Daily Roshni News

شباب کی باتیں۔۔۔ اے خدا دشمن بھی مجھ کو خاندانی چاہیے۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب

شباب کی باتیں

*اے خدا دشمن بھی مجھ کو خاندانی چاہیے*

ہمارے ہاں ہند کو زبان کا ایک محاورہ ہے۔ “کو دا کا بنڑاڑاں”۔

 اسے آپ اردو میں یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ “بات کا بتنگڑ بنانا” ۔ کچھ ایسا ہی برتاؤ گزشتہ کچھ عرصے سے ایک مخصوص وٹس ایپ گروپ کے ساتھ وابستہ کرتا دھرتا ہمارے کالموں کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہیں اور ہمارے کالموں کو لے کر ان میں بعض الفاظ یا جملوں کو سیاق و سباق سے علیحدہ کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش فرما رہے ہیں۔ جبکہ صورتحال کچھ یوں بن جاتی ہے جسے فیض احمد فیض کے الفاظ میں اس طرح بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ

*وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا*

 * وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے*

چند ہفتے پہلے اسی گروپ کے ساتھ وابستہ ایک محترم خاتون تبصرہ نگار نے ہمارے ایک کالم کو لے کر، جس میں ایک خاتون شاعر کی غزل کا حوالہ تھا اور جس پر ایک سینیئر شاعر نے ہماری حکمت عملی کے برعکس کہ (ہم نے خاتون کا نام خفیہ رکھا تھا)  تبصرہ کرتے ہوئے وہ نام ظاہر کر دیا تھا، تو محترم تبصرہ نگار خاتون نے سیاق و سباق سے ہٹ کر ان سینئر شاعر کے تبصرے کو ہم سے باندھ کر جس طرح ادبی بددیانتی کا ثبوت دیا اور جس کے بعد محولہ خاتون شاعر نے تبصرہ نگار کی بجائے سارا غصہ ہم پر نکالا، وہ اس وٹس ایپ گروپ کی خدا جانے کون سے جنم کی ہمارے ساتھ  دشمنی کا نتیجہ تھا؟  بلکہ اسی پر بس نہیں کی گئی، بلکہ گروپ  سے وابستہ ان محترم تبصرہ نگار خاتون نے اس سینیئر شاعر اور ہمیں آپس میں بھڑانے کی ہر ممکن کوششیں کیں،  مگر وہ اس مقصد کے حصول میں ناکام رہیں۔  فردوسی نے شاید ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا تھا

*زبد  اصل چشمی بہی داشتن*

 *بودخاک در دیدہ انباشتن*

اس کے بعد بھی گاہے بگاہے ہمارے ساتھ محولہ گروپ کی چھیڑخانی جاری رہی اور اب اس سلسلے کی تازہ واردات، محولہ گروپ نے ہمارے گزشتہ روز کے ایک کالم بعنوان “تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے”  مطبوعہ 30 اگست 2026ء کے ساتھ ایک بار پھر واردات ڈالتے ہوئے کالم کے مندرجات کو سیاق و سباق سے علیحدہ کرکے،  اپنے گروپ میں جو خبر شائع کی ہے،  اس میں ہمارے حوالے سے وہ الفاظ استعمال کیے ہیں جو محولہ کالم میں کہیں موجود ہی نہیں ہیں۔  خیر صرف اس وٹس ایپ گروپ سے ہی کیا گلہ کہ خود ہمارے ایک دیرینہ کرم فرما اور منفرد لہجے کے شاعر۔۔۔۔۔۔ نے بھی اس کالم پر تبصرہ کرتے ہوئے ہمیں تلقین فرمائی ہے کہ “محترم شباب صاحب!  نام نہاد شعراء کو قومی ایوارڈ تک مل چکے ہیں، اب سنجیدہ اور حقیقی شعراء کو زحمت نہ دیں تو مہربانی ہوگی”.  ہمدم دیرینہ کی خدمت میں ہم نے گزارش کی کہ ایوارڈ دینے اور لینے والوں سے ہمیں کیا لینا دینا۔ میں نے تو مشاعروں میں جو نئی روایتیں پڑ چکی ہیں ان کی نشاندہی کی ہے، کسی کو سمجھ میں آجائے اتنا ہی بہت ہے۔  انہوں نے جواب الجواب میں فرمایا “محترم زور نام نہاد پر ہے, ایوارڈ پر نہیں”.

 ہمدم دیرینہ کی بات اپنی جگہ مگر ہم نے بھی گنتی کے چند ان بقول شخصے متشاعروں کی جانب اشارہ کیا تھا، جن کے نام کے (ماشاءاللہ؟) ڈنکے بج رہے ہیں۔ سنجیدہ اور حقیقی شاعروں کا تو ہم نے ذکر ہی نہیں کیا، خواہ وہ بنفس نفیس مشاعروں کا حصہ بنیں یا پھر آن لائن مشاعروں کے ذریعے دنیا بھر سے داد سمیٹیں، کہ یہ ان کا جائز حق ہے اور محولہ فیس بکی “نام نہاد”  شاعروں کی بات کرتے ہوئے ان متشاعروں کے ان شعروں کا تذکرہ کیا جو (حادثاتی طور پر ان سے سرزد ہوئے)  اور اب ان کا کل اثاثہ بس یہی چند اشعار ہیں،  جو ہٹ ہو چکے ہیں اور نہ صرف یہ خود بھی مختلف مشاعروں میں بار بار یہی اشعار پڑھتے ہیں بلکہ ان کے “سامعین”  بھی ان سے یہی اشعار بار بار سننے کی توقع رکھتے ہیں بلکہ فرمائش کرتے ہیں۔ یعنی بقول کومل جوئیہ

 *غریب شہر نے پاؤں پہ ہاتھ رکھ رکھ کے*

 *امیر شہر کی عادت خراب خود کی ہے*

بات یہاں تک ہی محدود تھی مگر محولہ وٹس ایپ گروپ کے کسی نمائندہ نے ہمارے کالم کے مندرجات میں سے (اپنی پسند) کے الفاظ جو ہمارے ہیں ہی نہیں، کہیں سے تلاش کر کے اس کو “ادب میں ایک نئی بحث”  سے موسوم کر کے، خبر لگا دی ہے اور ہم حیران ہیں بلکہ ہم نے اپنے کالم کو دو تین بار غور سے پڑھ کر گروپ کی جانب سے جاری کردہ خبر کے الفاظ اپنی تحریر میں تلاش کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے اور سوچ میں پڑ گئے کہ مرحوم یار طرحدار ڈاکٹر نذیر تبسم نے بالکل سچ کہا تھا کہ

*اس کی ذہنیت پہ مجھ کو اس لیے بھی دکھ ہوا*

*تہمتوں کا بھی کوئی معیار ہونا چاہیے*

ممکن ہے کہ گزشتہ حرکت کی طرح، جس طرح ہمیں اپنے ہی شہر کے ایک سینیئر شاعر کے ساتھ الجھانے میں بری طرح ناکام ہونے کے بعد اب یہی گروپ ہمیں دنیا بھر میں اپنا لوہا منوانے والے، حقیقی شعراء کے ساتھ بھڑانا چاہتا ہو،  مگر ہم نے صرف اور صرف ان چند فیس بکی شعراء( جن کی تعداد ہاتھوں کی دونوں انگلیوں سے شاید زیادہ نہیں ہے)  کا ذکر کیا ہے، اس لیے حقیقی شعراء کی اہمیت اور حیثیت پر ہمارے لکھے کا نہ تو کوئی اثر پڑ سکتا ہے، نہ ہی پڑنا چاہیے۔  جبکہ جن کا ذکر ہم نے کیا ہے وہ اگر خود بھی اپنے *(ادبی گریبان) *   میں جھانکیں تو انہیں شاید احساس ہو سکے کہ ان کے یہ چند شعر کب تک انہیں زندہ رکھ سکیں گے؟  خواہ ان کی مدد کے لیے اور ہم سے کد رکھنے والے کتنے ہی وٹس ایپ گروپ آگے آکر ہمارے کالموں میں ایسے جملے اور فقرے تلاش کر کے جن کا کوئی وجود ہی سرے سے نہیں ہوتا،  ہمارے خلاف ادبی حلقوں کو انگیخت کر کے شور و غا کریں۔ مگر ہونا کچھ بھی نہیں کہ بقول مولانا رومی *آپ 40 عالموں کو ایک دلیل سے قائل کر سکتے ہیں لیکن ایک جاہل کو 40 دلیلوں سے نہیں ہرا سکتے*

اس لیے ہم بھی کہتے ہیں،  (لگے رہو منا بھائی)۔   کہ بقول ڈاکٹر راحت اندوری

*صرف خنجر ہی نہیں  آنکھوں میں پانی چاہئیے*

*اے خدا دشمن بھی ہم کو خاندانی چاہیے**

Loading