت سے بندوں میں رکھی تھی۔
انہی پہاڑوں، انہی وادیوں اور انہی سادہ بستیوں میں ایک مقام تھا جسے قرن کہا جاتا تھا۔ دنیا کے نقشے میں وہ شاید ایک معمولی بستی تھی، مگر تقدیر نے اسے ایک ایسے مردِ خدا کی جائے پیدائش بنایا جس کا نام رہتی دنیا تک عشقِ رسول ﷺ کی علامت بن گیا۔
ایک خاموش گھر، ایک روشن دل
حضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت کسی شاہی محل میں نہیں ہوئی۔ نہ ان کے گرد علم و دولت کی فراوانی تھی، نہ دنیاوی اسباب کی چمک دمک۔ ان کا گھر سادہ تھا، زندگی فقر سے عبارت تھی، اور روزگار محنت پر قائم تھا۔
لیکن اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو اپنے لیے چن لیتا ہے تو ظاہری اسباب اس کی عظمت کا معیار نہیں رہتے۔
بعض چراغ سونے کے فانوسوں میں جلتے ہیں، اور بعض مٹی کے چراغ دانوں میں؛ مگر روشنی کا تعلق ظرف سے نہیں، آگ سے ہوتا ہے۔
اویس کا دل بھی اسی نور سے منور کیا جا رہا تھا جس کی چمک آنے والے زمانوں میں لاکھوں دلوں تک پہنچنے والی تھی۔
خاموشی بھی ایک تربیت ہوتی ہے
بچپن ہی سے حضرت اویس کی طبیعت میں سکون، تنہائی اور غور و فکر نمایاں تھا۔ رزقِ حلال کے لیے محنت کرنا، لوگوں پر بوجھ نہ بننا، اور فرصت کے اوقات میں اپنے رب کی یاد میں مشغول رہنا ان کی فطرت بنتا جا رہا تھا۔
اولیائے کرام کی زندگیوں میں ایک بات مشترک نظر آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں شہرت کے میدان میں بھیجنے سے پہلے خلوت کی آغوش میں پروان چڑھاتا ہے۔
کیونکہ جو شخص تنہائی میں اللہ کا ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے لوگوں کے دلوں کا بھی محبوب بنا دیتا ہے۔
حضرت اویس کی شخصیت بھی اسی خاموش تربیت کا نتیجہ تھی۔ ان کی زندگی میں شور کم تھا، مگر شعور بہت تھا؛ گفتگو کم تھی، مگر ذکر زیادہ تھا؛ خواہشات کم تھیں، مگر رضا زیادہ تھی۔
اللہ دلوں کو دیکھتا ہے
اسلام انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ عزت کا معیار نہ نسب ہے، نہ دولت، نہ شہرت اور نہ ظاہری وجاہت۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ﴾
“بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔”
حضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کی پوری حیات اسی قرآنی حقیقت کی تفسیر بن کر سامنے آتی ہے۔ دنیا انہیں نہیں جانتی تھی، مگر آسمان انہیں پہچانتا تھا۔ لوگوں کی مجلسوں میں ان کا چرچا نہ تھا، مگر رحمتِ دو عالم ﷺ نے ان کا ذکر اپنی مبارک زبان سے فرمایا۔ یہ وہ عزت ہے جو نہ انسان دیتا ہے اور نہ انسان چھین سکتا ہے۔
ایک خاموش آغاز، ایک ابدی داستان
اس دنیا میں روزانہ ہزاروں بچے پیدا ہوتے ہیں۔ کچھ تاریخ کا حصہ بنتے ہیں اور اکثر تاریخ کے صفحات میں گم ہو جاتے ہیں۔ مگر کبھی اللہ تعالیٰ کسی ایک بچے کے دل میں ایسی کیفیت رکھ دیتا ہے کہ اس کی پوری زندگی آنے والی نسلوں کے لیے چراغ بن جاتی ہے۔
حضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت بھی بظاہر ایک معمول کا واقعہ تھی، مگر حقیقت میں وہ عشق، ادب، اخلاص اور خدمت کے ایک ایسے باب کا آغاز تھا جس کی روشنی آج بھی اہلِ محبت کے دلوں میں محسوس کی جاتی ہے۔
ان کا سفر ابھی شروع ہوا تھا۔ دنیا انہیں ایک غریب نوجوان کے طور پر دیکھ رہی تھی، جبکہ تقدیر انہیں اس مقام کے لیے تیار کر رہی تھی جہاں محبت دیدار سے آگے بڑھ کر روحوں کا رشتہ بن جاتی ہے۔
اے اللہ جس طرح تو نے حضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کے دل کو اخلاص، ادب اور محبتِ مصطفیٰ ﷺ کے نور سے منور فرمایا، ہمارے دلوں کو بھی اسی نور کا حصہ عطا فرما۔ ہمیں شہرت سے زیادہ اخلاص، گفتار سے زیادہ کردار، اور دعووں سے زیادہ اطاعت نصیب فرما۔ ہمارے دلوں کو اپنے محبوب سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کی سچی محبت کا مسکن بنا دے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو اپنی رضا کے لیے چن لیتا ہے۔
آمین یا رب العالمین۔
جاری ہے ۔۔۔
#Khaak_e_rawan
![]()

