ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )موت کے بعد سب سے پہلے انسان کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟
حصہ ہفتم — حشر کا میدان: جب سب انسان ایک جگہ جمع ہوں گے
ذرا ایک لمحے کے لیے اپنی آنکھیں بند کریں۔
اپنا گھر بھول جائیں۔
اپنا شہر بھول جائیں۔
اپنا موبائل، کاروبار، گاڑی، عہدہ، مال اور شہرت سب بھول جائیں۔
اب تصور کریں…
آپ ایک ایسی جگہ کھڑے ہیں جہاں چاروں طرف انسان ہی انسان ہیں۔
نہ کوئی گھر ہے۔
نہ بازار۔
نہ دفتر۔
نہ دروازے۔
نہ پردے۔
نہ دنیا کی وہ دیواریں جن کے پیچھے انسان اپنی حقیقت چھپا لیتا تھا۔
ہر طرف لوگ ہیں۔
وہ لوگ جنہیں آپ دنیا میں جانتے تھے۔
اور وہ بھی جنہیں آپ کبھی نہیں جانتے تھے۔
اربوں انسان۔
مختلف زمانوں کے انسان۔
مختلف قوموں کے انسان۔
بادشاہ بھی۔
فقیر بھی۔
امیر بھی۔
غریب بھی۔
مظلوم بھی۔
ظالم بھی۔
اور آپ بھی۔
سب ایک ہی میدان میں۔
آج کسی کا عہدہ اسے نہیں بچا رہا۔
آج کسی کا مال اس کے ساتھ نہیں۔
آج کسی کا خاندان اس کے لیے فیصلہ نہیں کرسکتا۔
آج انسان کے پاس صرف ایک چیز ہے:
اس کے اعمال۔
یہی وہ منظر ہے جسے قرآن ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے۔
—
حشر کیا ہے؟
قیامت کے دن مردوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔
پھر انہیں ایک عظیم اجتماع کی طرف لے جایا جائے گا۔
اسی اجتماع کو عام طور پر حشر کہا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا
سورۃ یونس، آیت 28
آسان مفہوم:
اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے۔
یہ صرف چند لوگوں کا اجتماع نہیں ہوگا۔
یہ پوری انسانی تاریخ کا اجتماع ہوگا۔
آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک آنے والے انسان۔
وہ سب جنہوں نے دنیا کو آباد کیا۔
وہ سب جنہوں نے محل بنائے۔
وہ سب جنہوں نے سلطنتیں قائم کیں۔
وہ سب جنہوں نے ظلم کیا۔
وہ سب جنہوں نے صبر کیا۔
وہ سب جنہوں نے اللہ کے لیے زندگی گزاری۔
اور وہ سب جنہوں نے دنیا کو اپنی آخری منزل سمجھ لیا۔
سب ایک جگہ ہوں گے۔
—
آج کا غرور وہاں کہاں ہوگا؟
دنیا میں انسان کو اپنی حیثیت پر بڑا فخر ہوتا ہے۔
کسی کو دولت پر۔
کسی کو خوبصورتی پر۔
کسی کو خاندان پر۔
کسی کو عہدے پر۔
کسی کو تعلیم پر۔
کسی کو شہرت پر۔
کسی کو طاقت پر۔
لیکن حشر کے میدان میں یہ سب چیزیں انسان کے ساتھ نہیں چلیں گی۔
قرآن فرماتا ہے:
> يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ
سورۃ عبس، آیات 34-37
آسان مفہوم:
اس دن انسان اپنے بھائی سے بھاگے گا، اپنی ماں اور اپنے باپ سے، اپنی بیوی اور اپنے بچوں سے۔ اس دن ہر شخص کو اپنی ایسی فکر لاحق ہوگی جو اسے دوسروں سے بے نیاز کردے گی۔
ذرا اس آیت کو دل میں اتاریے۔
دنیا میں ماں سب سے زیادہ عزیز ہے۔
باپ سہارا ہوتا ہے۔
اولاد دل کا ٹکڑا ہوتی ہے۔
شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے ساتھی ہوتے ہیں۔
لیکن اس دن؟
ہر شخص اپنی فکر میں ہوگا۔
—
یہ خود غرضی نہیں، آخرت کی شدت ہے
یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ قیامت کے دن انسان اپنے رشتوں سے نفرت کرے گا۔
بلکہ قرآن اس دن کی شدت بیان کررہا ہے۔
انسان جانتا ہوگا:
آج مجھے اپنے رب کے سامنے جواب دینا ہے۔
دنیا میں ہم بہت سے کام دوسروں کی موجودگی میں کرتے ہیں۔
لوگوں کو خوش کرنے کے لیے۔
لوگوں سے ڈر کر۔
لوگوں کی تعریف کے لیے۔
لوگوں کی تنقید سے بچنے کے لیے۔
لیکن قیامت کے دن؟
لوگوں کی رائے ختم۔
صرف اللہ کی عدالت۔
—
آج ہم کس کی رضا چاہتے ہیں؟
یہ سوال دنیا میں ہی خود سے پوچھیں۔
آپ اچھا لباس کیوں پہنتے ہیں؟
کبھی اللہ کے لیے بھی؟
آپ نیکی کیوں کرتے ہیں؟
اللہ کے لیے یا لوگوں کی تعریف کے لیے؟
آپ صدقہ کرتے ہیں تو کیا چاہتے ہیں کہ لوگ جانیں؟
آپ عبادت کرتے ہیں تو کیا آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کو نیک سمجھیں؟
یہاں ریا کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے اعمال کی بنیاد نیت کو قرار دیا:
> إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
صحیح بخاری، حدیث 1؛ صحیح مسلم، حدیث 1907
یہ مختصر حدیث پوری زندگی کا رخ بدل سکتی ہے۔
آپ کا ایک ہی عمل دو مختلف لوگوں کے لیے دو مختلف انجام کا سبب بن سکتا ہے۔
ایک اللہ کے لیے۔
دوسرا لوگوں کو دکھانے کے لیے۔
ظاہر ایک جیسا۔
باطن مختلف۔
اور اللہ باطن کو جانتا ہے۔
—
حشر کا میدان: کوئی چھپنے کی جگہ نہیں
دنیا میں انسان چھپ سکتا ہے۔
کمرے میں۔
موبائل کے پیچھے۔
اکاؤنٹ کے پیچھے۔
جھوٹ کے پیچھے۔
عہدے کے پیچھے۔
خاندان کے پیچھے۔
لیکن قیامت میں؟
قرآن فرماتا ہے:
> يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ
سورۃ الطارق، آیت 9
آسان مفہوم:
جس دن چھپی ہوئی باتیں جانچی جائیں گی۔
یہ آیت دل پر دستک دیتی ہے۔
سرائر یعنی انسان کے اندر چھپی ہوئی حقیقتیں۔
وہ نیتیں جنہیں کسی انسان نے نہیں دیکھا۔
وہ خواہشیں جنہیں آپ نے زبان نہیں دی۔
وہ خیالات جنہیں آپ نے عمل نہیں بنایا۔
وہ گناہ جنہیں دنیا سے چھپایا۔
اور وہ نیکیاں جو آپ نے کسی کو بتائے بغیر کیں۔
سب اللہ کے علم میں ہیں۔
—
لیکن یہاں ایک خوبصورت امید بھی ہے
اگر آپ نے کوئی نیکی چھپ کر کی ہے تو پریشان نہ ہوں کہ کسی نے دیکھی نہیں۔
اللہ نے دیکھی ہے۔
آپ نے رات میں تنہائی میں دعا کی۔
کسی نے نہیں دیکھا۔
اللہ نے دیکھا۔
آپ نے کسی غریب کی مدد کی اور نام ظاہر نہیں کیا۔
اللہ نے دیکھا۔
آپ نے کسی گناہ کا موقع پایا اور صرف اللہ کے خوف سے رک گئے۔
اللہ نے دیکھا۔
آپ نے کسی کا حق واپس کیا جبکہ کوئی آپ کو مجبور نہیں کررہا تھا۔
اللہ نے دیکھا۔
دنیا میں شاید کوئی آپ کی نیکی نہ جان سکے۔
لیکن حشر کے میدان میں اللہ کے علم سے کچھ باہر نہیں۔
—
اس دن سب سے قیمتی چیز کیا ہوگی؟
نہ دولت۔
نہ شہرت۔
نہ خاندان۔
نہ عہدہ۔
بلکہ اللہ کی رحمت اور صالح اعمال۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> لَا يَدْخُلُ أَحَدٌ مِنْكُمْ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ
تم میں سے کوئی شخص صرف اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
صحابہؓ نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ بھی نہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں بھی نہیں، سوائے اس کے کہ اللہ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے۔
صحیح بخاری، حدیث 5673؛ صحیح مسلم، حدیث 2816
یہ حدیث ہمیں ایک انتہائی خوبصورت توازن سکھاتی ہے:
عمل کرو، لیکن عمل پر گھمنڈ نہ کرو۔
نیکی کرو، مگر اپنی نیکی کو نجات کی ضمانت نہ سمجھو۔
اللہ کی رحمت مانگو۔
—
قیامت کے دن پسینہ
صحیح احادیث میں قیامت کے دن کی سختی کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن سورج مخلوق کے بہت قریب کردیا جائے گا، اور لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ہوں گے۔
صحیح مسلم، حدیث 2864 کے مفہوم میں یہ تفصیل بیان ہوئی ہے۔
کسی کا پسینہ اس کے ٹخنوں تک ہوگا۔
کسی کا گھٹنوں تک۔
کسی کا کمر تک۔
اور بعض لوگ اس میں انتہائی شدید کیفیت میں ہوں گے۔
یہ منظر ہمیں ایک حقیقت یاد دلاتا ہے:
وہ دن معمولی دن نہیں ہوگا۔
—
مگر کچھ لوگ اس خوف سے محفوظ بھی ہوں گے
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جنہیں اللہ اپنے سایۂ رحمت میں جگہ دے گا، اس دن جب اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔
ان میں وہ نوجوان بھی ہے جو اللہ کی عبادت میں پروان چڑھا۔
وہ شخص بھی جو اللہ کو تنہائی میں یاد کرے اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئیں۔
وہ شخص بھی جو اس قدر چھپ کر صدقہ کرے کہ دوسرے ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو۔
وہ شخص بھی جسے خوبصورت اور بااختیار عورت گناہ کی دعوت دے مگر وہ کہے:
“میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔”
اور وہ دو لوگ بھی جو اللہ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔
صحیح بخاری، حدیث 660؛ صحیح مسلم، حدیث 1031
ذرا غور کریں:
یہ سب لوگ دنیا میں عام انسان تھے۔
لیکن ان کے چھوٹے چھوٹے فیصلے انہیں قیامت کے دن خاص مقام دے سکتے ہیں۔
—
ایک نوجوان کا فیصلہ
تصور کریں ایک نوجوان کے پاس گناہ کا موقع ہے۔
کوئی اسے دیکھ نہیں رہا۔
موبائل اس کے ہاتھ میں ہے۔
اسے معلوم ہے کہ اگر وہ چاہے تو چند سیکنڈ میں ایسی چیز دیکھ سکتا ہے جسے دیکھنا اللہ کو پسند نہیں۔
کوئی والد نہیں۔
کوئی استاد نہیں۔
کوئی دوست نہیں۔
صرف وہ ہے اور اس کا رب۔
وہ موبائل بند کردیتا ہے۔
دنیا میں شاید کسی کو اس فیصلے کا علم نہیں۔
لیکن اگر وہ صرف اللہ کے لیے رک گیا تو یہ اس کے لیے بہت بڑی نیکی بن سکتی ہے۔
یہی تقویٰ ہے۔
یہی وہ چھپی ہوئی نیکی ہے جو قیامت کے دن سامنے آسکتی ہے۔
—
ایک بوڑھے باپ کا حق
ایک باپ نے پوری زندگی اپنے بچوں کے لیے محنت کی۔
اب وہ بوڑھا ہے۔
آواز کمزور ہے۔
چال سست ہے۔
بات بار بار دہراتا ہے۔
بیٹا مصروف ہے۔
اسے غصہ آتا ہے۔
دل کہتا ہے:
“ابا پھر وہی بات شروع کردی۔”
لیکن وہ اپنے غصے کو روک لیتا ہے۔
مسکرا کر جواب دیتا ہے۔
یہ چھوٹا سا لمحہ دنیا میں شاید معمولی ہو۔
لیکن ممکن ہے یہی برّ الوالدین کی نیکی بن جائے۔
قرآن فرماتا ہے:
> فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا
سورۃ الإسراء، آیت 23
آسان مفہوم:
انہیں “اف” تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑکو، بلکہ ان سے عزت والی بات کرو۔
—
ایک شخص جو لوگوں کو معاف کردیتا ہے
کسی نے آپ کے ساتھ برا کیا۔
آپ کے پاس بدلہ لینے کا موقع تھا۔
آپ چاہتے تو اس کی عزت خراب کرسکتے تھے۔
لیکن آپ نے کہا:
“میں یہ معاملہ اللہ کے لیے چھوڑتا ہوں۔”
یہ کمزوری نہیں۔
اگر آپ حق رکھتے ہوئے معاف کرتے ہیں تو یہ عظیم اخلاق ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ
سورۃ النور، آیت 22
آسان مفہوم:
انہیں چاہیے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں۔ کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے؟
یہاں قرآن نے ایک عجیب تعلق پیدا کیا:
اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تمہیں معاف کرے تو تم بھی بندوں کو معاف کرو۔
—
حشر ہمیں اپنے دل کا آئینہ دکھاتا ہے
دنیا میں ہم اپنے آپ کو اچھا سمجھتے ہیں۔
لیکن کبھی اپنے دل سے پوچھیں:
کیا میں واقعی اچھا ہوں؟
یا صرف لوگوں کے سامنے اچھا نظر آتا ہوں؟
کیا میں تنہائی میں بھی وہی ہوں جو لوگوں کے سامنے ہوں؟
کیا میری زبان میری نیت کی ترجمان ہے؟
کیا میری کمائی پاک ہے؟
کیا میرے گھر والے میرے اخلاق سے محفوظ ہیں؟
کیا میرے پڑوسی مجھ سے محفوظ ہیں؟
کیا میرے ماتحت مجھ سے محفوظ ہیں؟
کیا میرے ہاتھ کسی پر ظلم کرتے ہیں؟
کیا میری زبان کسی کی عزت کھاتی ہے؟
یہ سوال انسان کو اندر سے ہلاتے ہیں۔
لیکن یہی سوال اصلاح کا آغاز بھی ہیں۔
—
قیامت کے دن نامۂ اعمال
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ ۖ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَىٰ بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا
سورۃ الإسراء، آیات 13-14
آسان مفہوم:
ہم نے ہر انسان کا اعمال نامہ اس کے ساتھ وابستہ کردیا ہے، اور قیامت کے دن اس کے لیے ایک کتاب نکالیں گے جسے وہ کھلا ہوا پائے گا۔ کہا جائے گا: اپنا نامۂ اعمال پڑھ، آج اپنے حساب کے لیے تو خود ہی کافی ہے۔
تصور کریں:
آپ کو اپنا نامہ دیا جائے۔
اور کہا جائے:
“پڑھو۔”
آپ پڑھیں گے۔
ہر چیز؟
ہر عمل؟
ہر فیصلہ؟
ہر وہ چیز جسے آپ بھول چکے تھے؟
قرآن کہتا ہے:
> أَحْصَاهُ اللَّهُ وَنَسُوهُ
سورۃ المجادلہ، آیت 6
اللہ نے اسے محفوظ کرلیا، جبکہ وہ اسے بھول گئے تھے۔
—
ہم بھول جاتے ہیں، اللہ نہیں بھولتا
آپ کو شاید یاد نہیں کہ دس سال پہلے آپ نے کسی کی مدد کی تھی۔
اللہ جانتا ہے۔
آپ کو شاید یاد نہیں کہ بچپن میں آپ نے کسی غریب کو کچھ دیا تھا۔
اللہ جانتا ہے۔
آپ کو شاید یاد نہیں کہ آپ نے کسی کا دل توڑا تھا۔
اللہ جانتا ہے۔
آپ کو شاید یاد نہیں کہ آپ نے کسی کے خلاف جھوٹ بولا تھا۔
اللہ جانتا ہے۔
انسان کی یادداشت محدود ہے۔
اللہ کا علم محدود نہیں۔
اسی لیے قیامت کا حساب مکمل عدل ہوگا۔
—
نہ ظلم ہوگا، نہ ناانصافی
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا
سورۃ الأنبیاء، آیت 47
آسان مفہوم:
ہم قیامت کے دن انصاف کے ترازو قائم کریں گے، پس کسی جان پر ذرہ برابر ظلم نہیں ہوگا۔
یہ آیت مظلوم کے لیے امید ہے۔
اور ظالم کے لیے تنبیہ۔
دنیا میں کبھی عدالت ناکام ہوجاتی ہے۔
کبھی گواہ جھوٹ بولتا ہے۔
کبھی طاقتور بچ جاتا ہے۔
کبھی کمزور کی آواز دب جاتی ہے۔
لیکن اللہ کی عدالت میں؟
کوئی ظلم نہیں ہوگا۔
—
آج اگر آپ مظلوم ہیں
اگر کسی نے آپ کا حق مارا ہے…
اگر کسی نے آپ پر ظلم کیا ہے…
اگر کسی نے آپ کی عزت خراب کی ہے…
اگر آپ کی محنت کا حق نہیں دیا گیا…
تو یاد رکھیے:
آپ کا رب دیکھ رہا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیاوی حق لینے کی کوشش نہ کریں۔
بلکہ جائز طریقے سے اپنا حق لیں۔
لیکن دل میں یہ یقین رکھیں:
اگر دنیا کی عدالت میں میرا حق مکمل نہ بھی ملا، اللہ کی عدالت باقی ہے۔
یہ یقین مظلوم کے دل کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔
—
اور اگر آپ ظالم ہیں؟
تو ابھی بھی وقت ہے۔
کسی کا حق دبایا ہے؟
واپس کریں۔
کسی پر جھوٹا الزام لگایا؟
اصلاح کریں۔
کسی کی عزت خراب کی؟
جہاں ممکن اور مناسب ہو، تلافی کریں۔
کسی کی زمین یا مال دبایا؟
واپس کریں۔
کسی کی اجرت روکی؟
ادا کریں۔
کیونکہ قیامت کے دن ندامت بہت ہوگی۔
لیکن دنیا میں کیا ہوا؟
آپ کے پاس ابھی بھی ایک موقع ہے:
تلافی کا۔
—
حشر کا سب سے بڑا سبق
حشر کا میدان ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ صرف ڈرو۔
یہ سکھاتا ہے:
جاگو۔
اپنے آپ کو دیکھو۔
اپنے اعمال دیکھو۔
اپنی نیت دیکھو۔
اپنی کمائی دیکھو۔
اپنی زبان دیکھو۔
اپنے رشتے دیکھو۔
اپنی تنہائی دیکھو۔
اور پھر اللہ کی طرف واپس آؤ۔
—
آج ایک فیصلہ کریں
آج صرف ایک چیز بدلیں۔
اگر زبان سے کسی کو تکلیف پہنچتی ہے تو آج زبان کی حفاظت کریں۔
اگر والدین ناراض ہیں تو آج ان سے بات کریں۔
اگر کسی کا حق ہے تو اسے واپس کرنے کا قدم اٹھائیں۔
اگر نماز کمزور ہے تو نماز کو زندگی کا مرکز بنائیں۔
اگر کوئی چھپا ہوا گناہ ہے تو اللہ کے سامنے سچی توبہ کریں۔
اور اگر دل میں کسی کے لیے نفرت ہے تو کم از کم یہ دعا شروع کریں:
“یا اللہ! میرے دل کو پاک کردے۔”
کیونکہ حشر کے دن صرف ظاہری شکل نہیں۔
دل کی حقیقت بھی اہم ہوگی۔
—
وہ میدان ابھی نہیں آیا
آج ہم اپنے گھروں میں ہیں۔
ہماری دنیا ابھی قائم ہے۔
ہم ابھی اپنے فیصلے بدل سکتے ہیں۔
ہم ابھی کسی کو معاف کرسکتے ہیں۔
ہم ابھی کسی کا حق واپس کرسکتے ہیں۔
ہم ابھی اپنی نماز درست کرسکتے ہیں۔
ہم ابھی حرام چھوڑ سکتے ہیں۔
ہم ابھی قرآن سے جڑ سکتے ہیں۔
ہم ابھی اللہ کے سامنے جھک سکتے ہیں۔
لیکن ایک دن…
“ابھی” ختم ہوجائے گا۔
پھر حشر ہوگا۔
پھر سب جمع ہوں گے۔
پھر نامۂ اعمال کھلے گا۔
پھر کوئی چیز چھپی نہ رہے گی۔
پھر انسان سمجھے گا کہ دنیا میں جن چیزوں کو وہ سب سے اہم سمجھتا رہا، ان میں سے بہت سی چیزیں کتنی معمولی تھیں۔
اور جن نیکیوں کو اس نے معمولی سمجھا، شاید وہی اس کے لیے سب سے بڑا سرمایہ بن چکی ہوں۔
اس لیے آج اپنے دل سے پوچھیں:
اگر آج حشر کا میدان قائم ہوجائے تو میں کس چیز کے ساتھ وہاں کھڑا ہوں گا؟
میرے پاس کیا ہوگا؟
میری نماز؟
میرا صدقہ؟
میرا قرآن؟
میرے والدین کی دعائیں؟
لوگوں کے حقوق؟
یا پھر صرف پچھتاوا؟
اللہ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جن کے لیے حشر خوف کی آخری منزل نہیں بلکہ اللہ کی رحمت تک پہنچنے کا راستہ بن جائے۔
یا اللہ! ہمارے چھپے ہوئے گناہوں کو معاف فرما، ہماری چھپی ہوئی نیکیوں کو قبول فرما، ہمارے حقوق العباد ادا کروا دے، ہمارے دلوں کو پاک فرما، اور قیامت کے دن ہمیں اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
—
جاری ہے…
اگلی قسط:
“قیامت کے دن نامۂ اعمال کس کے ہاتھ میں دیا جائے گا؟ دائیں ہاتھ، بائیں ہاتھ اور انسان کا سب سے بڑا فیصلہ”
![]()

