Daily Roshni News

اصفہان کا دیوانِ خراج، وقت کا بحران اور ستاروں کا حساب دان (467 ہجری / 1074 عیسوی)

اصفہان کا دیوانِ خراج، وقت کا بحران اور ستاروں کا حساب دان (467 ہجری / 1074 عیسوی)

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)467 ہجری کا سال۔ سلجوقی سلطنت کا دارالحکومت، اصفہان۔ سلطنت کا ‘دیوانِ خراج’ (محکمہ مالیات) ایک انتہائی سنگین انتظامی بحران کا شکار ہو چکا تھا۔ سلجوقی سلطنت کا ٹیکس جمع کرنے کا نظام شمسی سال پر کھڑا تھا، لیکن صدیوں پرانے کیلنڈر کی ریاضیاتی خامیوں کی وجہ سے ‘نوروز’ (نئے سال کا آغاز اور ٹیکس وصولی کا دن) اپنی اصل تاریخ سے کئی دن پیچھے ہٹ کر سردیوں کے عین وسط میں جا پڑا تھا۔ کسانوں کے پاس فصل کٹنے سے قبل ریاستی ٹیکس ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں تھا، جس سے فوج کی تنخواہوں کا نظام درہم برہم ہو رہا تھا۔

طاقتور ترین خاقان، سلطان ملک شاہ سلجوقی، اور اس کے زیرک وزیرِ اعظم، نظام الملک طوسی کو اس وقت کسی کیولری چارج یا جرنیل کی نہیں، بلکہ ایک ایسے حسابی دماغ کی ضرورت تھی جو کائنات کی ہندسیات  اور وقت کو قابو کر سکے۔

شاہی دربار میں ایک 26 سالہ نوجوان کو پیش کیا گیا۔ اس کا لباس انتہائی سادہ تھا، جسمانی خدوخال میں ایک خالص علمی متانت تھی اور اس کی آنکھوں میں ایک مشاہداتی اور ہندسی گہرائی تھی۔ یہ نیشاپور کے ایک خیمہ دوز کا بیٹا، غیاث الدین ابو الفتح عمر بن ابراہیم الخیام تھا۔ اس نوجوان نے دربار کے روایتی آداب کے بعد سلطان کو ایک ٹھوس ریاضیاتی حل کی ضمانت دی، اور اصفہان میں ایک ایسی عظیم فلکیاتی رصد گاہ کی بنیاد رکھی جس نے تاریخ کا وہ درست ترین کیلنڈر وضع کیا جو صدیوں بعد بننے والے ماڈرن یورپی کیلنڈر سے بھی زیادہ مستند تھا۔

یہ محض ایک شاعر کی کہانی نہیں ہے جیسا کہ ماڈرن دنیا سمجھتی ہے؛ یہ 11ویں صدی کے اس سب سے بڑے ماہرِ طبیعیات، الجبرا کے خالق اور بیوروکریٹک مشیر کی داستان ہے جس نے سلجوقی سلطنت کی فکری بنیادوں کو ایک نئی سمت دی۔

عمر خیام کی پیدائش 439 ہجری (1048 عیسوی) میں خراسان کے عظیم شہر نیشاپور میں ہوئی۔ ان کا خاندانی پیشہ خیمے بنانا تھا، جس کی نسبت سے انہیں ‘الخیام’ کہا گیا۔ ان کا جسمانی حلیہ ایک متفکر اور خاموش طبع انسان کا تھا، جو ہجوم سے دور رہنا پسند کرتے تھے۔

ان کی ابتدائی دلچسپی سیاست کے بجائے خالصتاً ریاضی اور الجبرا میں تھی۔ سیاسی انتشار کی وجہ سے انہوں نے نیشاپور سے سمرقند کا سفر کیا۔ سمرقند میں قاضی ابو طاہر کی سرپرستی میں انہوں نے ریاضی کی تاریخ کا ایک عظیم ترین مقالہ ‘رسالہ فی براہین الجبر والمقابلہ’ تحریر کیا۔ خیام وہ پہلے ریاضی دان تھے جنہوں نے کیوبک مساوات کو کونک سیکشنز  کے تقاطع کے ذریعے حل کرنے کا ٹھوس ہندسی طریقہ وضع کیا۔ ان کی یہ تحقیق ان کی شہرت کو سمرقند سے نکال کر سیدھا سلجوقی دارالحکومت تک لے آئی۔

نظام الملک طوسی کے بلانے پر خیام اصفہان پہنچے۔ سلجوقی سلطنت نے ان کی سربراہی میں اس دور کے بہترین سائنسدانوں کی ایک کمیٹی تشکیل دی۔ خیام نے اصفہان میں ایک جدید ترین رصد گاہ قائم کی اور ستاروں کی نقل و حرکت کا مسلسل آٹھ سال تک بغور مشاہدہ کیا۔

خیام کا سب سے بڑا ریاستی کارنامہ نیا شمسی کیلنڈر بنانا تھا، جسے سلطان ملک شاہ کے لقب ‘جلال الدولہ’ کی مناسبت سے ‘جلالی کیلنڈر’ کا نام دیا گیا۔ خیام نے ایک سال کے دورانیے کو 365.242198 دنوں میں ناپا۔ ان کا وضع کردہ یہ کیلنڈر اس قدر درست تھا کہ اس میں 5,000 سال بعد جا کر محض ایک دن کا فرق آتا ہے، جبکہ 500 سال بعد یورپ میں بننے والے ‘گریگورین کیلنڈر’ میں ہر 3,330 سال بعد ایک دن کا فرق آ جاتا ہے۔ خیام کے اس کام نے سلجوقی دیوانِ خراج کے نظام کو مکمل طور پر مستحکم کر دیا۔

485 ہجری کا سال عمر خیام کی زندگی اور سلجوقی سلطنت دونوں کے لیے ایک تباہ کن موڑ ثابت ہوا۔ قلعہ الموت کے نزاری اسماعیلیوں (حشاشین) نے سلطنت کے وزیرِ اعظم نظام الملک طوسی کو خنجر مار کر قتل کر دیا۔ اس واقعے کے چند ہفتوں بعد ہی سلطان ملک شاہ کا بھی پراسرار حالات میں انتقال ہو گیا۔

ان دو اموات کے ساتھ ہی سلجوقی سلطنت ایک ہولناک خانہ جنگی کا شکار ہو گئی۔ تخت کے دعویدار شہزادوں کے درمیان محاذ آرائی شروع ہو گئی۔ نئی بیوروکریسی نے سائنس اور فلکیات کی فنڈنگ مکمل طور پر روک دی۔ اصفہان کی وہ عظیم رصد گاہ، جسے خیام نے اپنی زندگی کے بہترین سال دیے تھے، ویران اور تباہ ہو گئی۔ خیام کو دربار سے بے دخل کر دیا گیا اور ان کی ریاستی سرپرستی ختم ہو گئی۔

سیاسی سرپرستی ختم ہونے کے بعد خیام کو مذہبی اور قدامت پسند حلقوں کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے سائنسی اور فلسفیانہ افکار کو دربار کے قاضیوں اور علماء نے عقائد کے لیے خطرہ قرار دیا۔

اس شدید دباؤ اور ریاستی تنہائی کے دور میں، خیام نے اپنے فلسفیانہ خیالات کے اظہار کے لیے چار مصرعوں پر مشتمل ‘رباعی’ کا سہارا لیا۔ تاریخ میں عمر خیام کا تاثر ایک شراب نوش رومانوی شاعر کے طور پر مشہور ہوا ہے (جو 19ویں صدی میں ایڈورڈ فٹزجیرالڈ کے انگریزی ترجمے کا نتیجہ تھا)، مگر مستند تاریخی حوالوں سے خیام کی رباعیات خالصتاً فلسفیانہ اور کائناتی حقیقت پسندی پر مبنی تھیں۔ ان کی شاعری میں زندگی کے فانی ہونے، وقت کی بے رحمی، اور انسان کی کائنات میں حیثیت پر ٹھوس سوالات اٹھائے گئے تھے۔ ان رباعیات نے انہیں سلجوقی دربار کے علماء میں مزید متنازع بنا دیا۔

سلجوقی سلطنت کے سیاسی انتشار سے مکمل طور پر کنارہ کش ہو کر، عمر خیام واپس اپنے آبائی شہر نیشاپور منتقل ہو گئے۔ انہوں نے تدریس، سیاست اور عوامی اجتماعات سے خود کو مکمل طور پر کاٹ لیا اور ایک انتہائی خاموش اور گوشہ نشین زندگی گزارنا شروع کر دی۔

مؤرخ بیہقی کی مستند روایات کے مطابق، 526 ہجری میں ان کی موت کا منظر بالکل ان کی زندگی کی طرح خالصتاً علمی اور فلسفیانہ تھا۔ وہ اپنے آخری دن مشہور فلسفی ابن سینا کی ضخیم کتاب ‘کتاب الشفاء’ کا مطالعہ کر رہے تھے۔ جب وہ کتاب کے اس حصے پر پہنچے جہاں ‘خدا اور کائنات کی وحدانیت’ (الواحد والکثیر) پر بحث تھی، تو انہیں محسوس ہوا کہ ان کا آخری وقت آ گیا ہے۔

خیام نے سونے کی ایک خلال کتاب کے اسی صفحے پر رکھی، کتاب کو بند کیا، اور کھڑے ہو کر نماز ادا کی۔ اس کے بعد انہوں نے کوئی دنیاوی بات نہیں کی اور ایک طبعی موت کو گلے لگا لیا۔

ان کی قبر نیشاپور میں ایک باغ کے اندر بنائی گئی، بالکل اسی طرح جیسا کہ انہوں نے ایک بار پیش گوئی کی تھی کہ “میری قبر ایسی جگہ ہوگی جہاں ہر بہار میں درخت اپنے پھول مجھ پر نچھاور کریں گے۔” تاریخ نے عمر خیام کو ان کی سائنسی اور ریاضیاتی دریافتوں کے بجائے ان کی چند سو رباعیات کی وجہ سے زندہ رکھا، لیکن ان کی اصل میراث وہ جلالی کیلنڈر اور الجبرا کے وہ اصول ہیں جن پر آج بھی جدید ریاضی کی عمارت کھڑی ہے۔

تاریخی حوالہ جات:

تتمۃ صوان الحکمۃ — ظہیر الدین ابو الحسن علی بن زید البیہقی (Tatimmat Siwan al-Hikma — Ali ibn Zayd al-Bayhaqi)

چہار مقالہ — نظامی عروضی سمرقندی (Chahar Maqala — Nizami Aruzi)

الکامل فی التاریخ — ابن الاثیر (Al-Kamil fi al-Tarikh — Ibn al-Athir)

رسالہ فی براہین الجبر والمقابلہ — عمر خیام (Treatise on Demonstration of Problems of Algebra — Omar Khayyam)

زبدة النصرة ونخبة العصرة — عماد الدین الکاتب الاصفہانی (Zubdat al-Nusra wa-Nukhbat al-Usra — Imad al-Din al-Isfahani)

راحة الصدور وآية السرور — محمد بن علی الرّاوندی (Rahat al-Sudur wa-Ayat al-Surur — Muhammad ibn Ali al-Rawandi)

دی کیمبرج ہسٹری آف ایران، جلد 5: سلجوقی دور (The Cambridge History of Iran, Volume 5: The Saljuq and Mongol Periods)

اگر آپ سلطنت سلجوقیہ کےسب ذہین وزیر  نظام الملك طوسي  کی پوری کہانی اینیمیشن میں دیکھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔ 👇

Nizam al-Mulk Tusi Animated Documentary:

https://www.facebook.com/reel/4157247984566489

Loading