Daily Roshni News

میرا رسول ﷺ۔۔۔تحریر۔۔۔ ناز پروین

میرا رسول ﷺ

تحریر۔۔۔ناز پروین

احساس

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ میرا رسول ﷺ۔۔۔تحریر۔۔۔ ناز پروین )ربیع الاول کا بابرکت مہینہ جاری ہے ۔ربیع الاول کے معنی پہلی بہار کے ہیں ۔اور واقعی اس مہینے کے شروع ہوتے ہی چاہے موسم کیسا ہی ہو ہمارے دلوں کا موسم بہار بن کر ہر جانب چھا جاتا ہے ۔لیکن بدقسمتی سی بدقسمتی ہے کہ اس مہینے کے شروع ہوتے ہی ایک لاحاصل بحث چھڑ جاتی ہے ۔پہلے یہ محدود ہوتی تھی لیکن جب سے سوشل میڈیاکا استرا بندروں کے ہاتھ میں آیا ہے وہ آنکھیں بند کر کے دائیں بائیں اسے چلاتے جاتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ اس طرح وہ خود کو بھی زخمی کر رہے ہیں ۔ایک عجیب سی بحث شروع ہو جاتی ہے ۔کوئی کہتا ہے میلاد منانا حرام ہے ۔کچھ تو اسے شرک تک لے جاتے ہیں ۔جبکہ اس کے حامی رسول پاک کے نام لیوا اس کی حمایت میں بیان دیتے رہتے ہیں ۔سمجھ نہیں آتی ۔۔کوئی زور زبردستی نہیں ۔اپنا اپنا عقیدہ ہے ۔ جنہوں نے رسول  پاکؐ کی تعریف میں محفل منعقد نہیں کرنی وہ اپنے عقیدے پر عمل کریں اور بے شک میلاد نہ منائیں ۔لیکن کسی کو یہ حق نہیں کہ اپنے عقائد زبردستی دوسروں پر ٹھونسے۔ شرک کے فتوے جاری کرے ۔۔ہمارے ہاں خواتین اس معاملے میں کچھ زیادہ ہی جذباتی ہو جاتی ہیں ۔ ربیع الاول ۔۔۔ پہلی بہار  یہ مہینہ ہمارے دل کے بہت قریب ہے ۔بچپن میں جب شعور نہیں تھا تو اس دن کو ایک رسم ایک رواج    سمجھ کر مناتے تھے ۔امی کا بنایا ہوا حلوہ گھر گھر بانٹتے ۔محلے کے گھروں سے نیاز آتی اور ہم بڑے خوش ہو کر کھاتے ۔جوں جوں شعور آتا گیا دل میں عشق محمدیؐ نے گھر کر لیا  ۔سیرت النبی خوب غور سے پڑھی ۔ اسے اپنی زندگی پر لاگو کرنے کی کوشش کی ۔یہ کیا کہ مذہب کو بس ایک خانے تک محدود کر دیں ۔رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات اقدس تو ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی دیتی نظر آتی ہے ۔خاص کر خواتین سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلوک ۔اپنی بیٹیوں کو عزت دینا ۔ازدواج مطہرات کو معتبر کرنا ۔حضرت خدیجہ کے وصال کے بعد ان کی سہیلی کو تحائف بھیجتے رہنا ۔اپنی اولاد بی بی فاطمہ حسن اور حسین سے بے مثال محبت کرنا ۔یہ سب ہمیں زندگی گزارنے کا ڈھنگ بتاتے ہیں ۔آج جب حوا کی بیٹی روزانہ درندگی کی بھینٹ چڑھ رہی ہے ۔معصوم بچیوں اور بچوں کی عصمت روندی جا رہی ہے ۔خانگی تشدد کا شکار بچیاں موت کے دہانے تک پہنچ رہی ہیں ۔اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیسر اپنی منکوحہ کو پھانسی دے رہے ہیں یہ سب دین اسلام اور سیرت رسول سے دوری کا نتیجہ ہے ۔ایسے میں رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات اقدس ہمارے لیے ایک روشن چراغ کی مانند ہے ۔ ہم کیسے مسلمان ہیں ۔اس بات پر تو بحث اور جھگڑا کرتے ہیں کہ میلاد منائیں یا نہ منائیں لیکن رسول اقدس کی ذات مبارک آپ کی اسوہ حسنہ  پر عمل نہیں کرتے۔ جس پر عمل کرنے سے ہمارے تمام مسائل حل ہو جائیں گے ۔ہر ایک کو اس کا حق ملے گا ۔آج سے 1400 سال  پہلے جب بچیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیتے تھے ۔بیٹی کی پیدائش پر چہرے سیاہ ہو جاتے تھے ۔ہمارے رسول نے اس زمانے میں عورتوں کو معتبر کر دیا ان کے مردوں کے مساوی حقوق مقرر کر دیے یہاں تک کہا کہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرے ۔۔ آج سے 1400 سال پہلے زندگی گزارنے کے وہ اصول بتا دیے کہ جن کی روشنی سے آج بھی زمانہ روشن ہے لیکن ہم بدقسمت  ابھی بھی جہالت کے  اندھیرے میں ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔  ۔میدان جنگ کے کیا سنہری اصول بتائے ۔بچوں عورتوں بوڑھوں کو کچھ نہیں کہا جائے گا ۔آج ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کا ترقی یافتہ ترین مہذب ترین ملک امریکہ جنگ شروع کرتا ہے تو ایران کے ایسے مدرسے پر میزائل مارتا ہے جہاں معصوم بچیاں تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔۔اور دعویٰ ہے کہ یہ انسانی حقوق کے علم بردار ہیں ۔۔جو لوگ مدحت رسول سے انکاری ہیں ان سے بس اتنا کہنا ہے کہ خود اللہ کی ذات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلامتی بھیجتی ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کرتی ہے ۔اللہ تعالی کے لاکھوں کرم سے متعدد بار مدینے میں حاضری کا شرف حاصل ہوا ۔دربار رسول سے  دور ہی دل زور زور سے دھڑکنا شروع ہو جاتا ہے ۔آنکھیں شرم ساری سے جھک جھک جاتی ہیں ۔یا اللہ کیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضری دیں گے ۔ہم تو خود اپنے گناہوں پر بے حد شرم سار ہیں ۔ سبز جالیوں کے سامنے آنکھوں سے آنسوؤں کی ایسی جھڑی شروع ہو جاتی ہے جو رکنے کا نام نہیں لیتی ۔ہچکیاں بندھ جاتی ہیں ۔وہاں موجود عربی خادمائیں زور زور سے چلاتی ہیں ۔۔حجا رونا نہیں ۔بدعت ہے بدعت ہے ۔۔۔اور ہم حیرت سے انہیں دیکھتے ہیں کہ ہمارا ان آنسوؤں پر اختیار کیسے ہے ۔آنکھوں سے آنسو اور زبان پر درود شریف جاری رہتا ہے ۔بار بار سلام بھیجتے ہیں ۔عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ ہمارا سلام قبول کیجئے ہماری حاضری قبول کیجیے ۔یہ کون سا جذبہ ہے ۔یہ کون سے احساسات ہیں ۔اور صرف ہمارا ہی یہ حال نہیں ارد گرد سب خواتین اسی طرح گڑگڑا کر درود و سلام کے تحفے بھیج رہی ہوتی ہیں ۔اپنے نصیبوں پر رشک کر رہی ہوتی ہیں کہ اللہ نے کیسے مقام پر پہنچایا ۔۔جہاں اس کے محبوب اپنے اہل خانہ اپنے صحابیوں کے ساتھ تشریف فرما ہوتے تھے ۔۔زبان پر نعت کے الفاظ جاری ہو جاتے ہیں اور جی چاہتا ہے کہ لہک لہک کے پڑھتے جائیں۔یا نبی سلام علیک۔یا رسول سلام علیک ۔یا حبیب سلام علیک ۔صلواةاللہ علیک ۔ربیع الاول کے خوبصورت مہینے میں محافل میلاد اور سیرت کانفرنسوں میں شرکت کرنے کا موقع ملتا ہے۔پورے پاکستان اور اسلامی دنیا میں یہ دن بہت جوش اور جذبے کے ساتھ منایا جاتا ہے ۔پاکستان کے مختلف شہروں میں عید میلاد النبی کے جلوس نکلتے ہیں ۔عید میلاد النبی کی خوشی میں نیاز کا اہتمام ہوتا ہے ۔گلی محلوں بازاروں اور عمارتوں کو سجایا جاتا ہے  ۔ایمان تازہ ہوتا رہتا ہے ۔درود و سلام کی بارشیں جاری رہتی ہیں ۔خود اپنی قسمت پر رشک آتا ہے کہ اللہ ہمیں ایسے مواقع دیتا ہے کہ ہم اتنی خوبصورت محفلوں میں شرکت کریں ۔رسول پاک کی سیرت سے واقعات سنیں ۔درود و سلام میں شامل ہوں ۔بس جو لوگ ان محافل میں شریک نہیں ہوتے ان کو بتانا ہے کہ غیر مسلم بھی سرور کائنات کی شان میں مدح سرائی کرتے ہیں ۔

اردو ادب میں کئی غیر مسلم شعراء نے آقا کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان میں عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہوئے خوبصورت نعتیں کہی ہیں۔ ان شعراء میں منشی شنکر لال ساقی، مہاراجہ کشن پرساد شاد، اور جگن ناتھ آزاد کے نام نمایاں ہیں۔

۔ مغربی اور انگریز مصنفین نے بھی حضرت محمد ﷺ کی سیرت، اخلاق اور انقلابی کارناموں کا غیر جانبدارانہ اور اعترافِ عظمت پر مبنی انداز میں ذکر کیا ہے۔ ان میں تھامس کارلائل اور باسورتھ سمتھ جیسی معروف شخصیات نمایاں ہیں۔

تھامس کارلائل (Thomas Carlyle)

 نے اپنے مشہور لیکچر (بعد ازاں کتاب “ہیروز اینڈ ہیرو ورشپ”) میں آپ ﷺ کو ایک عظیم ہیرو قرار دیا اور کہا کہ آپ کی 23 سالہ پُرخلوص اور محنتی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ سچے اور بااصول انسان تھے۔ رِیجِنالڈ باسورتھ سمتھ (R. Bosworth Smith) نے کتاب “محمد اینڈ محمدنزم” میں آپ ﷺ کے عفو و درگزر، یتیموں اور غلاموں کے ساتھ نرم سلوک اور اعلیٰ اخلاق کی پُر جوش تعریف کی۔مارٹن لنگز (Martin Lings) نے سیرتِ نبوی پر انگریزی میں بہترین کتاب “محمد: ہز لائف بیسڈ آن دی ارلی سورسز” لکھی، جو اسلامی دنیا میں بھی بے حد مقبول ہوئی۔یہ تو غیر ملکی اور غیر مسلم مصنفین کی بات ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تو ہمارے ایمان کا حصہ

ہے اور اس کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو سیرت رسول کے مطابق ڈھال لیں ۔ بقول علامہ اقبال

وہ دانائے سُبل، ختم الرُّسل، مولائے کُلؐ جس نے

غُبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا

نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل، وہی آخر

وہی قُرآں، وہی فُرقاں، وہی یٰسیں، وہی طٰہٰ

ناز پروین پشاور میں قائم چینی ثقافتی مرکز چائنہ ونڈو کی ڈائریکٹر معروف کالم نگار اور دو کتابوں کی مصنفہ ہیں .

📧 nazpervin@hotmail.com

Loading