شباب کی باتیں
زبان مادری کچھ بھی نہیں گونگی ہے ماں میری
تحریر ۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔۔ زبان مادری کچھ بھی نہیں گونگی ہے ماں میری۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب )گزشتہ کالم بہ عنوان،ایک گلی کی بات تھی اور گلی گلی گئی، کے آغاز میں ہم نے جو گزارش کی تھی، کہ بعض اوقات کالم اپنے لکھنے والے کے لیے کمبل بن جاتے ہیں، تو اسی صورتحال کا ایک بار پھر ہمیں سامنا ہے، گویا بقول شاعر، مقطع میں آپڑی ہے سخن گسترانہ بات، ہم نے انجمن ستائشں باہمی کا تذکرہ کرتے ہوئے بعض کرم فرماؤں کی جانب سے ان کے پسندیدہ قلمکاروں کی تحریروں پر بعض اوقات (بلا وجہ) واہ واہ کے ڈونگرے برسانے کی جانب اشارہ کیا تھا۔ ہم نے اگرچہ کسی کا نام بھی نہیں لیا تھا مگر ہمارے ایک دیرینہ کرم فرما اور سینیئر شاعر جناب نشاط سرحدی نے لگی لپٹی رکھے بغیر، ہمارے ایک لفظ پر گرفت کرتے ہوئے اسے پسند نہیں فرمایا اور نہ صرف محولہ شاعر یا بقول ان کے شاعرہ کا نام ظاہر کر دیا بلکہ یہ بھی لکھ کر ایک نیا پنڈورا باکس کھولنے کی ابتدا کی اور فرمایا کہ “اردو سے ناواقف لکھاریوں نے ایک بار نہیں چار پانچ مرتبہ شاعر لکھا جبکہ یہ ایک شاعرہ کی غزل ہے”.
اب جہاں تک بقول جناب نشاط سرحدی، “اردو سے ناواقف لکھاریوں” کا تعلق ہے تو ہماری ناقص رائے میں ان محولہ اردو سے ناواقف لوگوں کا شاعرہ کو شاعر لکھنے کے قصور وار وہ نہیں ہیں، کیونکہ لفظ شاعر کو ہم نے ہی واوین میں لکھا تھا تو ظاہر ہے جس نے بھی استفسار کرتے ہوئے اس لفظ کا اعادہ کیا، اس کی ذمہ داری ہم اپنے اوپر لیتے ہیں۔ یعنی “اردو سے ناواقف” لوگوں کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے۔ بقول احمد خلیل
ایسا ہمدرد تیرے بعد کہاں تھا جس نے
لغزشوں پر بھی میری کھل کے مذمت کی ہو
اور یہی وہ نکتہ ہے، جسے ہم نے جناب نشاط سرحدی کی جانب سے ایک نیا پنڈورا باکس کھولنے کا باعث قرار دیا ہے۔
گزارش یہ ہے کہ شاعرہ کو شاعر لکھنے کی غلطی سرزد ہونے کی ذمہ داری قبول کرنے کے باوجود ہم اساتذہ کرام سے رجوع کرنے پر مجبور ہیں اور وہ یوں کہ ایک بار محترم ناصر علی سید نے کسی تقریب میں نظامت کرتے ہوئے شاعرہ کا لفظ استعمال کیا، تو استاد مکرم رضا ہمدانی مرحوم نے ان سے کہا کہ “ناصر! ادب میں مردانہ زنانہ ڈبے نہیں ہوتے، خواہ مرد ہو یا خاتون وہ شاعر ادیب ہی کے لقب سے پکارے جائیں گے۔”
اس حوالے سے اپنا استدلال پیش کرنے سے پہلے مرزا غالب کی بذلہ سنجی کے حوالے سے ایک واقعہ بھی ان دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہے، اس پر بھی نظر ڈالتے ہیں۔ ( ویسے اس پوسٹ کے حقیقی ہونے یا پھر کسی کے ذہنی اختراع ہونے کی ذمہ داری ہم نہیں لے سکتے بس تفنن نےطبع کے لیے شامل کر رہے ہیں), کہتے ہیں کہ مرزا غالب دوستوں کی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے اور دہلی اور لکھنو کی اردو میں فرق پر گفتگو جاری تھی کہ کسی نے مرزا غالب سے پوچھا، حضور میرا قلم صحیح ہے یا میری قلم؟ مرزا غالب نے کہا عورت لکھے تو میری قلم, مرد لکھے تو میرا قلم. اسی طرح کسی نے پوچھا, جوتا صحیح ہے یا جوتی؟ ایک صاحب نے بحث میں کودتے ہوئے کہا, بھائی مرزا تو یہی کہیں گے کہ عورت پہنے تو جوتی مرد پہنے تو جوتا. اس پر مرزا غالب نے جواب دیا، جی نہیں زور سے پڑے تو جوتا، آہستہ پڑے تو جوتی۔
خیر یہ تو جیسا کہ عرض کیا تفنن طبع کے لیے تھا، حالانکہ لکھنو میں، “جوتی چل گئی” ، جیسے محاورے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ویسے شکر ہے کہ یہ بحث نظیر اکبر آبادی کے دور تک نہیں پہنچی ورنہ وہ تو اپنے ہی رنگ میں کہہ گئے ہیں۔
مسجد بھی آدمی نے بنائی ہے یاں میاں
بنتے ہیں آدمی ہی امام اور خطبہ خواں
پڑھتے ہیں آدمی ہی قران و نماز یاں
اور آدمی ہی ان کی چراتے ہیں جوتیاں
جو ان کو تاڑتا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
خیر جانے دیں اور اصل موضوع کی جانب واپس آتے ہیں، یعنی یہ جو مسئلہ شاعر و شاعرات کا سامنے آیا ہے اور جس کے بارے میں استاد رضا ہمدانی مرحوم نے ادب کو مردانہ، زنانہ ڈبوں میں تقسیم کرنے کی ممانعت کی تھی، ان دونوں نظریات کے حوالے سے ہماری ذاتی رائے کیا ہے؟ اس سے قطع نظر ، بلکہ اس کو ادب کے اساتذہ پر چھوڑتے اور کسی بھی موقف کو غلط قرار دینے سے گریز کرتے ہوئے، عرض کریں گے کہ اگر جناب نشاط سرحدی کی بات کو درست مانا جائے تو پھر افسانہ نگار اور افسانہ نگارہ، ناول نگار اور ناول نگارہ، کالم نگار اور کالم نگارہ جبکہ کالم نویس کو کالم نویسہ، ڈرامہ نگار کو ڈرامہ نگارہ وغیرہ وغیرہ لکھنا پڑے گا۔ حالانکہ صرف شاعرہ کے علاوہ دیگر تمام اصناف میں بقول استاد رضا ہمدانی مردانہ، زنانہ ڈبے موجود نہیں ہیں۔ یعنی جب ہم انگریزی زبان سے رجوع کرتے ہیں تو پوئٹ یعنی شاعر اور پوئٹیس یعنی شاعرہ کے الفاظ مروج نظر آتے ہیں۔ البتہ دیگر اصناف، جن کا اوپر کی سطور میں ذکر کیا گیا ہے، وہاں صرف تذکیر تو ہے تانیث نہیں ہے۔ یعنی ناولسٹ، کالمسٹ، شارٹ سٹوری رائٹر وغیرہ وغیرہ جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ اس لیے اس بحث کو اپنی جانب سے کسی حتمی رائے تک محدود کرنے سے گریز کرتے ہوئے، ہم اس مسئلے کو ہر قلمکار کی اپنی صوابدید پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اب جس کی جو مرضی ہے اور وہ جو بہتر سمجھے، لکھے اور پڑھے۔ کیونکہ جب ہم پنڈورا باکس کا تذکرہ کرتے ہیں تو اس میں لفظ پنڈورا باکس کے تاریخی پس منظر پر بھی ہمیں نگاہ ڈالنی پڑے گی، کہ عام فہم زبان میں اس “باکس” سے برآمد ہونے والی مشکلات کا تذکرہ بھی ادبی اور تاریخی روایات کا حصہ ہے، جس سے گریز ہی بہتر ہے۔ یعنی فلم یکے والی کے ایک منظر میں ظریف مرحوم “ماما جی دی عدالت” کے تحت جو فیصلہ سناتا ہے کہ توں بھٹی لائی جا، تے توں بھٹی ڈھائی جا۔ تو جس کی جو مرضی اپنے موقف کی
پاسداری کرے کہ بقول شاعر
نہ اردو ہے زباں میری نہ انگلش ہے زباں میری
زبان مادری کچھ بھی نہیں گونگی ہے ماں میری
![]()

