ایران کے خلاف فیصلہ کن اقتصادی کارروائی آج شروع کی جائے گی: امریکی وزیرِ خزانہ
انٹرنیشنل(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف ایک فیصلہ کن اقتصادی کارروائی آج شروع کی جائے گی، جو کسی دشمن کے خلاف کیا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا معاشی حملہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اب آخری مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے، اس کی تقریباً 100 فیصد فوجی فیکٹریاں تباہ کر دی ہیں اور اس کے جوہری پروگرام کو دفن کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کا مقصد ایران کے آمرانہ نظام کو برقرار رکھنے والی تمام اہم اقتصادی شریانوں اور راستوں کو کاٹ دینا ہے، تاکہ بالآخر تہران مکمل طور پر تنہا رہ جائے، ایران سے تعاون کرنے والے ممالک بھی زد میں آئیں گے۔
امریکی وزیرِ خزانہ نے مزید لکھا کہ صدر ٹرمپ نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جن میں حکومت کے تمام اداروں کی مکمل صلاحیت، تمام قانونی اختیارات اور وہ اقدامات استعمال کیے جا سکتے ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ امریکا کبھی ان کا سہارا نہیں لے گا۔
سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران گزشتہ کئی برسوں سے سکیورٹی ضمانتوں کے لیے دباؤ ڈال کر زندہ رہا ہے، اس نظام نے اپنی طاقت اس سوچ سے حاصل کی کہ ایران کی جوابی کارروائی یقینی ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے سخت اقدامات پر عمل درآمد قابلِ مذاکرات ہے، لیکن ٹرمپ کی صدارت میں یہ دور ختم ہو چکا ہے اور جو لوگ تہران کی جوابی کارروائی کے خطرے سے خوفزدہ ہیں، انہیں واشنگٹن کے عزم کو آزمانے کی قیمت کو کم نہیں سمجھنا چاہئے۔
سکاٹ بیسنٹ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکی حکومت پیر سے ایران کے خلاف مزید سخت اقتصادی پابندیوں کا اعلان کرے گی، یہ پابندیاں ایرانی حکومت کے خاتمے کا باعث بنیں گی۔
![]()

