Daily Roshni News

یوم ِ آزادی ہم سے احساس ِ ذمہ داری کا تقاضہ کرتا ہے۔۔۔تحریر۔۔۔ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

یوم ِ آزادی ہم سے احساس ِ ذمہ داری کا تقاضہ کرتا ہے

عالمی علمی و ادبی فورم کی تقریب کے لیے تحریر کیا گیا

ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی  نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ یوم ِ آزادی ہم سے احساس ِ ذمہ داری کا تقاضہ کرتا ہے۔۔۔تحریر۔۔۔ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی)ج 14 اگست ہمارے وطن پاکستان کے قیام کا دن ہے، یوم آزادی کا دن ہے۔ آج ہم خوشی منارہے ہیں چراغا کررہے ہیں،  ہمارے ملک کے گلی کو چے جھنڈیوں، قومی پرچموں اور قومی نغموں سے گونج رہے ہیں۔ جس جانب دیکھیں چھوٹے بڑے، خاص طور پر بچے ہرے رنگ اور قومی پرچم والے کپڑے پہنے خوشی منارہے ہیں، ہر طرف ملی نغموں کی گونج ہے سب کے چہروں پر خوشی ہے، پاکستان سے سچی محبت کا اظہار نمایا ہے۔ یہ اچھی بات ہے، اپنے وطن سے محبت کا اظہار مختلف طریقوں سے کیا جارہا ہے، مختلف علمی، ادبی، سماجی تنظیمو ں کے زیر اہتمام اسکولوں، کالجوں، جامعات اور دیگر اداروں میں یوم پاکستان کے حوالے سے تقریبات کا انعقاد کیا جارہا ہے۔  عالمی علمی و ادبی فورم کے تعاون سے مجلس مذاکرے کا اہتمام کیا، جو قابل تحسین ہے۔ منتظمین کو مبارک باد۔

 یومِ آزادی کے دن مختلف انداز سے خوشیاں منانا ایک اچھی روایت ہے، انہیں ایسا ہی ہونا چاہیے، بلکہ حکومتی سطح پر اس دن قیام پاکستان کی خوشی میں خصوصی طور پر سرپرستی کرنی چاہیے، قومی جھنڈوں اور جھنڈیوں کی مفت تقسیم حکومت کی جانب سے کی جاسکتی ہے۔ مختلف تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں، ادبی تنظیموں یوم آزادی کے دن مختلف پروگراموں کا اہتمام کریں اس مقصد کے لیے حکومت کی جانب سے بجٹ مختص اچھا اقدام ہوگا، بچوں کے پروگراموں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

 یہ تمام باتیں اور اقدامات قابل ستائش ہیں، کر نے چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ دن ہمیں ماضی کی یاد بھی دلاتا ہے کہ ہمارے وطن کا قیام کس طرح معرض وجود میں آیا، ہمارے بزرگوں نے اس کی آزادی کے لیے جو جانی و مالی قربانیاں دیں انہیں اپنی نئی نسل کو آگاہ کرنے کا دن ہے، یہ دن ہمیں اپنے حال کا جائزہ لینے کا دن ہے اور اپنے مستقبل کی ذمہ داری قبول کرنے کا دن ہے۔ پاکستان عظیم جدوجہد، جانی و مالی قربانیوں، طویل اور کٹھن راستے پر چل کر حاصل ہوا ہے۔ بے شمار خاندانوں نے ہندوستان سے پاکستان ہجرت کی، وہ اپنا گھر بار، مال اسباب، جائیدادیں چھوڑ کر پاکستان آئے۔ ہجرت کے دوران انہوں نے جو اذیتیں اٹھائیں انہیں یاد کرنے کا دن ہے۔ہمارے بزرگوں نے اس پاکستان کے لیے، آزاد وطن کے حصول کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ، جان و مال کی قربانیاں دیں اور مشکلات برداشت کیں۔قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے ایک ایسی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی جہاں وہ آزادی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر سکیں۔

 پاک وطن تو حاصل ہو گیا، قیام پاکستان کے ابتدائی سالوں کی مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کر لیا گیا، اب سوال ہمارے سامنے یہ ہے کہ ہم نے ان78سالوں میں وطن کو مضبوط کرنے، ترقی کی راہ پر گامزن کرنے، مضبوط پاکستان بنانے کے لیے اپنا حصہ کس قدر ڈالا، یہ بات واضح اور عیاں ہے کہ نہیں ہم سے کوتائی ہوئی، لاپروائی ہوئی، ہم نے جو فیصلے کیے ان سے ہمارا وطن مضبوط اس معنی میں تو ہوا کہ ہم ایٹمی طاقت بن گئے لیکن یہ بھی تو ہوا کہ ہم نے اپنا ایک بازو گنواں دیا۔کیا ہم نے اس سے سبق سیکھا، اپنی سوچ کو، اپنے عمل کو تبدیل کرنے کے اقدام کیے، اس کا جواب تاریخ ہمیں یہ دیتی ہے کہ نہیں ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا، ہم صرف اور صرف طاقت کے حصول، اقتدار کی دوڑ میں لگے رہے، جو اس دوڑ میں آگے نکل گئے انہوں نے بھی اس جانب توجہ نہیں دی، میری مراد ہے اقتدار میں آنے والا طبقہ۔ ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا، برد باری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس ملک کی بھلائی کا سوچنا ہوگا، اس کو حاصل خطرات سے نبرد آزما ہونے کا سوچناہوگا۔ اپنی سوچ کے دھارے کو اس جانب لائیں اور عملی اقدام کریں کہ ہم اپنے وطن کی بہتری کے لیے انفرادی طور پر اور اجتمائی طور پا کیا کچھ کرسکتے ہیں، اسی میں ہمارے وطن کی بھلائی اور ترقی کا راز پوشیدہ ہے۔

 ہم پر لازم ہے کہ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھیں جیسے قانون کا احترم، ٹریفک قوانین کی پابندی، صفائی ستھرائی جیسے سیگریٹ اگر پیتے ہیں تو ٹوٹے سٹرک پر نہ تھوکیں،پان یا گٹکا کھاتے ہیں تو راہ چلتے پان کی پیک سٹرک پر نہ تھوکیں۔، قومی املاک کی حفاظت کریں، سٹرک پر غیر ضروری چیزیں نہ پھینکے، دوسروں کے حقوق کا احترام کریں۔ ہماری نئی نسل خاص طو ر پر طلبہ کی بنیادی ذمہ داری تعلیم کا حصول ہے، دل لگا کر، سنجیدگی کے ساتھ، اپنے اچھے مستقبل کی خاطر، والدین کی خواہشات کو اہمیت دیں، وہ آپ کو تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں، وہ آپ کے بہتر مستقبل کے خواہ ہوتے ہیں ان کی خواہشات کو مامال نہ کریں بلکہ ان کی خوشیوں کو عملی جامہ پہنانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ یاد رکھیں! آج کا طالب علم کل کا ذمہ دار شہری ہوگا، وکیل، ڈاکٹر، انجینئر،سائنس دان، بنکر، صحافی، استاد، ادیب، شاعرہوگا۔ہمارا طالب علم تعلیم، کردار، محنت، سچائی، وطن سے محبت کو اپنا شعار بنا لے تو پاکستان کا مستقبل اور اس طالب علم کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔ وطن سے محبت کا عملی ثبوت یہ ہے کہ ہم ایک کام بھی ایسا نہ کرین جس سے وطن کو نقصان پہنچے، قومی وسائل ضائع نہ کریں اور نفرت کو فروغ نہ دیں، اپنے ارد گرد لوگوں کے ساتھ انصاف، بھائی چارے، حسنِ سلوک سے پیش آئیں۔

 اس میں کوئی شک نہیں کے پاکستان بے شمار قسم کے مسائل سے دوچار ہے، انہیں دور کرنے میں ہم انفرادی طور پر کوئی کردار اد ا کرسکتے ہیں تو ضرور کرنا چاہیے، مسائل اور مشکلات سے اہم ہمارا کردار اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس ہے۔ ہم ہر مسئلہ کا قصور وار حکومتِ وقت کو ٹہرادیتے ہیں اپنی ذمہ داری بھول جاتے ہیں، یاد رکھیے ہم اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ اچھائی اور تبدیلی کا آغاز ہمیشہ فرد سے ہوتا ہے۔ اگر ہر پاکستانی یہ عہد کر لے کہ اسے اپنے حصے کا پاکستان بہتر بنانا ہے، اسے روشن پاکستان بنا نا ہے، محفوظ پاکستان بنا نا ہے، خوبصور پاکستان بنانا ہے۔ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے نوجوانوں کو خودی اور بلند حوصلے کا پیغام دیا۔ ان کا پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف خواہشوں سے ترقی نہیں کرتیں انہیں محبت، نظم و ضبط، اتحاد اور جہد ِ مسلسل کی ضرورت ہوتی ہے۔ آئیے آج یوم آزادی کے دن یہ عہد کریں کہ ہم پاکستان کو ذمہ داری اور اور امانت سمجھیں گے، ہم اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کریں گے، تعلیم اور علم کو فروغ دیں گے، قانون کی پاسداری کریں گے اور یہ کہ ہم اپنے وطن کی ترقی کے لیے ہر وہ کام کریں گے جو ہمارے بس میں ہوگا۔ اللہ پاک ہمارے وطن پاکستان کو امن، استحکام، ترقی اور خوشیوں کا مرکز بنادے اور ہمیں ایک ذمہ دار، باکرداراور محبِ وطن پاکستانی بننے کی طوفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ پاکستان زندہ باد! پاکستان پائندہ باد!

14 اگست 2026ء

Loading