کتاب پندرہ دن کی زندگی کی آن لائن تقریب رونمائی ، پاکستان آسٹریلیا لٹریری فورم کے زیر انتظام و انصرام منعقد ہوئی، عالمی سطح پر علمی شخصیات کی بھر پور شرکت ۔۔۔
آسٹریلیا ( ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ خاص مندوب )پندرہ دن کی زندگی کی آن لائن تقریب رونمائی، پاکستان آسٹریلیا لٹریری فورم کے زیر اہتمام عالمی سطح پر ادبی شخصیات کی بھرپور شرکت کی:
حرمین شریفین کے روح پرور سفر پر مبنی معروف صحافی ، کالم نویس و مصنف ارشد قریشی کی کتاب پندرہ دن کی زندگی کی آن لائن تقریب رونمائی پاکستان آسٹریلیا لٹریری فورم کارپوریٹڈ کے زیر اہتمام نہایت منظم، جامع اور شاندار انداز میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے اہل قلم، ادیبوں، دانشوروں، صحافیوں اور ادب سے وابستہ شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور کتاب کے موضوع، اسلوب اور روحانی و ادبی پہلوؤں کو سراہا۔
تقریب کی نظامت کے فرائض پاکستان آسٹریلیا لٹریری فورم کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد محسن علی آرزو نے نہایت خوبصورتی اور عمدگی سے انجام دیے۔ انہوں نے تقریب کے مختلف مراحل کو مربوط انداز میں آگے بڑھایا اور شرکائے تقریب کا خیرمقدم کرتے ہوئے کتاب اور اس کے پس منظر کا تعارف بھی پیش کیا۔
تقریب کی صدارت معروف ادیب، دانشور اور ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی نے کی۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کتاب کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کرتے ہوئے اسے حرمین شریفین کے سفر کی ایک بامعنی، دل نشیں اور روحانی روداد قرار دیا۔ انہوں نے مصنف کے مشاہدات، احساسات اور سفر کے دوران پیش آنے والی کیفیات کو ادبی انداز میں قلم بند کرنے کی کاوش کو قابل تحسین قرار دیا۔
تقریب میں پاکستان آسٹریلیا لٹریری فورم کے صدر ڈاکٹر افضل رضوی نے بھی کتاب پر جامع اور فکر انگیز تبصرہ پیش کیا۔ انہوں نے پندرہ دن کی زندگی کے موضوع، طرز تحریر اور روحانی کیفیت کو اجاگر کرتے ہوئے مصنف کی اس کاوش کو سراہا اور کتاب کو قارئین کے لیے ایک مفید اور قابل مطالعہ سفرنامہ قرار دیا۔
معروف ادبی شخصیت عاطر عثمانی نے کتاب پر اپنی رائے اور تجزیہ پیش کرتے ہوئے مصنف کے مشاہداتی انداز، بیان کی روانی اور حرمین شریفین سے وابستہ جذبات و احساسات کی خوبصورت عکاسی کو سراہا۔ انہوں نے کتاب کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی اور اسے روحانی سفرنامے کی روایت میں ایک قابل ذکر اضافہ قرار دیا۔
ڈاکٹر کاشف بٹ نے بھی کتاب کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے اس کے ادبی اور فکری پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے مصنف کی تحریر میں موجود جذباتی وابستگی، مشاہدے اور روحانی تجربے کو کتاب کی نمایاں خصوصیات قرار دیا۔
معروف ادیبہ محترمہ سیدہ گیلانی نے بھی پندرہ دن کی زندگی پر نہایت خوبصورت اور دلنشیں انداز میں اپنا تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے کتاب کے اسلوب اور اس میں موجود روحانی احساسات کو سراہتے ہوئے کہا کہ حرمین شریفین کا سفر محض ایک جغرافیائی سفر نہیں بلکہ انسان کے باطن کو متاثر کرنے والا ایک عظیم روحانی تجربہ ہے، جسے مصنف نے اپنے انداز تحریر میں مؤثر انداز سے پیش کیا ہے۔
کشمیر سے ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری نے بھی تقریب میں خصوصی شرکت کی اور کتاب کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے مصنف کو اس ادبی کاوش پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کتاب کے مختلف پہلوؤں کو قابل توجہ قرار دیا۔
تقریب میں پاکستان کے مختلف شہروں کے علاوہ آسٹریلیا، ملائشیا، کینیڈا، امریکہ، ہالینڈ اور دنیا کے دیگر ممالک سے بھی ادب دوست شخصیات نے شرکت کی۔ اس عالمی شرکت نے تقریب کو ایک وسیع ادبی اور بین الاقوامی رنگ عطا کیا۔ شرکائے تقریب نے مصنف ارشد قریشی کو کتاب کی اشاعت اور تقریب رونمائی پر مبارک باد پیش کی اور ان کے لیے مزید ادبی کامیابیوں اور تخلیقی سفر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
پندرہ دن کی زندگی دراصل حرمین شریفین کے سفر کے دوران پیش آنے والے مشاہدات، احساسات، کیفیات اور روحانی تجربات پر مبنی ایک سفرنامہ ہے۔ مصنف نے مقدس مقامات سے اپنی قلبی وابستگی، سفر کے مختلف مراحل، وہاں کے مناظر اور روحانی کیفیتوں کو اپنے مخصوص انداز بیان میں قلم بند کیا ہے۔ کتاب کا بنیادی امتیاز یہ ہے کہ اس میں سفر کو محض واقعات اور مقامات کی تفصیل تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اسے ایک ایسے روحانی تجربے کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو قاری کو بھی اس سفر کی کیفیت میں شریک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
تقریب کے دوران مقررین نے اس امر پر بھی زور دیا کہ حرمین شریفین سے متعلق ادب ہمیشہ سے مسلمانوں کے لیے خصوصی کشش کا باعث رہا ہے، اور ایسے سفرنامے نئی نسل کو مقدس مقامات، ان کی تاریخ، روحانی اہمیت اور وہاں سے وابستہ جذبات سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر مصنف ارشد قریشی نے پاکستان آسٹریلیا لٹریری فورم کے صدر ڈاکٹر افضل رضوی، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمد محسن علی آرزو، صدر محفل پروفیسر ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی، کتاب پر اظہار خیال کرنے والی تمام معزز شخصیات اور دنیا بھر سے آن لائن شرکت کرنے والے تمام اہل قلم اور ادب دوست احباب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان آسٹریلیا لٹریری فورم کا تہہ دل سے ممنون ہوں کہ انہوں نے براعظموں کے فاصلوں کو سمیٹ کر میری اس کتاب کی پذیرائی کے لیے یہ خوبصورت اور پروقار محفل آراستہ کی۔
مصنف نے کہا کہ ان کی کتاب کی تقریب رونمائی کو پاکستان اور دنیا کے مختلف ممالک سے اہل ادب کی محبت اور شرکت نے ان کے لیے ایک یادگار موقع بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کے سفر سے حاصل ہونے والی کیفیات کو کتابی صورت میں قارئین تک پہنچانا ان کے لیے محض ایک ادبی تجربہ نہیں بلکہ ایک قلبی اور روحانی سعادت بھی ہے۔
تقریب کے شرکاء نے پاکستان آسٹریلیا لٹریری فورم کی جانب سے ایک معیاری ادبی سرگرمی کے انعقاد اور اسے بین الاقوامی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کرنے پر منتظمین کو خراج تحسین پیش کیا۔ تقریب مجموعی طور پر ایک بھرپور ادبی، روحانی اور فکری نشست ثابت ہوئی جس نے مختلف ممالک میں مقیم اہل ادب کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کیا۔
![]()

