شباب کی باتیں
شاخ پھولوں سے لدی ہو تو لٹک جاتی ہے
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔۔ *شاخ پھولوں سے لدی ہو تو لٹک جاتی ہے۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب)ڈاکٹر خالد مفتی استاد الاساتید کے درجے پر فائز تو ہیں ہی، اپنی ذات میں بھی ایک انجمن کا درجہ رکھتے ہیں۔ ماہر نفسیات ہونے کے ناتے ان کے شاگردوں کی بھی ایک خاص بڑی تعداد استاد الاساتذہ کے درجے پر فائز ہے، اور اب ان کے شاگردوں کے شاگردوں کی تعداد بھی ماشاءاللہ اتنی بڑھ چکی ہے کہ ذہنی امراض کے حوالے سے سرکاری ہسپتالوں اور دیگر اداروں کے علاوہ اپنی ذاتی پریکٹس کرنے والے بھی خاصی بڑی تعداد میں مختلف شہروں میں خدمات بجا لانے میں مصروف ہیں۔ خود ڈاکٹر خالد مفتی عالمی سطح پر ماہرین نفسیات کی گنی چنی ان چند شخصیات میں شامل ہیں، جو بین الاقوامی سیمیناروں میں بلوائے جاتے ہیں اور ان کی علمی اور عملی خدمات اور تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ اور ان کی حیثیت پر یہ شعر بآسانی اور سہولت کے ساتھ منطبق کیا جا سکتا ہے کہ
ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن
اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے؟
ڈاکٹر صاحب کو ویسے تو ریٹائرڈ ہوئے خاصا عرصہ ہو چکا ہے مگر یہ ان کا جنون ہے کہ وہ دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے ہم وقت دستیاب رہتے ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے ہورائزن کے نام سے ذہنی امراض میں مبتلا مریضوں کی اعانت کے لیے ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھی ہے، جس کے تحت *عبادت ہسپتال* میں نہ صرف ذہنی مریضوں کا شافی علاج کیا جاتا ہے بلکہ ریسرچ کا کام بھی رواں دواں رہتا ہے۔ ہورائزن کے نام سے موسوم اس ادارے کی بہترین خدمات کی وجہ سے اب عالمی سطح پر بھی اس کا نام گونجتا ہے، اور لاہور کے ذہنی امراض کے ایک اور بین الاقوامی ادارے، فاؤنٹین کے بعد اگر پاکستان کے کسی ادارے کو عزت و توقیر کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے تو وہ ہورائزن ہے، جس نے نہ صرف عبادت ہسپتال کو ایک خاص مقام دلوایا، بلکہ معاشرے میں نفسیاتی عوارض کے حوالے سے مختلف علاقوں میں مشکلات اور مسائل کے حوالے سے متاثر لوگوں کی مدد کے لئے سفری کیمپ لگا کر ان علاقوں میں ایمرجنسی کی حالت میں، عالم انسانیت کی بھرپور دادرسی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
ہورائزن ایک ایسی رجسٹرڈ تنظیم ہے جس کا اپنا ایک منشور ہے اور جس پر چلتے ہوئے مقررہ مدت کے بعد باقاعدہ انتخابات عمل میں لائے جاتے ہیں۔ گزشتہ روز اسی سلسلے میں ڈاکٹر خالد مفتی کی صدارت میں جنرل باڈی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں نہ صرف موجودہ کابینہ نے آئینی تقاضوں کے تحت اپنے استعفے پیش کیے، تاکہ نئے انتخابات کے لیے اقدامات اٹھائے جا سکیں، بلکہ اس موقع پر ڈاکٹر خالد مفتی نے ختم ہونے والی مدت کے دوران ہورائزن، عبادت ہسپتال اور ہورائزن کے ذیلی ادبی سماجی ادارے- سنڈیکیٹ آف رائٹرز کی کارکردگی کا بھی مختصر جائزہ پیش کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کا ادب کے ساتھ شغف تو ضرور تھا مگر انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ان کا رجحان بھی کبھی ادب و شعر کی جانب اتنی ہی سنجیدگی کے ساتھ ہو جائے گا، جتنا کسی اور کا ہو سکتا ہے۔
مرحوم خاطر غزنوی کے ادبی ادارے سنڈیکیٹ آف رائٹرز کے اجلاسوں میں مسلسل شرکت کی وجہ سے انہوں نے انشاء پردازی کے رموز سے آشنائی سیکھی، اس کے بعد پروفیسر ناصر علی سید اور دیگر ادباء و شعراء کا ساتھ میسر آنے سے وہ خود بھی لکھنے لکھانے کی جانب راغب ہوئے (یاد رہے کہ ماشاءاللہ اب ڈاکٹر خالد مفتی صاحب بھی جو انگریزی شاعری تو پہلے بھی کرتے تھے، اردو کی تحریروں کی جانب راغب ہو چکے ہیں اور میرے کالموں کے مجموعے “شباب کی باتیں” کے لیے دیباچہ بھی لکھ چکے ہیں) ان کی مزید بہت خوبصورت تحریریں بھی اکثر و بیشتر سامنے آتی رہتی ہیں، اور ادبی تقاریب میں کبھی تحریری طور پر اور کبھی زبانی جو تقاریر وہ کرتے ہیں ان میں بھی ادبی چاشنی موجود ہوتی ہے۔ ڈاکٹر خالد مفتی نے ہورائزن، عبادت ہسپتال اور سنڈیکیٹ آف رائٹرز کی خدمات کو مختصر مگر جامع انداز میں پیش کیا اور ثابت کیا کہ
ہاں بھلا کر تیرا بھلا ہوگا
اور درویش کی صدا کیا ہے؟
اس موقع پر سابقہ مجلس عاملہ سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی شریف شکیب نے کہا کہ ڈاکٹر خالد مفتی کی سرکردگی میں چند سال پہلے چترال میں آنے والی تباہی کے دوران ہورائزن کی ٹیم نے، ان کی دعوت پر ریلیف کیمپ کے دوران جس طرح اہل چترال کی دادرسی کے لیے اقدامات اٹھائے، وہ متاثرہ علاقے کے لوگوں کو اب تک یاد ہیں ۔
ڈاکٹر خادم ابراہیم نے ہورائزن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے تجویز پیش کی کہ شہر کے اندر پینے کے صاف پانی کا بہت بڑا مسئلہ ہے، ٹیوب ویلوں سے اکثر ان پائپوں کے ذریعے، جو گلیوں میں نالیوں کے اندر اور کناروں پر بچھائے گئے ہیں، فراہم کیا جانے والا پانی آلودہ ہوتا ہے اور گھروں میں جا کر مختلف بیماریاں پھیلانے کا سبب بنتا ہے، جو آگے چل کر نفسیاتی عوارض میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ان پر اگر توجہ دی جائے تو بہتر ہوگا۔ اس پر ہمیں گزشتہ کئی سال سے وقتا فوقتا سامنے آنے والی وہ خبریں یاد آگئیں جن میں عام ٹیوب ویلوں سے فراہم کیے جانے والے پانی کے برعکس، کمرشل بنیادوں پر بوتلوں میں بند، فلٹر شدہ پانی کا تذکرہ ہوتا تھا، اور جن کا سرکاری لیبارٹریوں میں جائزہ لینے کے بعد بھی، اکثر ان منرل واٹر کمپنیوں کی بوتلوں میں بھی آلودہ یا مقررہ معیار سے کم معیار کا صاف پانی عوام کو فروخت کیا جاتا رہا ہے، مگر عجیب بات یہ ہے کہ ان کی نشاندہی کے باوجود متعلقہ سرکاری ادارے پھر بھی غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے خلاف تادیبی کاروائی سے گریزاں رہتے ہیں یعنی بقول خالد
ہمارا شہر تو خبروں کا کارخانہ ہے
جہاں پہ روز نیا انکشاف ہوتا ہے
بہرحال بات ہورائزن کی ہو رہی تھی، جس کے نئے انتخابات انشاءاللہ اگلے مہینے قرار پائے ہیں اور امید ہے کہ نئی کابینہ کے آنے کے بعد پہلے سے بھی زیادہ دلچسپی اور تندہی کے ساتھ ادارے کی کارکردگی کو آگے بڑھانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے جائیں گے۔ اور جس طرح بین الاقوامی سطح پر ہورائزن کو سراہا جا رہا ہے اس کو مزید نکھارنے کی کوششیں کی جائیں گی ۔
بوجھ کانٹوں کا جھکاتا نہیں ڈالی کو کبھی
شاخ پھولوں سے لدی ہو تو لٹک جاتی ہے
![]()

