ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کیا اللہ سے محبت کا ثبوت بندوں کے ساتھ ہمارے سلوک سے ملتا ہے؟
سورۃ الفاتحہ قرآن کی پہلی سورت ہے، مگر حقیقت میں یہ پورے قرآن کے بنیادی پیغام کا ایک جامع خلاصہ ہے۔ اس میں بندہ اپنے رب کو پہچانتا ہے، اس کی حمد بیان کرتا ہے، اس کی رحمت کو یاد کرتا ہے، آخرت کی جواب دہی کو سامنے رکھتا ہے، پھر اپنی بندگی اور محتاجی کا اقرار کرتا ہے اور آخر میں سیدھے راستے کی دعا مانگتا ہے:
"پس جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔”
یہ یقین انسان کے اندر اندرونی نگرانی پیدا کرتا ہے۔
—
5۔ حقوق العباد صرف بڑی بڑی زیادتیوں کا نام نہیں
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ حقوق العباد کا مطلب صرف:
کسی کی زمین ہڑپ کرنا،
مال چوری کرنا،
یا بہت بڑا ظلم کرنا ہے۔
حالانکہ روزمرہ زندگی میں حقوق العباد کی بے شمار صورتیں ہیں۔
کسی کو جان بوجھ کر ذلیل کرنا بھی ظلم ہو سکتا ہے۔
کسی کا قرض روکنا بھی ظلم ہو سکتا ہے۔
مزدور کی اجرت میں تاخیر کرنا بھی ظلم ہو سکتا ہے۔
کسی کی عزت کے بارے میں جھوٹی بات پھیلانا بھی ظلم ہو سکتا ہے۔
کسی کی نجی بات دوسروں کو بتانا بھی خیانت ہو سکتی ہے۔
کسی کے راستے میں رکاوٹ ڈالنا بھی تکلیف ہے۔
کسی کے حق کو معمولی سمجھنا بھی اخلاقی خرابی ہے۔
اور سوشل میڈیا کے دور میں:
کسی کی تصویر یا ویڈیو کو بغیر اجازت پھیلانا،
کسی پر جھوٹا الزام لگانا،
کسی کی عزت اچھالنا،
یا کسی غیر مصدقہ خبر کو آگے بڑھانا—
یہ سب انتہائی سنجیدہ اخلاقی ذمہ داریوں سے متعلق ہیں۔
—
6۔ "إِيَّاكَ نَعْبُدُ” — عبادت اور اخلاق کا تعلق
اب سورۃ الفاتحہ کا مرکزی جملہ آتا ہے:
إِيَّاكَ نَعْبُدُ
"ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں۔”
یہاں بندہ اپنے رب کے سامنے مکمل بندگی کا اقرار کرتا ہے۔
لیکن بندگی کا مطلب صرف نماز پڑھنا نہیں۔
نماز بنیادی عبادت ہے۔
روزہ بنیادی عبادت ہے۔
زکوٰۃ بنیادی عبادت ہے۔
حج بنیادی عبادت ہے۔
لیکن اللہ کی اطاعت زندگی کے معاملات تک پھیلی ہوئی ہے۔
اسی لیے قرآن نماز کے ساتھ زکوٰۃ، عدل، احسان، والدین کے حقوق، یتیموں اور مساکین کے حقوق، ناپ تول کی درستگی، امانت اور سچائی کی تعلیم دیتا ہے۔
ایک شخص مسجد میں اللہ کے سامنے جھکتا ہے اور پھر بازار میں لوگوں کے حقوق پامال کرتا ہے تو اسے اپنے دین کے اس تضاد پر غور کرنا چاہیے۔
—
7۔ ایک خطرناک غلط فہمی
یہ سمجھنا درست نہیں کہ:
"میں اللہ کے حقوق ادا کر رہا ہوں، بندوں کے حقوق بعد میں دیکھ لیں گے۔”
اسلام میں بندوں پر ظلم کوئی معمولی معاملہ نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے مفلس کے بارے میں ایک نہایت سبق آموز حدیث بیان فرمائی۔
آپ ﷺ نے صحابہؓ سے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟
پھر بتایا کہ حقیقی مفلس وہ شخص ہوگا جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی پر ظلم کیا ہوگا؛ چنانچہ اس کی نیکیاں مظلوموں میں تقسیم کر دی جائیں گی، اور اگر نیکیاں ختم ہوگئیں تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے۔
یہ حدیث صحیح مسلم میں ہے۔
یہ حدیث انسان کو ہلا دیتی ہے۔
کیونکہ یہاں مسئلہ یہ نہیں کہ وہ شخص نماز نہیں پڑھتا تھا۔
وہ نماز پڑھتا تھا۔
روزہ رکھتا تھا۔
زکوٰۃ دیتا تھا۔
لیکن لوگوں کے حقوق پامال کرتا تھا۔
—
8۔ عبادت کا اصل امتحان
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ نماز بے فائدہ ہے۔
بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ صحیح عبادت انسان کے اخلاق کو بھی متاثر کرتی ہے۔
"اور آپ کے رب نے حکم دے دیا کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔”
پھر فرمایا:
فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ
"ان سے اف تک نہ کہنا۔”
یہاں ذرا غور کیجیے۔
اسلام صرف یہ نہیں کہتا کہ والدین کو کھانا دے دو۔
بلکہ زبان کی ایک معمولی سی ناگواری تک سے روکتا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقوق العباد میں لہجہ بھی اہم ہے۔
—
14۔ شوہر اور بیوی
گھر کے تعلق میں بھی سورۃ الفاتحہ کا پیغام زندہ ہونا چاہیے۔
شوہر اگر بیوی سے حسنِ سلوک نہیں کرتا تو اسے اپنے دین کے اخلاقی پہلو پر غور کرنا چاہیے۔
بیوی اگر شوہر کے حقوق کو جان بوجھ کر پامال کرتی ہے تو اسے بھی اپنے رب کے سامنے جواب دہی یاد رکھنی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ
"اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارو۔”
نکاح صرف ساتھ رہنے کا نام نہیں۔
یہ حقوق، ذمہ داری، رحمت اور امانت کا عہد ہے۔
—
15۔ اولاد کے حقوق
بچے صرف کھانے، کپڑے اور اسکول کے محتاج نہیں۔
وہ:
محبت،
توجہ،
تربیت،
حفاظت،
اچھی مثال،
اور اخلاقی رہنمائی
کے محتاج ہیں۔
والدین اگر ہر وقت بچے کو ڈانٹیں مگر خود جھوٹ بولیں تو بچہ الفاظ سے زیادہ عمل سیکھے گا۔
اگر والدین سورۃ الفاتحہ کو سمجھ کر پڑھتے ہیں تو بچے کو یہ دکھائی دینا چاہیے کہ:
ابو غصے کے باوجود ظلم نہیں کرتے۔
امی اختلاف کے باوجود بدزبانی نہیں کرتیں۔
گھر میں غلطی پر اصلاح ہوتی ہے، تذلیل نہیں۔
—
16۔ بازار میں سورۃ الفاتحہ
ایک تاجر نماز میں کہتا ہے:
مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ
پھر دکان کھولتا ہے۔
اس کے سامنے دو راستے ہیں:
صحیح وزن یا کم وزن؟
سچ یا جھوٹ؟
حلال نفع یا دھوکا؟
عیب بتانا یا چھپانا؟
یہی اس کے لیے سورۃ الفاتحہ کا عملی امتحان ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔”
یہ روایت صحیح مسلم میں ہے۔
یہ ایک جملہ پورے بازار کا اخلاقی دستور بن سکتا ہے۔
—
17۔ مزدور اور ملازم کے حقوق
ایک شخص اپنے ملازم کو معمولی سمجھتا ہے۔
وہ اس سے زیادہ کام لیتا ہے۔
اس کی اجرت روک لیتا ہے۔
اسے ذلیل کرتا ہے۔
اور پھر نماز میں کھڑا ہو کر کہتا ہے:
إِيَّاكَ نَعْبُدُ
اسے اپنے عمل اور قول کے درمیان تعلق پر غور کرنا چاہیے۔
اسلام مزدور کی محنت کو حق سمجھتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان کردہ ایک حدیثِ قدسی میں ان لوگوں کے خلاف قیامت کے دن خصومت کا ذکر فرمایا جن میں ایک وہ شخص ہے جو مزدور سے پورا کام لے اور اس کی اجرت ادا نہ کرے۔ یہ صحیح بخاری میں مروی ہے۔
یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں۔
یہ اللہ کے سامنے جواب دہی کا مسئلہ ہے۔
—
18۔ پڑوسی کے حقوق
ایک شخص مسجد میں نماز پڑھتا ہے۔
قرآن سنتا ہے۔
لیکن اس کے پڑوسی اس کی زبان یا ہاتھ سے محفوظ نہیں۔
یہ سوچنے کی بات ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو، وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔”
یہ مضمون صحیح بخاری و صحیح مسلم میں وارد ہوا ہے۔
اس لیے پڑوسی کے حقوق:
صرف کھانا بھیجنے کا نام نہیں۔
بلکہ:
اسے تکلیف نہ دینا،
اس کی عزت کا خیال رکھنا،
ضرورت میں مدد کرنا،
اور اس کے آرام کا لحاظ رکھنا
بھی حسنِ معاشرت ہے۔
—
19۔ زبان — حقوق العباد کا سب سے بڑا میدان
انسان کا ایک چھوٹا سا عضو:
زبان
بہت بڑے حقوق ضائع کر سکتی ہے۔
ایک جملہ:
رشتہ توڑ سکتا ہے۔
ایک الزام:
زندگی تباہ کر سکتا ہے۔
ایک افواہ:
کسی کی عزت ختم کر سکتی ہے۔
ایک طنز:
کسی کے دل میں سالوں زخم رکھ سکتا ہے۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔”
یہ حدیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے۔
—
20۔ سوشل میڈیا اور "مالک یوم الدین”
آج ہماری زبان صرف منہ تک محدود نہیں رہی۔
ہماری انگلیاں بھی بولتی ہیں۔
ایک کلک سے:
جھوٹ پھیل سکتا ہے۔
غیبت پھیل سکتی ہے۔
بہتان پھیل سکتا ہے۔
کسی کی عزت پامال ہو سکتی ہے۔
کسی کا پرانا گناہ دوبارہ لوگوں کے سامنے آ سکتا ہے۔
اس لیے پوسٹ کرنے سے پہلے ایک لمحہ رک کر سوچیں:
مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ
اگر یہ پوسٹ قیامت کے دن میرے سامنے پیش کردی جائے تو کیا میں اسے دیکھ کر خوش ہوں گا؟