Daily Roshni News

موت کی ضیافت۔۔۔ تحریر ۔۔۔  قدرت جوت۔۔۔قسط نمبر2

موت کی ضیافت

تحریر ۔۔۔۔۔۔۔  قدرت جوت

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ موت کی ضیافت۔۔۔ تحریر ۔۔۔  قدرت جوت) ترکی کے معروف ادیب شاعر اور نقاد

جودت قدرت 1907تا1992ء

جودت قدرت سولوک (Cevdet Kudret Solok) ترکی کے ممتاز ادیب شاعر، نقاد اور ادبی تاریخ نگار تھے، جنہوں نے بیسویں صدی کے ترک ادبی منظر نامے میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ 7 فروری 1907ء کو استنبول میں پیدا ہوئے، زندگی کا بیشتر حصہ اسی شہر میں گزارا اور 10 جولائی 1992ء کو وہیں انتقال کیا۔ انہوں نے استنبول یونیورسٹی کے فیکلٹی آف (Hukuk Fakultesi سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں تدریسی، ادبی اور تحقیقی میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان خدمات میں ادبیات کے استاد کی حیثیت سے تدریس، ترک زبان ایسوسی ایشن میں ایڈیٹر اور مشیر کے فرائض، اور جامع علمی وادبی منصوبوں پر کام شامل ہے۔ جودت قدرت نے اپنے ادبی سفر کا آغاز معروف ادبی رسائل ثروت فنون Servet-i Fünün اور “مشعل” Mesale سے کیا۔ 1928ء میں وہ جدید ترک ادب کی مشہور تحریک ”یدی مشعل جلر “ Yedi Mesaleciler یعنی سات مشعل بردار کے سات اہم ادیبوں میں شامل ہوئے۔ انہوں نے شاعری اور ڈرامہ نگاری کے ساتھ ساتھ ناول، افسانه، تنقید، تاریخی مطالعات، نصابی کتب اور ادبی تاریخ کے میدان میں بھی گہرے اور وقیع تحقیقی کام انجام دیے۔ ان کی نمایاں تخلیقات میں سناف در کداشلاری Sinf Arkadaşlan (ہم جماعت)، ہوادا بولوت یوک Havada Bulut Yok (آسمان میں کوئی پول نہیں) اور سوکاک Sokak( بازار کی گلی) جیسے اہم ناول اور افسانے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ادبی موضوعات پر متعدد نصابی اور تحقیقی کتب بھی تصنیف کیں۔ ان کی علمی و تحقیقی خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی ادبی اور تعلیمی اعزازات سے نوازا گیا، جن میں ترک زبان ایسوسی ایشن کا سائنس ایوارڈ (1974ء) اور ادبیاء ایسوسی ایشن کا اعزازی ایوارڈ (1992ء) نمایاں ہیں۔ 1995ء سے ان کی یاد میں جودت قدرت ایوارڈ ہر سال ادب کے میدان میں نمایاں تخلیقی کار کردگی دکھانے والوں کو دیا جاتا ہے، خصوصاً ان لکھنے والوں کو جو انسانی اقدار کو اپنی تحریروں میں مرکزی اہمیت دیتے ہیں۔ جودت قدرت کی معروف ترکی کہانی Olülerin Yortusu (موت کی نیافت The Feast of the Dead ) غیر معمولی آفاقیت کی حامل ہے۔ اس افسانے کا سب سے زیادہ دل ہلا دینے والا پہلو یہ ہے کہ ایک معصوم نھا بچہ محض بھوک کی آگ بجھانے کے لیے ایسی بات کہہ جاتا ہے جو پورے سماج کے چہرے پر ایک سخت اور بے رحم طمانچہ بن کر پڑتی ہے۔

گھنٹوں تک برقرار رہتی ہے۔ اس کے بعد جوں ہی معده خالی محسوس ہونے لگتا ہے اور پیٹ میں چوہے دوڑنے لگتے ہیں تو گھر کا کوئی فرد بڑی سنجیدگی سے کہتا ہے ” میرا خیال ہے ہمیں اب کچھ زہر مار کر ہی لینا چاہیے “۔ سب اس کا ساتھ دیتے ہیں اور یوں کھانے کے ساتھ ہی زندگی کے دیگر معطل شدہ قواعد پھر سے لوٹنے لگتے ہیں۔

مسلمانوں کی رسم ہے کہ متوفی کے ہمسائے دوتین روز تک اس کے پسماندگان کے لیے کھانا ” بھجواتے ہیں۔ ایسا کھانا گلناز اور اس کے بچوں کے لیے سب سے پہلے گلی کی نکڑ پر واقع بلند و بالا سفید حویلی سے آیا۔ یہ حویلی ایک متمول تاجر ریف آفندی کی تھی۔

دروسن آغا کی موت کے اگلے روز دو پہر کے وقت سفید حویلی سے ایک خادمہ نکلی۔ اس نے ہاتھوں میں ایک بھاری بھر کم ملشت اٹھار کھا تھا۔ گلناز کے گھر کے دروازے پر پہنچ کر وہ ترک گئی۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کھلنے پر طشت اندر بڑھادیا۔

حقیقت یہی ہے کہ اس روز کسی کو بھی کھانے پینے کا غم نہ تھا۔ مگر جو نہی طشت پر سے کپڑا ہٹا یا گیااور فضا میں بھنے ہوئے مرغ، قورمے اور مٹھائیوں

کی اشتہا انگیز مہک بکھری تو آپ ہی آپ ان کی – بھوک چمک اٹھی۔ ان کے تمام کربناک جذبات کی ایک طرح سے تسکین ہو گئی۔ وہ خاموشی اور اشتیاق سے مشت کے ارد گرد جمع ہو گئے۔ ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ آج تک انہوں نے کبھی ایسا نفیس اور لذیذ کھانا اپنے سامنے نہ دیکھا تھا یا پھر شاید دروسن آغا کی موت کے دکھ نے ان کی حسیات اور جبلتوں کو تیز کر دیا تھا کہ انہوں نے 1 کھانے کو بے حد لذیذ پایا۔

رات کے وقت وہ پھر طشت کے گرد بیٹھ گئے اور بچا کھچا کھانا کھا کر پیٹ کی آگ کو سرد کیا۔

اس سے اگلے روز …. ایک ہمسائے نے ان کے کھانے کا انتظام کیا۔ یہ سلسلہ مزید تین چار روز تک جاری رہا ۔ بلاشبہ حویلی سے آنے والا کھانا دوسرے گھروں سے سے آنے والے کھانوں سے زیادہ نفیس اور لذیذ تھا مگر دوسرے گھروں سے آنے والے کھانے بھی گلناز کے گھر میں پکنے والے کھانے سے بدرجہا بہتر اور لذیذ تھے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہتا تو گناز اور اس کے بچے اپنے شوہر اور باپ کا غم ہمیشہ سینے سے لگائے رکھتے۔ کھانے سے لدے پھندے طشت آنا بند ہو گئے ۔ سردی سے بچاؤ کے لیے بڑی گلی کی دکان سے کو سلے کی آمد بھی بند ہو گئی تو یہ کنبہ پھر سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ ان کا دکھ اب ناقابل برداشت ہونے والا ہے۔ دوسرے لوگ ان کے لیے جو کچھ کر سکتے تھے کر چکے….!

وہ پہلا دن جب کسی نے ان کے گھر کھانا نہیں بھیجا۔ وہ سہ پہر تک پر امید رہے۔ جب بھی گلی میں کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی وہ بھاگ کے دروازے کی جانب بڑھتے اس امید کے ساتھ کہ کوئی ان کے لیے کھا نالا یا ہو گا۔ وہ تصور کی آنکھ سے دہلیز پر کسی ہمسائے کو لذیذ کھانوں سے لدا سپندا طشت اٹھائے ہوئے دیکھتے مگر جوں ہی دروازہ کھلتا، لوگ زندگی کے عام معمول کے مطابق ادھر ادھر جاتے نظر آتے اور ان کے ہاتھوں میں کوئی

طشت نہ ہوتا۔

رات کے کھانے کے وقت انہوں نے اس کڑوی حقیقت کو قبول کر لیا کہ اب کوئی بھی ان کے۔۔۔جاری ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ فروری 2026

Loading