البیرونی: ایک پہاڑ اور افق کے زاویے سے زمین کا رداس کیسے ناپا؟
تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ البیرونی: ایک پہاڑ اور افق کے زاویے سے زمین کا رداس کیسے ناپا؟۔۔۔ تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی)آج زمین کا سائز معلوم کرنا ہو تو ہمارے پاس مصنوعی سیارے، ریڈار، جدید دوربینیں اور انتہائی درست پیمائشی آلات موجود ہیں۔ لیکن ذرا تقریباً ایک ہزار سال پیچھے چلیے۔ نہ سیٹلائٹ تھا، نہ ہوائی جہاز، نہ جدید نقشہ سازی، نہ کوئی شخص زمین سے اتنا دور جا سکتا تھا کہ پورے کرۂ ارض کو دیکھ سکے۔ اس زمانے میں ایک مسلمان عالم نے ایک پہاڑ، چند زاویوں اور علمِ مثلثات کی مدد سے زمین کا رداس معلوم کرنے کی کوشش کی—اور نتیجہ جدید پیمائش کے حیرت انگیز طور پر قریب نکلا۔
وہ عالم ابوریحان محمد بن احمد البیرونی تھے۔ البیرونی 973ء میں خوارزم کے علاقے میں پیدا ہوئے۔ وہ صرف ماہرِ فلکیات نہیں تھے بلکہ ریاضی، جغرافیہ، ارضیات، معدنیات، تاریخ اور مختلف تہذیبوں کے مطالعے میں بھی نمایاں مقام رکھتے تھے۔ ان کی علمی خصوصیت یہ تھی کہ وہ صرف قدیم کتابوں کے اقوال نقل کرنے پر اکتفا نہیں کرتے تھے، بلکہ مشاہدہ، پیمائش اور حساب کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ ‘انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا’ کے مطابق انہوں نے جغرافیائی پیمائش کے کئی نئے طریقے اختیار کیے اور زمین کے رداس کو معلوم کرنے کے لیے بھی پہاڑ کی اونچائی اور افق کے مشاہدے پر مبنی اپنا طریقہ استعمال کیا۔
یہاں ایک مشہور غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے۔ البیرونی نے یہ دریافت نہیں کیا تھا کہ زمین کروی ہے۔ زمین کے کروی ہونے کا تصور ان سے بہت پہلے یونانی، ہندوستانی اور مسلم علمی روایت میں موجود تھا۔ قدیم یونانی عالم ‘ایراٹوسٹینز’ بھی کئی صدیاں پہلے زمین کے محیط کا اندازہ لگا چکے تھے۔ البیرونی کی اصل اہمیت یہ تھی کہ انہوں نے زمین کا رداس معلوم کرنے کے لیے ایک مختلف اور نہایت ذہین طریقہ اختیار کیا جس میں دو بہت دور شہروں کے درمیان فاصلہ ناپنے کی ضرورت نہیں تھی۔ کیمبرج یونیورسٹی پریس کی تاریخِ ریاضی سے متعلق تحریریں بھی البیرونی کے اس پہاڑی اونچائی والے طریقے کو زمین کی پیمائش کے تاریخی طریقوں میں شمار کرتی ہیں۔
تاریخی حوالوں کے مطابق البیرونی نے یہ مشاہدہ ‘نندانہ’ کے علاقے میں کیا، جو آج پاکستان کے پنجاب میں سالٹ رینج کے خطے کا حصہ ہے۔ یونیسکو کے ایک تاریخی مضمون کے مطابق نندانہ کے قلعے کے قریب البیرونی نے پہلے ایک پہاڑ کی اونچائی معلوم کی اور پھر اس کی چوٹی سے افق کا زاویہ ناپا۔ اسی مضمون میں اس پیمائش کو 1018ء کے قریب رکھا گیا ہے۔ یعنی جدید پاکستان کی سرزمین بھی سائنس کی تاریخ کے اس اہم تجربے سے جڑی ہوئی ہے۔
سب سے پہلے البیرونی کو پہاڑ کی درست اونچائی معلوم کرنا تھی۔ لیکن وہ پہاڑ پر پیمائش کی لمبی رسی لے کر اوپر نہیں گئے۔ انہوں نے ہموار زمین پر دو مختلف مقامات منتخب کیے جن کے درمیان فاصلہ معلوم تھا۔ دونوں جگہوں سے پہاڑ کی چوٹی کی طرف دیکھ کر زاویہ ناپا گیا۔ پھر علمِ مثلثات (Trigonometry) کی مدد سے پہاڑ کی اونچائی نکالی جا سکتی تھی۔ سادہ الفاظ میں: معلوم زمینی فاصلہ اور چوٹی کے دو زاویوں کی مدد سے پہاڑ کی اونچائی نکال لی گئی۔ یہ وہی بنیادی اصول ہے جس سے آج بھی ‘سروے’ میں براہِ راست پہنچے بغیر کسی بلند چیز کی اونچائی معلوم کی جا سکتی ہے۔
اصل ذہانت اب سامنے آتی ہے۔ البیرونی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے۔ اگر زمین بالکل چپٹی ہوتی تو سیدھی افقی لکیر اور دور دکھائی دینے والا افق ایک ہی سطح پر ہوتے۔ لیکن کروی زمین پر جیسے جیسے آپ بلند ہوتے ہیں، نظر آنے والا افق آپ کی سیدھی افقی لکیر سے تھوڑا نیچے دکھائی دیتا ہے۔ البیرونی نے اسی انتہائی چھوٹے زاویۂ انحطاط (Angle of dip) کو ناپا۔ اب ان کے پاس دو معلومات تھیں: پہاڑ کی اونچائی اور افق کا جھکاؤ۔
بس یہی کافی تھا۔ زمین کے مرکز، پہاڑ کی چوٹی اور نظر آنے والے افق کے مقام کو ایک جیومیٹری کے خاکے میں رکھیں تو ایک قائمہ مثلث بنتی ہے۔ اس مثلث میں پہاڑ کی اونچائی اور افق کا زاویہ معلوم ہو تو علمِ مثلثات کے ذریعے زمین کا رداس نکالا جا سکتا ہے۔ یعنی البیرونی کو پوری زمین کا چکر لگانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ انہوں نے ایک چھوٹے سے مقامی مشاہدے سے ایک پورے سیارے کی جسامت کا اندازہ لگایا۔ یہی ریاضی کی طاقت ہے۔
یہاں اعداد بیان کرتے وقت احتیاط ضروری ہے، کیونکہ البیرونی کے استعمال کردہ قدیم پیمائشی یونٹ کو جدید کلومیٹر میں تبدیل کرنے کے طریقوں میں کچھ فرق پایا جاتا ہے۔ یونیسکو کے تاریخی بیان کے مطابق ان کا حاصل کردہ رداس تقریباً 6,338.8 کلومیٹر بنتا ہے، جبکہ اسی مقام کے عرض البلد پر جدید قدر تقریباً 6,353 کلومیٹر کے قریب بنتی ہے—یعنی فرق تقریباً 15 کلومیٹر۔ ‘میک ٹیوٹر ہسٹری آف میتھمیٹکس’ ایک دوسری تبدیلی کے مطابق ان کی قدر تقریباً 6,339.6 کلومیٹر بیان کرتا ہے۔ آج زمین کا اوسط رداس تقریباً 6,371 کلومیٹر معلوم ہے۔ چونکہ زمین مکمل کرہ نہیں بلکہ قطبین پر کچھ چپٹی ہے، اس لیے مقام کے لحاظ سے اس کا رداس بدلتا ہے۔ ناسا اور امریکی جیولوجیکل سروے جدید اوسط قدر تقریباً 6,371 کلومیٹر دیتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ مختلف تاریخی تبدیلیوں کے باوجود البیرونی کا نتیجہ غیر معمولی طور پر قریب تھا۔
اصل حیرت صرف آخری عدد نہیں۔ اصل حیرت طریقۂ فکر ہے۔ ایک پہاڑ سامنے ہے۔ دور افق دکھائی دے رہا ہے۔ انسان براہِ راست پوری زمین نہیں دیکھ سکتا۔ لیکن عقل کہتی ہے کہ اگر چند قابلِ پیمائش چیزوں کے درمیان تعلق سمجھ لیا جائے تو نامعلوم مقدار بھی معلوم کی جا سکتی ہے۔ یہی سائنسی طریقہ کار کی روح ہے: مشاہدہ، پیمائش، ریاضی اور پھر نتیجہ۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
“قُلِ انظُرُوا مَاذَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ”
(کہہ دیجیے: دیکھو، آسمانوں اور زمین میں کیا کچھ ہے۔)
سورۃ یونس: 101
تفسیر ابن کثیر میں بھی اس مقام پر آسمان اور زمین کی مخلوقات اور مظاہر میں غور و فکر کی دعوت کا ذکر ملتا ہے۔ یہ آیت البیرونی کا فارمولا بیان نہیں کرتی، نہ زمین کے رداس کی کوئی عددی قیمت دیتی ہے۔ لیکن یہ انسان کو دیکھنے، غور کرنے اور کائنات کی نشانیوں پر فکر کرنے کی طرف ضرور متوجہ کرتی ہے۔ البیرونی کی زندگی ہمیں دکھاتی ہے کہ یہ غور و فکر صرف حیرت پر ختم نہیں ہونا چاہیے؛ اسے مشاہدے، سوال، پیمائش اور علم تک بھی پہنچنا چاہیے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ تقریباً ایک ہزار سال پہلے ابوریحان البیرونی نے جدید سیٹلائٹ اور جی پی ایس کے بغیر زمین کے رداس کا اندازہ لگایا۔ انہوں نے پہلے مثلثات سے پہاڑ کی اونچائی معلوم کی، پھر اس کی چوٹی سے افق کے معمولی جھکاؤ کو ناپا اور جیومیٹری کے ذریعے زمین کا رداس نکالا۔ ان کی اصل علمی عظمت صرف ایک درست عدد نہیں بلکہ وہ تحقیقی ذہن تھا جو ایک پہاڑ اور ایک افق سے پورے سیارے تک پہنچ گیا۔ اسلامی تہذیب کی سائنسی تاریخ کو جاننے کا مقصد یہ نہیں کہ ہم مبالغہ کریں، بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ ہمارے علمی ورثے میں ایسے محقق بھی گزرے ہیں جنہوں نے سوال پوچھا، تجربہ کیا، پیمائش کی اور اپنے نتائج کو ریاضی کی زبان میں پیش کیا۔
#البیرونی #مسلم_سائنسدان #سائنس #تاریخ_سائنس #سائنس_اور_قرآن #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں
حوالہ جات:
-
Encyclopaedia Iranica — Al-Biruni: Geography
-
Cambridge University Press — Gauging the Earth
-
Mathematical Association of America — How to Measure the Earth
-
UNESCO — Al-Biruni: A Universal Genius
-
MacTutor History of Mathematics — Al-Biruni
-
NASA / USGS — Earth Radius Data
-
القرآن الكريم — سورۃ یونس: 101
-
تفسیر ابن کثیر
![]()

