Daily Roshni News

کبھی کبھی میں سوچتی ہوں، دکھ آخر ہوتا کیا ہے؟

کبھی کبھی میں سوچتی ہوں، دکھ آخر ہوتا کیا ہے؟

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کیا ہر اداسی غم ہوتی ہے؟ کیا  آنکھ کا نم ہونا آپ کو ملے کسی  دکھ کی نشانی ہے؟ یا کچھ دکھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا کوئی نام نہیں ہوتا، کوئی واضح وجہ نہیں ہوتی، بس ایک دن اچانک دل پر ایک بوجھ سا اتر آتا ہے اور انسان خود سے پوچھتا رہ جاتا ہے کہ آخر میں اداس کیوں ہوں؟

کبھی کوئی بہت پیاری چیز آپ سے کھو  جاتی ہے۔ کبھی کوئی خوبصورت وقت گزر جاتا ہے اور واپس نہیں آتا۔ کبھی کوئی رشتہ فاصلے میں بدل جاتا ہے۔ کبھی اپنا کوئی بہت پیارا انسان مسلسل تکلیف میں ہوتا ہے اور آپ کے پاس اس تکلیف کو ختم کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔

اور شاید سب سے مشکل دکھ وہ ہوتا ہے جس کے سامنے آپ کی محبت بھی بےبس ہو جائے۔

مجھے آج تک یہ فرق پوری طرح سمجھ نہیں آیا کہ اداسی اور غم میں اصل فرق کیا ہے۔

مگر اتنا ضرور محسوس کیا ہے کہ دونوں ایک نہیں ہیں۔

اداسی شاید ایک کیفیت ہے۔ وہ آتی ہے، کچھ دیر دل پر ٹھہرتی ہے اور کبھی کسی اچھی خبر، کسی خوبصورت لمحے، کسی گفتگو یا کسی چھوٹی سی خوشی کے ساتھ کچھ پیچھے ہٹ جاتی ہے۔

مگر غم…

غم شاید انسان پر نہیں آتا، انسان کو اوڑھ لیتا ہے۔

وہ دل سے شروع ہوتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ انسان کی پوری ذات میں پھیل جاتا ہے۔ وہ خاموشی سے اندر اترتا رہتا ہے، یہاں تک کہ ایک دن محسوس ہوتا ہے کہ یہ درد اب میرے اندر ہی کہیں مستقل رہتا ہے ۔

پھر سوال آتا ہے کہ غم کو ناپا کیسے جائے؟

کیا آنسو اس کی پیمائش ہیں؟ راتوں کی بےخوابی؟ خاموشی؟ دل کا بوجھ؟ یا وہ لمحے جب انسان کو لگتا ہے کہ اب شاید اس سے زیادہ کچھ برداشت نہیں ہوگا؟

اگر میں اپنے غم کا پیمانہ بناؤں تو شاید وہ انیس برس کے لمحوں سے بھر جائے۔

انیس برس…

ایک ایسا بچہ جو دنیا میں تو آیا، مگر دنیا کو دنیاوی اصولوں۔سے دیکھ، سمجھ اور بیان نہ کر سکا۔

جو دیکھ نہیں سکتا۔ بول نہیں سکتا۔ اپنی تکلیف بتا نہیں سکتا۔ اپنی ضرورت سمجھا نہیں سکتا۔

اور ایک ماں جو ہر لمحہ اس کے چہرے، آواز، حرکت، خاموشی اور بےچینی سے اندازہ لگانے کی کوشش کرتی رہی کہ میرے بچے کو کیا چاہیے۔

یہاں غم صرف اس بات کا نہیں کہ میرا بچہ دوسروں سے مختلف ہے۔

غم اس بات کا بھی ہے کہ وہ تکلیف میں ہو اور میں ہمیشہ اس تکلیف کو اس سے دور نہ کر سکوں۔

غم اس بات کا ہے کہ کبھی کبھی میں اس کی جسمانی حرکات میں وہ سوال ڈھونڈتی ہوں جسے وہ لفظوں میں پوچھ ہی نہیں سکتا۔

اور شاید سب سے بڑا غم یہ ہے کہ ماں اپنے بچے کے لیے دنیا کی ہر تکلیف اپنے اوپر لے لینا چاہتی ہے، مگر کچھ تکلیفیں ایسی ہوتی ہیں جو منتقل نہیں کی جا سکتیں۔

آپ چاہیں تو بھی نہیں۔

شاید اسی لیے اپنے بچے کا دکھ ہمیں کسی دوسرے کے دکھ سے کہیں زیادہ بڑا محسوس ہوتا ہے۔

مگر کیا واقعی غم کی شدت رشتے کے حساب سے ناپی جا سکتی ہے؟

نہیں۔

کیونکہ غم کا کوئی ایک پیمانہ نہیں ہوتا۔

ایک ہی واقعہ کسی کے لیے زندگی کا سب سے بڑا سانحہ ہو سکتا ہے اور کسی دوسرے کے لیے محض ایک خبر۔

یہ ضروری نہیں کہ دوسرا شخص بےحس ہو۔

بس ہر انسان کا دل الگ جگہ سے ٹوٹتا ہے۔

ہر شخص کی برداشت مختلف ہے۔ ہر رشتے کی گہرائی مختلف ہے۔ ہر محبت کی شدت مختلف ہے۔

اور کچھ غم ایسے بھی ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ کم نہیں ہوتے۔

انسان بس ان کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے۔

وہ غم پھر کسی واقعے کا نام نہیں رہتے۔ وہ انسان کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔

لہجے میں اتر آتے ہیں۔ خاموشیوں میں سنائی دیتے ہیں۔ آنکھوں میں نمی بن کر ٹھہر جاتے ہیں۔ اور آخرکار دعاؤں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

شاید اسی لیے کچھ لوگ دوسروں کے غم کو بھی بہت گہرائی سے محسوس کرتے ہیں۔

وہ جب کہیں کسی ماں کو اپنے بچے کے ساتھ جان مارتے دیکھتے ہیں، کسی باپ کو بےبس دیکھتے ہیں، کسی ماں کو خاموشی سے زندگی کا بوجھ اٹھاتے دیکھتے ہیں تو ان کا اپنا پرانا زخم بھی جاگ جاتا ہے۔

کچھ دل صرف اپنا غم نہیں رکھتے۔

وہ دوسروں کے غم کے لیے بھی جگہ بنا لیتے ہیں۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ کبھی کسی اجنبی کی تکلیف بھی اپنی لگنے لگتی ہے۔

پھر میں سوچتی ہوں، کیا انسان کے اندر صرف غم ہوتا ہے؟

نہیں۔

غم کے ساتھ بہت کچھ ہوتا ہے۔

بےبسی۔ خوف۔ حیرت۔ تھکن۔ رحم۔ شفقت۔ غصہ۔ امید۔ اور وہ بےشمار سوال جو انسان اپنے خالق سے نہیں تو کم از کم خود سے ضرور کرتا ہے۔

کیوں؟

میرے ساتھ ہی کیوں؟

یہ کب ختم ہوگا؟

کیا میں ہمیشہ ایسے ہی رہوں گی؟

اور کبھی کبھی ان سب سوالوں کے درمیان ایک بہت چھوٹی سی امید بھی کہیں زندہ رہتی ہے۔

بس اتنی کہ کل شاید آج سے ذرا آسان ہو۔

پھر ایک اور سوال دل میں آتا ہے۔

اگر غم اتنا گہرا ہوتا ہے تو خوشیاں کیوں نہیں ٹھہرتیں؟

خوشی کیوں چند لمحوں کی مہمان ہوتی ہے؟

شاید اس لیے کہ خوشی کو ہم محسوس کرتے ہیں، مگر غم ہمیں محسوس کرتا ہے۔

خوشی ہمارے دن کو روشن کرتی ہے، غم ہماری پوری زندگی کی ترتیب بدل دیتا ہے۔

اسی لیے کبھی کبھی خوشی بھی آتی ہے تو ہم اسے پوری طرح خوشی کی طرح محسوس نہیں کر پاتے۔

وہ بھی اپنے ساتھ گزرے ہوئے دنوں کا سایہ لے آتی ہے۔

بچے کی ایک مسکراہٹ خوش کرتی ہے، مگر اسی مسکراہٹ کے پیچھے گزرے ہوئے ان گنت مشکل دن بھی یاد آ جاتے ہیں۔

کوئی معمولی سا اچھا لمحہ ملتا ہے تو دل خوش ہوتا ہے، مگر دل کے کسی کونے میں یہ خوف بھی بیٹھا ہوتا ہے کہ یہ لمحہ کتنی دیر کا ہے؟

شاید طویل غم کے ساتھ جینے والے لوگ خوشیوں سے بھی تھوڑا ڈرنے لگتے ہیں۔

وہ خوشی کو ہاتھ میں پکڑتے ہوئے سوچتے ہیں کہ کہیں یہ بھی چھن نہ جائے۔

اور پھر ایک وقت آتا ہے جب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ غم ختم نہیں ہوا۔

بس وہ بدل گیا ہے۔

پہلے وہ چیختا تھا، اب خاموش ہے۔

پہلے آنکھوں سے بہتا تھا، اب دعاؤں میں اتر گیا ہے۔

پہلے ہر لمحہ توڑتا تھا، اب انسان کو اندر سے نرم کر دیتا ہے۔

اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے غم کے ساتھ رہنا سیکھتا ہے۔

اسے بھول کر نہیں۔

اسے شکست دے کر نہیں۔

بلکہ اسے اپنی زندگی کا حصہ مان کر۔

ہم سب اپنے اپنے غموں کے ساتھ ایک عجیب سفر میں ہیں۔

کسی کے پاس دکھ کا نام ہے، کسی کے پاس اس کی وجہ، اور کسی کے پاس صرف ایک بےنام بوجھ۔

مگر شاید ہر بڑے غم کی ایک مشترک حقیقت ہے:

وہ صرف دل میں نہیں رہتا۔

وہ جسم میں اترتا ہے، سانسوں میں شامل ہوتا ہے، رویوں کو بدلتا ہے، خاموشیوں کو گہرا کرتا ہے، اور کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے رگوں میں خون کے ساتھ غم بھی گردش کر رہا ہو۔

پھر بھی انسان چلتا رہتا ہے۔

صبح اٹھتا ہے۔ ناشتہ بناتا ہے۔ بچے کو سنبھالتا ہے۔ گھر کے کام کرتا ہے۔ لوگوں سے بات کرتا ہے۔ کبھی ہنستا بھی ہے۔

اور دنیا سمجھتی ہے کہ شاید اب سب ٹھیک ہے۔

دنیا کو کیا معلوم…

کچھ لوگ ٹھیک نہیں ہوتے۔

وہ صرف اپنے غم کے ساتھ جینا سیکھ لیتے ہیں۔

اور شاید زندگی کا سب سے خاموش معجزہ بھی یہی ہے۔

کہ انسان ٹوٹ جانے کے بعد بھی کسی کو تھامے رہتا ہے۔

اپنے اندر طوفان لیے ہوئے بھی کسی دوسرے کے لیے دعا کرتا ہے۔

اور اپنے حصے کا غم اٹھائے ہوئے بھی کسی اور کے درد کو دیکھ کر کہتا ہے:

میں تمہارا درد شاید ختم نہ کر سکوں، مگر میں اسے سمجھنے کی کوشش ضرور کروں گا۔

شاید غم کا کوئی پیمانہ نہیں ہوتا۔

شاید اس کی پیمائش صرف اتنی ہے کہ انسان اس کے ساتھ جیتے ہوئے بھی محبت کرنا نہ چھوڑے۔

اور شاید میرے لیے انیس برس کا سب سے بڑا سبق یہی ہے:

غم نے مجھ سے بہت کچھ لیا ہے، مگر اس نے مجھے دوسروں کے غم کو محسوس کرنے والا دل بھی دیا ہے۔

اور کچھ غم شاید اسی لیے ہماری زندگی میں رہ جاتے ہیں…

تاکہ ہم صرف اپنے لیے نہیں، کسی اور کے لیے بھی نرم رہ سکیں۔

Loading