“کیا موت کے بعد واقعی زندگی ہے؟”
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسانی تاریخ کے اس سب سے بڑے سوال کا جواب دے رہے ہیں ہمارے معزز مہمان ڈاکٹر عمر آتیلا ایرگی جو چارلس سٹرٹ یونیورسٹی (Charles Sturt University) کے سینٹر فار اسلامک اسٹڈیز اینڈ سویلائزیشن میں لیکچرر اور اسلامی الہیات کے اسکالر ہیں؛ انہوں نے 1990 سے اسلامی علوم کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور فزکس، ماسٹرز اِن اسلامک اسٹڈیز اور فلسفہ و تھیالوجی میں ڈاکٹریٹ کا متنوع علمی پس منظر رکھنے کے ساتھ ساتھ اسلامی الہیات، مابعد الطبیعیات، انسانی فطرت اور سائنسی و فلسفیانہ تحقیق کے امتزاج کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ جبکہ اس پوڈکاسٹ کی میزبان اسی سینٹر کی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور کورس ڈائریکٹر ڈاکٹر زلیخا کسکین ہیں، جنہوں نے 2009 میں اسرا (ISRA Australia) کی مشترکہ بنیاد رکھی اور وہ اسلامی روحانیت، سماجی ہم آہنگی اور آسٹریلین مسلم کمیونٹی کی پرجوش ترجمان اور معروف محقق کے طور پر جانی جاتی ہیں۔
ڈاکٹر زلیخا کسکین: السلام علیکم، پوڈکاسٹ میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ آج ہمارے پیشِ نظر ایک ایسا فکری موضوع ہے جو ہر دور کے انسان کے دل کی آواز رہا ہے۔ ہم سب یہ جاننے کے لیے متجسس رہتے ہیں کہ کیا موت کے بعد بھی کوئی زندگی ہے؟ چونکہ انسان فطرتاً ابدیت یعنی ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش رکھتا ہے، تو کیا اس حقیقت کے کوئی شواہد موجود ہیں، اور کیا ہم عقلی و سائنسی طور پر حیات بعد الموت کو ثابت کر سکتے ہیں؟
ڈاکٹر عمر آتیلا ایرگی: یہ درحقیقت انسانیت کا ایک انتہائی بنیادی مسئلہ ہے۔ انسان زمین کی دیگر مخلوقات سے یکسر مختلف ہے کیونکہ جانوروں کے پاس وہ خود آگاہی نہیں ہوتی جس سے وہ حیات و ممات کا فلسفہ سمجھ سکیں؛ ان کی زندگی محض بقا اور تسلسل کے گرد گھومتی ہے۔ انسان صرف مادے کا ڈھیر نہیں ہے بلکہ اس کا ایک روحانی اور فکری وجود بھی ہے۔ موت کے بعد کی زندگی کے بارے میں ہمارے پاس متعدد شواہد موجود ہیں جنہیں ہم چار بنیادی زمروں میں تقسیم کر سکتے ہیں: الہامی کتب کے شواہد، کلامی یعنی الہیاتی شواہد، فلسفیانہ شواہد، اور چند سائنسی اشارے۔
اگر ہم سب سے پہلے الہامی کتب کے شواہد (Scriptural Evidences) کا جائزہ لیں تو دنیا کے بڑے مذاہب میں اس پر مکمل اتفاق پایا جاتا ہے۔ صرف دو بڑے توحیدی مذاہب یعنی اسلام اور عیسائیت کے ماننے والوں کی تعداد ساڑھے چار ارب سے زیادہ ہے، جو دنیا کی نصف سے زائد آبادی بنتی ہے۔ دیگر مذاہب میں بھی یہ بات واضح ہے کہ زندگی محض اس مادی دنیا تک محدود نہیں ہے۔
اگر ہم قرآنی تناظر پر غور کریں تو قرآنِ مجید کا تقریباً تیئیس فیصد حصہ، جو کہ کل کلام کا قریب قریب ایک چوتھائی بنتا ہے، آخرت اور قیامت کے احوال پر محیط ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں انبیاء کرام کی متفقہ گواہی موجود ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کے مطابق دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر مبعوث کیے گئے۔ تاریخ گواہ ہے کہ انبیاء نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا اور وہ ہمیشہ صادق اور امین رہے۔
اس بات کو یوں سمجھیں کہ اگر کوئی شخص کسی قہوہ خانے میں بیٹھا ہو اور ایک اجنبی آ کر کہے کہ تمہارے گھر میں آگ لگ گئی ہے، تو شاید وہ اسے مذاق سمجھے۔ لیکن دو منٹ بعد ایک قابلِ اعتماد شخص آ کر یہی کہے تو وہ اچھل پڑے گا، اور اگر تیسرا شخص بھی اسی کی تصدیق کر دے تو وہ فوراً اپنے گھر کی طرف دوڑے گا۔ ایک عدالت میں محض بارہ افراد کا جیوری پینل (Jury panel) کسی شخص کی زندگی یا موت کا فیصلہ کر دیتا ہے۔ تو پھر ان ایک لاکھ چوبیس ہزار سچے ترین انسانوں کی گواہی کو عقل کیسے جھٹلا سکتی ہے جو سب کے سب حیات بعد الموت کی خبر دے رہے ہیں؟
ڈاکٹر زلیخا کسکین: یہ عام انسانوں کی بات نہیں بلکہ تاریخ کی سب سے برگزیدہ ہستیوں کا متفقہ بیان ہے۔ ان کے بعد امت کے لاکھوں علماء اور دانشوروں نے بھی اسی حقیقت کی تصدیق کی ہے۔ لیکن ایک بات ذہن میں آتی ہے کہ قرآنِ مجید کا نزول ایک ایسے ماحول میں ہوا جہاں کے لوگ موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے سخت منکر تھے، تو اس فکری تصادم کو قرآن نے کس طرح مخاطب کیا؟
ڈاکٹر عمر آتیلا ایرگی: جی بالکل، مشرکینِ مکہ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ سورہ یٰسین میں واقعہ آتا ہے کہ ایک مشرک ہاتھ میں اونٹ کی بوسیدہ ہڈی لے کر آیا اور اسے نبی کریم کے سامنے مسل کر راکھ کی طرح اڑاتے ہوئے تمسخر اڑانے کے انداز میں کہنے لگا کہ بھلا ان گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟
یہیں سے ہمارے کلامی یعنی الہیاتی شواہد (Theological Evidences) کا آغاز ہوتا ہے۔ قرآن نے یہاں محض دعویٰ نہیں کیا بلکہ خالص منطق اور استدلال کا سہارا لیا۔ قرآن نے فرمایا کہ جس ذات نے ان ہڈیوں کو پہلی بار تخلیق کیا ہے، وہی انہیں دوبارہ بھی زندگی بخشے گا۔
اس کی ایک خوبصورت تمثیل یہ ہے کہ فرض کریں ایک محفل میں ایک شخص الیکٹرانک پرزوں سے بھرا بیگ لاتا ہے اور سب کے سامنے ان باریک تاروں اور چپس کو جوڑ کر ایک شاندار کمپیوٹر تیار کر دیتا ہے۔ پھر وہ اسے واپس کھول کر بکھیر دیتا ہے۔ کیا اس محفل میں موجود کوئی ایک عقل مند بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ کاریگر اسے دوبارہ نہیں جوڑ سکتا؟ یقیناً نہیں، کیونکہ سب نے اسے پہلی بار بناتے دیکھا ہے۔
ہمارے انسانی جسم پر غور کریں؛ یہ خلیات، گوشت، خون اور ہڈیوں کا ایک پیچیدہ نظام ہے جو برازیل (Brazil) کے میوہ جات، وینزویلا (Venezuela) کے کیلوں اور کوئنز لینڈ (Queensland) کے آموں جیسے مختلف غذائی اجزاء سے مل کر گوشت پوست میں ڈھلتا ہے۔ ہمارے سامنے اس کمال کی حیاتیاتی مشینری کو تخلیق کیا جا رہا ہے۔ جب یہ جسم بکھر جائے گا تو جس خالق نے اسے پہلی بار بنایا، اس کے لیے دوبارہ بنا دینا کیسے ناممکن ہو سکتا ہے؟
دوسرا الہیاتی استدلال خدا کی رحمت اور اس کے کمال سے جڑا ہے۔ اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ رحمٰن اور رحیم ہے۔ اگر انسان کی پچھتر سالہ اوسط عمر کا جائزہ لیا جائے تو پچیس سال نیند کی نذر ہو جاتے ہیں۔ بچپن کا زمانہ شعور کے بغیر گزرتا ہے، جبکہ بڑھاپے، بیماریوں، تعلیم، ملازمت اور ذمہ داریوں کو منہا کر دیا جائے تو اعداد و شمار کے مطابق انسان کو حقیقی مسرت کے بمشکل چھ ماہ میسر آتے ہیں۔
کیا ایک انتہائی مہربان اور رحیم خدا انسان کو عقل، شعور اور آزاد مرضی جیسی نعمتیں دے کر صرف چند ماہ کے ادھورے لطف کے بعد ہمیشہ کے لیے عدم میں فنا کر دے گا؟ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کسی بچے کو لذیذ مٹھائی چکھا کر ہمیشہ کے لیے اس سے چھین لی جائے۔ یہ تو رحمت کے بجائے ایک اذیت ناک عمل بن جائے گا۔
ڈاکٹر زلیخا کسکین: بالکل درست، اگر موت کو آخری انجام مان لیا جائے تو موت کا خوف انسان کو جیتے جی مار دے گا۔ پھر تو خاندانی خوشیوں کے لمحات میں بھی انسان یہی سوچے گا کہ یہ سب ختم ہو جائے گا اور یوں زندگی ایک عذاب بن کر رہ جائے گی۔
ڈاکٹر عمر آتیلا ایرگی: انسان جانوروں کی طرح سوچنے سے رک نہیں سکتا۔ اگر وہ سوچنا بند بھی کرنا چاہے تو وہ یہی سوچ رہا ہو گا کہ مجھے سوچنا نہیں ہے۔ ایک عالم نے خوب کہا تھا کہ فکر جوتے میں پڑے کنکر کی مانند ہے جو ہر قدم پر کھٹکتی رہتی ہے۔ لیکن آخرت کا یقین انسان کو سب سے بڑی دولت یعنی امید بخشتا ہے۔
مجھے یاد ہے چند سال پہلے میں اور میری اہلیہ ایک بس اسٹاپ پر کھڑے تھے جہاں اسی یا نوے سال کی دو معمر خواتین بیٹھی تھیں۔ ان میں سے ایک زار و قطار رو رہی تھی۔ جب ہم نے اس کی سہیلی سے رونے کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ یہ موت کے خوف سے رو رہی ہے۔ میں آگے بڑھا اور اس بزرگ خاتون سے نرمی سے کہا کہ یہ مادی دنیا ہی سب کچھ نہیں ہے؛ ہم سب کو مرنا ہے لیکن مرنے کے بعد ایک ابدی جہاں ہے جہاں آپ دوبارہ جوان ہوں گی اور ہمیشہ خوش و خرم رہیں گی۔ یہ سنتے ہی اس کے چہرے کی اداسی غائب ہو گئی، آنکھوں میں ایک چمک آ گئی اور وہ مسکرا اٹھی۔ مذہب انسان کو یہی سچی امید دیتا ہے۔
یہ امید کوئی خام خیالی نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے تمام اسمائے حسنیٰ، جیسے ‘الرزاق’ اور ‘الخالق’، غیر فانی اور لامحدود ہیں۔ لامحدود صفات کے اظہار کے لیے لامحدود مستفیدین یعنی فیض پانے والوں کا ہونا ضروری ہے۔ اگر کائنات فنا ہو کر ختم ہو جائے تو خدا کی تخلیق اور رزاقیت کا جلوہ ہمیشہ کے لیے رک جائے گا، جو اس کی شان کے خلاف ہے۔
اس کے بعد ایک زبردست فلسفیانہ استدلال (Philosophical Argument) سامنے آتا ہے۔ لوگ اکثر سوال کرتے ہیں کہ کیا کوئی مرنے کے بعد واپس آیا ہے؟ وقت کا دھارا ہمیشہ ایک ہی سمت میں لکیری انداز میں آگے بڑھتا ہے، واپسی کا راستہ ممکن نہیں۔ کیا کوئی بچہ ماں کے پیٹ سے باہر آ کر واپس اندر جا سکتا ہے؟
فرض کریں کہ ماں کے رحم میں موجود ایک جنین (Fetus) کو چالیس سال کے انسان جیسی عقل دے دی جائے اور ہم اس سے رابطہ کر کے کہیں کہ یہ اندھیری کوٹھڑی عارضی ہے، نو ماہ بعد تم ایک ایسی کشادہ دنیا میں جاؤ گے جہاں سورج، ستارے، پہاڑ، دریا اور ہوائی جہاز ہیں۔ وہ شاید اس کا تصور نہ کر سکے، لیکن اگر وہ اپنی ساخت پر غور کرے تو سوچے گا کہ اس گھپ اندھیرے میں مجھے یہ آنکھیں، ہاتھ، پاؤں اور منہ کس لیے دیے گئے ہیں جن کا اس نو ماہ کی کوٹھڑی میں کوئی مصرف نہیں؟ وہ فوراً نتیجہ اخذ کرے گا کہ یہ اعضاء کسی ایسے جہان کے لیے ہیں جہاں روشنی بھی ہوگی اور چلنے کے راستے بھی۔
اسی طرح اس دنیا میں ہمارے اندر ہمیشہ زندہ رہنے کی تڑپ، کبھی بوڑھا نہ ہونے کی چاہت اور دائمی مسرت کی آرزو موجود ہے۔ اس دنیا میں ان خواہشات کی تسکین کا کوئی سامان موجود نہیں۔ بدیع الزماں سعید نورسی کے ایک شاگرد محمد کرکنجی نے کیا خوبصورت نکتہ بیان کیا کہ اگر خدا نے انسان کو ابدیت عطا نہ کرنی ہوتی تو وہ انسان کے اندر ہمیشہ زندہ رہنے کی طلب ہی پیدا نہ کرتا۔ چونکہ اس نے طلب دی ہے، لہٰذا وہ مطلوب یعنی آخرت بھی ضرور پیدا کرے گا۔
ڈاکٹر زلیخا کسکین: یہ واقعی ایک لاجواب دلیل ہے کہ جس طرح رحمِ مادر میں ملنے والے اعضاء بتاتے ہیں کہ اگلی دنیا ارتقاء پذیر ہے، اسی طرح ہماری روح کے اندر ابدیت کی پیاس بتاتی ہے کہ ایک دوسرا جہان ہمارا منتظر ہے۔
ڈاکٹر عمر آتیلا ایرگی: بالکل ایسا ہی ہے، اور آخر میں کچھ سائنسی اشارے بھی ہیں۔ گو کہ یہ حتمی سائنسی ثبوت نہیں ہیں، لیکن موت کے دہانے کے تجربات یعنی این ڈی ایز (Near-Death Experiences) پر نیورو سرجنز (Neurosurgeons) اور محققین کی سنجیدہ تحقیق سامنے آ چکی ہے۔
ایک مشہور نیورو سرجن کی تحقیق کے مطابق جب آپریشن تھیٹر میں مریض کا دل اور دماغی سرگرمی مکمل بند ہو گئی، تو ہوش میں آنے کے بعد اس نے اپنے جسم سے باہر نکلنے کا تجربہ (Out-of-body experience) بیان کیا۔ اس نے حیرت انگیز طور پر آپریشن تھیٹر کے تمام آلات اور ڈاکٹروں کی حرکات کو من و عن بیان کر دیا جو طبی نقطہ نظر سے اس حالت میں ناممکن تھا۔
اگرچہ مادہ پرست سائنسدان اسے دماغ میں آکسیجن کی کمی یعنی سیریبرل ہائپوکسیا (Cerebral Hypoxia) سے تعبیر کرتے ہیں، مگر اسلامی تناظر میں روح مادی جسم کی قید سے آزاد ہے۔ حدیث کے مطابق نیند موت کی چھوٹی بہن ہے۔ سعید نورسی فرماتے ہیں کہ نیند میں روح جسم کو کلی طور پر نہیں چھوڑتی بلکہ اس کی مثال ایک جلتی ہوئی ٹارچ کی طرح ہے جس کی روشنی ماضی اور مستقبل دونوں کو دیکھ سکتی ہے۔ مابعد الطبیعیات (Metaphysics) ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے اور یہ تمام شواہد ثابت کرتے ہیں کہ موت محض ایک دروازہ ہے اور اصل ابدی زندگی اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔
ڈاکٹر زلیخا کسکین: آپ نے الہامی صحائف، علم الکلام، فلسفے اور سائنسی مشاہدات کے ذریعے حیات بعد الموت پر ایک انتہائی جامع اور بصیرت افروز گفتگو فرمائی، آپ کی تشریف آوری کا بے حد شکریہ۔
ڈاکٹر عمر آتیلا ایرگی: آپ کا بھی بہت شکریہ، السلام علیکم۔
وڈیو لنک:
![]()

