Daily Roshni News

ٹاور آف سائلنس

دنیا میں کچھ ایسے مذاہب بھی ہیں جہاں مرنے کے بعد انسان کو نہ جلایا جاتا ہے اور نہ ہی دفنایا جاتا ہے
دنیا بھر میں مردوں کو ٹھکانے لگانے کے مختلف طریقے موجود ہیں—مسلمان اور عیسائی زمین میں دفن کرتے ہیں، جبکہ ہندو اور سکھ چتا پر جلا کر آخری رسومات ادا کرتے ہیں۔ لیکن آتش پرست (زرتشتی / پارسی) اور ہمائلائی بدھ مت کے پیروکاروں کا طریقہ ان سب سے بالکل الگ، حیران کن اور گہرے فلسفے پر مبنی ہے۔
آئیے ان دونوں منفرد اور تاریخی طریقوں کے بارے میں تفصیل سے جانتے ہیں:
1. آتش پرست (زرتشتی / پارسی) اور ان کی انوکھی آخری سفر کی روایت
آتش پرست یا زرتشتی مذہب کے پیروکار اپنے آتشفشاں اور مقدس آتشکدوں (Fire Temples / آتش بہرام) کے لیے جانے جاتے ہیں، جہاں مقدس آگ کو صدیوں سے مسلسل روشن رکھا جاتا ہے۔ لیکن ان کی آخری رسومات کا نظام اور بھی زیادہ حیرت انگیز ہے۔
چار عناصر کا احترام اور لاش کا فلسفہ:
زرتشتی مذہب میں قدرتی عناصر—آگ، پانی، مٹی اور ہوا—کو انتہائی پاک اور مقدس مانا جاتا ہے۔ ان کے عقیدے کے مطابق:
انسان کی موت کے بعد اس کا جسم ناپاک (نسوش) ہو جاتا ہے۔
اگر لاش کو جلایا جائے تو مقدس آگ ناپاک ہوتی ہے۔
اگر لاش کو دفنایا جائے تو مٹی اور زمین آلودہ ہوتی ہے۔
اگر پانی میں بہایا جائے تو پاک پانی کثیف ہوتا ہے۔
دخمہ (Tower of Silence / ٹاور آف سائلنس):
اس مسئلے کا حل انہوں نے ‘دخمہ’ کی شکل میں نکالا۔ دخمہ ایک بہت بڑا، گول اور اونچا قلعہ نما ڈھا نچہ ہوتا ہے جو آبادی سے دور کسی اونچی پہاڑی یا ٹیلے پر بنایا جاتا ہے۔
داخلہ: اس کے اندر صرف مخصوص افراد (خاندیا یا نصاسالار) ہی جا سکتے ہیں۔
تلفی کا طریقہ: میت کو غسل دینے کے بعد دخمہ کی چھت پر کھلے آسمان تلے رکھ دیا جاتا ہے۔
گدھوں کا کردار: سورج کی شدید شعاعیں اور خاص طور پر پہاڑی گدھ (Vultures) چند ہی گھنٹوں میں لاش کے تمام گوشت کو کھا کر ختم کر دیتے ہیں۔
استولدان (ہڈیوں کا کنواں): جب صرف خشک ہڈیاں باقی رہ جاتی ہیں، تو انہیں دخمہ کے درمیان میں بنے ایک گہرے کنویں میں ڈال دیا جاتا ہے، جہاں چُونے، کوئلے اور ریت کے قدرتی فلٹر کے ذریعے وہ ہڈیاں خود بخود مٹی میں تحلیل ہو جاتی ہیں۔
(جدید دور میں گدھوں کی کمی کے باعث اب کئی جگہوں پر زرتشتی برادری سولر کنسنٹریٹرز (Solar Concentrators) کی مدد سے لاشوں کو سکھانے کا کام بھی لے رہی ہے)
2. پہاڑوں پر آکاشی تدفین (Sky Burial / اسکائی بریل)
آتش پرستوں سے ملتا جلتا ایک اور شاندار لیکن سنسنی خیز طریقہ تبت، منگولیا اور ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑوں پر رہنے والے بدھ مت کے پیروکاروں کا ہے، جسے “اسکائی بریل” یا “جھاٹور” (Jhator) کہا جاتا ہے۔
پہاڑوں پر لاش چھوڑنے کی مجبوری اور فلسفہ:
تبت کی چٹانی زمین اور شدید برف باری کی وجہ سے وہاں قبر کھودنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے، اور لکڑیوں کی شدید کمی کے باعث لاش کو جلایا بھی نہیں جا سکتا۔ اس قدرتی چیلنج کو انہوں نے ایک گہرے بدھ فلسفے میں بدل دیا:
‘روگیاپا’ اور آخری طریقہ: میت کو سمندر کی سطح سے ہزاروں فٹ کی بلندی پر واقع مخصوص چٹانوں (Sky Burial Grounds) پر لے جایا جاتا ہے۔ وہاں ایک مخصوص شخص، جسے ‘روگیاپا’ کہا جاتا ہے، لاش کو پرندوں کے کھانے کے قابل بناتا ہے۔
گدھوں کی آمد: منٹوں میں سینکڑوں کی تعداد میں پہاڑی گدھ چٹان پر اترتے ہیں اور جسم کو مکمل طور پر ختم کر دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ باقی ماندہ ہڈیوں کو بھی پیس کر جو کے آٹے میں ملا کر پرندوں کو کھلا دیا جاتا ہے۔
جسم کا آخری عطیہ: بدھ مت کے مطابق انسان کا جسم روح نکلنے کے بعد ایک خالی لباس کی طرح ہوتا ہے۔ اپنے مرنے کے بعد بھی اپنے جسم سے بھوکے پرندوں کا پیٹ بھرنا “عظیم ترین سخاوت اور رحم دلی” (Karuna) کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
خلاصہ:
جہاں دنیا کے تمام مذاہب میں مردوں کو زمین کی آغوش میں سپرد کرنے یا آگ کے حوالے کرنے کا رواج زیادہ عام ہے، وہیں آتش پرستوں کا ‘دخمہ’ اور تبتیوں کا ‘اسکائی بریل’ قدرتی ماحول کی حفاظت اور جانداروں کی خدمت کا ایک منفرد نمونہ پیش کرتے ہیں
کیا آپ ان دونوں میں سے کسی رسم کے بارے میں پہلے سے جانتے تھے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور لکھیں
تحریر و تحقیق آفرین عاقب

#ٹاور_آف_سائلنس #آتش_پرست #پارسی_ثقافتکیا #حیرت_انگیز_حقائق #مذاہب_عالم #زرتشتی #تبت #آکاشی_تدفین #فرہنگ #معلومات

Loading