ایشیا کے پانی کا خزانہ خطرے میں: سالانہ 24 ارب ٹن زیرِ زمین پانی غائب!
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کیا آپ جانتے ہیں کہ ایشیا کو پانی فراہم کرنے والا سب سے بڑا قدرتی ذریعہ اب تیزی سے سوکھ رہا ہے؟ حالیہ سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ “ایشین واٹر ٹاور” یعنی بلند و بالا پہاڑی سلسلے کے نیچے موجود زیرِ زمین پانی کا ذخیرہ ہر سال 24.2 ارب ٹن کی خوفناک رفتار سے کم ہو رہا ہے۔
چین کی اکیڈمی آف سائنسز (AIRCAS) کے ماہرین نے سیٹلائٹ اور اے آئی (AI) ٹیکنالوجی کی مدد سے پچھلے 20 سالوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ اس خطے کے دو تہائی حصے کا زیرِ زمین پانی ختم ہو رہا ہے۔ اس کا سب سے بڑا اور خطرناک اثر گنگا، برہم پترا، اور سندھ (Indus) جیسے گنجان آباد علاقوں اور زراعت پر پڑ رہا ہے۔
اس بڑی تباہی کی دو بنیادی وجوہات ہیں: ایک موسم میں تبدیلیاں اور دوسرا انسانوں کی طرف سے زراعت کے لیے پانی کا حد سے زیادہ استعمال۔
سائنسدانوں کے مطابق، تقریباً 2060ء کے قریب گلیشیئرز کے پگھلنے سے عارضی طور پر پانی کی کمی میں کچھ ٹھہراؤ تو آ سکتا ہے، لیکن یہ مستقل حل نہیں ہے۔ اگر ہم نے پانی کے استعمال کا طریقہ نہ بدلا، تو گلیشیئرز ختم ہونے کے بعد پانی کا یہ بحران مزید ہولناک روپ دھار لے گا۔
کروڑوں لوگوں کی زندگی، خوراک اور زراعت اس پانی سے جڑی ہے۔ یہ خبر ہم سب کے لیے ایک بیداری کی گھنٹی ہے کہ ہم پانی کی قدر کریں قبل اس کے کہ بہت دیر ہو جائے!
#water #savewater #watersafety #drinkingwater #urdu
![]()

