Daily Roshni News

ربیع الاول کا پیغام سب کے لئے ۔۔۔ انتخاب ۔ محمد جاوید عظیمی

ربیع الاول کا پیغام

سب کے لئے ۔۔۔۔۔

انتخاب ۔ محمد جاوید عظیمی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ربیع الاول کا پیغام سب کے لئے ۔۔۔ انتخاب ۔ محمد جاوید عظیمی)ربیع الاول ہمیں کیا سکھانے آیا ہے؟

محبتِ رسول ﷺ صرف جذبات نہیں… زندگی بدلنے کا نام ہے

کبھی کبھی ایک مہینہ آتا ہے اور انسان صرف تاریخ دیکھتا ہے۔

اور کبھی وہی مہینہ آتا ہے…

تو انسان اپنا چہرہ نہیں، اپنا کردار دیکھنے لگتا ہے۔

ربیع الاول بھی آ گیا۔

فضاؤں میں درود کی صدائیں ہیں۔

مساجد میں سیرت کے بیانات ہیں۔

گھروں میں نعتیں ہیں۔

زبانوں پر محمد مصطفیٰ ﷺ کا ذکر ہے۔

اور یہ سب محبت کی خوبصورت علامتیں ہیں۔

لیکن آج ہمیں ایک ایسا سوال پوچھنا ہے جس کا جواب کسی کتاب، کسی مقرر یا کسی دوسرے شخص سے نہیں لینا۔

اس کا جواب ہمیں اپنے دل سے لینا ہے۔

ربیع الاول آیا ہے… مگر کیا ہم بدلے ہیں؟

کیا ہماری نماز پہلے سے بہتر ہوئی؟

کیا ہماری زبان پہلے سے پاک ہوئی؟

کیا ہمارے گھر میں پہلے سے زیادہ سکون آیا؟

کیا ہمارے اندر غصے کی جگہ برداشت نے لی؟

کیا ہم نے کسی ایسے شخص کو معاف کیا جسے ہم برسوں سے معاف نہیں کر رہے تھے؟

کیا ہم نے کسی کا حق واپس کیا؟

کیا ہمارے کاروبار میں دیانت بڑھی؟

کیا ہمارے بچوں کو ہماری محبت زیادہ محسوس ہونے لگی؟

کیا ہمارے پڑوسی ہمارے ہاتھ اور زبان سے محفوظ ہوئے؟

اگر ان سوالوں کا جواب ہاں ہے تو الحمدللہ، ربیع الاول ہمارے لیے صرف کیلنڈر کا ایک صفحہ نہیں رہا۔

لیکن اگر جواب نہیں ہے…

تو شاید ہمیں رک کر سوچنے کی ضرورت ہے۔

کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے محبت کا دعویٰ جتنا بڑا ہے، اس محبت کی ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہے۔

محبتِ رسول ﷺ کا اصل مطلب کیا ہے؟

ہم رسول اللہ ﷺ سے محبت کرتے ہیں۔

یہ ایمان کا حصہ ہے۔

لیکن محبت صرف دل کے جذبات کا نام نہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ

“کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔”

سورۃ آل عمران، 3:31

غور کیجیے۔

اللہ تعالیٰ نے محبت کے دعوے کے ساتھ فوراً اتباع کا ذکر کیا۔

یعنی محبت کا ثبوت صرف یہ نہیں کہ ہماری زبان پر نامِ محمد ﷺ ہو۔

محبت کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ محمد ﷺ کی تعلیم ہماری زندگی میں نظر آئے۔

ہم سچ بولیں کیونکہ وہ ﷺ سچائی کی تعلیم دیتے تھے۔

ہم امانت ادا کریں کیونکہ آپ ﷺ نے امانت کی اہمیت سکھائی۔

ہم کمزور پر رحم کریں کیونکہ آپ ﷺ رحمت بن کر آئے۔

ہم ظلم سے بچیں کیونکہ آپ ﷺ نے ظلم کو پسند نہیں فرمایا۔

ہم معاف کرنا سیکھیں کیونکہ آپ ﷺ کی زندگی میں عفو و درگزر کے بے شمار نمونے موجود ہیں۔

ایک عجیب تضاد

ہم نبی ﷺ کی محبت میں نعت سنتے ہیں…

لیکن کبھی کبھی گھر میں اپنے ہی لوگوں سے سخت لہجے میں بات کرتے ہیں۔

ہم سیرت کی محفل میں بیٹھتے ہیں…

لیکن بازار میں معمولی فائدے کے لیے جھوٹ بول دیتے ہیں۔

ہم درود پڑھتے ہیں…

لیکن کسی مسلمان بھائی کی عزت مجروح کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔

ہم رسول اللہ ﷺ کے اخلاق بیان کرتے ہیں…

لیکن اپنے ماتحت انسان کو انسان سمجھنے میں ناکام رہتے ہیں۔

یہاں ہمیں اپنے دل سے ایک سوال کرنا چاہیے:

کیا میں رسول اللہ ﷺ کا ذکر صرف اپنی زبان سے کرتا ہوں یا اپنے کردار سے بھی؟

وہ ﷺ صرف ایک قوم کے لیے رحمت بن کر نہیں آئے

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ

“اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔”

سورۃ الأنبیاء، 21:107

یہاں لفظ ہے:

لِلْعَالَمِينَ

تمام جہانوں کے لیے۔

سوچیے…

اگر ہمارے نبی ﷺ رحمت للعالمین ہیں تو ان کی امت کا ایک فرد دوسروں کے لیے کیا ہونا چاہیے؟

خوف؟

تکلیف؟

بدگمانی؟

ظلم؟

یا…

رحمت؟

اگر ہماری موجودگی سے کسی کمزور کو سہارا ملتا ہے، تو ہم نے سیرت کا ایک حصہ اپنی زندگی میں زندہ کیا۔

اگر ہمارے پڑوسی کو ہم سے امن ملتا ہے، تو ہم نے سیرت کا ایک حصہ زندہ کیا۔

اگر ہمارا ملازم ہمیں دیکھ کر خوفزدہ نہیں بلکہ عزت محسوس کرتا ہے، تو ہم نے سیرت کا ایک حصہ زندہ کیا۔

اگر ہمارے بچے ہم سے صرف ڈرتے نہیں بلکہ ہمارے پاس اپنے دل کی بات بھی کرتے ہیں، تو ہم نے سیرت کا ایک حصہ زندہ کیا۔

ربیع الاول کا سب سے بڑا آئینہ: ہمارا گھر

ہم اکثر پوچھتے ہیں:

“لوگ میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟”

لیکن سیرت ہمیں ایک اور سوال سکھاتی ہے:

میرے قریب رہنے والے میرے بارے میں کیا محسوس کرتے ہیں؟

میری بیوی؟

میرے شوہر؟

میرے بچے؟

میرے والدین؟

میرے بہن بھائی؟

میرے ملازمین؟

میرے پڑوسی؟

کیونکہ باہر لوگوں کے سامنے اچھا بننا آسان ہے۔

اصل امتحان تو وہاں ہے جہاں کوئی کیمرہ نہیں ہوتا۔

جہاں کوئی تالیاں نہیں بجاتا۔

جہاں کوئی ہماری تعریف نہیں کرتا۔

وہاں ہمارا اخلاق حقیقت بتاتا ہے۔

اگر ہم مسجد میں نرم اور گھر میں سخت ہیں تو ہمیں اپنی سیرت فہمی پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔

اگر ہم اجنبیوں کے سامنے خوش اخلاق اور اپنے والدین کے ساتھ بدتمیز ہیں تو ہمیں رکنا چاہیے۔

اگر ہم محفل میں محبتِ رسول ﷺ کے آنسو بہاتے ہیں لیکن گھر میں دوسروں کے آنسو کا سبب بنتے ہیں تو ہمیں اپنے دل سے سوال کرنا چاہیے:

میں نے محبتِ رسول ﷺ سے کیا سیکھا؟

ایک پیر کا دن… اور ایک عظیم یاد

صحیح مسلم میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:

“فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ”

“یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی۔”

صحیح مسلم، 1162

یہ حدیث ہمیں ایک نہایت خوبصورت حقیقت کی طرف لے جاتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ولادت کا ذکر بھی اللہ کی طرف سے آنے والی وحی اور ہدایت کے تناظر میں سامنے آتا ہے۔

تو پھر ہمیں بھی صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ:

“آپ ﷺ کب پیدا ہوئے؟”

بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیے:

“آپ ﷺ کیا پیغام لے کر آئے؟”

اور اس سوال کا جواب ہماری زندگی بدل سکتا ہے۔

آپ ﷺ ہمیں کیا دے کر گئے؟

قرآن۔

توحید۔

نماز۔

عدل۔

رحمت۔

سچائی۔

امانت۔

حیا۔

صبر۔

معافی۔

حقوق العباد۔

اور سب سے بڑھ کر…

اللہ کے ساتھ زندہ تعلق۔

آپ ﷺ نے انسان کو صرف یہ نہیں بتایا کہ عبادت کیسے کرنی ہے۔

آپ ﷺ نے یہ بھی بتایا کہ:

انسان کیسے بننا ہے۔

شاید ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے

ہم سیرت پڑھتے ہیں…

مگر سیرت کو اپنی زندگی میں منتقل نہیں کرتے۔

ہم واقعہ سنتے ہیں…

مگر اس سے سبق نہیں لیتے۔

ہم نعت سنتے ہیں…

مگر اخلاق نہیں بدلتے۔

ہم درود پڑھتے ہیں…

مگر زبان سے دوسروں کو زخمی کرتے رہتے ہیں۔

ہم محبت کا اظہار کرتے ہیں…

مگر اتباع کی محنت نہیں کرتے۔

حالانکہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی صرف سننے کے لیے نہیں تھی۔

وہ چلنے کے لیے راستہ تھی۔

اس ربیع الاول میں ایک فیصلہ کیجیے

اس بار صرف یہ نہ کہیں:

“مجھے رسول اللہ ﷺ سے محبت ہے۔”

بلکہ ایک چھوٹا سا عملی فیصلہ کریں۔

اگر زبان خراب ہے تو زبان درست کریں۔

اگر نماز کمزور ہے تو نماز مضبوط کریں۔

اگر کسی سے ناراضی ہے تو صلح کی کوشش کریں۔

اگر کسی کا حق دبایا ہے تو واپس کریں۔

اگر والدین ناراض ہیں تو ان کے دل جیتنے کی کوشش کریں۔

اگر گھر میں غصہ زیادہ ہے تو نرمی اختیار کریں۔

اگر قرآن صرف الماری میں ہے تو اسے زندگی میں لائیں۔

اور اگر دل اللہ سے دور ہے…

تو واپس پلٹ آئیں۔

کیونکہ شاید ربیع الاول کا سب سے خوبصورت تحفہ یہی ہو:

ہم محمد ﷺ کا ذکر کرتے کرتے محمد ﷺ کی تعلیمات پر چلنا شروع کر دیں۔

آخر میں ایک سوال

ہم ہر سال ربیع الاول کا انتظار کرتے ہیں۔

لیکن کیا ربیع الاول بھی ہمارا انتظار کرتا ہے؟

کیا وہ چاہتا ہے کہ ہم پہلے جیسے ہی رہیں؟

یا وہ ہمیں پکار رہا ہے:

اے محمد ﷺ سے محبت کرنے والے!

اپنی زبان بدل۔

اپنا معاملہ بدل۔

اپنا گھر بدل۔

اپنی نماز بدل۔

اپنا دل بدل۔

اپنے اخلاق بدل۔

کیونکہ محمد ﷺ کی آمد صرف تاریخ کا ایک واقعہ نہیں…

یہ انسانیت کے لیے ہدایت کا آغاز تھا۔

اور اگر وہ ہدایت آج بھی ہمارے پاس موجود ہے…

تو پھر سوال یہ نہیں کہ:

“ربیع الاول میں کیا ہوا تھا؟”

اصل سوال یہ ہے:

“ربیع الاول کے بعد میرے اندر کیا ہونا چاہیے؟”

اور شاید اگلا سوال اس سے بھی زیادہ گہرا ہے:

محمد ﷺ جس انسان کو بنانا چاہتے تھے… کیا میں وہ انسان بننے کی کوشش کر رہا ہوں؟

اگلے حصے میں ہم اسی سوال کے جواب کی طرف بڑھیں گے:

محمد ﷺ کیوں تشریف لائے تھے؟

بعثت سے پہلے انسان کہاں کھڑا تھا، عرب معاشرہ کن اندھیروں میں گھرا ہوا تھا، اور رسول اللہ ﷺ کی بعثت نے انسان کے دل، عبادت، اخلاق، خاندان اور معاشرے کو کیسے بدل دیا؟

Loading