اس دن انسان اپنے بھائی سے بھاگے گا، اپنی ماں اور اپنے باپ سے، اپنی بیوی اور اپنے بچوں سے۔ اس دن ہر شخص کو اپنی ایسی فکر لاحق ہوگی جو اسے دوسروں سے بے نیاز کردے گی۔
ذرا اس آیت کو دل میں اتاریے۔
دنیا میں ماں سب سے زیادہ عزیز ہے۔
باپ سہارا ہوتا ہے۔
اولاد دل کا ٹکڑا ہوتی ہے۔
شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے ساتھی ہوتے ہیں۔
لیکن اس دن؟
ہر شخص اپنی فکر میں ہوگا۔
—
یہ خود غرضی نہیں، آخرت کی شدت ہے
یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ قیامت کے دن انسان اپنے رشتوں سے نفرت کرے گا۔
بلکہ قرآن اس دن کی شدت بیان کررہا ہے۔
انسان جانتا ہوگا:
آج مجھے اپنے رب کے سامنے جواب دینا ہے۔
دنیا میں ہم بہت سے کام دوسروں کی موجودگی میں کرتے ہیں۔
لوگوں کو خوش کرنے کے لیے۔
لوگوں سے ڈر کر۔
لوگوں کی تعریف کے لیے۔
لوگوں کی تنقید سے بچنے کے لیے۔
لیکن قیامت کے دن؟
لوگوں کی رائے ختم۔
صرف اللہ کی عدالت۔
—
آج ہم کس کی رضا چاہتے ہیں؟
یہ سوال دنیا میں ہی خود سے پوچھیں۔
آپ اچھا لباس کیوں پہنتے ہیں؟
کبھی اللہ کے لیے بھی؟
آپ نیکی کیوں کرتے ہیں؟
اللہ کے لیے یا لوگوں کی تعریف کے لیے؟
آپ صدقہ کرتے ہیں تو کیا چاہتے ہیں کہ لوگ جانیں؟
آپ عبادت کرتے ہیں تو کیا آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کو نیک سمجھیں؟
یہاں ریا کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اعمال کی بنیاد نیت کو قرار دیا:
> إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
صحیح بخاری، حدیث 1؛ صحیح مسلم، حدیث 1907
یہ مختصر حدیث پوری زندگی کا رخ بدل سکتی ہے۔
آپ کا ایک ہی عمل دو مختلف لوگوں کے لیے دو مختلف انجام کا سبب بن سکتا ہے۔
ایک اللہ کے لیے۔
دوسرا لوگوں کو دکھانے کے لیے۔
ظاہر ایک جیسا۔
باطن مختلف۔
اور اللہ باطن کو جانتا ہے۔
—
حشر کا میدان: کوئی چھپنے کی جگہ نہیں
دنیا میں انسان چھپ سکتا ہے۔
کمرے میں۔
موبائل کے پیچھے۔
اکاؤنٹ کے پیچھے۔
جھوٹ کے پیچھے۔
عہدے کے پیچھے۔
خاندان کے پیچھے۔
لیکن قیامت میں؟
قرآن فرماتا ہے:
> يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ
سورۃ الطارق، آیت 9
آسان مفہوم:
جس دن چھپی ہوئی باتیں جانچی جائیں گی۔
یہ آیت دل پر دستک دیتی ہے۔
سرائر یعنی انسان کے اندر چھپی ہوئی حقیقتیں۔
وہ نیتیں جنہیں کسی انسان نے نہیں دیکھا۔
وہ خواہشیں جنہیں آپ نے زبان نہیں دی۔
وہ خیالات جنہیں آپ نے عمل نہیں بنایا۔
وہ گناہ جنہیں دنیا سے چھپایا۔
اور وہ نیکیاں جو آپ نے کسی کو بتائے بغیر کیں۔
سب اللہ کے علم میں ہیں۔
—
لیکن یہاں ایک خوبصورت امید بھی ہے
اگر آپ نے کوئی نیکی چھپ کر کی ہے تو پریشان نہ ہوں کہ کسی نے دیکھی نہیں۔
اللہ نے دیکھی ہے۔
آپ نے رات میں تنہائی میں دعا کی۔
کسی نے نہیں دیکھا۔
اللہ نے دیکھا۔
آپ نے کسی غریب کی مدد کی اور نام ظاہر نہیں کیا۔
اللہ نے دیکھا۔
آپ نے کسی گناہ کا موقع پایا اور صرف اللہ کے خوف سے رک گئے۔
اللہ نے دیکھا۔
آپ نے کسی کا حق واپس کیا جبکہ کوئی آپ کو مجبور نہیں کررہا تھا۔
اللہ نے دیکھا۔
دنیا میں شاید کوئی آپ کی نیکی نہ جان سکے۔
لیکن حشر کے میدان میں اللہ کے علم سے کچھ باہر نہیں۔
تم میں سے کوئی شخص صرف اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
صحابہؓ نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ بھی نہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں بھی نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے۔
صحیح بخاری، حدیث 5673؛ صحیح مسلم، حدیث 2816
یہ حدیث ہمیں ایک انتہائی خوبصورت توازن سکھاتی ہے:
عمل کرو، لیکن عمل پر گھمنڈ نہ کرو۔
نیکی کرو، مگر اپنی نیکی کو نجات کی ضمانت نہ سمجھو۔
اللہ کی رحمت مانگو۔
—
قیامت کے دن پسینہ
صحیح احادیث میں قیامت کے دن کی سختی کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن سورج مخلوق کے بہت قریب کردیا جائے گا، اور لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ہوں گے۔
صحیح مسلم، حدیث 2864 کے مفہوم میں یہ تفصیل بیان ہوئی ہے۔
کسی کا پسینہ اس کے ٹخنوں تک ہوگا۔
کسی کا گھٹنوں تک۔
کسی کا کمر تک۔
اور بعض لوگ اس میں انتہائی شدید کیفیت میں ہوں گے۔
یہ منظر ہمیں ایک حقیقت یاد دلاتا ہے:
وہ دن معمولی دن نہیں ہوگا۔
—
مگر کچھ لوگ اس خوف سے محفوظ بھی ہوں گے
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنہیں اللہ اپنے سایۂ رحمت میں جگہ دے گا، اس دن جب اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔
ان میں وہ نوجوان بھی ہے جو اللہ کی عبادت میں پروان چڑھا۔
وہ شخص بھی جو اللہ کو تنہائی میں یاد کرے اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئیں۔
وہ شخص بھی جو اس قدر چھپ کر صدقہ کرے کہ دوسرے ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو۔
وہ شخص بھی جسے خوبصورت اور بااختیار عورت گناہ کی دعوت دے مگر وہ کہے:
"میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔”
اور وہ دو لوگ بھی جو اللہ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔
صحیح بخاری، حدیث 660؛ صحیح مسلم، حدیث 1031
ذرا غور کریں:
یہ سب لوگ دنیا میں عام انسان تھے۔
لیکن ان کے چھوٹے چھوٹے فیصلے انہیں قیامت کے دن خاص مقام دے سکتے ہیں۔
—
ایک نوجوان کا فیصلہ
تصور کریں ایک نوجوان کے پاس گناہ کا موقع ہے۔
کوئی اسے دیکھ نہیں رہا۔
موبائل اس کے ہاتھ میں ہے۔
اسے معلوم ہے کہ اگر وہ چاہے تو چند سیکنڈ میں ایسی چیز دیکھ سکتا ہے جسے دیکھنا اللہ کو پسند نہیں۔
کوئی والد نہیں۔
کوئی استاد نہیں۔
کوئی دوست نہیں۔
صرف وہ ہے اور اس کا رب۔
وہ موبائل بند کردیتا ہے۔
دنیا میں شاید کسی کو اس فیصلے کا علم نہیں۔
لیکن اگر وہ صرف اللہ کے لیے رک گیا تو یہ اس کے لیے بہت بڑی نیکی بن سکتی ہے۔
یہی تقویٰ ہے۔
یہی وہ چھپی ہوئی نیکی ہے جو قیامت کے دن سامنے آسکتی ہے۔
ہم نے ہر انسان کا اعمال نامہ اس کے ساتھ وابستہ کردیا ہے، اور قیامت کے دن اس کے لیے ایک کتاب نکالیں گے جسے وہ کھلا ہوا پائے گا۔ کہا جائے گا: اپنا نامۂ اعمال پڑھ، آج اپنے حساب کے لیے تو خود ہی کافی ہے۔
تصور کریں:
آپ کو اپنا نامہ دیا جائے۔
اور کہا جائے:
"پڑھو۔”
آپ پڑھیں گے۔
ہر چیز؟
ہر عمل؟
ہر فیصلہ؟
ہر وہ چیز جسے آپ بھول چکے تھے؟
قرآن کہتا ہے:
> أَحْصَاهُ اللَّهُ وَنَسُوهُ
سورۃ المجادلہ، آیت 6
اللہ نے اسے محفوظ کرلیا، جبکہ وہ اسے بھول گئے تھے۔
—
ہم بھول جاتے ہیں، اللہ نہیں بھولتا
آپ کو شاید یاد نہیں کہ دس سال پہلے آپ نے کسی کی مدد کی تھی۔
اللہ جانتا ہے۔
آپ کو شاید یاد نہیں کہ بچپن میں آپ نے کسی غریب کو کچھ دیا تھا۔
اللہ جانتا ہے۔
آپ کو شاید یاد نہیں کہ آپ نے کسی کا دل توڑا تھا۔
اللہ جانتا ہے۔
آپ کو شاید یاد نہیں کہ آپ نے کسی کے خلاف جھوٹ بولا تھا۔
ہم قیامت کے دن انصاف کے ترازو قائم کریں گے، پس کسی جان پر ذرہ برابر ظلم نہیں ہوگا۔
یہ آیت مظلوم کے لیے امید ہے۔
اور ظالم کے لیے تنبیہ۔
دنیا میں کبھی عدالت ناکام ہوجاتی ہے۔
کبھی گواہ جھوٹ بولتا ہے۔
کبھی طاقتور بچ جاتا ہے۔
کبھی کمزور کی آواز دب جاتی ہے۔
لیکن اللہ کی عدالت میں؟
کوئی ظلم نہیں ہوگا۔
—
آج اگر آپ مظلوم ہیں
اگر کسی نے آپ کا حق مارا ہے…
اگر کسی نے آپ پر ظلم کیا ہے…
اگر کسی نے آپ کی عزت خراب کی ہے…
اگر آپ کی محنت کا حق نہیں دیا گیا…
تو یاد رکھیے:
آپ کا رب دیکھ رہا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیاوی حق لینے کی کوشش نہ کریں۔
بلکہ جائز طریقے سے اپنا حق لیں۔
لیکن دل میں یہ یقین رکھیں:
اگر دنیا کی عدالت میں میرا حق مکمل نہ بھی ملا، اللہ کی عدالت باقی ہے۔
یہ یقین مظلوم کے دل کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔
—
اور اگر آپ ظالم ہیں؟
تو ابھی بھی وقت ہے۔
کسی کا حق دبایا ہے؟
واپس کریں۔
کسی پر جھوٹا الزام لگایا؟
اصلاح کریں۔
کسی کی عزت خراب کی؟
جہاں ممکن اور مناسب ہو، تلافی کریں۔
کسی کی زمین یا مال دبایا؟
واپس کریں۔
کسی کی اجرت روکی؟
ادا کریں۔
کیونکہ قیامت کے دن ندامت بہت ہوگی۔
لیکن دنیا میں کیا ہوا؟
آپ کے پاس ابھی بھی ایک موقع ہے:
تلافی کا۔
—
حشر کا سب سے بڑا سبق
حشر کا میدان ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ صرف ڈرو۔
یہ سکھاتا ہے:
جاگو۔
اپنے آپ کو دیکھو۔
اپنے اعمال دیکھو۔
اپنی نیت دیکھو۔
اپنی کمائی دیکھو۔
اپنی زبان دیکھو۔
اپنے رشتے دیکھو۔
اپنی تنہائی دیکھو۔
اور پھر اللہ کی طرف واپس آؤ۔
—
آج ایک فیصلہ کریں
آج صرف ایک چیز بدلیں۔
اگر زبان سے کسی کو تکلیف پہنچتی ہے تو آج زبان کی حفاظت کریں۔
اگر والدین ناراض ہیں تو آج ان سے بات کریں۔
اگر کسی کا حق ہے تو اسے واپس کرنے کا قدم اٹھائیں۔
اگر نماز کمزور ہے تو نماز کو زندگی کا مرکز بنائیں۔
اگر کوئی چھپا ہوا گناہ ہے تو اللہ کے سامنے سچی توبہ کریں۔
اور اگر دل میں کسی کے لیے نفرت ہے تو کم از کم یہ دعا شروع کریں:
"یا اللہ! میرے دل کو پاک کردے۔”
کیونکہ حشر کے دن صرف ظاہری شکل نہیں۔
دل کی حقیقت بھی اہم ہوگی۔
—
وہ میدان ابھی نہیں آیا
آج ہم اپنے گھروں میں ہیں۔
ہماری دنیا ابھی قائم ہے۔
ہم ابھی اپنے فیصلے بدل سکتے ہیں۔
ہم ابھی کسی کو معاف کرسکتے ہیں۔
ہم ابھی کسی کا حق واپس کرسکتے ہیں۔
ہم ابھی اپنی نماز درست کرسکتے ہیں۔
ہم ابھی حرام چھوڑ سکتے ہیں۔
ہم ابھی قرآن سے جڑ سکتے ہیں۔
ہم ابھی اللہ کے سامنے جھک سکتے ہیں۔
لیکن ایک دن…
"ابھی” ختم ہوجائے گا۔
پھر حشر ہوگا۔
پھر سب جمع ہوں گے۔
پھر نامۂ اعمال کھلے گا۔
پھر کوئی چیز چھپی نہ رہے گی۔
پھر انسان سمجھے گا کہ دنیا میں جن چیزوں کو وہ سب سے اہم سمجھتا رہا، ان میں سے بہت سی چیزیں کتنی معمولی تھیں۔
اور جن نیکیوں کو اس نے معمولی سمجھا، شاید وہی اس کے لیے سب سے بڑا سرمایہ بن چکی ہوں۔
اس لیے آج اپنے دل سے پوچھیں:
اگر آج حشر کا میدان قائم ہوجائے تو میں کس چیز کے ساتھ وہاں کھڑا ہوں گا؟
میرے پاس کیا ہوگا؟
میری نماز؟
میرا صدقہ؟
میرا قرآن؟
میرے والدین کی دعائیں؟
لوگوں کے حقوق؟
یا پھر صرف پچھتاوا؟
اللہ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جن کے لیے حشر خوف کی آخری منزل نہیں بلکہ اللہ کی رحمت تک پہنچنے کا راستہ بن جائے۔
یا اللہ! ہمارے چھپے ہوئے گناہوں کو معاف فرما، ہماری چھپی ہوئی نیکیوں کو قبول فرما، ہمارے حقوق العباد ادا کروا دے، ہمارے دلوں کو پاک فرما، اور قیامت کے دن ہمیں اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
—
جاری ہے…
اگلی قسط:
"قیامت کے دن نامۂ اعمال کس کے ہاتھ میں دیا جائے گا؟ دائیں ہاتھ، بائیں ہاتھ اور انسان کا سب سے بڑا فیصلہ”